کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتالیس ویں قسط)

ہمارے سواڑئی، بونیر منتقل ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے، کہ ہمارے ایس ڈی اُو خورشید علی خان کا تبادلہ سیدو شریف ہوگیا اور سبز علی خان نامی ایک صاحب نے چترال سے ڈگر آکر چارج سنبھال لیا۔ وہ اس وقت غیر شادی شدہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ چترال سے ایک 14 سال کا […]
ریاستِ سوات کے محکموں کا ارتقا

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے فوری بعد، حکومت کے مختلف اداروں کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا، مگر اس کے باوجود ریاستی اتھارٹی کی مضبوطی اور عدالتوں، محصولات، دفاع، صحت، تعلیم اور بنیادی […]
قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ (مرحوم)

(مرحوم) قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ سوات بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ابتدائی ممبر تھے۔وکالت کا پیشہ ڈھیر سارے لوگوں نے سنا ضرور تھا، مگر وکیل کی شخصیت کیا اور کیسے ہوتی ہے؟ یہ ٹی وی اور فلموں ہی میں دِکھتا تھا۔ مکان باغ سے گزرتے ہوئے قاضی امداد اللہ وکیل صاحب […]
دیر: تحقیق کے لیے کھلا میدان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)’’سوات‘‘ ہمیشہ سے تاریخ دانوں، سیاحوں، ماہرینِ بشریات (Social Anthroplogists) اور عُمرانیات کے ماہرین کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے ہمسایہ ریاستِ دیر کی بہ نسبت، سوات ہمیشہ ہر قسم کے حملوں کے […]
شہزادہ اسفندیار: ہیرو، جسے بھلا دیا گیا

جب بھی میں سوات جاتا ہوں اور چکدرہ ملاکنڈ میں دریا کے پار ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع چرچل پیکٹ کو دیکھتا ہوں، تو یہ مجھے گہرے خیالات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ برطانوی سلطنت میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس کی دھوپ کبھی غروب نہ ہوئی۔ ان […]
دیر شاہی مسجد اور لواری ٹنل

دیر کی شاہی مسجد پہاڑ کے اوپر جا کر آتی ہے۔ پرانے زمانے کے دوسرے حفاظتی نقطہ نظر سے بنے شہروں کی طرح دیر کا پرانا شہر بھی پہاڑ کے اوپر بنایا گیا تھا۔ ایسا حفاظتی نقطہ نگاہ سے کیا جاتا تھا۔ عام طور پر قلعہ جات ایسی جگہوں پر بنائے جاتے تھے، جو بقیہ […]
بونیر میں مہمان نوازی کی روایت

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)بنیادی انفراسٹرکچر اور جدید ذرائع آمد و رفت کی ترقی کے ساتھ پختون معاشرت کی ایک اہم روایت، مہمان نوازی، تقریباً قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ اس سے پہلے، کوئی مسافر یا اجنبی جو ’’خچر پگڈنڈیوں‘‘ […]
سید احمد بریلوی کا دورۂ سوات

سید احمد (شہید) بریلوی (1786ء تا 1831ء) جو شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیمات سے متاثر ہوکر ہندوستان میں اسلامی اقدار کے احیا کے علم بردار بنے، شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں، خاص طور پر پنجاب اور خیبرپختونخوا، میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے مظالم کے خلاف جہاد کے لیے سرگرم ہوئے۔سید احمد (شہید) […]
افسر آباد اور سیدو شریف سے جڑی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میری آنکھ 5 اپریل 1943ء کو ایک ایسے گھر میں کھلی جو بڑے بڑے گھروں کی ایک جھرمٹ میں سب سے پہلا مکان تھا۔ مکانوں کے اس مجموعے کو افسر آباد کا نام دیا گیا تھا۔ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکتیس ویں قسط)

عمومی خیال یہ ہے کہ والیِ سوات ریاستی ملازمین کو، جب وہ ان کی کارکردگی سے ناخوش ہوتے، جسمانی طور پر سزا دیتے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے، لیکن ایسا فرعونیت یا بدمزاجی کی وجہ سے نہیں تھا، بل کہ اپنی رعایا کو فرائض میں غفلت برتنے پر ایک باپ کی طرح یاد […]
ریاستِ سوات دور کا ایک افسوس ناک واقعہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں ریاستی نیم مسلح نفری کی ایک مخصوص تعداد تعینات تھی، جو معمول کے مرمت کے کام، جیسے پتھر سے بنی گلیوں اور نالیوں کی مرمت و بہ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیس ویں قسط)

