شہزادہ میانگل عالم زیب

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)شہزادہ میانگل عالم زیب، میانگل جہانزیب (جو 1949ء سے 1969ء تک سوات کے حکم ران تھے) کے دوسرے صاحب زادے تھے۔ بچپن میں، میاں گل عالم زیب مرگی کے شکار ہوگئے، جو اُس وقت لاعلاج بیماری […]

ریاست سوات کے آثار کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سوات کے ریاستی دور کے آثار مٹتے مٹاتے تقریباً معدوم ہوگئے ہیں۔ شاید ہی کہیں اِک آدھ باقی ہوں، باقی سب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔مَیں نے اپنی فیس بک وال پر ’’آنجہانی‘‘ ہونے والی تحصیلِ بری کوٹ کی عمارت کی ایک تصویر دی ہے، جو اَب ’’سورگ باش‘‘ ہوچکی ہے۔ اُس کی جگہ جو […]

غفور خان عادل کی صحافتی زندگی

Blogger Hilal Danish

یہ تحریر ایک طرح سے صحافت کے مخلص راہی، حق گوئی، خودداری اور خندہ پیشانی کے پیکر کی خدمات کا اعتراف ہے، جن کے قلم نے سچ لکھا، دل نے سچ بولا اور زندگی نے سچ پر قربانی دی۔ یہ وہی غفور خان عادل ’’بھائی جان‘‘ ہیں، جنھوں نے ہمیں قلم کی حرمت سکھائی۔صحافت کی […]

مدرار (چورڑئی طوطا)

Blogger Sajid Aman

بہت پرانے حاجی بابا چوک کو چشمِ تصور میں لائیں، تو ایک عجیب سی تصویر بنتی ہے۔ ایک مصروف چوک جہاں سبزی منڈی، بسوں، گوالوں، پہاڑوں سے آئے ہوئے افراد جو میوہ جات کے ڈھیر سجائے بیٹھے ہیں، پرانا ڈاک خانہ روڈ سے کسی ندی کی طرح بہتی ہوئی اترائی جو غورئی کندہ کی جانب […]

ریاست سوات کے کوٹہ قلعہ سے جڑی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

کوٹہ قلعہ کا شمار ریاست کے اولین قلعہ جات میں ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ ریاست کا سرحدی قلعہ تھا۔ اس لیے اس کی عمارت بڑی شان و شوکت والی تھی۔ شاید یہ واحد قلعہ تھا،جس کے ارد گرد دوہری فصیل تھی اور فصیل میں بھی واچ ٹاؤر بنائے گئے تھے۔ مین بلڈنگ کے ٹاؤرز […]

والی سوات کے لیے کلمۂ خیر کہنے میں کیا امر مانع ہے؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

دوستو! مجھے فیس بک پہ آئے اتنا زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر جو بات مَیں نے سیکھ لی ہے، وہ ہے کمنٹس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا۔ کیوں کہ ان سے رائے زنی کرنے والے کی اصلیت کا پتا چلتا ہے۔اس کی مدد سے آپ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ لوگوں کا’’ٹرینڈ‘‘ کیا ہے، […]

سیدو ہسپتال کی ابتر صورتِ حال اور سنہرا ماضی

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سیدو ٹیچنگ ہسپتال کی صفائی کے بارے میں ’’سوات نامہ‘‘ (فیس بُک صفحہ) کی ایک پوسٹ پڑھی، بہت افسوس ہوا۔ مَیں صرف ایک بار اس دیو ہیکل عمارت میں گیا تھا کسی کی عیادت کے لیے…… مگر لفٹ کی مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے لابی میں بیٹھ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ صفائی […]

شجاع الملک (منیجر صاحب)

Blogger Sajid Aman

جناب شجاع الملک دراصل پیرداد خان کے لختِ جگر ہیں۔مینگورہ شہر کے آبائی لوگ شجاع الملک صاحب کو ’’منیجر صاحب‘‘ کَہ کر اُن کی ساری خوبیوں کا احاطہ کرلیتے ہیں۔ اس ایک لفظ (منیجر صاحب) میں اُن کی شخصیت، شرافت، خوش مزاجی، رکھ رکھاو، اپناپن اور نجانے دیگر کون کون سی خوبیوں مضمر ہیں۔دراصل بینکنگ، […]

طاقت نے انھیں بے لگام نہیں کیا

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین برائیاں کرۂ ارض پر انسانی تاریخ میں بہت پرانی ہیں۔ یہ برائیاں جسم فروشی، بھیک مانگنا اور کرپشن ہیں۔ یہ وہاں پروان چڑھتی ہیں جہاں غربت ہو، ذات پات، مسلک اور جہالت کی بنیاد پر […]

ریاست سوات: ادغام کے بعد کی یادیں

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے ادغام کے بعد، رائج نظام کچھ عرصے تک چلتا رہا، جب تک ریاست کے مختلف محکموں کے مقدر کا فیصلہ نہیں ہوگیا۔ یہ ایک مشکل کام تھا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر، […]

