فالج کے مریض اور نمونیا

نمونیا پھیپڑوں کا ایک انفکشن ہے، جس کی وجہ سے ایک یا دونوں پھیپڑوں میں ہوا کے تھیلے سوج جاتے ہیں۔ بلغم یا پیپ کے ساتھ کھانسی، بخار، سردی لگنا اور سانس لینے میں دشواری اس وقت ہوسکتی ہے، جب ہوا کے تھیلے سیال یا پیپ (پیپ والے مواد) سے بھر جائیں۔ نمونیا مختلف اقسام […]
پنجاب کی بدلتی جیلوں کی کہانی

وزیرِ اعلا پنجاب مریم نواز کے وِژن ’’ہنر مند اسیر‘‘ کے تحت پنجاب کی جیلیں اب جرائم کی یونیورسٹیاں نہیں، بل کہ اصلاح گھر بنتی جارہی ہیں، جہاں قیدی نہ صرف ہنر مند بن رہے ہیں، بل کہ جیل کے اندر بیٹھ کر پیسے بھی کما نا شروع ہوچکے ہیں۔ ان سب کاموں کا کریڈٹ […]
انڈس کوہستان تک ایک ناقابلِ فراموش سفر

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)1960ء کی دہائی کے پہلے نصف میں، ریاستِ سوات کے حکم ران نے فیصلہ کیا کہ دور دراز علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس منصوبے کے تحت دو کمروں پر مشتمل […]
نثار الحق صاحب کی یاد میں

ہر انسان دنیا میں ایک خاص مقصد کے تحت آتا ہے، لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عمل، کردار اور اخلاص سے اس مقصد کو نہ صرف پہچانتی ہیں، بل کہ اُسے ایک مشن کی صورت میں اپنی زندگی کا نصب العین بنالیتی ہیں۔ پرنسپل نثار الحق صاحب بھی انھی نیک سیرت، درد […]
ہمارے بچپن میں فال نکالنے کے طریقے

مجھے یاد ہے، تعلیم جب اتنی عام نہ تھی، تو توہمات کی بہتات تھی۔ لوگ فال اور تعویذ کے بڑے قائل تھے۔کئی نیم خواندہ گھروں میں ’’فال نامہ‘‘ کے نام سے پشتو میں لکھی ہوئی منظوم و منثور کتابیں تھیں، جو اوسط درجے کے کاغذ پرچھپی ہوتی تھیں۔ اُن رسالہ نما غیر مجلد کتابوں کی […]
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق

قراردادِ مقاصد 1949ء جو آرٹیکل ’’2 اے‘‘ کے ذریعے آئینِ پاکستان کا حصہ بن چکی ہے، اس میں طے کیا گیا تھا کہ ریاستِ پاکستان ایسا آئین بنائے گی، جس میں اقلیتوں کے لیے آزادانہ طور پر اپنے مذاہب کا دعوا کرنے اور اس پر عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کا مناسب […]
ڈاکٹر مشتاق احمد: باوقار علمی و دینی شخصیت

علم و دانش کے میدان میں چند ایسی شخصیات اُبھرتی ہیں، جو اپنی علمی بصیرت، تدریسی مہارت، دینی خدمات اور باوقار شخصیت کی بہ دولت معاشرے میں روشنی کا مینار بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب، چیئرمین اسلامک اینڈ عربک اسٹڈیز، یونیورسٹی آف سوات، اُنھی ممتاز شخصیات میں سے ایک ہیں۔٭ تعلیمی سفر، علم […]
’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘: لکیر کھینچ دی گئی

قارئین! مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کے خلاف مزاحمت میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔مدین جرگے کا متفقہ اعلامیہ ہے کہ ’’یہ پراجیکٹ اہلِ سوات کو کسی صورت قبول نہیں۔ یہ مدین، بحرین، کالام اور پوری وادئی سوات پر حملہ ہے۔ لہٰذا ہم اس میں تبدیلی نہیں، بل کہ اس منصوبے کو سرے سے نامنظور […]
ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]
پھیپڑے کب بیمار ہوتے ہیں؟
میاں گل فروش کی ناقابل فراموش خدمات

چشمِ تصور میں لائیں ریاستِ سوات کا وہ دور جب پاکستان سے اخباردوسرے روز پہنچتا تھا، جہاں تعلیم اتنی عام نہیں تھی۔ پڑھنے والے کم تھے، اس لیے ایک ہی ہفت روزے کا اجرا ہوتا تھا اور ایک ہی شخص مالک، پبلشر، ایڈیٹر، کانٹینٹ کرئیٹر، رپورٹر اور ڈسٹری بیوٹر ہوتا تھا۔ اندازہ لگائیں اُس ایک […]
مینگورہ گریویٹی سکیم: جتنے منھ اتنی باتیں

آج کل مینگورہ کے لیے مستقل آب نوشی کا منصوبہ شدید تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اس کے حوالے سے ہر کس و ناکس اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے۔منصوبے میں مالی بے قاعدگیوں، کرپشن، کک بیکس اور فنی خامیوں کا ذکر کوئی نہیں کررہا۔ بس سب کی تان اس بات پر آکر ٹوٹتی […]
ادب کیوں پڑھیں؟

ترجمہ: نایاب حسن(نوٹ:۔ ماریو برگس یوسا، 1936ء تا 2025ء، ہسپانوی زبان کے اہم ترین و رجحان ساز ادیب، ناول نگار، ڈراما نویس اور مضمون نگار ہیں۔ اُن کے دو درجن سے زائد ناول، اتنے ہی مضامین کے مجموعے اور نصف درجن سے زائد ڈراموں کے مجموعے شائع شدہ ہیں۔ 2010ء میں اُنھیں نوبل انعام براے […]
ریاست سوات، جب شاہی علم اُتارا گیا

یوسف زئی ریاست سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت ’’فلیگ سٹاف‘‘ سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔پھر نہ کسی نے شاہی علم والئی سوات کی رہایش گاہ پر لہراتے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔عجب افراتفری اور غیر یقینی […]
ہمارا انوپم کھیر ’’رحمت علی‘‘

سکول کے زمانے میں رحمت علی ’’آصف خان‘‘ (اداکار) سے بہت متاثر تھا۔ وہ اور اُس کے کئی دوست نام کے ساتھ ’’آصف خان‘‘ کا لاحقہ لگاتے۔ ہماری روزانہ ملاقات حاجی بابا روڈ پر ہوتی۔ رفتہ رفتہ ہماری شناسائی گہری دوستی میں بدل گئی۔ ہم میں قدرِ مشترک کتابوں کا مطالعہ تھی۔ہم کو بھی پڑھنے […]
سوات، مقامی و غیر مقامی گداگروں کے نرغے میں

سوات، جو کہ خیبر پختونخوا کا ایک خوب صورت اور تاریخی خطہ ہے، اپنی قدرتی دل کشی، پُرسکون فضا اور دل موہ لینے والے مناظر کی بہ دولت ’’مشرق کا سویٹزرلینڈ‘‘ کہلاتا ہے۔یہاں کے سرسبز پہاڑ، میٹھے جھرنے، جھیلیں اور آثارِ قدیمہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں…… لیکن بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں اس […]
سویلین کا ملٹری ٹرائل کا اختلافی نوٹ

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پرمشتمل سپریم کورٹ کے ہفت رکنی آئینی بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے سویلین کے فوجی ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرلیں اور […]
حیدر علی جان کی گرفتاری، آزادیٔ صحافت پر سوالیہ نشان

حیدر علی جان کی گرفتاری محض ایک فرد کی حراست نہیں، یہ صحافت کے تاب ناک اُفق پر چھا جانے والی تاریکی کی گواہی ہے۔ یہ اُس سچائی کا گلا گھونٹنے کی جسارت ہے جو آج بھی کاغذ پر لرزتے حرفوں میں زندہ ہے۔ اُس جرم کی سزا دی گئی ہے، جس کی بنیاد فرض […]
ریاستی پی ڈبلیو ڈی کی تنظیم اور طریقۂ کار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں نے پہلے بھی اس انتہائی اہم ریاستی ادارے کی ارتقا کی وضاحت کی ہے۔ جب مَیں نے 1961ء میں اس میں شمولیت اختیار کی، تو یہاں کوئی بھی اہل تکنیکی تعلیم یافتہ اہل کار نہیں […]
ہمارا نظام تعلیم اور ضائع ہوتی ہوئی صلاحیتیں

پاکستان میں تعلیم کا مطلب آج بھی صرف ایک ہی چیز سمجھی جاتی ہے: ’’کتابیں، امتحان اور نمبر۔‘‘ہمارے نظامِ تعلیم نے بچوں کی صلاحیتوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے، جیسے ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر ہی بننے کے لیے پیدا ہوا ہو…… لیکن دنیا بھر میں ترقی یافتہ اقوام نے […]
فیاض ظفر، پیشہ ورانہ صحافت کا استعارہ

فیاض ظفر کا تعلق سوات جیسے خوب صورت، مگر تاریخ کے تلخ بابوں سے گزرے ہوئے علاقے سے ہے۔ یہاں کی سرزمین قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے باوجود کئی دہائیوں تک شدت پسندی، عسکریت پسندی اور ریاستی بے توجہی کا شکار رہی۔ ایسے ماحول میں صحافت کرنا گویا تلوار کی دھار پر چلنے […]