سید محمد المعروف کچے اُستاد

مینگورہ شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔ اردگرد کے پہاڑوں پر بھی آبادیوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گنجان آباد ترین شہروں اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کے لحاظ سے مینگورہ شہر پہلے نمبروں پر آتا ہے۔جب مینگورہ شہر کی لمبائی کی حد محض سہراب خان چوک تک تھی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوبیس ویں قسط)

سابق ریاست میں کوالٹی کنٹرول کا ایک بہت موثر نظام تھا، جس پر اگر حقیقتاً عمل کیا جاتا، تو بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ لیکن کچھ بے پروا عناصر نے اپنے عامیانہ مفادات کے لیے اس ’’سیٹ اَپ‘‘ کو سبوتاژ کیا۔ مثال کے طور پر، ہر تحصیل دار کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ […]
ایمن اُداسؔ کی کہانی: کچھ اُن کی کچھ میری زبانی

یہ 2002ء کی بات ہے۔ دلہ زاک روڑ پشاور تب اتنا آباد نہیں تھا، مگر فلیٹس کے سلسلے تعمیر ہو رہے تھے۔ روزگار کے سلسلے میں، مَیں بھی پشاور میں مقیم تھا۔ وہ انتہائی کٹھن اور دل برداشتہ دور تھا۔ تنہائی اور بے بسی میں سوات ہی سے میرا ایک ساتھی ’’تلک راج‘‘ میرا فلیٹ […]
ریاستِ سوات کا جھنڈا اور ترانہ

دوستو! آپ سب ریاستِ سوات کے جھنڈے کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ اسے والئی سوات کی رہایش گاہ پر ہر صبح لہرایا جاتا اور غروبِ آفتاب کے بعد اُتار لیا جاتا۔ اس کے سکولوں میں 12 دسمبر اور 5 جون کو بھی ’’فلیگ ماسٹ‘‘ پر چڑھایا جاتا تھا۔ریاستِ سوات ایک شاہی ریاست تھی۔ یہ […]
چکدرہ قلعہ، تاریخی پُل اور دیر میوزیم
سوات موٹر وے، سرتور فقیر اور چرچل پکٹ

اچھی اور صاف ستھری سڑکیں فاصلوں کو سمیٹ کر خوش گوار بنا دیتی ہیں۔ راولپنڈی سے مینگورہ شریف تک جانے کے لیے ویگن پر 7 سے 8 گھنٹے تک کا تھکا دینے والا سفر درکار ہوتا تھا۔ جو اَب سوات موٹر وے بننے سے سمٹ کر 4 گھنٹے تک محیط ہو کر رہ گیا ہے۔ […]
ڈاکٹر لوکا اور جانو جرمن

1964ء کی بات ہے، ہم مختلف سائٹس کا انسپکشن کرتے کرتے میاندم پہنچ گئے۔ وہاں کے ریاستی گیسٹ ہاؤسز میں جو بڑا اور وی آئی پی ریسٹ ہاؤس ہے، وہاں پر ہم نے پڑاو ڈالا۔ ایک درخت کی شاخ سے ذبح شدہ دُنبہ لٹکا کر کچھ ساتھی اس کا کوٹ اُتارنے لگے۔ کچھ مسالہ جات […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیس ویں قسط)

بعد میں ہونے والی پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا کہ مجھے ریاستی دارالحکومت سے چکیسر جیسے دور دراز علاقے میں کیوں بھیجا گیا تھا؟ اُسی وقت ایک اور انتہائی قابل ڈرافٹس مین کو بھی الپورئی میں تعینات کیا گیا۔ اُس کا نام عبدالرشید تھا۔ اُسے اگلے احکامات تک وہیں رہنے کی ہدایت دی گئی۔زیرِ […]
القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘

القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘، غورہ خیل یوسفزئی چکیسر سابق ریاستِ سوات کے رہایشی تھے۔ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے فلک بوس پہاڑوں کے عقب تک ریاستِ سوات کی حدود پہنچنے لگیں، تو وہاں کے بہادر سپوتوں نے سیدو بابا کے احترام کے آگے سرِ تسلیم خم کیا اور اپنی وفاداری پہلے باچا صاحب اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنیس ویں قسط)
سید نواب بدمعاش
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھارھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (سترھویں قسط)
کچھ میاں سید بادشاہ کے بارے میں
بنجاریانو محلہ (مینگورہ سوات)
ابوبکر صدیق کی یاد میں
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
ایڈوکیٹ شمشیر علی خان
محمود استاد صاحب کی یاد میں
رحمت اللہ خان کی یاد میں

قارئین! آج رحمت اللہ خان المعروف ’’رحمت لالا‘‘ ولدِ فضل مولا سیدو شریف کے بارے میں نشست لیتے ہیں۔ مینگورہ سوات کی پچھلی نسل کے آبائی شہری جب گراسی گراؤنڈ کے پاس سے گزرتے، تو یقینا رحمت لالا کی خوب صورت شخصیت دیکھے بغیر نہیں گزر پاتے ہوں گے۔ رحمت لالا ایک بہترین فٹ بالر، […]
پاکستان کا قیام، استحصال اور موجودہ تحریکیں: ایک جائزہ

ریاست کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی ضامن ہو۔ قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے، قطعِ نظر اس کے کہ اس کی قومیت، مذہب، نسل یا علاقے کا تعلق کیا ہے…… لیکن […]