ہر عظیم عمارت دو مرتبہ بنتی ہے۔ پہلی بار کسی انسان کے ذہن میں اور دوسری بار زمین پر۔ اگر پہلی تعمیر نہ ہو، تو دوسری کبھی وجود میں نہیں آتی۔
یہی اُصول قوموں، تہذیبوں، ایجادات، سلطنتوں اور معیشتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اُن کی ابتدا کسی ایک شخص کے خواب سے ہوئی تھی۔
سکندرِ اعظم جب دنیا فتح کرنے نکلا، تو اس کے ہاتھ میں صرف تلوار نہیں تھی، ایک خواب بھی تھا۔
رائٹ برادران جب لکڑی اور کپڑے سے جہاز بنانے کی بات کرتے تھے، تو لوگ انھیں دیوانہ کہتے تھے۔
تھامس ایڈیسن ہزاروں ناکامیوں کے باوجود بلب کے خواب سے دست بردار نہ ہوا۔
اسٹیو جابز نے ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھا، جہاں کمپیوٹر صرف مشین نہیں، بل کہ انسان کی تخلیقی صلاحیت کا ساتھی ہو۔
دنیا نے پہلے ان خوابوں کا مذاق اڑایا، پھر انھی خوابوں کو خرید لیا۔
تخلیق کاروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے خواب نہیں جیتے، اپنے خواب تخلیق کرتے ہیں۔ وہ وہاں راستہ دیکھ لیتے ہیں، جہاں دوسروں کو دیوار نظر آتی ہے۔ ناممکن اُن کے لیے انجام نہیں، بل کہ آغاز ہوتا ہے۔ وہ خیال کو حقیقت اور تصور کو معیشت میں بدل دیتے ہیں۔
سوچیے، فلم کیا ہے؟ ایک خواب۔
ڈراما کیا ہے؟ ایک خواب۔
ناول کیا ہے؟ ایک خواب۔
ایک مصنف اپنے ذہن میں ایک دنیا آباد کرتا ہے۔ وہ ایسے کردار پیدا کرتا ہے، جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے، مگر دیکھنے والے انھیں اپنے جیسے محسوس کرتے ہیں۔ پھر ہدایت کار اس خواب کو کیمرے کی زبان دیتا ہے۔ اداکار اسے سانس دیتے ہیں، موسیقار اس میں احساس بھر دیتا ہے… اور چند گھنٹوں بعد لاکھوں لوگ سینما گھروں میں بیٹھ کر اس خواب کو خرید رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا صرف مصنوعات نہیں خریدتی، وہ خواب بھی خریدتی ہے۔
یہی اصول کاروبار پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایک کام یاب کمپنی صرف موبائل فون، گاڑی یا کپڑا نہیں بیچتی، بل کہ ایک احساس، ایک معیارِ زندگی اور ایک خواب فروخت کرتی ہے۔ انسان اکثر چیزیں ضرورت سے نہیں، تصور سے خریدتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیقی معیشت آج دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بن چکی ہے۔
لیکن خواب دیکھنا کافی نہیں۔ خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ہنر ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اس کے لیے علم، نظم، تحقیق، مسلسل محنت، ناکامی برداشت کرنے کا حوصلہ اور سب سے بڑھ کر اپنے تصور پر غیرمتزلزل یقین درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر انسان تخلیق کار نہیں بنتا۔ ہر ذہن نئی دنیا پیدا نہیں کرتا۔ یہ کام انھی لوگوں کا ہے، جو زمانے کی ہنسی سے زیادہ اپنے خواب کی آواز سنتے ہیں۔
قوموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ جن معاشروں میں بچوں کو سوال پوچھنے کی آزادی ملتی ہے، جہاں استاد تخیل کو سزا نہیں دیتا، جہاں ناکامی کو جرم نہیں سمجھا جاتا، وہاں سائنس دان، ادیب، مؤجد اور فلم ساز پیدا ہوتے ہیں۔ وہی معاشرے بعد میں دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس جن قوموں سے خواب چھین لیے جائیں، جہاں نوجوان کو صرف نوکری کا خواب دکھایا جائے، تخلیق کا نہیں، جہاں نقل کو ذہانت اور سوال کو گستاخی سمجھا جائے، وہاں صرف صارف پیدا ہوتے ہیں، تخلیق کار نہیں۔ ایسے معاشرے دوسروں کی ایجادات استعمال کرتے ہیں، دوسروں کی فلمیں دیکھتے ہیں، دوسروں کی ٹیکنالوجی خریدتے ہیں اور آخرِکار دوسروں کی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں۔
پاکستان کی اصل غربت شاید وسائل کی نہیں، بل کہ خوابوں کی غربت ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، مگر انھیں خواب دیکھنے، خطرہ مول لینے اور کچھ نیا تخلیق کرنے کا ماحول کم ملتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل تو سکھاتے ہیں، مگر بڑا مستقبل نہیں سکھاتے۔ ہم انھیں ملازمت ڈھونڈنے کا ہنر دیتے ہیں، روزگار پیدا کرنے کا نہیں۔
ریاستوں کی ذمے داری صرف بجٹ بنانا اور سڑکیں تعمیر کرنا نہیں ہوتی۔ اُن کی اصل ذمے داری ایسے معاشرے کی تشکیل ہے، جہاں خواب دیکھنے والے محفوظ ہوں، تخلیق کار باعزت ہوں، سائنس دان بااختیار ہوں، فنکار باوقار ہوں اور ہنرمند باوسیلہ ہوں۔ کیوں کہ خواب ہی کل کی صنعت بنتے ہیں، اور صنعت ہی کل کی معیشت۔
تاریخ کا ایک فیصلہ کبھی نہیں بدلا۔ دنیا ہمیشہ ان لوگوں کے قدموں میں آئی، جنھوں نے خواب دیکھنے کی جرأت کی اور پھر انھیں حقیقت بنانے کی قیمت ادا کی۔
جس دن کوئی قوم خواب دیکھنا چھوڑ دیتی ہے، اسی دن اس کی ترقی رُک جاتی ہے… اور جس سماج کے لوگوں کے پاس اپنا کوئی خواب نہ ہو، وہ دوسروں کے خوابوں کی تعبیر بن جاتے ہیں۔ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، خالی تصور بھی ایک غربت ہے۔
قوموں کی قسمت خزانے دریافت کرنے سے نہیں بدلتی، خواب دریافت کرنے سے بدلتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










