فخر کا حقیقی معیار… نسب یا کردار؟

Blogger Ghufran Tajik

انسانی سماج میں شناخت (Identity) ایک بنیادی حقیقت ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی نسب، خیل، قبیلے یا قوم سے وابستہ ہوتا ہے… اور اسی وابستگی کے ذریعے وہ اپنی پہچان قائم کرتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے: ’’زه په خپل نسب/ خیل/ قبيله/ قوم فخر کوم!‘‘ تو بہ ظاہر وہ اپنی شناخت پر خوشی اور وابستگی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے… مگر اس جملے کے اندر ایک گہرا فکری اور اخلاقی سوال پوشیدہ ہے: ’’کیا واقعی نسب اور قبیلہ فخر کا معیار ہیں؟‘‘
سب سے پہلے ’’فخر‘‘ کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔ فخر ایک ایسا داخلی احساس ہے، جس میں انسان اپنے آپ کو کسی خوبی یا امتیاز کی بنیاد پر بلند سمجھتا ہے۔ یہ احساس دو صورتیں اختیار کرسکتا ہے:
ایک، مُثبت (جسے خود اعتمادی یا عزتِ نفس کہا جاسکتا ہے۔)
دوسرا، منفی (جو تکبر، غرور اور احساسِ برتری میں بدل جاتا ہے۔)
مُثبت فخر وہ ہے، جو انسان کو اپنی محنت، کام یابیوں اور کردار کی بنیاد پر حاصل ہو، جب کہ منفی فخر وہ ہے، جو ایسی چیزوں پر کیا جائے، جن میں انسان کا کوئی اختیار نہ ہو۔
نسب، خیل، قبیلہ اور قوم ایسی چیزیں ہیں، جو انسان کو پیدایش کے ساتھ ملتی ہیں۔ ان میں انسان کی اپنی کوئی محنت یا انتخاب شامل نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص ان بنیادوں پر فخر کرتا ہے، تو دراصل وہ ایک ایسی چیز پر ناز کرتا ہے، جو اُس نے خود حاصل نہیں کی۔ یہ طرزِ فکر آہستہ آہستہ انسان کو تکبر کی طرف لے جاتی ہے، جہاں وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتا ہے، چاہے اُس کے اپنے اعمال اور کردار میں کوئی خاص خوبی نہ ہو۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ نسبی اور قبائلی فخر نے انسانی معاشروں میں بڑے بڑے مسائل کو جنم دیا ہے۔ قبائلی تعصبات، نسلی امتیاز، لسانی جھگڑے اور قومیت کے نام پر نفرت یہ اسی سوچ کے نتائج ہیں کہ ’’میرا تعلق چوں کہ فُلاں قبیلے یا قوم سے ہے، اس لیے میں بہتر ہوں!‘‘ یہی سوچ انسان کو انصاف سے دور اور تعصب کے قریب لے جاتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر ہم فخر کے حقیقی اسباب کو دیکھیں، تو وہ ہمیشہ انسان کے اپنے عمل اور کردار سے جڑے ہوتے ہیں۔ علم حاصل کرنا، سچائی پر قائم رہنا، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا، خدمتِ خلق کرنا اور معاشرے کے لیے مُثبت کردار ادا کرنا یہ وہ صفات ہیں، جو کسی بھی انسان کو حقیقی معنوں میں قابلِ فخر بناتی ہیں۔ ایسا فخر نہ صرف فرد کو مضبوط بناتا ہے، بل کہ معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی لاتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اپنی قوم، قبیلے یا نسب سے محبت کرنا بالکل فطری اور جائز ہے۔ یہ محبت انسان کو اپنی جڑوں سے جوڑتی ہے اور اس میں ذمے داری کا احساس پیدا کرتی ہے… مگر محبت اور فخر میں فرق ہے۔ محبت میں عاجزی اور وابستگی ہوتی ہے، جب کہ غلط فخر میں برتری اور تحقیر کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ ایک مہذب انسان وہ ہے جو اپنی شناخت سے محبت کرے، مگر اسے دوسروں پر فوقیت کا ذریعہ نہ بنائے۔
مزید یہ کہ ایک ترقی یافتہ اور باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے، جہاں افراد کو اُن کے نسب یا قبیلے کی بنیاد پر نہیں، بل کہ اُن کے کردار، صلاحیت اور خدمات کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو یہ سکھائیں کہ اصل عزت اور فخر محنت، دیانت اور اخلاق میں ہے، تو ہم ایک بہتر اور متوازن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
’’فخر‘‘ ایک طاقت ور جذبہ ہے، مگر اس کا درست استعمال ضروری ہے۔ اگر یہ غلط بنیادوں پر ہو، تو انسان کو تقسیم اور تکبر کی طرف لے جاتا ہے… اور اگر یہ صحیح بنیادوں پر ہو، تو انسان کو ترقی، خود اعتمادی اور خدمت کی راہ دکھاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے فخر کا معیار نسب یا قبیلہ نہیں، بل کہ اپنے کردار، علم اور انسانیت کو بنائیں۔ کیوں کہ یہی وہ چیزیں ہیں، جو انسان کو حقیقی معنوں میں عظیم بناتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے