میاں گل فروش کی ناقابل فراموش خدمات

Blogger Sajid Aman

چشمِ تصور میں لائیں ریاستِ سوات کا وہ دور جب پاکستان سے اخباردوسرے روز پہنچتا تھا، جہاں تعلیم اتنی عام نہیں تھی۔ پڑھنے والے کم تھے، اس لیے ایک ہی ہفت روزے کا اجرا ہوتا تھا اور ایک ہی شخص مالک، پبلشر، ایڈیٹر، کانٹینٹ کرئیٹر، رپورٹر اور ڈسٹری بیوٹر ہوتا تھا۔ اندازہ لگائیں اُس ایک […]

مینگورہ گریویٹی سکیم: جتنے منھ اتنی باتیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج کل مینگورہ کے لیے مستقل آب نوشی کا منصوبہ شدید تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اس کے حوالے سے ہر کس و ناکس اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے۔منصوبے میں مالی بے قاعدگیوں، کرپشن، کک بیکس اور فنی خامیوں کا ذکر کوئی نہیں کررہا۔ بس سب کی تان اس بات پر آکر ٹوٹتی […]

ادب کیوں پڑھیں؟

Translated by Nayab Hassan

ترجمہ: نایاب حسن(نوٹ:۔ ماریو برگس یوسا، 1936ء تا 2025ء، ہسپانوی زبان کے اہم ترین و رجحان ساز ادیب، ناول نگار، ڈراما نویس اور مضمون نگار ہیں۔ اُن کے دو درجن سے زائد ناول، اتنے ہی مضامین کے مجموعے اور نصف درجن سے زائد ڈراموں کے مجموعے شائع شدہ ہیں۔ 2010ء میں اُنھیں نوبل انعام براے […]

ریاست سوات، جب شاہی علم اُتارا گیا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

یوسف زئی ریاست سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت ’’فلیگ سٹاف‘‘ سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔پھر نہ کسی نے شاہی علم والئی سوات کی رہایش گاہ پر لہراتے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔عجب افراتفری اور غیر یقینی […]

ہمارا انوپم کھیر ’’رحمت علی‘‘

Blogger Sajid Aman

سکول کے زمانے میں رحمت علی ’’آصف خان‘‘ (اداکار) سے بہت متاثر تھا۔ وہ اور اُس کے کئی دوست نام کے ساتھ ’’آصف خان‘‘ کا لاحقہ لگاتے۔ ہماری روزانہ ملاقات حاجی بابا روڈ پر ہوتی۔ رفتہ رفتہ ہماری شناسائی گہری دوستی میں بدل گئی۔ ہم میں قدرِ مشترک کتابوں کا مطالعہ تھی۔ہم کو بھی پڑھنے […]

سوات، مقامی و غیر مقامی گداگروں کے نرغے میں

Blogger Engineer Miraj Ahmad

سوات، جو کہ خیبر پختونخوا کا ایک خوب صورت اور تاریخی خطہ ہے، اپنی قدرتی دل کشی، پُرسکون فضا اور دل موہ لینے والے مناظر کی بہ دولت ’’مشرق کا سویٹزرلینڈ‘‘ کہلاتا ہے۔یہاں کے سرسبز پہاڑ، میٹھے جھرنے، جھیلیں اور آثارِ قدیمہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں…… لیکن بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں اس […]

سویلین کا ملٹری ٹرائل کا اختلافی نوٹ

Blogger Advocate Muhammad Riaz

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پرمشتمل سپریم کورٹ کے ہفت رکنی آئینی بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے سویلین کے فوجی ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرلیں اور […]

حیدر علی جان کی گرفتاری، آزادیٔ صحافت پر سوالیہ نشان

Blogger Hilal Danish

حیدر علی جان کی گرفتاری محض ایک فرد کی حراست نہیں، یہ صحافت کے تاب ناک اُفق پر چھا جانے والی تاریکی کی گواہی ہے۔ یہ اُس سچائی کا گلا گھونٹنے کی جسارت ہے جو آج بھی کاغذ پر لرزتے حرفوں میں زندہ ہے۔ اُس جرم کی سزا دی گئی ہے، جس کی بنیاد فرض […]

ریاستی پی ڈبلیو ڈی کی تنظیم اور طریقۂ کار

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں نے پہلے بھی اس انتہائی اہم ریاستی ادارے کی ارتقا کی وضاحت کی ہے۔ جب مَیں نے 1961ء میں اس میں شمولیت اختیار کی، تو یہاں کوئی بھی اہل تکنیکی تعلیم یافتہ اہل کار نہیں […]

