ریاست سوات: ادغام کے بعد کی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے ادغام کے بعد، رائج نظام کچھ عرصے تک چلتا رہا، جب تک ریاست کے مختلف محکموں کے مقدر کا فیصلہ نہیں ہوگیا۔ یہ ایک مشکل کام تھا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر، […]
قاضی حسین احمد کے ساتھ چکیسر کی ایک شام

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مجھے چکیسر کا مون سون موسم (موسمِ برسات) بہت پسند تھا۔ بجلی کی روشنی سے عاری مکمل اندھیرے میں بھیگ رہے گاؤں کی سیاہ تاریک راتیں کیا سماں باندھ دیتیں۔ پورے علاقے میں 1960ء کی دہائی […]
ریاست سوات دور کا ایک ناخوش گوار واقعہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک مسافر بس بونیر سے آ رہی تھی اور اچانک میاں کوٹے، کڑاکڑ کے قریب کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے رُک گئی۔ مسافر بس سے اُتر گئے اور ٹولیوں میں کھڑے ہو گئے، جب کہ […]
ریاستِ سوات کے ملازمین اور پاکستانی سیٹ اَپ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے انضمام کے بعد، نئے نظام کے تحت کام کرتے ہوئے، نچلے عملے نے اس بھائی چارے، قربت اور خاندانی ماحول کی کمی محسوس کی، جو ریاستی افسران اور ملازمین کے درمیان موجود تھی۔ ریاست […]
والی سوات کی حکم رانی کی کچھ خصوصیات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے ماضیِ قریب میں دل چسپی رکھنے والے اکثر لوگ یہ بات بہ خوبی سمجھتے ہیں کہ 1917ء سے 1969ء تک کے فرمان رواؤں کا اندازِ حکمرانی اور نظام حکومت کیسا تھا؟ مگر وہ […]
والی سوات کی تعلیم سے محبت

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میانگل جہانزیب کی تعلیم کے لیے بے پناہ اور بے مثال محبت تھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے سامنے تین نِکاتی ایجنڈا تھا، یعنی تعلیم، صحت اور مواصلات۔ یہی ان کی ترجیحات کی فہرست […]
ایک بوڑھے کی میانگل عبدالحق جہانزیب سے ملاقات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)دوسری عالمی جنگ کے دوران میں باقی برصغیر کی طرح سوات بھی کافی حد تک متاثر ہوا۔ سوات کو اپنی سرحدوں سے باہر کی صنعتوں پر روزمرہ کی ضروریات کی بہت سی چیزوں کا انحصار کرنا […]
فضل غنی استاد صاحب

اگر کوئی ایک شخص بہ یک وقت اُستاد، ادیب، شاعر، مدبر، سیاسی رہ نما، وطن پرست، قوم پرست، اساتذہ سیاست کے سرخیل، ترقی پسند، باشعور، حساس اور دیگر اعلا اوصاف کا حامل ہوسکتا ہے، تو اُن کا نام فضل غنی استاد صاحب اُستاد ہے۔فضل غنی اُستاد صاحب نے جہاں اساتذہ کے حقوق کے لیے بے […]
ریاست سوات اور ماہِ رمضان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ہمارے بچپن میں رمضان خوشیوں سے بھرپور ہوتا تھا۔ بچے سحری اور افطاری، جو اس مقدس مہینے کی نمایاں خصوصیات ہیں، کی سرگرمیوں کے بارے میں بہت پُرجوش ہوتے۔ اگرچہ لوگوں کے پاس وسائل محدود تھے، […]
ناخود کپتان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)یہ بات کافی واضح ہے کہ ایک اشرافی نظام ہمیشہ ملک کے اعلا طبقے کو فائدہ دیتا ہے اور یہ طبقہ ریاست کے ہر ادارے میں غالب رہتا ہے۔ کچھ استثنائی صورتیں بھی دیکھی گئی ہیں، […]
ریاست سوات کے والی کا ایک معائنہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین سال تک چکیسر میں ہر مہینے تین ہفتے گزارنے کے بعد، 1965ء میں والی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں اکاخیل، موسیٰ خیل کے علاقے میں تعمیراتی ذمہ داریاں سنبھالوں۔ اس دوران میں بریکوٹ […]
ریاست سوات کا جہانزیب کالج

