سیدو ہسپتال: ریاست سوات کی امانت نیلام

اے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے خوابِ غفلت کے مزے لوٹنے والے باشندو! آج ایک تاریخی سچائی ہم سب کے ضمیر پر دستک دے رہی ہے۔ سیدو گروپ آف ہسپتال، جو ریاستِ سوات کی فلاحی سوچ اور عوامی خدمت کی علامت تھا، سرکاری اعلان کے مطابق نجی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔جی ہاں، وہی […]
’’انگئی پُل کوٹہ اور دیگر پُل‘‘

سوات کے ریاستی دور کا قدیم ترین ’’آرچ برج‘‘ (Arch Bridge) جسے مقامی زبان میں ’’ڈاٹ‘‘ کہتے ہیں، جو مین شاہ راہ "N.95” پر کوٹہ تحصیل بری کوٹ میں واقع تھا، آخرِکار گرا دیا گیا اور اس کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل "Pre-stressed” آر سی سی پل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔اسے جلد […]
مزارات اور ان سے منسوب غلط تصورات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)لوگوں میں یہ خیال کیسے پروان چڑھا کہ مسلمان اولیا کے مزارات کو کچھ خاص تقاضوں کے لیے مخصوص کیا جائے؟ لیکن یہ عقیدہ بہت پہلے سے موجود ہے۔ مثلاً: ہر سال بہار کے دنوں میں […]
کبل چوک سے جڑی یادیں

کبل چوک پہنچ کر مجھے ہر دفعہ حاجی محمد اسماعیل صاحب یاد آجاتے ہیں…… میرے کولیگ اور مہربان دوست۔حاجی محمد اسماعیل چنداخورہ کبل کے رہنے والے تھے۔ مشہور ادبی اور انتظامی شخصیت سیف الموک صدیقی صاحب کے کزن تھے۔ اُن کے والد ظریف الرحمان ایک مشہور عالم اور مذہبی شخصیت تھے۔مَیں اور حاجی صاحب کالج […]
تاریخی ودودیہ ہال کی کہانی

بلاگ میں شال تصویر اُس تقریب کی ہے، جو 24 دسمبر 1965ء کو پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن ہال میں اس مقصد کے لیے منعقد کی گئی تھی کہ والئی سوات کو اُن کی تعلیمی خدمات اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کے اعتراف میں ’’ڈاکٹر آف لاز‘‘ (Doctor of Laws) کی اعزازی […]
ریاست سوات کے ایک نابغۂ روزگار افسر

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وہ ایک بہادر سپاہی، بہترین شاہ سوار اور دانا آدمی تھے۔ اگرچہ وہ مکمل طور پر ناخواندہ تھے، لیکن ان کی پشتون ولی، پشتون جرگہ اور پشتون رسوم و رواج کے بارے میں معلومات بے نظیر […]
مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، […]
انڈس کوہستان تک ایک ناقابلِ فراموش سفر

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)1960ء کی دہائی کے پہلے نصف میں، ریاستِ سوات کے حکم ران نے فیصلہ کیا کہ دور دراز علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس منصوبے کے تحت دو کمروں پر مشتمل […]
ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]
میاں گل فروش کی ناقابل فراموش خدمات

چشمِ تصور میں لائیں ریاستِ سوات کا وہ دور جب پاکستان سے اخباردوسرے روز پہنچتا تھا، جہاں تعلیم اتنی عام نہیں تھی۔ پڑھنے والے کم تھے، اس لیے ایک ہی ہفت روزے کا اجرا ہوتا تھا اور ایک ہی شخص مالک، پبلشر، ایڈیٹر، کانٹینٹ کرئیٹر، رپورٹر اور ڈسٹری بیوٹر ہوتا تھا۔ اندازہ لگائیں اُس ایک […]
ریاست سوات، جب شاہی علم اُتارا گیا

