کبل چوک سے جڑی یادیں

کبل چوک پہنچ کر مجھے ہر دفعہ حاجی محمد اسماعیل صاحب یاد آجاتے ہیں…… میرے کولیگ اور مہربان دوست۔حاجی محمد اسماعیل چنداخورہ کبل کے رہنے والے تھے۔ مشہور ادبی اور انتظامی شخصیت سیف الموک صدیقی صاحب کے کزن تھے۔ اُن کے والد ظریف الرحمان ایک مشہور عالم اور مذہبی شخصیت تھے۔مَیں اور حاجی صاحب کالج […]
امان اللہ خان المعروف کاکا اُستاد صاحب

ہماری نسل اور اس سے پہلے کے مینگروال حضرات سے ’’کاکا اُستاد صاحب‘‘ کا پوچھیں، تو ایک تعظیم، احترام اور محبت کا جذبہ ان کے چہرے میں سرخی پیدا کردیتا ہے۔کاکا اُستاد صاحب مینگورہ نیو روڈ محلہ عیسیٰ خیل کے رہنے والے تھے۔ اُن کو اُستادوں اور افسروں کا اُستاد بھی کہتے ہیں۔کاکا اُستاد صاحب […]
شوکت علی صاحب کی علمی و ادبی خدمات

جب بھی علم، تہذیب، شایستگی اور نرم خوئی کا ذکر ہوگا، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے مایہ ناز استاد، سر شوکت علی کا نام احترام سے لیا جائے گا۔ وہ نہ صرف ایک استاد تھے، بل کہ طلبہ کے لیے ایک مشفق باپ، رفقا کے لیے خالص دوست اور اپنی زمین […]
ریاست سوات کے ایک نابغۂ روزگار افسر

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وہ ایک بہادر سپاہی، بہترین شاہ سوار اور دانا آدمی تھے۔ اگرچہ وہ مکمل طور پر ناخواندہ تھے، لیکن ان کی پشتون ولی، پشتون جرگہ اور پشتون رسوم و رواج کے بارے میں معلومات بے نظیر […]
سوات، سیاحت اور مختلف معاشی و ذہنی مسائل

سوات، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک دل کش اور دل فریب وادیوں سے بھرا ہوا خطہ ہے، جو ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ نیلے پانیوں کی جھیلیں، برف پوش پہاڑ، سرسبز و شاداب میدان اور قدرتی خوب صورتی سے مزین نظارے انسان کو چند لمحوں کے لیے دنیا […]
مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، […]
نثار الحق صاحب کی یاد میں

ہر انسان دنیا میں ایک خاص مقصد کے تحت آتا ہے، لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عمل، کردار اور اخلاص سے اس مقصد کو نہ صرف پہچانتی ہیں، بل کہ اُسے ایک مشن کی صورت میں اپنی زندگی کا نصب العین بنالیتی ہیں۔ پرنسپل نثار الحق صاحب بھی انھی نیک سیرت، درد […]
ہمارے بچپن میں فال نکالنے کے طریقے

مجھے یاد ہے، تعلیم جب اتنی عام نہ تھی، تو توہمات کی بہتات تھی۔ لوگ فال اور تعویذ کے بڑے قائل تھے۔کئی نیم خواندہ گھروں میں ’’فال نامہ‘‘ کے نام سے پشتو میں لکھی ہوئی منظوم و منثور کتابیں تھیں، جو اوسط درجے کے کاغذ پرچھپی ہوتی تھیں۔ اُن رسالہ نما غیر مجلد کتابوں کی […]
ڈاکٹر مشتاق احمد: باوقار علمی و دینی شخصیت

علم و دانش کے میدان میں چند ایسی شخصیات اُبھرتی ہیں، جو اپنی علمی بصیرت، تدریسی مہارت، دینی خدمات اور باوقار شخصیت کی بہ دولت معاشرے میں روشنی کا مینار بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب، چیئرمین اسلامک اینڈ عربک اسٹڈیز، یونیورسٹی آف سوات، اُنھی ممتاز شخصیات میں سے ایک ہیں۔٭ تعلیمی سفر، علم […]
’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘: لکیر کھینچ دی گئی

قارئین! مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کے خلاف مزاحمت میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔مدین جرگے کا متفقہ اعلامیہ ہے کہ ’’یہ پراجیکٹ اہلِ سوات کو کسی صورت قبول نہیں۔ یہ مدین، بحرین، کالام اور پوری وادئی سوات پر حملہ ہے۔ لہٰذا ہم اس میں تبدیلی نہیں، بل کہ اس منصوبے کو سرے سے نامنظور […]
ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]
میاں گل فروش کی ناقابل فراموش خدمات