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے تمام تعلیمی ادارے پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ تھے۔ آٹھویں، دسویں، انٹرمیڈیٹ اور بیچلر سطح کے امتحانات صوبے کے دیگر سکولوں اور کالجوں کے ساتھ منعقد ہوتے تھے، جن کی نگرانی پشاور […]
سیدو شریف: میرے دنوں کی کچھ دل چسپ شخصیات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ہم سیدو شریف میں تقریباً نصف صدی تک مقیم رہے۔ ریاست کے دارالحکومت میں اعلا عہدوں پر فائز افراد کے علاوہ، ریاست کے ہر کونے سے لوگ مواقع کی تلاش میں یہاں آئے اور سیدو کے […]
ریاست سوات کی فورسز کا ترقیاتی کاموں میں کردار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات، جو اندرونی طور پر ایک خود مختار ریاست تھی، دیر اور امب کے ہمسایہ ریاستوں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے باقاعدہ مسلح افواج رکھتی تھی۔ داخلی سلامتی اور امن و امان قائم […]
ریاست سوات: تعلیمی سہولیات اور چند ذہین طلبہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میری زندگی میں پہلی بڑی تبدیلی وہ تھی، جب مَیں 1950ء میں، سکول میں داخل ہوا۔ مجھے صبح بہت جلد اُٹھنا پڑتا تھا اور سکول کے لیے تیاری کرنی پڑتی تھی۔ میرا سکول شگئی میں تھا، […]
الحاج قاسم جان (مرحوم)

’’جہاں آپ سڑک پر ہچکولے کھاتے ہوئے جا رہے ہوں اور ایک دم سفر ہم وار ہوجائے، تو سمجھ جائیں کہ ریاستِ سوات کی حدود شروع ہوگئی ہیں۔ والی صاحب نے سوات کو وہ کچھ دیا، جو صوبہ شمال مغربی سرحدی باوجود انگریزی سرکار کی مدد کے کہیں بھی نہ دے سکا۔‘‘قارئین! یہ ایک انگریز […]
ریاستِ سوات میں محصولات کا نظام

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے ابتدائی دنوں میں، آمدنی کے ذرائع متعین نہیں تھے اور زیادہ تر ریاستی اخراجات مینگورہ کے ایک بہت ہی امیر تاجر شمشی خان کی طرف سے کی گئی نقد امداد سے […]
مرحوم سعد اللہ خان ڈی ایس پی

القموت خان المعروف آکو خان، غورہ خیل یوسف زئی چکیسر سابق ریاستِ سوات شانگلہ پار کے تاریخی ’’خان کورہ‘‘ خان تھے، جن کا شجرۂ نسب ظاہر کرتا ہے کہ وہ کئی پشتوں سے بلا شرکتِ غیرے علاقہ کے مشران اور خان رہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے عظیم اور مغرور پہاڑوں کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (باون ویں قسط)

مجھے تباہ حال وادیِ سوات میں واپس پہنچنے کے بعد بہت افسوس ہوا۔ نہ پانی کی فراہمی، نہ بجلی اور نہ ہی پائیدار امن۔سب سے بد ترین ’’سرپرائز سرچ آپریشن‘‘ تھا۔ فوجی دن یا رات میں کسی بھی وقت گھروں کی تلاشی لینے کے لیے آ جاتے تھے۔ یہ راشن سینٹروں یا حاجی کیمپ کے […]
ریاست سوات کے اداروں کا ریکارڈ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)28 جولائی 1969ء کی شام کو، اپنی ماہانہ قوم سے خطاب میں، احمق جنرل یحییٰ خان نے سوات، دیر اور چترال کی ریاستوں کے مغربی پاکستان میں انضمام کا اعلان کیا۔ یہ عام آدمی کے لیے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیاون ویں قسط)

بیوی کے گردے کی پیوند کاری کے لیے مجھے کچھ رشتہ داروں سے قرض پر رقم لینا پڑی تھی۔ مَیں باقی سب انجینئرز کی طرح نہیں تھا، جو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اتنا کما جاتے ہیں کہ مالی طور پر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ آپریشن کے بعد کا علاج بھی میری دسترس سے […]