ریاست سوات کا ذکر آتے ہی دل بے اختیار اُس دور میں چلا جاتا ہے، جب یہ سرزمین صرف قدرتی حسن ہی نہیں، بل کہ اعلا تہذیب، امن، اُخوت اور بہترین انتظام کا بھی نمونہ تھی۔ اُس وقت کی فضا صاف، ہوا خالص، پہاڑ سرسبز اور ماحول قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ سڑکوں کے دونوں طرف سفیدے کے بلند و بالا درخت قطار در قطار کھڑے دیکھنے کو ملتے تھے، جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے تھے، بل کہ پورے علاقے کو ایک دل کش منظر بھی عطا کرتے تھے۔
دریائے سوات کا پانی اس قدر شفاف، ٹھنڈا اور پاکیزہ تھا کہ لوگ بلا جھجک اس سے بہ راہِ راست پانی پی لیتے تھے۔ دریا زندگی، تازگی اور پاکیزگی کی علامت تھا، لیکن افسوس آج وہی دریا ہماری بے احتیاطی، گندگی اور آلودگی کا شکار ہو کر اپنی اصل پہچان کھوتا جا رہا ہے۔
ریاستِ سوات کی خوب صورتی صرف اس کے پہاڑوں، دریا اور درختوں تک محدود نہیں تھی، بل کہ یہاں کے لوگ بھی اپنی محبت، اُخوت، رواداری اور باہمی احترام کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ گاؤں کے حجرے صرف بیٹھکیں نہیں، بل کہ محبت، مشورے اور انصاف کے مراکز ہوتے تھے۔ لوگوں کے باہمی اختلافات عدالتوں کے بہ جائے انھی حجروں میں بزرگوں کی دانش مندی سے حل ہو جاتے تھے۔ بزرگوں کی بات کو عزت دی جاتی تھی، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام زندگی کا لازمی حصہ تھا۔
والیِ سوات کے دور میں ترقی کا ایک ایسا نظام قائم کیا گیا، جس کی مثال آج بھی دی جاتی ہے۔ علاقے میں بہترین سڑکوں کا جال بچھایا گیا، معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے گئے، صحت، امن اور عوامی سہولیات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ ریاستِ سوات اپنے نظم و نسق، تعلیم، امن اور ترقی کے حوالے سے پورے خطے میں ممتاز مقام رکھتی تھی۔
لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے اپنی بہت سی خوب صورت روایات خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیں۔ نہ وہ سرسبز راستے باقی رہے، نہ سفیدے کے وہ بلند درخت، نہ دریائے سوات کی وہ شفاف روانی، نہ وہ حجرے آباد رہے اور نہ وہ بزرگ ہی رہے، جن کی موجودگی معاشرے کی زینت تھی۔ آج ہر شخص اپنی ذات، اپنے مفاد اور اپنی مصروفیات میں گم دکھائی دیتا ہے۔ رشتوں میں وہ خلوص، محبت اور اپنائیت کم زور پڑچکی ہے… اور اجتماعی سوچ کی جگہ انفرادیت نے لے لی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف ریاستِ سوات کے ماضی پر فخر نہ کریں، بل کہ اس کے روشن اُصولوں سے سبق بھی سیکھیں۔ اگر ہم اپنے ماحول کی حفاظت کریں، درخت لگائیں، دریاؤں کو آلودگی سے بچائیں، اپنے حجروں اور سماجی روایات کو دوبارہ زندہ کریں، بزرگوں کا احترام اور نوجوانوں کی صحیح تربیت کو فروغ دیں، تو یقیناً ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، پُرامن اور خوب صورت سوات دے سکتے ہیں۔
ریاستِ سوات ہمیں صرف ایک خوب صورت خطہ نہیں، بل کہ ایک بہترین طرز زندگی کا سبق دے کر گئی ہے۔ اگر ہم نے اس ورثے کی قدر نہ کی، تو آنے والی نسلیں صرف تصویروں اور کہانیوں میں اُس سنہرے سوات کو تلاش کرتی رہ جائیں گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










