ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان

میری اس تحریر سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَیں کوئی ’’پروفیشنل نوحہ‘‘ گر ہوں۔ اُدھر کسی کی موت کی خبر آئی اور اِدھر میری انگلیوں میں خارش ہونے لگی…… لیکن بعض لوگوں کے احسانات بھلانا ناممکن بھی تو ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد خان دارِ فانی سے کوچ کرگئے،یہ ایک نارمل سی بات ہے۔کیوں کہ […]
ریاستِ سوات کے استحکام میں جرگے کا کردار
فضل رازق شہاب: ایک عہد کا نام

قارئین! قومیں بانجھ تب ہوتی ہیں، جب اُن میں علم و فن سے محبت ختم ہوجائے۔ یوں تاریخ سے رغبت معدوم رہتی ہے اور اسلاف کی عظمت کا وزن دل پر نہیں رہتا؛ حال بے حال ہو جاتا ہے اور مستقبل غیر یقینی بن جاتا ہے۔وہ قومیں گم ہو جاتی ہیں، جو صاحبِ علم کی […]
بنڑ سکول کے ساتھ جڑی یادیں

1960ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک بنڑ ہائی سکول (مینگورہ) کے ارد گرد کا علاقہ بالکل غیر آباد تھا۔ سب سے قریبی، بل کہ بالکل لگی ہوئی عمارت سیٹھ کامران کی جدید ترین محل نما کوٹھی تھی، جو اُن کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ اُس وقت مَیں کالج میں پڑھتا تھا۔ کچھ زیادہ […]
ادغام ریاست سوات اور مضحکہ خیز دعوے

جب کبھی اور جس بھی فورم پر ریاست سوات کے ضم ہونے کے حوالے سے بحث چھڑتی ہے، تو فرضی قیاسات، متبادل اقدامات اور ادغام کو روکنے کے بارے میں اوٹ پٹانگ قسم کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ بعض تبصرے تو اخلاق سے گرے ہوے ہوتے ہیں،مگر زیادہ تر منفی اور مثبت جذبات کے اظہار […]
سوات کے کشمیری شہید

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)اُن افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپاہیوں کو، جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں، ہر ممکن طریقے سے عزت دی جاتی ہے۔ ان کے خاندانوں کو شہدا […]
ریاست سوات، عیدین اور میلے

عیدین پر ایک بہت بڑا میلا ’’سیند‘‘ کے مقام پر دریائے سوات کے کنارے لگتا تھا۔ جہاں پر آج کل سوات پولیس لائن ہے؛ چناروں کا ایک بہت بڑا جھنڈ تھا۔ یہیں پر پہلے پہل ایک ہی ریسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا، جس کی عمارت خوب صورت تھی۔ لکڑی کے خوب صورت کام سے مزین […]
نگار سوڈا واٹر والے ’’نگار حاجی صاحب‘‘

مجھے بہ ذاتِ خود تاج چوک میں فقیر محمد ماما کی ٹھنڈی بوتلوں والی دکان آج بھی یاد ہے، جسے ہم اپنے بچپن (1985ء تا 1990ء ) میں ’’ڈکار والی بوتل‘‘ (دَ ڈرقو بوتل) کَہ کر جگر کی گرمی اُتارنے کا سامان کرتے تھے۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے، جب میری عمر بہ مشکل چھے، […]
والی سوات کو خراج عقیدت

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ہز ہائنس میجر جنرل، سلطان العلوم، غازیِ ملت میانگل عبد الحق جہانزیب، (H.Q.A) دراصل 5 جون 1908ء کو پیدا ہوئے۔ انھیں 12 دسمبر 1949ء کو سوات کا والی مقرر کیا گیا۔ 28 جولائی 1969ء کو ایک […]
تاریخی ودودیہ ہال کی کہانی

