صحافت کا ارتقائی سفر اور ہم

ہندوستان میں پاکستانی صحافت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ویسے تو ہندوستانیوں کی عادت ہے پاکستان کے مذاق اڑانے کی، لیکن دو باتوں میں ہندوستانیوں کا مذاق وزنی لگتا ہے۔ ایک جب پاکستانی کہتے ہیں کہ ’’اگر ہندوستان نے پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو……!‘‘ ہندوستانی میڈیا میں اس قسم کے مکالموں کا […]
فلسفہ کی تاریخ (اُنتیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ افلاطون کی ری پبلک/ ریاست (The Republic):۔ افلاطون نے اپنے ’’علمیاتی نظریے‘‘ (Theory of Knowledge) کی بنیاد پر اخلاقیات (Ethics) کی بنیاد رکھی، یعنی کہ جو […]
خیبر پختونخوا کے سینما گھر کیوں بند ہوئے؟

پرانے سینما گھروں کا تفصیلی بیان تو ابراہیم ضیا کی کتاب ’’پشاور کے فن کار‘‘ میں بڑے منفرد انداز میں موجود ہے۔ پشاور میں کچھ ایسے سینما گھر بھی ہیں، جو بعد میں بنے اور ختم ہوگئے۔ ’’ناولٹی سینما‘‘ کو مسمار کرکے اُس پر پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ ’’امان سنیما گھر‘‘ میڈیکل سنٹر میں […]
روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]
مور پنڈیٔ کاکا (مدین) کی یاد میں

عبد الرحیم میاں، جنھیں عام طور پر مور پنڈیٔ کاکا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اخوند خیل میاں گان کے چشم و چراغ تھے۔ اُن کی پیدایش 1872ء کے آس پاس تیرات مدین سوات میں ہوئی اور 1949 عیسوی بہ مقام مور پنڈیٔ (مدین) میں ہوئی۔ عبد الرحیم کاکا کے والدِ بزرگوار کا […]
فلسفہ کی تاریخ (اٹھائیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ غار کی تمثیل (Allegory of the cave):۔ افلاطون نے اپنی علمیاتی نظریے یا معرفت شناسی (Epistemology) کو آسانی سے سمجھانے کے لیے ایک تمثیلی مثال […]
فلسفہ کی تاریخ (چھبیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علی زئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا چھبیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ کلیات کا مسئلہ (Problem of Universals):۔ افلاطون نے اتنے مختلف موضوعات پر لکھا کہ ہم کہیں سے بھی اُس کے فلسفے کو بیان کرنا […]
تاؤ مت کیا ہے؟

تاؤمت: Taoism or Daoism چین کا ایک مسلک جس کا بانی ’’لاوتسے‘‘ (Lao Tzu) تھا۔ (وکی پیڈیا کے مطابق ’’لاوتسے‘‘ کی پیدایش 571 قبلِ مسیح ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔) ’’تاؤ‘‘ سے مراد ہے ’’آفاقی قانون‘‘، جو ’’یانگ‘‘ (روشنی، حرکت، قوت) اور ’’یِن‘‘ (تاریکیِ جمود) سے بالا تر ہے۔ ’’لاوتسے ‘‘ اپنے پیروؤں سے کہا […]
ملوک حاجی صاحب، ایک سچا دوست

گذشتہ کچھ دنوں سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر چند مخصوص دوستوں کی جانب سے مینگورہ کی ایک نام ور شخصیت کے بارے میں کچھ ہونی اَن ہونی باتیں سامنے آتی رہیں۔ مَیں نے ایک آدھ کا جواب دیا بھی…… مگر آج جی چاہتا ہے کہ کچھ متنازع باتوں کو نظر انداز […]
ریاست سوات دور کی ملازمت کیسی ہوتی تھی؟

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا اس پر مستزاد۔ فضل رازق شہاب کی […]
والدہ ماجدہ کی یاد میں

دوستو! یکم اپریل میری ماں کا یومِ وفات ہے۔ اللہ اُن کی قبر نور سے بھر دے، آمین! مَیں نے زندگی بھر ماں کو دکھ ہی دیے ہوں گے۔ مَیں تھا ہی ایسا بدنصیب…… مگر اب پچھتاوے کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ ایک بھلانا چاہوں، تو دو یاد آتی ہیں۔ ماں نے ہمیشہ نہ […]
حاجی سیف الملوک (ملوک حاجی صیب) کی یاد میں

ضیاء الحق کا دور تھا۔ وہ پوری فوجی طاقت اور جلال کے ساتھ مسندِ اقتدار پر براجمان تھے۔ ان کے نیچے لیفٹیننٹ جنرل فضل حق سرحد کے گورنر اور صوبائی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ طاقت تو رکھتے ہی تھے مگر اُن کا نشہ اُس طاقت سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ساجد امان کی دیگر تحاریر […]
ناسٹلجیا

مجھے بارش میں چھتری لے کر چلنا اچھا لگتا تھا۔ غالباً یہ بہت کم عمری میں برساتی میں چھپ کر برستی بارش کے دوران میں صحن میں بیٹھ جاتا تھا۔ برساتی پر بارش کے قطروں کی آواز مجھے بہت بھلی لگتی تھی۔ کالج کے دنوں میں ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ لے کر ایسی جگہ بیٹھ جاتا، جہاں […]
نیرنگیِ زمانہ

صبح ایک فاتحہ کے لیے گاؤں (ابوہا) کے درمیان ایک مسجد جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک تنگ گلی سے گزرتے ہوئے گاؤں کی روزمرہ سرگرمیوں کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ ایک گھر کے دروازے پر بیٹھا دودھ والا اوٹ سے ایک خاتون کو دودھ دے رہا تھا۔ ایک اور گھر کے دروازے سے خاتونِ خانہ […]
تاریخ دُشمنی

(نوٹ:۔ اِس مضمون کے لکھنے کا مقصد کم الفاظ اور مختصر تحریر میں تاریخ اور تاریخ کے مضمون کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ اور اس واہمے کو دور کرنے کی کوشش بھی ہے کہ تاریخ خالی خولی پرانے قصے کہانیاں ہیں اور موجودہ وقت اور دور میں اِس کی کوئی علمی اور عملی اہمیت […]
بھٹو ریفرنس، مستقبل کے مورخ کو مواد ہاتھ آگیا

یہ 4 اپریل کی شروعات مطلب ابھی صبحِ کاذب بھی شروع نہ ہوئی تھی، قریب آدھی رات تھی، جب راولپنڈی ڈسٹرک جیل کے ذمے داران ایک کال کوٹھری میں پہنچے اور ایک جسمانی طور پر نہایت کم زور لیکن ذہنی و نفسیاتی طور پر ایک مضبوط شخص کو پھانسی کے چبوترے پر لائے اور اگلے […]
پروفیسر خواجہ عثمان علی کی آمد اور کچھ پرانی یادیں

ٹائم تو مَیں نے نہیں دیکھا، مگر شام سے تھوڑی دیر پہلے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میرا پوتا مزمل باہر گیا اور واپس آکر بتایا کہ ’’پروفیسر خواجہ عثمان علی صاحب آئے ہیں۔‘‘ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ یقین کیجیے مَیں تھوڑا سا […]
ہماری کیرم بورڈ سے جڑی جوانی کی یادیں

کل پرسوں اپنے پوتوں کے ساتھ کیرم کھیل رہا تھا۔ مَیں نے ایک دفعہ ویسے کَہ دیا کہ مجھے وہ دن بہت یاد آرہے ہیں، جب مَیں ڈگر کالج کی کالونی میں قیام پذیر تھا۔ ہم یعنی پروفیسر ہمایوں خان، پروفیسر قاضی عبدالواسع اور ہمارے ایس ڈی اُو جمیل الرحمان صاحب اور مَیں شام کے […]
نیو کولونیل ازم کیا ہے؟

’’لینن‘‘ نے اپنی ایک کتاب میں سامراج کو سرمایہ داری کی انتہائی منزل قرار دیا تھا۔ لینن کے اس تجزیے کو حتمی نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ سامراجیت سرمایہ داری کی انتہائی منزل تو ہوسکتی ہے، لیکن آخری نہیں۔ "Ghana” کے مشہور انقلابی لیڈر ’’کوامے نکروما‘‘ (Kwame Nkrumah) کی کتاب ’’نیو کولونیل ازم: سامراج کی […]
فتنۂ قادیانیت اور لڑکپن کی یادیں

آج کل کے ایک متنازع فیصلے پر اُٹھتے ہوئے ’’سوشل میڈیائی ہنگامے‘‘ نے مجھے کالج کے وقتوں کا ایک واقعہ یاد دِلا دیا۔ سب سے پہلے کچھ اُس کا نقشا کھینچ لوں۔ 1958ء میں جب مَیں نے جہانزیب کالج میں داخلہ لیا۔ اُس وقت میرے بچپن کے دوست اسفندیار ’’سیکنڈ ائیر‘‘میں تھے، یعنی مجھ سے […]
کولونیل ازم کیا ہے؟

کولونیل ازم (Colonialism) کی ابتدا یورپ سے ہوئی، جب پرتگالی سمندری رستوں کی تلاش میں نکل گئے۔ شروعات میں یہ منڈیوں تک رسائی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی دریافت تھی، جو بعد میں اُن کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوئی۔ عثمانیوں کے زمینی رستے بند کرنے کا نقصان مشرق ہی کو اُٹھانا پڑا۔ کیوں […]