مَیں اپنی شادی کی تفصیلات کو چھوڑ رہا ہوں۔ وہ بہت دردناک ہیں۔ مَیں دوبارہ ان یادوں سے نہیں گزرنا چاہتا۔ وہ زخم برسوں پہلے بھرچکے ہیں۔ میری بیوی کو دو چیزوں کا جنون تھا، روح کی صفائی اور گھر کی صفائی۔ پہلے تو وہ 24 گھنٹوں میں 8 بار نماز پڑھتی تھی، جب کہ […]
گوبند رام باپو

محترم گوبند رام باپو مینگورہ شہر کی سماجی شخصیت اور روایتوں کے امین تھے۔باپو ایک زبردست قوم پرست مینگروال، ایک دانش مند مشر، ایک رحم دل، صلح جو اور ایمان دار تاجر اور مصالحتی کمیٹی کے ممبر تھے۔ غیر مسلم سواتی شہری، سوات پر اپنا حق محبت اور عقیدت کے ساتھ جتاتے ہیں۔باپو (یعنی ابا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتیس ویں قسط)

ایک دن میں اپنے دفتر سے واپس اپنے گھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہو رہا تھا۔ اچانک دیکھا کہ وہ ایک کونے میں، ہاتھوں میں ایک گٹھڑی اٹھائے، کھڑی ہے۔ مَیں نے ہکلا کر پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے اور وہ میرے گھر کو کیسے جانتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ […]
شاہ روان کپتان

گاؤں ’’منگلور‘‘ سوات کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے، جس کو نظر انداز کرکے سوات کی تاریخ کو سمجھا جاسکتا ہے، نہ یوسف زئی تاریخ مکمل ہوتی ہے، نہ قدیم سواتیوں بارے روشنی ہی مل سکتی ہے۔ آپ اگر مزید تفصیل میں جائیں، تو سمجھ لیں کہ اس گاؤں بغیر قدیم بدھ مت اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھائیس ویں قسط)

ان سالوں میں مجھے مانیار، ابوہا اور پبلک سکول سنگوٹہ کے ایک بڑے ٹیچنگ بلاک میں تعمیرات کی نگرانی اور کچھ اور پروجیکٹس کرنے تھے۔ یہ مصروف ترین سال تھے اور وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن مجھے اپنے پہلے معاشقے کا موقع مل ہی گیا۔میرے بڑے بھائی فضلِ وہاب، شیر خان کو […]
سید خدا بخش پاچا

گلشن چوک سے نشاط چوک کی طرف جائیں، تو آپ کے بائیں طرف دُکانیں اور اُن کے پیچھے محلے مینگورہ شہر کی ایک بھرپور تاریخ جو ہر گلی، نکڑ، دروازے، گھر سے چیخ چیخ کر شہر کے ماضی کو بیان کرتی ہے، مگر اس کے سننے کے لیے وہ کان چاہئیں، جو شہر کی محبت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (ستائیس ویں قسط)

چکیسر میں قیام کے دوران میں ایک اور چیز، جس نے مجھے متاثر کیا، وہ ان کی تعلیم کے ساتھ محبت تھی۔ ودودیہ سکول سیدو شریف کے بعد بادشاہ صاحب کے دور میں پہلا سکول چکیسر میں بنا تھا۔ ہائی سکول چکیسر موجودہ ضلع شانگلہ کا سب سے قدیم ادارہ ہے۔ 1950ء کی دہائی کے […]
ابنِ خلدون: حیات و آثار (تبصرہ)

تحریر: محمد کاظمابنِ خلدون سے متعلق خاصی تعداد میں کتابیں اور رسالے بازار میں دست یاب ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اُن کے مطالعے سے ابنِ خلدون کی شخصیت کی ٹھیک ٹھیک (Accurate) اور مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اُس کی سب سے اہم تصنیف اُس کا مقدمہ ہے، جس کا ترجمہ تو […]
دیر تاریخ کے آئینے میں

دیر مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہاں کا موسم مری جیسا ٹھنڈا میٹھا، خوش گوار اور بہت مزیدار ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ شہر بھی ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے، جو سرسبز و شاداب بھی ہے۔ اس میں پانی کے جھرنے بھی ہیں اور ایک ندی بھی یہیں سے گزر کر نیچے جا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پچیس ویں قسط)

کبھی کبھی، مَیں اپنے باس کے رویے سے پریشان ہوجاتا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ مجھے مخالف کیمپ میں سمجھا ہے یا اپنی طرف؟ ریاست کے بعض اعلا افسران نے بالواسطہ طور پر اس کا مذاق بھی اڑایا، لیکن مَیں نے ان سازشوں سے دور ہی رہنے کی کوشش کی۔ […]