بلاگ میں شال تصویر اُس تقریب کی ہے، جو 24 دسمبر 1965ء کو پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن ہال میں اس مقصد کے لیے منعقد کی گئی تھی کہ والئی سوات کو اُن کی تعلیمی خدمات اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کے اعتراف میں ’’ڈاکٹر آف لاز‘‘ (Doctor of Laws) کی اعزازی […]
ریاست سوات کے ایک نابغۂ روزگار افسر

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وہ ایک بہادر سپاہی، بہترین شاہ سوار اور دانا آدمی تھے۔ اگرچہ وہ مکمل طور پر ناخواندہ تھے، لیکن ان کی پشتون ولی، پشتون جرگہ اور پشتون رسوم و رواج کے بارے میں معلومات بے نظیر […]
ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]
ریاست سوات، جب شاہی علم اُتارا گیا

یوسف زئی ریاست سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت ’’فلیگ سٹاف‘‘ سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔پھر نہ کسی نے شاہی علم والئی سوات کی رہایش گاہ پر لہراتے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔عجب افراتفری اور غیر یقینی […]
ریاستی پی ڈبلیو ڈی کی تنظیم اور طریقۂ کار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں نے پہلے بھی اس انتہائی اہم ریاستی ادارے کی ارتقا کی وضاحت کی ہے۔ جب مَیں نے 1961ء میں اس میں شمولیت اختیار کی، تو یہاں کوئی بھی اہل تکنیکی تعلیم یافتہ اہل کار نہیں […]
سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]
ریاست سوات: ماضی کی چند جھلکیاں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک بار والی صاحب کو ڈاک کے ذریعے ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط اُردو میں لکھا گیا تھا۔ اس خط میں والی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ اُنھوں نے ریاستی پبلک […]
شہزادہ میانگل عالم زیب

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)شہزادہ میانگل عالم زیب، میانگل جہانزیب (جو 1949ء سے 1969ء تک سوات کے حکم ران تھے) کے دوسرے صاحب زادے تھے۔ بچپن میں، میاں گل عالم زیب مرگی کے شکار ہوگئے، جو اُس وقت لاعلاج بیماری […]
ریاست سوات کے آثار کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

سوات کے ریاستی دور کے آثار مٹتے مٹاتے تقریباً معدوم ہوگئے ہیں۔ شاید ہی کہیں اِک آدھ باقی ہوں، باقی سب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔مَیں نے اپنی فیس بک وال پر ’’آنجہانی‘‘ ہونے والی تحصیلِ بری کوٹ کی عمارت کی ایک تصویر دی ہے، جو اَب ’’سورگ باش‘‘ ہوچکی ہے۔ اُس کی جگہ جو […]
والی سوات کے لیے کلمۂ خیر کہنے میں کیا امر مانع ہے؟

دوستو! مجھے فیس بک پہ آئے اتنا زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر جو بات مَیں نے سیکھ لی ہے، وہ ہے کمنٹس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا۔ کیوں کہ ان سے رائے زنی کرنے والے کی اصلیت کا پتا چلتا ہے۔اس کی مدد سے آپ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ لوگوں کا’’ٹرینڈ‘‘ کیا ہے، […]
سیدو ہسپتال کی ابتر صورتِ حال اور سنہرا ماضی

سیدو ٹیچنگ ہسپتال کی صفائی کے بارے میں ’’سوات نامہ‘‘ (فیس بُک صفحہ) کی ایک پوسٹ پڑھی، بہت افسوس ہوا۔ مَیں صرف ایک بار اس دیو ہیکل عمارت میں گیا تھا کسی کی عیادت کے لیے…… مگر لفٹ کی مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے لابی میں بیٹھ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ صفائی […]
طاقت نے انھیں بے لگام نہیں کیا

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین برائیاں کرۂ ارض پر انسانی تاریخ میں بہت پرانی ہیں۔ یہ برائیاں جسم فروشی، بھیک مانگنا اور کرپشن ہیں۔ یہ وہاں پروان چڑھتی ہیں جہاں غربت ہو، ذات پات، مسلک اور جہالت کی بنیاد پر […]