یوسف زئی ریاست سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت ’’فلیگ سٹاف‘‘ سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔پھر نہ کسی نے شاہی علم والئی سوات کی رہایش گاہ پر لہراتے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔عجب افراتفری اور غیر یقینی […]
ریاستی پی ڈبلیو ڈی کی تنظیم اور طریقۂ کار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں نے پہلے بھی اس انتہائی اہم ریاستی ادارے کی ارتقا کی وضاحت کی ہے۔ جب مَیں نے 1961ء میں اس میں شمولیت اختیار کی، تو یہاں کوئی بھی اہل تکنیکی تعلیم یافتہ اہل کار نہیں […]
سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]
ریاست سوات کے آثار کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

سوات کے ریاستی دور کے آثار مٹتے مٹاتے تقریباً معدوم ہوگئے ہیں۔ شاید ہی کہیں اِک آدھ باقی ہوں، باقی سب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔مَیں نے اپنی فیس بک وال پر ’’آنجہانی‘‘ ہونے والی تحصیلِ بری کوٹ کی عمارت کی ایک تصویر دی ہے، جو اَب ’’سورگ باش‘‘ ہوچکی ہے۔ اُس کی جگہ جو […]
مدرار (چورڑئی طوطا)

بہت پرانے حاجی بابا چوک کو چشمِ تصور میں لائیں، تو ایک عجیب سی تصویر بنتی ہے۔ ایک مصروف چوک جہاں سبزی منڈی، بسوں، گوالوں، پہاڑوں سے آئے ہوئے افراد جو میوہ جات کے ڈھیر سجائے بیٹھے ہیں، پرانا ڈاک خانہ روڈ سے کسی ندی کی طرح بہتی ہوئی اترائی جو غورئی کندہ کی جانب […]
والی سوات کے لیے کلمۂ خیر کہنے میں کیا امر مانع ہے؟

دوستو! مجھے فیس بک پہ آئے اتنا زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر جو بات مَیں نے سیکھ لی ہے، وہ ہے کمنٹس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا۔ کیوں کہ ان سے رائے زنی کرنے والے کی اصلیت کا پتا چلتا ہے۔اس کی مدد سے آپ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ لوگوں کا’’ٹرینڈ‘‘ کیا ہے، […]
طاقت نے انھیں بے لگام نہیں کیا

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین برائیاں کرۂ ارض پر انسانی تاریخ میں بہت پرانی ہیں۔ یہ برائیاں جسم فروشی، بھیک مانگنا اور کرپشن ہیں۔ یہ وہاں پروان چڑھتی ہیں جہاں غربت ہو، ذات پات، مسلک اور جہالت کی بنیاد پر […]
ریاست سوات: ادغام کے بعد کی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے ادغام کے بعد، رائج نظام کچھ عرصے تک چلتا رہا، جب تک ریاست کے مختلف محکموں کے مقدر کا فیصلہ نہیں ہوگیا۔ یہ ایک مشکل کام تھا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر، […]
ریاست سوات دور کا ایک ناخوش گوار واقعہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک مسافر بس بونیر سے آ رہی تھی اور اچانک میاں کوٹے، کڑاکڑ کے قریب کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے رُک گئی۔ مسافر بس سے اُتر گئے اور ٹولیوں میں کھڑے ہو گئے، جب کہ […]
ریاست سوات کے اداروں کا دائرہ کار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک شام، والی صاحب نے اپنی گاڑی رکوائی اور ایک گارڈ کو اشارہ کیا کہ وہ اوپر جاکر ایک افسر کو لے آئے، جو افسر آباد میں رہتا تھا۔ چناں چہ وہ افسر جلدی سے نیچے […]
ریاستِ سوات کے ملازمین اور پاکستانی سیٹ اَپ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے انضمام کے بعد، نئے نظام کے تحت کام کرتے ہوئے، نچلے عملے نے اس بھائی چارے، قربت اور خاندانی ماحول کی کمی محسوس کی، جو ریاستی افسران اور ملازمین کے درمیان موجود تھی۔ ریاست […]