ہمارے دور میں سینما گھروں کے ٹکٹ ریٹ

تحریر: ساجد آرائیں 1992ء میں جب سینما بینی کا آغاز ہوا، تو لاہور شہر کے سینماؤں کے ٹکٹ ریٹس معمولی سے فرق کے ساتھ مختلف ہوتے تھے۔ لاہور میں سینماؤں کی دو اقسام تھیں: مین سرکٹ کا سینما اور سائیڈ سینما۔ مین سرکٹ سے مراد سینما کی مرکزی مارکیٹ لاہور کے ایبٹ روڈ اور میکلورڈ […]
’’حیات‘‘ غلام فاروق اور ’’مرحوم‘‘ غلام فاروق

قارئین! غلام فاروق سے شناسائی تو معلوم نہیں کتنی پرانی ہے،مگر کالج میں پہنچا، تو پتا چلا کہ وہ ایک کلاس آگے تھا، آج کے غلام فاروق سے بہت مختلف۔ غلام فاروق ایک سیدھا سادھا، گرم جوش اور منھ پھٹ نوجوان تھا۔ لمبا چوڑا اور وجیہہ شخصیت کا مالک۔ غلام فاروق کی سنگت، زندگی اور […]
سٹیٹ فورسز کا مرکزی دفتر

ریاستِ سوات کا پورا سکرٹیریٹ جس میں حکم ران اور ولی عہد کے دفاتر بھی شامل تھے، اُنھی اونچی چناروں کے سائے میں تھا، جہاں آج کل کمشنر، آر پی اُو اور دیگر دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ریاست کا فوجی دفتر اسی بلڈنگ میں واقع تھا، جو ادغام کے بعد ابھی تک ڈسٹرکٹ کمپٹرولر […]
شاہی قلعہ چترال

چترال کا ’’شاہی قلعہ‘‘ کھوار قوم کی تہذیب و تمدن اور سلطنتِ چترال کی عظمت رفتہ کا امین ہے۔ یہ شمال کی طرف پاکستان کا آخری ضلع ہے۔ تاجکستان اور چترال کے درمیان 10 سے 12 میل لمبی واخان کی پٹی حائل ہے۔ کسی زمانے میں واخان کوریڈور کا یہ علاقہ بھی ریاستِ چترال کا […]
سارجنٹ میجر مہاتما گاندھی

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر سے ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج ختم ہوا اور گریٹ بریٹن کی بہ راہِ راست حکم رانی شروع ہوئی۔ اُس صدی کے آخر میں ’’انڈین سول سروس‘‘ کے ایک ریٹائرڈ آفیسر ’’اکٹیوین ہیوم‘‘ (Allan Octavian Hume) نے انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھ دی، تاکہ ہندوستانیوں کو سیاست […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (قسطِ اول)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جائے گا) مَیں (فضل رازق شہابؔ) 5 اپریل 1943ء کو سیدو شریف کے افسر آباد میں نسبتاً ایک چھوٹے گھر میں پیدا ہوا، جہاں ریاست کے اعلا عہدے […]
مسلم لیگ (ن) کی اداروں پر حملہ آوری کی تاریخ

مسلم لیگ (ن) کا مقدس اداروں پر حملہ آوری کا وطیرہ بہت پرانا ہے۔ عدالتیں جب بھی کوئی فیصلہ اس کی منشا اور خواہش کے مطابق نہیں دیتیں، تو یہ جماعت عدلیہ کے مقدس ادارے پرحملہ آور ہوجاتی ہے۔ 1998ء میں سپریم کورٹ پر حملہ کو کوئی کیسے فراموش کرسکتا ہے؟ میاں محمد شہباز شریف […]
کیلاشی جدید تحقیق کے آئینے میں

28 جون 2024ء کی سہ پہر کو، نمازِ جمعہ کی ادائی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہی مولانا زبیر گورداسپوری صاحب فرمانے لگے کہ یار تم تو کہتے تھے کہ یہاں غیر مسلم لوگ آباد ہیں، مگر یہ مسجد تو نمازیوں سے بھری پڑی تھی۔ مَیں نے کہا کہ یہاں ’’شیخاں دیہہ‘‘ میں اَب […]
عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج سے وابستہ یادیں

