ریاستِ سوات کی سول تنظیم

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]
سقراط

تحریر: وسیم فرید ملک 399 قبلِ مسیح میں جب سقراط پر ایتھنز (یونان) کے نوجوانوں کو ورغلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا، تو اُس وقت اس کی عمر 70 برس تھی۔ سقراط ’’تعلیم بہ ذریعہ مکالمہ‘‘ کے لیے جانا جاتا ہے، یعنی وہ رسمی طریقے سے براہِ راست تعلیم نہیں دیتا تھا، بلکہ اپنے […]
’’قاضی حنیف‘‘ شخصیت جو بے قدری کا شکار ہوئی

یہ اصطلاح ہم 60ء کی دہائی سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان سے ’’برین ڈرین‘‘ تیزی سے جاری ہے۔ اس کا سبب صرف معاشی حالات کی ناسازگاری نہیں تھا، بلکہ یہاں کی بیوروکریسی کی فرعونیت، حسد اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے جانے کا نہ ختم ہونے والا کھیل اس کی وجوہات میں شامل ہے۔ […]
خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]
دورِ ریاستِ سوات کے ایک قصاص کی کہانی

اس تحریر کے ساتھ سیدو بابا مزار کی ایک تصویر دی جا رہی ہے جس میں لکڑی کا ایک پُل نظر آرہا ہے۔ مذکورہ پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیر زادہ اُستاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ فضل […]
فضل ربی راہیؔ، سوات کی صحافت کا درخشندہ باب

شاعر، ادیب، دانش ور، نقاد، ایڈیٹر، کالم نویس، پبلشر…… یہ ہمہ جہت شخصیت فضل ربی راہیؔ صاحب کی ہے، جو بنگالی خاندان کے چارباغ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کے دادا مینگورہ شہر میں ایک ممتاز طبیب تھے، جو خوب صورت اور وجہہ شخصیت کے مالک تھے۔ امیر طبیب صاحب کے والد صاحب […]
صحافت کا ارتقائی سفر اور ہم

ہندوستان میں پاکستانی صحافت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ویسے تو ہندوستانیوں کی عادت ہے پاکستان کے مذاق اڑانے کی، لیکن دو باتوں میں ہندوستانیوں کا مذاق وزنی لگتا ہے۔ ایک جب پاکستانی کہتے ہیں کہ ’’اگر ہندوستان نے پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو……!‘‘ ہندوستانی میڈیا میں اس قسم کے مکالموں کا […]
فلسفہ کی تاریخ (اُنتیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ افلاطون کی ری پبلک/ ریاست (The Republic):۔ افلاطون نے اپنے ’’علمیاتی نظریے‘‘ (Theory of Knowledge) کی بنیاد پر اخلاقیات (Ethics) کی بنیاد رکھی، یعنی کہ جو […]
خیبر پختونخوا کے سینما گھر کیوں بند ہوئے؟

پرانے سینما گھروں کا تفصیلی بیان تو ابراہیم ضیا کی کتاب ’’پشاور کے فن کار‘‘ میں بڑے منفرد انداز میں موجود ہے۔ پشاور میں کچھ ایسے سینما گھر بھی ہیں، جو بعد میں بنے اور ختم ہوگئے۔ ’’ناولٹی سینما‘‘ کو مسمار کرکے اُس پر پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ ’’امان سنیما گھر‘‘ میڈیکل سنٹر میں […]
روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]
مور پنڈیٔ کاکا (مدین) کی یاد میں

عبد الرحیم میاں، جنھیں عام طور پر مور پنڈیٔ کاکا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اخوند خیل میاں گان کے چشم و چراغ تھے۔ اُن کی پیدایش 1872ء کے آس پاس تیرات مدین سوات میں ہوئی اور 1949 عیسوی بہ مقام مور پنڈیٔ (مدین) میں ہوئی۔ عبد الرحیم کاکا کے والدِ بزرگوار کا […]
فلسفہ کی تاریخ (اٹھائیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ غار کی تمثیل (Allegory of the cave):۔ افلاطون نے اپنی علمیاتی نظریے یا معرفت شناسی (Epistemology) کو آسانی سے سمجھانے کے لیے ایک تمثیلی مثال […]
فلسفہ کی تاریخ (چھبیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علی زئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا چھبیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ کلیات کا مسئلہ (Problem of Universals):۔ افلاطون نے اتنے مختلف موضوعات پر لکھا کہ ہم کہیں سے بھی اُس کے فلسفے کو بیان کرنا […]
تاؤ مت کیا ہے؟

تاؤمت: Taoism or Daoism چین کا ایک مسلک جس کا بانی ’’لاوتسے‘‘ (Lao Tzu) تھا۔ (وکی پیڈیا کے مطابق ’’لاوتسے‘‘ کی پیدایش 571 قبلِ مسیح ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔) ’’تاؤ‘‘ سے مراد ہے ’’آفاقی قانون‘‘، جو ’’یانگ‘‘ (روشنی، حرکت، قوت) اور ’’یِن‘‘ (تاریکیِ جمود) سے بالا تر ہے۔ ’’لاوتسے ‘‘ اپنے پیروؤں سے کہا […]
ملوک حاجی صاحب، ایک سچا دوست

گذشتہ کچھ دنوں سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر چند مخصوص دوستوں کی جانب سے مینگورہ کی ایک نام ور شخصیت کے بارے میں کچھ ہونی اَن ہونی باتیں سامنے آتی رہیں۔ مَیں نے ایک آدھ کا جواب دیا بھی…… مگر آج جی چاہتا ہے کہ کچھ متنازع باتوں کو نظر انداز […]
ریاست سوات دور کی ملازمت کیسی ہوتی تھی؟

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا اس پر مستزاد۔ فضل رازق شہاب کی […]
والدہ ماجدہ کی یاد میں

دوستو! یکم اپریل میری ماں کا یومِ وفات ہے۔ اللہ اُن کی قبر نور سے بھر دے، آمین! مَیں نے زندگی بھر ماں کو دکھ ہی دیے ہوں گے۔ مَیں تھا ہی ایسا بدنصیب…… مگر اب پچھتاوے کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ ایک بھلانا چاہوں، تو دو یاد آتی ہیں۔ ماں نے ہمیشہ نہ […]
حاجی سیف الملوک (ملوک حاجی صیب) کی یاد میں

ضیاء الحق کا دور تھا۔ وہ پوری فوجی طاقت اور جلال کے ساتھ مسندِ اقتدار پر براجمان تھے۔ ان کے نیچے لیفٹیننٹ جنرل فضل حق سرحد کے گورنر اور صوبائی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ طاقت تو رکھتے ہی تھے مگر اُن کا نشہ اُس طاقت سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ساجد امان کی دیگر تحاریر […]
ناسٹلجیا

مجھے بارش میں چھتری لے کر چلنا اچھا لگتا تھا۔ غالباً یہ بہت کم عمری میں برساتی میں چھپ کر برستی بارش کے دوران میں صحن میں بیٹھ جاتا تھا۔ برساتی پر بارش کے قطروں کی آواز مجھے بہت بھلی لگتی تھی۔ کالج کے دنوں میں ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ لے کر ایسی جگہ بیٹھ جاتا، جہاں […]
نیرنگیِ زمانہ

صبح ایک فاتحہ کے لیے گاؤں (ابوہا) کے درمیان ایک مسجد جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک تنگ گلی سے گزرتے ہوئے گاؤں کی روزمرہ سرگرمیوں کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ ایک گھر کے دروازے پر بیٹھا دودھ والا اوٹ سے ایک خاتون کو دودھ دے رہا تھا۔ ایک اور گھر کے دروازے سے خاتونِ خانہ […]
تاریخ دُشمنی

(نوٹ:۔ اِس مضمون کے لکھنے کا مقصد کم الفاظ اور مختصر تحریر میں تاریخ اور تاریخ کے مضمون کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ اور اس واہمے کو دور کرنے کی کوشش بھی ہے کہ تاریخ خالی خولی پرانے قصے کہانیاں ہیں اور موجودہ وقت اور دور میں اِس کی کوئی علمی اور عملی اہمیت […]