نئے صوبے یا بااختیار بلدیات؟

Blogger Fazal Manan Bazda

پاکستان میں ان دنوں نئی چھوٹی انتظامی اکائیوں، نئے صوبوں اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر لے دے ہو رہی ہے کہ وفاق سے نیچے کی سطح پر ریاست کو کس ڈھانچے کے تحت چلایا جائے؟ کسی کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ہونے چاہییں، کچھ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حق میں ہیں […]

منشیات کا عفریت اور ہماری ذمے داری

Blogger Noor Muhammad Kanju, Swat

معاشرے کی رگوں میں منشیات کا زہر اس تیزی سے اتر رہا ہے کہ اب یہ کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں، بل کہ پورے سماج کا بقائی مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر ’’آئس‘‘ نامی نشے نے تباہی کی جو داستان رقم کی ہے، اس نے ہمارے پُرسکون خاندانی نظام کو ہلا […]

حوثی تحریک کی تاریخ (2)

Blogger Comrade Sajid Aman

بیسویں صدی کے وسط تک دنیا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوچکی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم ختم ہوچکی تھی، نوآبادیاتی سلطنتیں بکھر رہی تھیں، عرب قوم پرستی زور پکڑ رہی تھی اور مصر کے صدر جمال عبدالناصر پورے عرب خطے میں انقلاب، جمہوریت اور بادشاہتوں کے خاتمے کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ ان […]

امپیریل کالج لندن، ہمارے لیے آئینہ

Blogger Hazir Gul

آج کل لندن میں امپیریل کالج کے پڑوس میں رہنے کا اتفاق ہو رہا ہے۔ روزانہ اس کی تاریخی عمارتوں، مصروف راہ داریوں، آتے جاتے طلبہ اور علمی سرگرمیوں سے بھرپور ماحول کو دیکھتا ہوں۔ چند روز پہلے کالج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، تو خیال آیا کہ بعض ادارے محض عمارتوں، کلاس […]

حوثی تحریک کی تاریخ

Blogger Comrade Sajid Aman

مشرقِِ وسطیٰ کی سیاست میں اگر کسی تحریک نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں عالمی طاقتوں، عرب ریاستوں اور خطے کی سلامتی کے توازن کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، تو وہ یمن کی ’’حوثی تحریک‘‘ ہے۔ آج بہت سے لوگ انھیں صرف ایک مسلح گروہ یا ایران کے اتحادی کے طور پر جانتے […]

اخوند خیل قومی اتحاد کا مقصد

Blogger Ghufran Tajik

ہر قوم اپنی تاریخ، روایات، اقدار اور بزرگوں کی میراث سے پہچانی جاتی ہے۔ پشتون معاشرے میں ’’پختون ولی‘‘ بھی صدیوں سے ایک طرزِ زندگی کے طور پر موجود رہی ہے، جس نے پشتونوں کی اجتماعی زندگی، باہمی تعلقات اور معاشرتی رویوں کو ایک مخصوص رنگ دیا ہے۔ مہمان نوازی، سخاوت، وفاداری، وعدے کی پاس […]

اداروں کی بھرمار اور نتیجہ صفر

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

دبئی کا ذکر آتے ہی ایک سوال ذہن میں ضرور اٹھتا ہے کہ وہاں ہمیں ہر مسئلے کے لیے اے سی، ڈی سی، ایس پی، ایس ایچ اُو اور درجنوں دیگر عہدوں کی وہ بھرمار کیوں دکھائی نہیں دیتی، جو ہمارے ہاں نظر آتی ہے؟ نہ ہر گلی میں کھلی کچہریوں کا شور سنائی دیتا […]

فیلڈ مارشل ایوب خان کا ہنگامہ خیز دور

Blogger Comrade Sajid Aman

سونے کی چڑیا یا بدقسمت برصغیر کی سیاسی تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہیں، جن کے گرد تنازع، طاقت اور اصلاح کی کوششیں ایک ساتھ جمع ہو جاتیں ہیں۔ برصغیر کے ایک ٹکڑے پاکستان کی تاریخ میں ایوب خان بھی ایسا ہی ایک کردار تھے۔ ایوبی دور نہ صرف ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کے حوالے […]

قائدانہ صلاحیتیں جاپان سے سیکھیں

Blogger Fazal Manan Bazda

قائدانہ صلاحیتوں سے مراد وہ مہارتیں ہیں، جو ریاستی اداروں، انتظامی امور، سفارتی و بین الاقوامی تعلقات اور ریاست کی معاشی حالت کو بہتر بناسکیں۔ ریاستی ترجیحات کا بروقت تعین کرنا، فوری فیصلہ سازی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا اور کسی بھی اندرونی و بیرونی دباو کے وقت پُرسکون رہنا، قائدانہ صلاحیتوں کا […]

تاریخ کی موت…؟

Blogger Comrade Sajid Aman

کسی قوم کے بارے میں یہ جاننے کا ایک غیر معمولی طریقہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کیا پڑھاتی ہے۔ قومی تقریریں بدل سکتی ہیں، سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اخبارات کے اداریے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن سکول کی کتاب میں درج ایک واقعہ کئی نسلوں کے ذہن میں اس […]

لوڈشیڈنگ: بحران یا کسی منصوبے کی بنیاد؟

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

لوڈشیڈنگ کے ذریعے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اگر محض بجلی کی قلت کا نتیجہ نہیں، بل کہ کسی بڑے منصوبے کی بنیاد ہو، تو یہ سوال انتہائی سنجیدہ نوعیت اختیار کرلیتا ہے کہ آخر اس بحران سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟پاکستان میں توانائی کے بحران کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ ماضی […]

اصلاح حکومت نہیں، رویے بدلنے سے ممکن ہے

Blogger Suhail Sohrab

ہم جس بدبودار نظام میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کی بدبو صرف آج کی پیداوار نہیں۔ یہ تقریباً 80 سال کے جمع شدہ گند کا نتیجہ ہے۔ اس گندگی کو کسی ایک حکومت، ایک ادارے، ایک سیاسی جماعت یا چند افراد کے سر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ […]

قوم، نسل: شناخت کا سائنسی و تاریخی تصور

Blogger Comrade Sajid Aman

یہ سوال شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان ہے کہ کون ہوں مَیں؟ کیا میری شناخت میرے خون میں ہے، میرے ڈی این اے میں ہے، میری زبان میں ہے، میرے وطن میں ہے یا پھر میری تہذیب اور تاریخ میں؟ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے انسان نے کبھی قبیلے بنائے، کبھی سلطنتیں قائم […]

تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو

Blogger Fazal Manan Bazda

ہمارے ہاں صدیوں سے یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اگر پڑوس میں کوئی حادثہ پیش آ جائے، یا کوئی ہنگامی صورتِ حال درپیش ہو، تو لوگ مشترکہ طور پر اس سے نمٹتے ہیں۔ سیلاب میں لوگوں کی جانیں بچا کر انھیں محفوظ مقامات تک پہنچانا، مال مویشیوں اور گھریلو سامان کو بھی نکال […]

آریا نسل… تاریخ، حقیقت یا افسانہ؟

Blogger Comrade Sajid Aman

دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اصطلاح ’’آریا‘‘ جتنی غلط سمجھی گئی ہو۔ ایک طرف اسے برتری، طاقت اور خالص نسل کی علامت بنایا گیا، تو دوسری طرف اسے مختلف قوموں کی شناخت کا پیمانہ سمجھا گیا… مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی دنیا میں کوئی ’’آریا نسل‘‘ اور ’’غیر آریا نسل‘‘ موجود […]

امتحانی اصلاحات یا انتظامی تجربات؟

Blogger Muhammad Sher Jan Sena Khel

تعلیمی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، لیکن ہر اصلاح کی کام یابی کا معیار اس کے نتائج ہوتے ہیں۔ حالیہ بورڈ امتحانات میں کیے گئے بعض انتظامی تجربات نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کے ذہنوں میں کئی سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں، جن کے جواب دینا متعلقہ حکام کی ذمے داری […]

صاحب زادہ فاروق جان، علم و اخلاص کا پیکر

Blogger Hilal Danish

یوں تو پرائمری جماعت سے لے کر ایف ایس سی تک میرے تمام اساتذۂ کرام میرے لیے انتہائی قابلِ احترام رہے ہیں۔ تقریباً ہر ایک نے میری علمی و فکری تربیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اُن کی محبت و شفقت آج بھی میرے دل میں محفوظ ہیں۔ تاہم نویں اور دسویں جماعت کے […]

مکہ معاہدہ: طاقت کا نیا محور؟

Blogger Fazal Manan Bazda

رواں ماہ دنیا کی تین بڑی مسلم ریاستوں (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے درمیان ’’مکہ‘‘ کے تحت ایک مشترکہ دفاعی معاہدے نے جنم لیا ہے۔ معاہدے کے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں دست خط کنندگان میں سے اگر کسی بھی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے، […]

یووال نوح ہراری کی سیپئنز کا جائزہ

Blogger Comrade Sajid Aman

انسان یا دنیا کی تاریخ میں شاید اس سے زیادہ بنیادی سوال کوئی نہیں کہ انسان آخر انسان کیسے بنا؟ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے، جہاں ایک معمولی سا حیوان، جو کبھی خود کئی دوسری انسانی انواع کے درمیان محض ایک کم زور نوع تھا، آج پوری زمین کے ماحول، معیشت، سیاست، جنگ، ٹیکنالوجی اور حتیٰ […]

ڈاکٹر سلطان روم کی علمی و ادبی خدمات

Blogger Dr Muhammad Ali Dena Khel

ڈاکٹر سلطان روم صاحب ایک بین الاقوامی سطح کے معروف اور تسلیم شدہ محقق و مورخ ہیں۔ انگریزی، اُردو اور پشتو میں 8 تحقیقی کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں 4 کتابیں اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ ہیں۔ اس طرح 4 تحقیقی مونوگراف لکھے ہیں۔ بین الاقوامی اور قومی تسلیم شدہ جرائد میں ان […]

ڈاکٹر محمد علی دیناخیل…. (آخری قسط)

Blogger Dr Muhammad Ali Dena Khel

’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ کی خصوصیات:کتاب کے ابتدائی بتیس (32) صفحات، جن پر صفحہ نمبر درج نہیں، مقدماتی اور تعارفی مواد پر مشتمل ہیں:صفحہ 1 اور 2 پر اشاعتی معلومات (Print Line Information) درج ہیں۔ صفحہ 3 پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تحریر کیا گیا ہے۔ صفحہ 4 کتاب کے اشاعتی معیار کے مطابق […]