عصر حاضر کے طلبہ اور اخلاقیات

آج کے دور میں تعلیم کے مقاصد بدلتے جا رہے ہیں۔ طلبہ کے ذہنوں میں علم حاصل کرنے کی بہ جائے صرف امتحان پاس کرنے، نمبر لینے اور اچھی نوکری حاصل کرنے کی سوچ بیٹھ چکی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا رہ گیا ہے، جب کہ اخلاقی اقدار جیسا کہ سچائی، دیانت […]
بحرین پل، ہماری مجبوری اور ذمے داری

ہم 21ویں صدی میں بنیادی سہولیات جیسے سڑک، پل ، پانی کے نلکوں، اسپتالوں اور اسکولوں سے محروم لوگ ہیں۔ پورے ملک کی صورتِ حال ناگفتہ بہ ہے اور ہم مضافاتی لوگوں کی تو حالت نہایت پسم ماندہ ہے۔ باقی دنیا میں سائنس، ٹیکنالوجی، چاند اور مریخ پر جانا، صنفی مساوات وغیرہ بڑے مسائل ہیں، […]
غلامی سے مزدوری تک کا سفر

انسانیت کے ماتھے پر یہ داغ ہمیشہ چمکتا رہے گا کہ کبھی انسان،انسان کی ملکیت ہوا کرتا تھا اور انسان نے انسان کا استحصال کیا ہے۔قارئین! ازل سے انسانوں کی یہ جبلت رہی ہے کہ وہ دوسروں کو زیر کرکے خود کو برتر ثابت کرے اور اُنھیں اپنا غلام بنائے۔ اس لیے انسان تب بھی […]
ریاست سوات کے کوٹہ قلعہ سے جڑی یادیں

کوٹہ قلعہ کا شمار ریاست کے اولین قلعہ جات میں ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ ریاست کا سرحدی قلعہ تھا۔ اس لیے اس کی عمارت بڑی شان و شوکت والی تھی۔ شاید یہ واحد قلعہ تھا،جس کے ارد گرد دوہری فصیل تھی اور فصیل میں بھی واچ ٹاؤر بنائے گئے تھے۔ مین بلڈنگ کے ٹاؤرز […]
پاک بھارت جنگ نہیں ہوگی

میرا خیال ہے کہ سنہ 1948ء، 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے بعد پاک بھارت کشیدگی اِس وقت انتہا پر ہے۔ شاید اتنی تلخی سیاچن گلیشیر اور کارگل کے وقت بھی نہ تھی۔یہ بات تو طے ہے کہ یہ کشیدگی کسی باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار نہیں کرے گی، نہ ایسا ہونا ہی چاہیے۔ کیوں […]
سچ سے فیاض ظفر بھاگ رہا ہے یا………؟

تحریر: محمد ریاض خان (چیئرمین وی سی قمبر، سوات)سوال بہت سادہ سا ہے، مگر اس کی گونج دور تک جاتی ہے۔کیا پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) میں کوئی ایسا شخص باقی ہے، جو فیاض ظفر کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے؟کیا کوئی ایسا دلیر، حق گو اور باضمیر کارکن بچا ہے، جو سامنے […]
ڈاکٹر امجد علی خان کے نام کھلا خط

محترم ممبر قومی اسمبلی امجد علی خان، اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے!جنابِ والا! محلہ حاجی بابا، مینگورہ سوات، کے ایک بے بس و لاچار نوجوان صادق احمد مع اپنے بوڑھے والد آئے اور دست بستہ عرض کیا کہ کسی طرح ہمارا یہ خط (ذیل کی سطور میں من و عن شامل […]
والی سوات کے لیے کلمۂ خیر کہنے میں کیا امر مانع ہے؟

دوستو! مجھے فیس بک پہ آئے اتنا زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر جو بات مَیں نے سیکھ لی ہے، وہ ہے کمنٹس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا۔ کیوں کہ ان سے رائے زنی کرنے والے کی اصلیت کا پتا چلتا ہے۔اس کی مدد سے آپ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ لوگوں کا’’ٹرینڈ‘‘ کیا ہے، […]
واقعی رفتار ہی انتشار ہے

رفتار ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک کشش کا باعث رہی ہے۔ زمانۂ قدیم میں گھوڑوں کی دوڑ، رتھوں کی بازی یا پانی میں بادبانی کشتیوں کی دوڑ ہو، انسان نے ہمیشہ آگے بڑھنے اور دوسروں سے سبقت لے جانے کی خواہش کو اپنے دل میں بسائے رکھا۔ آج کے جدید دور میں یہ طلب […]
ٹرمپ سرکار کے پہلے 100 دن کا جائزہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کا آغاز امریکہ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے…… اور اب اُن کی طرف سے کیے گئے وعدوں کو وفا کرنا ایک پیچیدہ اور متنازع مسئلہ بن چکا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز، تجارتی پالیسیاں اور مختلف ملکی فیصلے کسی حد تک امریکہ کے […]
’’ڈسٹ الرجی‘‘ کیا ہے، اس سے کیسے بچا جائے؟

