یہ تقریباً ایک ماہ قبل کی بات ہے۔ ایک بہ ظاہر قوم پرست نوجوان ملک چھوڑ کر ولایت جا بسا اور وہاں سے اب قوم پرستوں کو طعنے دے رہا ہے۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، کیوں کہ ملک سے باہر رہنے والے سیاسی اور دیگر معاملات میں عموماً فقط تماشائی بن جاتے ہیں۔ اصل امتحان تو یہاں رہنے والے ہی سہتے ہیں۔ خواہ وہ سیاست دان ہوں، لکھاری ہوں یا عام شہری… بدامنی سب کے لیے یک ساں تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ایسے میں حفظِ مراتب ذمے داریاں بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔
اب یہ تو ممکن نہیں کہ یہاں کا قوم پرست سیاست دان اُسی طرح جذباتی ہو جائے، جیسے ملک سے باہر رہنے والے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرتے ہیں۔ نہ یہاں کا لکھاری اُس طرح گلا پھاڑ کر تقریر کرسکتا ہے، جس طرح بیرونِ ملک گئے یوٹیوبر ’’ڈالر‘‘ بٹورنے کے لیے سچ کم اور جھوٹ کا سہارا زیادہ لیتے ہیں۔ یہاں رہنے والوں کو کچھ بھی کہا جائے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ صرف یہی لوگ میدان میں رہ کر اپنے تئیں جد و جہد کرتے رہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ جد و جہد میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے۔ بہ قولِ شاعر:
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثلِ برق
وہ طفل کیا کرے گا، جو گھٹنوں کے بل چلے
تمہید طویل ہوگئی، جس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔ اصل مدعا یہ ہے کہ دیارِ غیر میں بسے مذکورہ قوم پرست نوجوان نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ خیبر پختونخوا میں لڑکوں کی منڈیاں لگتی ہیں اور یہاں ’’بچہ بازی‘‘ عام ہے۔ یہ موضوع چوں کہ منفرد اور حساس تھا، اس لیے سوشل میڈیا پر وہ کچھ کہا اور لکھا گیا کہ حقیقت پس منظر میں چلی گئی اور ایک پوری قوم اور صوبے کو بدنام کرنے کے لیے مسالے دار تجزیوں کا سلسلہ عروج پر رہا۔
خیر، الزام در الزام کا یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا، مگر جب اس معاملے پر تحقیق کی گئی، تو معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی یا بچہ بازی صرف ایک قوم یا ایک صوبے تک محدود مسئلہ نہیں، بل کہ ملک بھر میں یہ مکروہ فعل دھڑلے سے جاری ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک نجی مگر معتبر ادارہ ’’ساحل‘‘ جنسی استحصال سے متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے فعال ہے۔ یہ ادارہ ہر سال ایک رپورٹ تیار کرتا ہے۔ اب تک سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں روزانہ تقریباً بارہ بچوں کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ وہ تعداد ہے جو رپورٹ ہو جاتی ہے، جب کہ ظاہر ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے، جسے عموماً رپورٹ نہیں کیا جاتا، خصوصاً پس ماندہ اور دور دراز علاقوں میں۔ اگر غیر رپورٹ شدہ واقعات کو بھی شامل کیا جائے، تو تعداد دگنی، تگنی یا شاید اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
فی الحال ’’ساحل‘‘ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے پنجاب سرِفہرست، جب کہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔ البتہ پنجاب میں اس مسئلے کی روک تھام کے لیے ’’زینب الرٹ‘‘ جب کہ سندھ میں بھی ایک طریقۂ کار نافذ کیا گیا ہے۔
بدقسمتی سے جنسی خواہش کی تسکین ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس میں عقل گھاس چرنے لگ جاتی ہے اور انسان نرا حیوان بن جاتا ہے۔ پھر اُس کے سامنے انسان کا بچہ کیا، اگر کوئی جانور بھی قابو میں آ جائے، تو وہ صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دیتا ہے۔
برسبیلِ تذکرہ، جانوروں کے ساتھ بدفعلی بھی بعض علاقوں میں ایک عام چلن کے طور پر موجود ہے۔ مَیں نے ایک رپورٹ میں پڑھا تھا کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں بعض لوگ وہاں پائی جانے والی نایاب ڈولفن، جسے ’’بلائنڈ ڈولفن‘‘ کہا جاتا ہے، کے ساتھ بھی بدفعلی کرتے ہیں… خدا کی پناہ!