پچھلے ہفتے جہانزیب کالج کے کچھ طلبہ کے ساتھ ایک بہت ہی مفید نشست رہی۔ مَیں اُن پیارے بچوں کا از حد ممنون ہوں، جنھوں نے نہایت تحمل سے مجھے سنا اور میری ثقلِ سماعت سے درگزر کرتے رہے۔ گفت گو کے اختتام پر اُن کے چند مختصر سوالات پر بحث سمیٹتے ہوئے میری توجہ […]
کیلاشی کون ہیں؟

کیلاش ہمارے بورے والا (پنجاب) سے خاصا دور ہے۔ دو تین دن یہاں تک پہنچتے پہنچتے لگ جاتے ہیں۔ کیلاش بھی تو پاکستان کی آخری نکر میں یعنی پاکستان کے شمال مغربی کونے میں اس جگہ پر ہے کہ جس سے آگے پاکستان کی آبادی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے آگے جنگل ہے، پہاڑ ہیں […]
ملک بیرم خان ’’تاتا‘‘ کی یاد میں

ملک بیرم خان المعروف ’’تاتا‘‘ یکم اکتوبر 1983ء کو میونسپل کمیٹی مینگورہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 21 نومبر 1987ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں اُنھوں نے پھر بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی اور 29 دسمبر 1987ء کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ […]
مادرسری نظام کیا تھا اور کیا یہ کبھی واپس آسکتا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی آج ہم عورت کو جس بے بسی اور بے کسی کے عالم میں دیکھتے ہیں اور جو معاشرے میں مرد کے تعصبات کا شکار ہے، وہ روایت کی زنجیروں میں اس قدر بندھی ہوئی ہے کہ یہ زنجیریں آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہیں۔ عورت تاریخ میں اس دور کو یاد کر […]
ابنِ خلدون کی 700 سال قبل لکھی گئی ایک تحریر

ترجمہ: ڈاکٹر ابوالخیر کشفی 700 سال قبل لکھی گئی ابنِ خلدون کی یہ تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے : ٭ مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے۔ فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس […]
امیر دوست خان دھوبی

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے […]
قوم کا پیسا مَیں معاف نہیں کرسکتا (والئی سوات)

یہ نہایت خوش آیند بات ہے کہ اس سال پانچ جون کو مرحوم والیِ سوات میاں گل جہان زیب کا یومِ ولادت شایان شان طریقے سے منانے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دراصل اُس طلسماتی شخصیت کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے کہ ریاست کے ادغام پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود […]
ریاستِ سوات کی سول تنظیم

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]
سقراط

تحریر: وسیم فرید ملک 399 قبلِ مسیح میں جب سقراط پر ایتھنز (یونان) کے نوجوانوں کو ورغلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا، تو اُس وقت اس کی عمر 70 برس تھی۔ سقراط ’’تعلیم بہ ذریعہ مکالمہ‘‘ کے لیے جانا جاتا ہے، یعنی وہ رسمی طریقے سے براہِ راست تعلیم نہیں دیتا تھا، بلکہ اپنے […]
’’قاضی حنیف‘‘ شخصیت جو بے قدری کا شکار ہوئی

یہ اصطلاح ہم 60ء کی دہائی سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان سے ’’برین ڈرین‘‘ تیزی سے جاری ہے۔ اس کا سبب صرف معاشی حالات کی ناسازگاری نہیں تھا، بلکہ یہاں کی بیوروکریسی کی فرعونیت، حسد اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے جانے کا نہ ختم ہونے والا کھیل اس کی وجوہات میں شامل ہے۔ […]
خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]
دورِ ریاستِ سوات کے ایک قصاص کی کہانی

اس تحریر کے ساتھ سیدو بابا مزار کی ایک تصویر دی جا رہی ہے جس میں لکڑی کا ایک پُل نظر آرہا ہے۔ مذکورہ پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیر زادہ اُستاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ فضل […]
فضل ربی راہیؔ، سوات کی صحافت کا درخشندہ باب

شاعر، ادیب، دانش ور، نقاد، ایڈیٹر، کالم نویس، پبلشر…… یہ ہمہ جہت شخصیت فضل ربی راہیؔ صاحب کی ہے، جو بنگالی خاندان کے چارباغ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کے دادا مینگورہ شہر میں ایک ممتاز طبیب تھے، جو خوب صورت اور وجہہ شخصیت کے مالک تھے۔ امیر طبیب صاحب کے والد صاحب […]