پرانے وقتوں میں مشہور تھا کہ دمہ (Asthma) ’’دم‘‘ لے کر ہی جاتا ہے (یعنی بندے کو مار کر ہی ختم ہوتا ہے)، مگر اَب میڈیکل سائنس کے ترقی یافتہ دور میں اس مرض کا مکمل علاج موجود ہے۔دمے کا مرض پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی عام ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے […]
حاجی ہدایت الرحمان (قاضی صاحب)

کہتے ہیں کہ عظیم لوگ چراغوں کی مانند ہوتے ہیں۔خاموش…… مگر راستہ دکھانے والے، سادہ…… مگر دلوں کو روشن کرنے والے۔میرے نانا، قاضی ہدایت الرحمان المعروف قاضی صاحب رحمہ اللہ، ایسے ہی ایک روشن چراغ تھے، جن کی زندگی علم، عمل، وفا، دیانت اور سادگی سے عبارت تھی۔٭ نسب و تربیت:۔ بابا نے 1920ء میں […]
سیدو ہسپتال کی ابتر صورتِ حال اور سنہرا ماضی

سیدو ٹیچنگ ہسپتال کی صفائی کے بارے میں ’’سوات نامہ‘‘ (فیس بُک صفحہ) کی ایک پوسٹ پڑھی، بہت افسوس ہوا۔ مَیں صرف ایک بار اس دیو ہیکل عمارت میں گیا تھا کسی کی عیادت کے لیے…… مگر لفٹ کی مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے لابی میں بیٹھ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ صفائی […]
پلاسٹک بیگ، پوشیدہ خطرہ

شاپنگ بیگز آج کل ناگزیر ضرورت کا روپ دھار چکے ہیں۔ جس طرح موبائل فون نے بہت سی اشیا اور گیجٹس کو نگل لیا ہے، اُسی طرح شاپنگ بیگ نے بھی کئی چیزوں اور روایات کو ڈکار مار کر ہضم کرلیا ہے۔ موبائل فون نے گھڑی، کیمرا، ویڈیو کیمرا، خط، عید کارڈ، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، […]
جنگوں کے پیچھے قوتیں

پس ماندہ ممالک میں لوگ ہر وقت اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔ روزمرہ کے اخراجات اور خاندان کی ذمے داریوں کی ٹینشن، ہمہ وقت کے مسائل، بے ہنگم ٹریفک میں انسانوں کو کچلتے ہوئے ڈمپر ٹرالر اور گاڑیوں میں جھانکتی ہوئی آنکھیں، ان سب سے روزانہ ہم بچنے کی کوشش کرتے […]
پانی، لاشوں اور حب الوطنی کا موسم

انڈیا میں ایک بار پھر پاکستان مخالفت کا سیلاب امڈ آیا ہے، مگر یہ ایک ایسا سیلاب ہے جس میں پانی بند کر دیا گیا ہے!مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر نامعلوم حملہ آوروں نے مبینہ دہشت گردی کی، اور مودی سرکار نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر اُنگلی اٹھا دی۔ اس واقعے کی آڑ […]
شجاع الملک (منیجر صاحب)

جناب شجاع الملک دراصل پیرداد خان کے لختِ جگر ہیں۔مینگورہ شہر کے آبائی لوگ شجاع الملک صاحب کو ’’منیجر صاحب‘‘ کَہ کر اُن کی ساری خوبیوں کا احاطہ کرلیتے ہیں۔ اس ایک لفظ (منیجر صاحب) میں اُن کی شخصیت، شرافت، خوش مزاجی، رکھ رکھاو، اپناپن اور نجانے دیگر کون کون سی خوبیوں مضمر ہیں۔دراصل بینکنگ، […]
طاقت نے انھیں بے لگام نہیں کیا

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین برائیاں کرۂ ارض پر انسانی تاریخ میں بہت پرانی ہیں۔ یہ برائیاں جسم فروشی، بھیک مانگنا اور کرپشن ہیں۔ یہ وہاں پروان چڑھتی ہیں جہاں غربت ہو، ذات پات، مسلک اور جہالت کی بنیاد پر […]
دو انتہاؤں کے بیچ گزرتی ہماری زندگی

حسبِ معمول سماج دو حصوں میں تقسیم ہے:فریقِ اول، مذہبی ہے یا مذہبی سیاسی۔فریقِ دوم، سیکولر اور لبرل ہے۔فریقِ اول نے گذشتہ سال سے ایک ماحول بنایا ہوا ہے، جس میں صیہونی مظالم کی کھلم کھلا مخالفت ہورہی ہے۔ جلسے، جلوس، ملین مارچ، سیمینار، کانفرنسیں اور بہت کچھ ہے، جس کا مقصد اہلِ غزہ سے […]
دمہ الرجی اور اس سے جڑے حقائق

دمہ سانس کی ایک دائمی حالت ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے پھیلاو کے باوجود، دمہ کے بارے میں بے شمار غلط فہمیاں ہیں، جو غلط معلومات اور غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس بلاگ میں، ہمارا مقصد دمہ کے بارے میں عام غلط فہمیوں کو […]
ریاست سوات: ادغام کے بعد کی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے ادغام کے بعد، رائج نظام کچھ عرصے تک چلتا رہا، جب تک ریاست کے مختلف محکموں کے مقدر کا فیصلہ نہیں ہوگیا۔ یہ ایک مشکل کام تھا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر، […]