چشمِ تصور میں لائیں ریاستِ سوات کا وہ دور جب پاکستان سے اخباردوسرے روز پہنچتا تھا، جہاں تعلیم اتنی عام نہیں تھی۔ پڑھنے والے کم تھے، اس لیے ایک ہی ہفت روزے کا اجرا ہوتا تھا اور ایک ہی شخص مالک، پبلشر، ایڈیٹر، کانٹینٹ کرئیٹر، رپورٹر اور ڈسٹری بیوٹر ہوتا تھا۔ اندازہ لگائیں اُس ایک […]
مینگورہ گریویٹی سکیم: جتنے منھ اتنی باتیں

آج کل مینگورہ کے لیے مستقل آب نوشی کا منصوبہ شدید تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اس کے حوالے سے ہر کس و ناکس اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے۔منصوبے میں مالی بے قاعدگیوں، کرپشن، کک بیکس اور فنی خامیوں کا ذکر کوئی نہیں کررہا۔ بس سب کی تان اس بات پر آکر ٹوٹتی […]
ریاست سوات، جب شاہی علم اُتارا گیا

یوسف زئی ریاست سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت ’’فلیگ سٹاف‘‘ سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔پھر نہ کسی نے شاہی علم والئی سوات کی رہایش گاہ پر لہراتے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔عجب افراتفری اور غیر یقینی […]
سوات، مقامی و غیر مقامی گداگروں کے نرغے میں

سوات، جو کہ خیبر پختونخوا کا ایک خوب صورت اور تاریخی خطہ ہے، اپنی قدرتی دل کشی، پُرسکون فضا اور دل موہ لینے والے مناظر کی بہ دولت ’’مشرق کا سویٹزرلینڈ‘‘ کہلاتا ہے۔یہاں کے سرسبز پہاڑ، میٹھے جھرنے، جھیلیں اور آثارِ قدیمہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں…… لیکن بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں اس […]
حیدر علی جان کی گرفتاری، آزادیٔ صحافت پر سوالیہ نشان

حیدر علی جان کی گرفتاری محض ایک فرد کی حراست نہیں، یہ صحافت کے تاب ناک اُفق پر چھا جانے والی تاریکی کی گواہی ہے۔ یہ اُس سچائی کا گلا گھونٹنے کی جسارت ہے جو آج بھی کاغذ پر لرزتے حرفوں میں زندہ ہے۔ اُس جرم کی سزا دی گئی ہے، جس کی بنیاد فرض […]
ریاستی پی ڈبلیو ڈی کی تنظیم اور طریقۂ کار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں نے پہلے بھی اس انتہائی اہم ریاستی ادارے کی ارتقا کی وضاحت کی ہے۔ جب مَیں نے 1961ء میں اس میں شمولیت اختیار کی، تو یہاں کوئی بھی اہل تکنیکی تعلیم یافتہ اہل کار نہیں […]
میاں گل سعید ایڈوکیٹ (مسین دادا)

سوات کی وادی جہاں فلک بوس پہاڑوں کی عظمت اور دریاؤں کی سرگوشیاں بہ یک وقت سنائی دیتی ہیں، وہیں کچھ ہستیاں ایسی بھی پیدا ہوئیں، جنھوں نے قوم، قبیلے اور انسانیت کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کرکے تاریخ میں اپنا نام رقم کیا۔ انھی اجل و ارفع شخصیات میں ایک تابندہ ستارہ، میاں […]
سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]
ریاست سوات: ماضی کی چند جھلکیاں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک بار والی صاحب کو ڈاک کے ذریعے ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط اُردو میں لکھا گیا تھا۔ اس خط میں والی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ اُنھوں نے ریاستی پبلک […]
استاد محترم محمد شعیب صاحب

لفظ ’’معلم‘‘ محض چار حروف کا مجموعہ نہیں، بل کہ ایک عظیم کردار، ایک روشن چراغ اور ایک سراپا مہربانی ہستی کا استعارہ ہے۔اُستاد کا رشتہ ایسا ہے، جو علم و عمل کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے، مگر محبت و شفقت کی ڈور سے بندھ کر روح کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔مَیں آج […]