کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھائیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ان سالوں میں مجھے مانیار، ابوہا اور پبلک سکول سنگوٹہ کے ایک بڑے ٹیچنگ بلاک میں تعمیرات کی نگرانی اور کچھ اور پروجیکٹس کرنے تھے۔ یہ مصروف ترین سال تھے اور وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن مجھے اپنے پہلے معاشقے کا موقع مل ہی گیا۔میرے بڑے بھائی فضلِ وہاب، شیر خان کو […]

سید خدا بخش پاچا

Blogger Sajid Aman

گلشن چوک سے نشاط چوک کی طرف جائیں، تو آپ کے بائیں طرف دُکانیں اور اُن کے پیچھے محلے مینگورہ شہر کی ایک بھرپور تاریخ جو ہر گلی، نکڑ، دروازے، گھر سے چیخ چیخ کر شہر کے ماضی کو بیان کرتی ہے، مگر اس کے سننے کے لیے وہ کان چاہئیں، جو شہر کی محبت […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (ستائیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

چکیسر میں قیام کے دوران میں ایک اور چیز، جس نے مجھے متاثر کیا، وہ ان کی تعلیم کے ساتھ محبت تھی۔ ودودیہ سکول سیدو شریف کے بعد بادشاہ صاحب کے دور میں پہلا سکول چکیسر میں بنا تھا۔ ہائی سکول چکیسر موجودہ ضلع شانگلہ کا سب سے قدیم ادارہ ہے۔ 1950ء کی دہائی کے […]

ابنِ خلدون: حیات و آثار (تبصرہ)

Book Review by Muhammad Kazim

تحریر: محمد کاظمابنِ خلدون سے متعلق خاصی تعداد میں کتابیں اور رسالے بازار میں دست یاب ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اُن کے مطالعے سے ابنِ خلدون کی شخصیت کی ٹھیک ٹھیک (Accurate) اور مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اُس کی سب سے اہم تصنیف اُس کا مقدمہ ہے، جس کا ترجمہ تو […]

دیر تاریخ کے آئینے میں

Blogger Khalid Hussain Borewala Punjab

دیر مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہاں کا موسم مری جیسا ٹھنڈا میٹھا، خوش گوار اور بہت مزیدار ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ شہر بھی ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے، جو سرسبز و شاداب بھی ہے۔ اس میں پانی کے جھرنے بھی ہیں اور ایک ندی بھی یہیں سے گزر کر نیچے جا […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (پچیس ویں قسط)

Blogger Fazal Raziq Shahaab

کبھی کبھی، مَیں اپنے باس کے رویے سے پریشان ہوجاتا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ مجھے مخالف کیمپ میں سمجھا ہے یا اپنی طرف؟ ریاست کے بعض اعلا افسران نے بالواسطہ طور پر اس کا مذاق بھی اڑایا، لیکن مَیں نے ان سازشوں سے دور ہی رہنے کی کوشش کی۔ […]

سید محمد المعروف کچے اُستاد

Blogger Sajid Aman

مینگورہ شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔ اردگرد کے پہاڑوں پر بھی آبادیوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گنجان آباد ترین شہروں اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کے لحاظ سے مینگورہ شہر پہلے نمبروں پر آتا ہے۔جب مینگورہ شہر کی لمبائی کی حد محض سہراب خان چوک تک تھی […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چوبیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

سابق ریاست میں کوالٹی کنٹرول کا ایک بہت موثر نظام تھا، جس پر اگر حقیقتاً عمل کیا جاتا، تو بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ لیکن کچھ بے پروا عناصر نے اپنے عامیانہ مفادات کے لیے اس ’’سیٹ اَپ‘‘ کو سبوتاژ کیا۔ مثال کے طور پر، ہر تحصیل دار کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ […]

ایمن اُداسؔ کی کہانی: کچھ اُن کی کچھ میری زبانی

Blogger Sajid Aman

یہ 2002ء کی بات ہے۔ دلہ زاک روڑ پشاور تب اتنا آباد نہیں تھا، مگر فلیٹس کے سلسلے تعمیر ہو رہے تھے۔ روزگار کے سلسلے میں، مَیں بھی پشاور میں مقیم تھا۔ وہ انتہائی کٹھن اور دل برداشتہ دور تھا۔ تنہائی اور بے بسی میں سوات ہی سے میرا ایک ساتھی ’’تلک راج‘‘ میرا فلیٹ […]

ریاستِ سوات کا جھنڈا اور ترانہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

دوستو! آپ سب ریاستِ سوات کے جھنڈے کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ اسے والئی سوات کی رہایش گاہ پر ہر صبح لہرایا جاتا اور غروبِ آفتاب کے بعد اُتار لیا جاتا۔ اس کے سکولوں میں 12 دسمبر اور 5 جون کو بھی ’’فلیگ ماسٹ‘‘ پر چڑھایا جاتا تھا۔ریاستِ سوات ایک شاہی ریاست تھی۔ یہ […]

سوات موٹر وے، سرتور فقیر اور چرچل پکٹ

Blogger Khalid Hussain Borewala Punjab

اچھی اور صاف ستھری سڑکیں فاصلوں کو سمیٹ کر خوش گوار بنا دیتی ہیں۔ راولپنڈی سے مینگورہ شریف تک جانے کے لیے ویگن پر 7 سے 8 گھنٹے تک کا تھکا دینے والا سفر درکار ہوتا تھا۔ جو اَب سوات موٹر وے بننے سے سمٹ کر 4 گھنٹے تک محیط ہو کر رہ گیا ہے۔ […]

ڈاکٹر لوکا اور جانو جرمن

Blogger Fazal Raziq Shahaab

1964ء کی بات ہے، ہم مختلف سائٹس کا انسپکشن کرتے کرتے میاندم پہنچ گئے۔ وہاں کے ریاستی گیسٹ ہاؤسز میں جو بڑا اور وی آئی پی ریسٹ ہاؤس ہے، وہاں پر ہم نے پڑاو ڈالا۔ ایک درخت کی شاخ سے ذبح شدہ دُنبہ لٹکا کر کچھ ساتھی اس کا کوٹ اُتارنے لگے۔ کچھ مسالہ جات […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیس ویں قسط)

Blogger Fazal Raziq Shahaab

بعد میں ہونے والی پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا کہ مجھے ریاستی دارالحکومت سے چکیسر جیسے دور دراز علاقے میں کیوں بھیجا گیا تھا؟ اُسی وقت ایک اور انتہائی قابل ڈرافٹس مین کو بھی الپورئی میں تعینات کیا گیا۔ اُس کا نام عبدالرشید تھا۔ اُسے اگلے احکامات تک وہیں رہنے کی ہدایت دی گئی۔زیرِ […]

القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘

Blogger Sajid Aman

القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘، غورہ خیل یوسفزئی چکیسر سابق ریاستِ سوات کے رہایشی تھے۔ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے فلک بوس پہاڑوں کے عقب تک ریاستِ سوات کی حدود پہنچنے لگیں، تو وہاں کے بہادر سپوتوں نے سیدو بابا کے احترام کے آگے سرِ تسلیم خم کیا اور اپنی وفاداری پہلے باچا صاحب اور […]