ہمارا نظام تعلیم اور ضائع ہوتی ہوئی صلاحیتیں

Blogger Shafiq ul Islam

پاکستان میں تعلیم کا مطلب آج بھی صرف ایک ہی چیز سمجھی جاتی ہے: ’’کتابیں، امتحان اور نمبر۔‘‘ہمارے نظامِ تعلیم نے بچوں کی صلاحیتوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے، جیسے ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر ہی بننے کے لیے پیدا ہوا ہو…… لیکن دنیا بھر میں ترقی یافتہ اقوام نے […]

فیاض ظفر، پیشہ ورانہ صحافت کا استعارہ

Blogger Engineer Miraj Ahmad

فیاض ظفر کا تعلق سوات جیسے خوب صورت، مگر تاریخ کے تلخ بابوں سے گزرے ہوئے علاقے سے ہے۔ یہاں کی سرزمین قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے باوجود کئی دہائیوں تک شدت پسندی، عسکریت پسندی اور ریاستی بے توجہی کا شکار رہی۔ ایسے ماحول میں صحافت کرنا گویا تلوار کی دھار پر چلنے […]

میاں گل سعید ایڈوکیٹ (مسین دادا)

Blogger Hilal Danish

سوات کی وادی جہاں فلک بوس پہاڑوں کی عظمت اور دریاؤں کی سرگوشیاں بہ یک وقت سنائی دیتی ہیں، وہیں کچھ ہستیاں ایسی بھی پیدا ہوئیں، جنھوں نے قوم، قبیلے اور انسانیت کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کرکے تاریخ میں اپنا نام رقم کیا۔ انھی اجل و ارفع شخصیات میں ایک تابندہ ستارہ، میاں […]

پاک بھارت تناو: عالمی طاقتیں ثالث یا مفاد پرست؟

Blogger Engineer Miraj Ahmad

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیاد تاریخی، جغرافیائی، مذہبی اور سیاسی عوامل پر ہے ، جو قیامِ پاکستان کے وقت سے آج تک مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے۔یہ کشیدگی محض دو ہمسایہ ممالک کا مسئلہ نہیں، بل کہ ایک خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے بھی مستقل خطرہ بنی […]

سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]

چینی ایکسپورٹ شدہ ورژن جدید ترین اسلحہ پر بھاری

Blogger Syed Shahid Abbas Kazmi

حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی کچھ افراد ایسے موجود ہیں، جو نہ صرف جذباتی نعرے لگاتے ہیں، بل کہ یہ مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کو فوراً بھارت پر حملہ کر دینا چاہیے۔ اُن افراد کا یہ بھی شکوہ ہے کہ پاکستان نے ابھی تک کوئی واضح […]

ریاست سوات: ماضی کی چند جھلکیاں

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک بار والی صاحب کو ڈاک کے ذریعے ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط اُردو میں لکھا گیا تھا۔ اس خط میں والی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ اُنھوں نے ریاستی پبلک […]

استاد محترم محمد شعیب صاحب

Blogger Hilal Danish

لفظ ’’معلم‘‘ محض چار حروف کا مجموعہ نہیں، بل کہ ایک عظیم کردار، ایک روشن چراغ اور ایک سراپا مہربانی ہستی کا استعارہ ہے۔اُستاد کا رشتہ ایسا ہے، جو علم و عمل کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے، مگر محبت و شفقت کی ڈور سے بندھ کر روح کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔مَیں آج […]

موسم گرما اور الرجی کے مسائل

Blogger Doctor Noman Khan

ملک کے بیش تر حصوں میں موسمِ گرما اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف موسمِ گرما، بیرونی تفریح، ٹھنڈے مشروبات اور طویل دھوپ والے دن کا وقت ہے، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ وہ موسم بھی ہے، جب الرجی اور سانس کے مسائل بھڑک سکتے ہیں۔ ’’جرگ‘‘ سے لے کر دھول، آلودگی اور […]

شہزادہ میانگل عالم زیب

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)شہزادہ میانگل عالم زیب، میانگل جہانزیب (جو 1949ء سے 1969ء تک سوات کے حکم ران تھے) کے دوسرے صاحب زادے تھے۔ بچپن میں، میاں گل عالم زیب مرگی کے شکار ہوگئے، جو اُس وقت لاعلاج بیماری […]