ناول ’’دو نیم اپریل‘‘ کا مختصر جائزہ

ترجمہ: ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی’’دو نیم اپریل‘‘ یا ’’شکستہ اپریل‘‘ (Broken April) گزرے وقت کی دل کشی لیے ایک ذہن پر سوار ہو جانے والی کہانی ہے۔بہت کم ایسے ناول ہوتے ہیں، جو اتنے سادہ، لیکن پُراثر انداز میں لکھے گئے ہوں۔ اس ناول میں پلاٹ، جو بہ ذاتِ خود اہمیت کا حامل ہے، سے […]
ریاست سوات دور کا ایک نوعمر قاتل

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وہ ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کی ماں کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا اور اس کے باپ نے دوسری شادی کر لی۔ کہا جاتا تھا کہ اس کی سوتیلی ماں اس کے […]
دہشت گردی کی نئی لہر

جمعہ 7 مارچ کو جب مَیں یہ سطور لکھ رہا تھا، تو سامنے ایک سرکاری نوٹیفکیشن پڑا تھا۔ یہ نوٹیفکیشن دراصل ایک ’’تھریٹ الرٹ‘‘ تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ’’دو موٹر گاڑیاں کوئٹہ شہر میں داخل ہوچکی ہیں، جو کسی بھی سرکاری عمارت کو نشانہ بناسکتی ہیں۔ لہٰذا متعلقہ ادارے انسدادِ دہشت گردی […]
’’پلمونری ایمبالزم‘‘ بیماری کیا ہے؟

’’پلمونری ایمبالزم‘‘ (Pulmonary Embolism) ایک ایسی بیماری ہے، جس میں انسان کے پھیپڑوں کی شریانوں میں خون جم جاتا ہے اور پھیپڑوں کا وہ حصہ جس کو یہ شریانیں خون سپلائی کرتی ہیں، مفلوج یا مسدود ہو جاتا ہے۔یہ جما ہوا خون کا لتھڑا یا لتھڑے عام طور پر بدن کے دوسرے حصوں (خاص طور […]
ایک بوڑھے کی میانگل عبدالحق جہانزیب سے ملاقات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)دوسری عالمی جنگ کے دوران میں باقی برصغیر کی طرح سوات بھی کافی حد تک متاثر ہوا۔ سوات کو اپنی سرحدوں سے باہر کی صنعتوں پر روزمرہ کی ضروریات کی بہت سی چیزوں کا انحصار کرنا […]
بارڈر سمگلنگ: عسکریت پسندوں کی مالیاتی شہ رگ

کہانی پرانی ہے، منظرنامہ نیا نہیں۔ کردار وہی پرانے، ہتھیار جدید اور سرحدیں ویسی ہی غیر محفوظ۔ بلوچستان کے ریگ زاروں میں دن کو خاموشی ہوتی ہے، رات کو جنگل کا قانون۔ دور کہیں کسی ویران راستے پر ایک گاڑی دھول اڑاتے ہوئے تیزی سے نکلتی ہے۔ اندر جدید اسلحہ ہے۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھا […]
اصل مستحق کو صدقہ دینا ہنر ہے

قارئین، ایک بار مَیں اپنے ابا جان (مرحوم) کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھا تھا کہ ایک فقیر کچھ مانگنے کے لیے آگیا۔ مَیں نے حسبِ عادت جیب سے چند سکے نکالے اور اُس کے ہاتھ میں تھما دیے۔ عام طور پر، مَیں کھلے پیسے اس لیے رکھتا ہوں کہ جب کوئی مانگنے والا سامنے آئے، […]
فضل غنی استاد صاحب

اگر کوئی ایک شخص بہ یک وقت اُستاد، ادیب، شاعر، مدبر، سیاسی رہ نما، وطن پرست، قوم پرست، اساتذہ سیاست کے سرخیل، ترقی پسند، باشعور، حساس اور دیگر اعلا اوصاف کا حامل ہوسکتا ہے، تو اُن کا نام فضل غنی استاد صاحب اُستاد ہے۔فضل غنی اُستاد صاحب نے جہاں اساتذہ کے حقوق کے لیے بے […]
میرا ٹرمپ زندہ باد، تیرا ٹرمپ مردہ باد

امریکی صدر ٹرمپ نے پارلیمنٹ سے خطاب میں امریکہ کو مطلوب ہائی پروفائل دہشت گرد کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ امریکہ سمیت پوری دنیا بالخصوص پاکستانیوں کے لیے بھی یہ حیران کن خبر تھی۔ امریکی صدر کے انکشاف پر حسبِ روایت طرفین سے ردِ عمل، تبصرے اور تجزیے کیے گئے۔ پاکستانی وزیرِاعظم […]
تورگل ’مخصوص ٹولے‘ کی خواہش کو خبر بنا گیا

انسانی تاریخ میں لفظ کی ایجاد کے بعد شاہوں، بادشاہوں اور عام انسانوں میں رابطہ کا سلسلہ چل نکلا، تو ہدہد سے لے کے کبوتر تک اور قاصد سے لے کے خصوصی ایلچی تک نے انسانوں کے درمیان اس رابطے کو توڑنے نہیں دیا۔ خط و کتابت سے ٹیلی فون تک کا سفر طے ہوا […]
ریاست سوات اور ماہِ رمضان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ہمارے بچپن میں رمضان خوشیوں سے بھرپور ہوتا تھا۔ بچے سحری اور افطاری، جو اس مقدس مہینے کی نمایاں خصوصیات ہیں، کی سرگرمیوں کے بارے میں بہت پُرجوش ہوتے۔ اگرچہ لوگوں کے پاس وسائل محدود تھے، […]
صدیوں پرانی ذاتی ڈائری جو کتاب کی شکل اختیار کرگئی

