صاحب زادہ فاروق جان، علم و اخلاص کا پیکر

یوں تو پرائمری جماعت سے لے کر ایف ایس سی تک میرے تمام اساتذۂ کرام میرے لیے انتہائی قابلِ احترام رہے ہیں۔ تقریباً ہر ایک نے میری علمی و فکری تربیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اُن کی محبت و شفقت آج بھی میرے دل میں محفوظ ہیں۔ تاہم نویں اور دسویں جماعت کے […]
مکہ معاہدہ: طاقت کا نیا محور؟

رواں ماہ دنیا کی تین بڑی مسلم ریاستوں (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے درمیان ’’مکہ‘‘ کے تحت ایک مشترکہ دفاعی معاہدے نے جنم لیا ہے۔ معاہدے کے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں دست خط کنندگان میں سے اگر کسی بھی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے، […]
یووال نوح ہراری کی سیپئنز کا جائزہ

انسان یا دنیا کی تاریخ میں شاید اس سے زیادہ بنیادی سوال کوئی نہیں کہ انسان آخر انسان کیسے بنا؟ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے، جہاں ایک معمولی سا حیوان، جو کبھی خود کئی دوسری انسانی انواع کے درمیان محض ایک کم زور نوع تھا، آج پوری زمین کے ماحول، معیشت، سیاست، جنگ، ٹیکنالوجی اور حتیٰ […]
ڈاکٹر سلطان روم کی علمی و ادبی خدمات

ڈاکٹر سلطان روم صاحب ایک بین الاقوامی سطح کے معروف اور تسلیم شدہ محقق و مورخ ہیں۔ انگریزی، اُردو اور پشتو میں 8 تحقیقی کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں 4 کتابیں اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ ہیں۔ اس طرح 4 تحقیقی مونوگراف لکھے ہیں۔ بین الاقوامی اور قومی تسلیم شدہ جرائد میں ان […]
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل…. (آخری قسط)

’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ کی خصوصیات:کتاب کے ابتدائی بتیس (32) صفحات، جن پر صفحہ نمبر درج نہیں، مقدماتی اور تعارفی مواد پر مشتمل ہیں:صفحہ 1 اور 2 پر اشاعتی معلومات (Print Line Information) درج ہیں۔ صفحہ 3 پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تحریر کیا گیا ہے۔ صفحہ 4 کتاب کے اشاعتی معیار کے مطابق […]
عمر خیام کا فکری سفر

سوچیں کہ نیشاپور ایران کی کسی خاموش رات میں جب آسمان پر تارے پوری جگ مگ جگ مگ کر رہے ہوں گے، تو شاید ایک شخص اُن ستاروں کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوگا کہ انسان آخر اس وسیع کائنات میں ہے کہاں…؟ اسی شہر میں، تقریباً ایک ہزار برس پہلے، ایک ایسا ذہن […]
پروفیسر احمد حسن دانی، لیگسی کا سوال

پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان کے نام ور دانش ور مانے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کی ’’اکیڈیمک لیگسی‘‘ کے حوالے سے ایک غیر ضروری بحث شروع کی گئی ہے۔ اس ضمن میں، مَیں اپنی تاریخ شناسی کی تحقیق کی روشنی میں اپنا ہی نکتۂ نظر پیش کرنے جا رہا ہوں۔لیگسی (Legacy) ایک […]
یہ شور ہے یا چیخ…؟

یومِ آزادی آتے ہی گلی کوچوں، بازاروں اور شاہ راہوں پر سبز ہلالی پرچم کے ساتھ ایک اور چیز بھی پوری آب و تاب سے نمودار ہوتی ہے: باجا! اور ایسا ویسا باجا بھی نہیں، بل کہ ایسے باجے جن کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ صبح ہو یا شام، […]
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کا علمی و تحقیقی مقام

’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کا پشتو زبان میں ایک وقیع اور جامع تحقیقی مقالہ ہے، جس میں سولھویں صدی سے لے کر 2012ء تک پانچ صدیوں پر محیط سوات میں مختلف ادوار میں پروان چڑھنے والے پشتو ادب، ادبی تحریکات، ثقافت، تہذیب، لوک ادب، علمی شخصیات، شعر و نثر کے […]
پاپین خیل میاں گان (آخری حصہ)

محمد طاہر بن دریخان کی اولاد:محمد طاہر کے چار بیٹے تھے: یار محمد، محمد فاضل، دوست محمد اور علی محمد۔ یار محمد پاپینی:۔ یار محمد پاپینی، پاپین میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد پاپین (دھبالا اولسوالی)، حصارک، رودات اولسوالی، کیلغو اور میاں کلے، خوگیانو اولسوالی میں آباد ہے، جب کہ ان کے دو بیٹوں، عبدالرحمان […]
ملم جبہ کے بعد کبل گراونڈ…؟

عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تفریحی مقامات تک ہر خاص و عام کی رسائی کو یقینی بنانا کسی بھی فلاحی اور جمہوری ریاست کی اولین اور بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ مہذب دنیا کی اگر بات کی جائے، تو وہاں حکومتوں کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ […]
پاپین خیل میاں گان (پانچواں حصہ)

ریاستِ سوات میں بونیر کا انضمام اور پاپین خیل کا کردار:۔1926ء میں جب ریاستِ سوات کی توسیع کا فیصلہ ہوا، تو بادشاہ صاحب نے بونیر میں کچھ سرکاری اہل کار بھیجے، تاکہ وہاں چوکیاں قائم کی جائیں۔ اہلِ بونیر نے سوات سے آئے ہوئے سرکاری ملازمین کو قتل کر دیا۔ اُس وقت نجیگرام کی ایک پاپینی […]
نظام نہیں، نیت اور کردار فیصلہ کن ہیں

کسی بھی نظام کی اصل روح اُس کی دفعات، قوانین یا ظاہری ڈھانچے میں نہیں، بل کہ اُن انسانوں کے ضمیروں میں ہوتی ہے، جو اُسے نافذ کرتے ہیں۔ آئینی ڈھانچے، قوانین اور ادارے اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، مگر اُن کی کام یابی کا انحصار اُن لوگوں کی نیت، کردار، امانت اور جواب دہی […]
بگاڑ کے خلاف بولیں اور امید قائم رکھیں

وطن سے محبت ایک ایسی محبت ہے، جس کا کوئی بدل نہیں۔ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، اپنے وطن کی مٹی، اپنے لوگوں، اپنی زبان اور اپنی پہچان کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ وطن کی محبت انسان کے دل میں خود بہ خود پیدا ہوتی ہے۔ اس محبت کے لیے […]
سانحۂ سیاہ ٹاپ: سوالات، جو جواب مانگتے ہیں

تحریر: جاوید خیال (پی ایچ ڈی سکالر ملاکنڈ یونیورسٹی)سیاہ حیدر ٹاپ میں 15 جولائی 2026 کو پولیس کا ایک آپریشن ہوا، جس میں لوئر دیر پولیس کے تین جوان، کانسٹیبل ریاض خان، ساکن میاں بٹھان ادینزئی، محیب اللہ، ساکن پیٹو درہ، ایلیٹ فورس کمانڈو اور حوال دار بخت بلند، ساکن لقمان بانڈہ خال، شہید ہوئے، […]
پاپین خیل میاں گان (چوتھا حصہ)

شانگلہ، انڈس کوہستان، بحرین اور کالام کا سوات میں انضمام:محمد رسول میاں المعروف رسول خان مشیر صاحب، تاریخِ پیدایش 1906ء، تاریخِ وفات 31 مئی 1958ء:۔ محمد رسول میاں کے اجداد 1623ء میں سیدو شریف، لوئر سوات میں رہایش پذیر تھے۔ جب ڈوما راجگیری کے خلاف جہاد شروع ہوا، تو ان کے جد، اخوند محمد صدیق، موضع لیلونئی، شانگلہ میں […]
ثور انقلاب کی تاریخ (ساتویں قسط)

1985 تک افغانستان کی جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی، جہاں صرف میدانِ جنگ ہی نہیں، بل کہ ماسکو کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا تھا کہ آخر اس جنگ کا اختتام کہاں ہوگا؟ تقریباً چھے برس گزر چکے تھے، ہزاروں سوویت فوجی ہلاک یا زخمی ہوچکے […]
دہشت گردی اور ہماری ناکام پالیسیاں

7 اگست 2026ء کو کبل پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ پر ہونے والے دھماکے میں 7 پولیس اہل کاروں سمیت 10 عام شہری شہید، جب کہ دو درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکا اُس وقت ہوا جب کبل چوک میں امن کے لیے مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ قارئین، پاکستان میں دہشت […]
پاپین خیل میاں گان (تیسرا حصہ)

یہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کا دور تھا۔ 1664ء میں جب خوشحال خان خٹک کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں رہا کر دیا گیا، تو انھوں نے مغل حکومت کے خلاف جد و جہد کا آغاز کیا۔ 1672ء/1673ء میں جب وہ سوات آئے، تو اُس وقت سوات کی قیادت اخوند میاں نور بابا، دوست محمد المعروف انگنڑ بابا اور الہ ڈھنڈ کے […]
ہمارا واحد مطالبہ ’’امن‘‘

ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے باسیوں کو ریاست کی طرف سے زندگی کی بنیادی سہولیات بغیر کسی طویل جد و جہد، مطالبے یا احتجاج کے میسر آتی ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں روٹی، کپڑا اور مکان کے علاوہ صحت، معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع […]
ثور انقلاب کی تاریخ (چھٹی قسط)

دسمبر 1979 کے آخری ایام میں افغانستان کی سرحدوں پر غیر معمولی سرگرمی شروع ہوچکی تھی۔ شمال کی جانب سے سوویت فوجی دستے، بکتر بند گاڑیاں، ٹینک، فضائی یونٹ اور رسد کے قافلے تیزی سے افغانستان میں داخل ہونے لگے۔ ابتدا میں کابل کے عوام کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ محدود فوجی تعاون ہے، […]