مولانا میاں فقیر محمد المعروف بازار مولوی صاحب

Blogger Hilal Danish

سوات کی روحانی فضاؤں میں اگر کسی نام کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، تو وہ مولانا میاں فقیر محمد المعروف بازار مولوی صاحب ہے۔علم و حلم، فقہ و فہم، زہد و تقوا اور عشقِ رسول کی وہ درخشاں قندیل تھے، جن کی روشنی نے چارباغ سے نکل کر پورے خطے کو منور کیا۔مولانا […]

ریاست سوات دور کا ایک ناخوش گوار واقعہ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک مسافر بس بونیر سے آ رہی تھی اور اچانک میاں کوٹے، کڑاکڑ کے قریب کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے رُک گئی۔ مسافر بس سے اُتر گئے اور ٹولیوں میں کھڑے ہو گئے، جب کہ […]

ڈی سی سوات شہزاد محبوب کے نام کھلا خط

Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab

جناب ڈپٹی کمشنر سوات، اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے!اور اگر ہم اپنی کہیں گے، تو ہوسکتا ہے کہ آپ صاحبان کے طبعِ نازک پر ناگوار گزرے، مگر اتنا ضرور کہے دیتے ہیں کہ آپ کی سرکار میں ہم عوام کی حالت ’’نیم پاگل‘‘ کی سی ہوگئی ہے۔اب آپ صاحبان سوچیں گے […]

حضرت مولانا مسعود احمد (چارباغ، سوات)

Blogger Hilal Danish

وادیِ سوات کے قلب، چارباغ کی سرسبز وادیوں میں ایک ایسی ہستی نے آنکھ کھولی جس کا وجود علم، حلم، فہم، فراست اور استقامت کا پیکر بن کر اُبھرا۔ وہ جن کی مسکراہٹ میں شفقت، خاموشی میں حکمت اور اندازِ گفت گو میں دل نشینی کی مہک تھی۔ مولانا مسعود احمد رحمہ اللہ صرف ایک […]

ریاست سوات کے اداروں کا دائرہ کار

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک شام، والی صاحب نے اپنی گاڑی رکوائی اور ایک گارڈ کو اشارہ کیا کہ وہ اوپر جاکر ایک افسر کو لے آئے، جو افسر آباد میں رہتا تھا۔ چناں چہ وہ افسر جلدی سے نیچے […]

ریاستِ سوات کے ملازمین اور پاکستانی سیٹ اَپ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے انضمام کے بعد، نئے نظام کے تحت کام کرتے ہوئے، نچلے عملے نے اس بھائی چارے، قربت اور خاندانی ماحول کی کمی محسوس کی، جو ریاستی افسران اور ملازمین کے درمیان موجود تھی۔ ریاست […]

جب تنخواہ کم تھی اور اطمینان زیادہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بُو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا۔یہ دراصل میری ملازمت کے ابتدائی برسوں کی […]

ریاست سوات: انضمام کے وقت کی صورتِ حال

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے انضمام کے اعلان (جولائی 1969ء) کے فوری بعد کا دور ’’سٹیٹَس کو‘‘ (Status Quo) کہلایا، لیکن نئی انتظامیہ نے سرعت سے اپنی اتھارٹی کا استعمال شروع کر دیا۔ ایک کرنل سب مارشل […]

والی سوات کی حکم رانی کی کچھ خصوصیات

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے ماضیِ قریب میں دل چسپی رکھنے والے اکثر لوگ یہ بات بہ خوبی سمجھتے ہیں کہ 1917ء سے 1969ء تک کے فرمان رواؤں کا اندازِ حکمرانی اور نظام حکومت کیسا تھا؟ مگر وہ […]

سوات بحرین اور تاریخ

Blogger Zubair Torwali

مَیں نے اپنی فیس بُک وال پر 1980ء کی دہائی میں بحرین کی کھینچی گئی ایک تصویر دی ہے، جس میں سارے گھر کچے ہیں اور پتھر، لکڑی اور مٹی کے بنے ہیں۔اب موجودہ بحرین سوات کو دیکھ لیں، تو کنکریٹ اور سیمنٹ کا ایک شہر معلوم ہوتا ہے، جس میں سبزہ ختم ہوچکا ہے۔بحرین […]

پروفیسر قادر خان

Blogger Sajid Aman

پروفیسر قادر خان صاحب کہتے ہیں کہ میری کل 7 یا 8 تصویریں ہیں، جو میانگل شہریار امیر زیب صاحب نے کھینچی ہیں۔ چوں کہ اُن کو معلوم ہے کہ مجھے تصویر کھینچنا پسند نہیں، اس لیے اُنھوں نے اُن پر تبصرے لکھ کر مجھے واپس کر دیا ہے۔قارئین! راقم ایک دن تین بجے سہ […]