تحریر: تنویر گھمن کیا مَیں آپ کو بتا دوں کہ یہ کتاب 1,800 سال پرانی ذاتی ڈائری میں لکھے کسی انسان کے خیالات پر مشتمل ہے؟کیا مَیں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ وہ کوئی عام شخص نہیں تھا، بل کہ رومی سلطنت کا شہنشاہ، فلسفی اور مفکر تھا۔ وہ 161ء سے 180ء تک روم […]
کوہستانی زبان کا معمہ

کوہستانی کا مطلب پہاڑی ہے…… یعنی پہاڑی لوگ یا اُن کا طرزِ زندگی۔ یہ کسی زبان کا نام نہیں۔ یہ کوئی کلچرل یا ایتھنک شناخت (Ethnic Identity) بھی ظاہر نہیں کرتا۔ یہ ایک عمومی جغرافیائی نسبت ہے، جسے اُن لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو پہاڑی علاقو ں میں رہتے ہوں، چاہے تھر […]
مارکس ازم اور قومی سوال

قومی سوال کی بحث 20ویں صدی میں شروع ہوئی جس کا مقصد ’’نیشن‘‘، ’’نیشنل ازم‘‘ اور اس کے ساتھ جڑے مسائل کو منظرِ عام پہ لانا تھا۔ 1648ء میں ’’ٹریٹی آف ویسٹ فیلیا‘‘ (The Treaty of Westphalia) میں قوم کا ایک نیا نقطۂ نظر سامنے آیا۔ یہ معاہدہ کیتھولکس اور پروٹسٹنٹس کے بیچ 30 سال […]
حرم کے جلال میں ایک غلام کی حاضری

یہ کوئی عام سفر نہیں تھا، بل کہ یہ ایک عاشق کی اپنے محبوب کے دربار میں حاضری تھی۔ یہ روح کی گہرائیوں میں اُتر جانے والا وہ مبارک سفر تھا، جس میں ہر لمحہ عبدیت کی خوش بو تھی۔ ہر قدم ’’فناء فی اللہ‘‘ کی جانب بڑھ رہا تھا اور ہر سانس میں ’’لبیک […]
ایک مصور کا قوم پرستی سے غداری تک کا سفر

دنیا کی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں مصوروں، سکالروں، فلاسفروں، شاعروں، فن کاروں اور سائنس دانوں کو بھیانک سزائیں دی گئیں۔ ان لوگوں کو سزائیں اس لیے دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ معاشرے کے اُن مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں، جن کا حل ان کے ذہن میں سماج کی […]
رمضان کا مہینا اور دمہ کے مسائل

رمضان کا مہینا ہے۔ ایک طرف رمضان اپنے ساتھ رحمتیں اور برکتیں لایا ہے، تو دوسری طرف یہ مہینا دمہ اور سانس کے جملہ امراض کے مریضوں پر تھوڑا گراں گزرتا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلی ہے۔ اس کی وجہ سے سوات کی خشک سردی، سحری اور افطار میں مرغن غذاؤں کے […]
قلندر ماما میر خانخیل

مینگورہ مین بازار کے عقب میں گلی ڈبہ مسجد جسے میر خانخیل، بوستان خیل کہتے ہیں، سبو چوک یا حاجی بابا چوک سے شروع ہوکر گلی ڈبہ مسجد تک بالخصوص اسی مین گلی کی ہر طرف غالب اکثریت میر خانخیل، بوستان خیل ہی کی تھی۔ ویسے پرانا ڈاک خانہ روڈ، بادشاہ چم میں بھی بہت […]
رمضان راشن پیکیجز کی تقسیم، ایک چیلنج

عطیہ، خیرات، زکوٰۃ، صدقہ اور کسی بھی قسم کی مالی مدد، ان سب کا معاشرے کی تعمیر میں ایک کردار ہے۔ ضرورت مند افراد اپنے مذہبی فرائض کی انجام دہی، اپنے مال کو پاک کرنے، ضرورت مندوں کا احساس کرنے اور دوسروں کی خوشی اور غمی میں ساتھ دینے کے لیے ہر سال کثیر تعداد […]
ابا جان کی یاد میں

کہتے ہیں کہ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے، مگر کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو دل کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے رچ بس جاتے ہیں۔ وقت ان پر مرہم رکھنے کی کوشش تو کرتا ہے، مگر جب درد کی جڑیں روح تک اتر جائیں، تو پھر نہ ختم ہونے والی کسک میں […]
ناخود کپتان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)یہ بات کافی واضح ہے کہ ایک اشرافی نظام ہمیشہ ملک کے اعلا طبقے کو فائدہ دیتا ہے اور یہ طبقہ ریاست کے ہر ادارے میں غالب رہتا ہے۔ کچھ استثنائی صورتیں بھی دیکھی گئی ہیں، […]