یہ افسوس ناک ضرور ہے، مگر حیران کن نہیں، کیوں کہ جنسی درندگی کی ایک اور قسم بھی ہے، جس پر عموماً بات نہیں کی جاتی۔ انگریزی میں اسے "Incest” کہا جاتا ہے۔ میری نالائقی سمجھیے کہ اس کا موزوں اردو متبادل اس وقت میرے ذہن میں نہیں، البتہ اس سے مراد وہ جنسی تعلقات ہیں، جن میں سگے مگر محرم رشتہ دار ملوث ہو جاتے ہیں، مثلاً: باپ بیٹی، بہن بھائی وغیرہ۔
آپ کو یاد ہو گا کہ 2018ء میں پشتو کی نام ور گلوکارہ نازیہ اقبال نے اپنے بھائی افتخار اور ماموں پر الزام لگایا تھا کہ یہ دونوں ایک عرصے تک میری بیٹیوں کا جنسی استحصال کرتے رہے ہیں۔ موصوفہ کا بھائی گرفتار ہوا، پھر سزا پائی اور اب شاید جیل ہی میں ہوگا، جب کہ نازیہ اقبال ہمیشہ کے لیے انگلینڈ منتقل ہوگئیں، تاکہ بچیوں کی ذہنی بہ حالی اور پرائیویسی پر کام کیا جاسکے۔ کیوں کہ یہاں جس بچی یا بچے کا ایک بار بھی جنسی استحصال ہو جائے، پھر عمر بھر اُس کی زندگی میں الجھنیں باقی رہتی ہیں۔ کبھی کبھار وہ منتقم المزاج بن کر دوسروں کو داغ دار بنانے پر بھی کمر بستہ ہو جاتا ہے۔
جنسی درندگی کے اسباب بے شمار ہیں۔ کچھ لوگ اس کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ کو ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو، مگر یہ مسئلہ موبائل اور انٹرنیٹ سے بہت پہلے کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ جنسی تسکین کے لیے حلال و حرام کی تمیز سے بہ تدریج بے نیاز ہوتے گئے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم کی دوسری اہلیہ اور معروف لکھاری تہمینہ درانی نے "Blasphemy” کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح بعض مذہبی لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی میں ملوث ہوتے ہیں۔
اسی طرح پنجاب کی ایک لڑکی نے پیرس (فرانس) میں اپنی زندگی اور جنسی استحصال کے تجربات پر ایک کتاب لکھی ہے۔
شہید بے نظیر بھٹو کے خاندان پر بھی انگریزی میں ایک کتاب دیارِ غیر سے شائع ہوئی ہے، جس میں کئی نہایت نامناسب اور چونکا دینے والی کہانیاں شامل ہیں۔
مَیں اس موقع پر مذکورہ کتابوں کے نام، خود اختیار کردہ سنسر شپ کی وجہ سے، نہیں لکھ رہا۔ مبادا کوئی جذباتی قاری راقم پر ’’فحاشی پھیلانے‘‘ کا فتوا نہ لگا دے۔
اس حوالے سے یاد آیا کہ مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو پر کسی نے مقدمہ دائر کیا تھا کہ منٹو فحش نگار ہیں۔ منٹو عدالت میں حاضر ہوئے۔ جج نے کہا: ’’آپ پر الزام ہے کہ آپ فحش لکھتے ہیں۔‘‘
منٹو نے جواباً عرض کیا: ’’حضور! میں نے کیا فحش لکھا ہے؟‘‘
جج نے الزام لگانے والے سے پوچھا، تو اُس نے جواب دیا: ’’منٹو نے ’چھاتی‘ کا لفظ لکھا ہے اور اس سے میرے جنسی جذبات برانگیختہ ہو جاتے ہیں۔‘‘
اب تو خیر نئی نسل کو دست یاب ارزاں انٹرنیٹ اور مخلوط ماحول نے معاملہ ’’چھاتی‘‘ سے بہت آگے تک پہنچا دیا ہے۔ اسی لیے دیواروں پر مردانہ کم زوری کے علاج کے اشتہارات کی بھرمار نظر آتی ہے۔
مَیں شاید موضوع سے ہٹتا جا رہا ہوں۔ بس عرض یہ ہے کہ صرف منشیات ہی نہیں، بل کہ جنسیات بھی ایک اہم سماجی المیہ ہے۔ مدارس، سکولوں، کالجوں اور جامعات سے لے کر ورک شاپس تک، اور گلی محلوں سے لے کر رشتے داروں کے باہمی تعلقات تک، ہر جگہ اس مسئلے کی جانچ پڑتال، نگرانی اور مناسب جنسی تعلیم ناگزیر ہے، وگرنہ ایک داغ دار معاشرے کی افزایش کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










