ریاستِ سوات بہ طورِ سرپرستِ فنونِ لطیفہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام سے قبل، وادی میں فنونِ لطیفہ سے وابستگی کے شواہد کم ہی ملتے ہیں۔ یہاں زندگی بقا کی مسلسل جد و جہد میں گزر رہی تھی۔ پڑھنا لکھنا ایک نایاب شوق کی […]
ریاست سوات کے والی کا ایک معائنہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین سال تک چکیسر میں ہر مہینے تین ہفتے گزارنے کے بعد، 1965ء میں والی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں اکاخیل، موسیٰ خیل کے علاقے میں تعمیراتی ذمہ داریاں سنبھالوں۔ اس دوران میں بریکوٹ […]
ریاست سوات کا جہانزیب کالج

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے تمام تعلیمی ادارے پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ تھے۔ آٹھویں، دسویں، انٹرمیڈیٹ اور بیچلر سطح کے امتحانات صوبے کے دیگر سکولوں اور کالجوں کے ساتھ منعقد ہوتے تھے، جن کی نگرانی پشاور […]
ریاست سوات: تعلیمی سہولیات اور چند ذہین طلبہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میری زندگی میں پہلی بڑی تبدیلی وہ تھی، جب مَیں 1950ء میں، سکول میں داخل ہوا۔ مجھے صبح بہت جلد اُٹھنا پڑتا تھا اور سکول کے لیے تیاری کرنی پڑتی تھی۔ میرا سکول شگئی میں تھا، […]
الحاج قاسم جان (مرحوم)

’’جہاں آپ سڑک پر ہچکولے کھاتے ہوئے جا رہے ہوں اور ایک دم سفر ہم وار ہوجائے، تو سمجھ جائیں کہ ریاستِ سوات کی حدود شروع ہوگئی ہیں۔ والی صاحب نے سوات کو وہ کچھ دیا، جو صوبہ شمال مغربی سرحدی باوجود انگریزی سرکار کی مدد کے کہیں بھی نہ دے سکا۔‘‘قارئین! یہ ایک انگریز […]
ریاستِ سوات میں محصولات کا نظام

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے ابتدائی دنوں میں، آمدنی کے ذرائع متعین نہیں تھے اور زیادہ تر ریاستی اخراجات مینگورہ کے ایک بہت ہی امیر تاجر شمشی خان کی طرف سے کی گئی نقد امداد سے […]
متحدہ مجلس عمل کی کارکردگی

جب 2002ء میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے خیبرپختونخوا کی باگ ڈور سنبھالی، تو ڈھیر سارے لوگوں کے دلوں میں یہ سوال تھا کہ کیا یہ حکومت واقعی عوامی اُمنگوں پر پورا اتر سکے گی؟ 5 سال کے مختصر عرصے میں، ایم ایم اے نے نہ صرف اُن سوالوں کا جواب دیا، بل […]
مرحوم سعد اللہ خان ڈی ایس پی

القموت خان المعروف آکو خان، غورہ خیل یوسف زئی چکیسر سابق ریاستِ سوات شانگلہ پار کے تاریخی ’’خان کورہ‘‘ خان تھے، جن کا شجرۂ نسب ظاہر کرتا ہے کہ وہ کئی پشتوں سے بلا شرکتِ غیرے علاقہ کے مشران اور خان رہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے عظیم اور مغرور پہاڑوں کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیاون ویں قسط)

بیوی کے گردے کی پیوند کاری کے لیے مجھے کچھ رشتہ داروں سے قرض پر رقم لینا پڑی تھی۔ مَیں باقی سب انجینئرز کی طرح نہیں تھا، جو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اتنا کما جاتے ہیں کہ مالی طور پر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ آپریشن کے بعد کا علاج بھی میری دسترس سے […]
تاریخ کے صفحوں میں دفن اوریجنل ’’تورگل‘‘

آج سے تقریباً تین سال قبل جب بلدیاتی انتخابات ہو رہے تھے، تو پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی ’’حکومت‘‘ میں ہونے کے باوجود بری طرح ہار گئی اور پھر دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا یہ حال تھا کہ بیش تر پی ٹی آئی اُمیدواروں نے پارٹی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُننچاس ویں قسط)

یہ غالباً ستمبر 2011ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ مجھے جناب فضل ربی راہی کا فون آیا، جس میں انھوں نے مینگورہ میں ان کے دفتر اور کتابوں کی دکان میں ملنے کو کہا۔ وہ میرے لیے اجنبی نہیں تھے۔ ان کے پبلشنگ ہاؤس نے جولائی 2007ء میں میری اور ڈاکٹر امیر فیاض پیر خیل کی […]
توروال میں طبعی، ثقافتی، آبادیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اے کاش! یہ حیوانِ ناطق واپس اُسی غار اور شکار کے دور میں چلا جائے، سب طبعی لحاظ سے مساوی نہ سہی پر سماجی و معاشی لحاظ سے یک ساں ہوکر ایک فطری زندگی گزار سکیں۔پھر اگلی فکر گلے سے پکڑ لیتی ہے کہ انسان کے اندر ہی اسی فطرت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتالیس ویں قسط)

میری سروس کے آخری تین سال تمام تر مشکلات کے خلاف زندہ رہنے کی میری جد و جہد کا تسلسل تھے۔ مینگورہ کے ایک پرانے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شخص کی سربراہی میں کنٹریکٹر مافیا نے ہر ممکن طریقے سے میری مخالفت کی۔ چوں کہ وہ مجھ سے بے جا مفادات […]
کیا مرغی/ بکرا پالنے پر صدر مقام میں پابندی تھی؟

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مجھے یاد نہیں کہ عوام میں یہ مغالطہ کیسے پروان چڑھا کہ اُس وقت کی ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں بکریوں اور مرغوں کی گھروں میں پالنے کی اجازت نہیں تھی۔ مَیں نے […]
لنڈے کا جوتا اور ہمارا بچپن

90ء کی دہائی میں، جب کہ ابھی میرے والدِ بزرگوار حیات تھے، ایک دفعہ مجھے اُنگلی پکڑاتے ہوئے شاہ روان پلازہ (مینگورہ شہر کا مشہور لنڈا پلازہ) لے گئے۔ سردی کی آمد آمد تھی اور میرے پرانے جوتے گھِس گئے تھے، بل کہ داہنے پیر کا انگوٹھا جوتا پھاڑ کے ہوا خوری پر مامور تھا۔ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پنتالیس ویں قسط)

ابھی شانگلہ کو ضلع قرار نہیں دیا گیا تھا اور وہ اب بھی سوات کا ایک سب ڈویژن تھا۔ چناں چہ 1989/90ء میں ہمارے بلڈنگ پروجیکٹ ڈویژن سیدو شریف کو الپورئی منتقل کرنے اور وہاں ہائی وے سب ڈویژن قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ چناں چہ ایس ڈی اُو شیر شاہ خان، سب انجینئرز […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوالیس ویں قسط)

مَیں ابھی ہائی وے سب ڈویژن سیدو شریف میں مکمل طور پر سیٹ نہیں ہوا تھا کہ مجھے بونیر جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی ٹھیکہ داروں نے ضوابط پر میری سخت عمل درآمد کے خلاف کڑھنا اور خفگی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک افسر، اکرام اللہ […]
تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ اور جمہوریت کی مخالفت

تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ (ٹی این ایس ایم) کا جمہوریت کے خلاف موقف ہمیشہ سے سخت رہا ہے۔ تحریک کے سربراہ صوفی محمد جمہوریت کو کفر اور اسلامی اُصولوں کے منافی قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک جمہوریت کا تصور مغرب سے آیا، جہاں مذہب کو دنیاوی معاملات سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (بیالیس ویں قسط)

1985ء میں دریائے سوات میں شدید سیلاب آیا۔ سیلاب کے نقصانات کے خلاف یہ میرا پہلا مقابلہ تھا۔ میرا سیکشن خاص طور پر بہت زیادہ متاثر ہوا۔ ایوب پل کو بچانے والے پشتے بہہ گئے اور آدھی رات کو سیلابی پانی پولیس لائنز میں داخل ہوگیا۔ پولیس والے ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کی چھتوں […]
ریاستِ سوات کی افواج کا ارتقا

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) فوج ریاست کی قوت کا بنیادی ذریعہ اور طاقت کی علامت ہوتی ہے۔ بادشاہ صاحب (میانگل عبدالودود) بھی مستقل اور باقاعدہ فوج کے قیام میں خصوصی دل چسپی رکھتے تھے، لیکن انھیں عبد الجبار […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکتالیس ویں قسط)

میرے گھر سے دور پوسٹنگ نے میرے لیے بہت سے مسائل پیدا کر دیے تھے۔ ایک تو میری خاندانی زندگی تقریباً بکھر گئی تھی۔ مَیں اپنے بچوں (دو پیارے بیٹے اور ایک بیٹی) کے ساتھ وقت گزارنے سے محروم تھا۔ مَیں ’’ویک اینڈ‘‘ پر آتا، تو سواڑئی سے مینگورہ تک کے سفر سے میرا سر […]