افغانستان اور خطے کی تاریخ میں 27 اپریل 1978 کا دن ایک ایسے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نہ صرف اس ملک کی تقدیر بدل دی، بل کہ پورے خطے کو کئی دہائیوں تک جنگ، نظریاتی کش مہ کش اور عالمی طاقتوں کی رقابتوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ اُس دن رونما ہونے والا ’’ثور انقلاب‘‘ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا، بل کہ اس کے پیچھے تقریباً دو دہائیوں پر محیط سیاسی، سماجی اور نظریاتی تبدیلیوں کا ایک طویل سلسلہ کار فرما تھا۔ اگر اس انقلاب، خلق اور پرچم پارٹیوں، سوویت مداخلت اور بعد کے خوں ریز واقعات کو سمجھنا ہو، تو ہمیں اس افغانستان میں واپس جانا ہوگا، جو بہ ظاہر ایک پُرسکون بادشاہت تھا، مگر اس کی گہرائیوں میں تبدیلی کی خواہش، طبقاتی بے چینی، جدیدیت اور قدامت کے درمیان کش مہ کش، اور عالمی طاقتوں کی سرد جنگ کی لہریں خاموشی سے سرایت کر رہی تھیں۔
20ویں صدی کے وسط تک افغانستان ایک روایتی قبائلی اور زرعی معاشرہ تھا۔ معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر تھا، صنعت نہ ہونے کے برابر تھی، تعلیم کی سہولتیں محدود تھیں اور ریاستی ادارے کم زور تھے۔ ملک کی بڑی آبادی دیہات میں آباد تھی، جہاں قبائلی رسم و رواج، مذہبی اقدار اور مقامی روایات ریاستی قوانین سے زیادہ مؤثر سمجھی جاتی تھیں۔ شہروں، خصوصاً کابل، میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ ضرور ابھر رہا تھا، مگر وہ مجموعی آبادی کا ایک چھوٹا حصہ تھا۔
اُس زمانے میں افغانستان پر بادشاہ محمد ظاہر شاہ کی حکومت تھی۔ اُن کا دور نسبتاً پُرامن سمجھا جاتا ہے، لیکن اُس امن کے پردے کے پیچھے معاشی پس ماندگی، بے روزگاری، جاگیردارانہ نظام اور سیاسی جمود جیسے عوامل موجود تھے۔ نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ محسوس کرنے لگا کہ اگر افغانستان نے جدید دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا نہ سیکھا، تو وہ مزید پس ماندگی کا شکار ہو جائے گا۔
یہ وہی زمانہ تھا، جب پوری دنیا دو بڑے نظریاتی کیمپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی سرمایہ دارانہ نظام کے حامی تھے، جب کہ دوسری جانب سابق سوویت یونین ’’سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات‘‘ کا علم بردار تھا۔ اس عالمی کش مہ کش کو ’’سرد جنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ افغانستان جغرافیائی لحاظ سے مذکورہ طاقتوں کے درمیان ایک نہایت اہم ملک تھا۔ اس لیے دونوں فریق اسے اپنے اثر و رسوخ میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سوویت یونین نے افغانستان میں سڑکیں، ڈیم، تعلیمی ادارے اور دیگر ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں افغان طلبہ کو ماسکو، تاشقند اور دیگر سوویت جامعات میں تعلیم کے لیے وظائف دیے۔ اُن نوجوانوں میں سے بہت سے سوشل ازم اور مارکس ازم سے متاثر ہوکر وطن واپس آئے۔
دوسری طرف امریکہ بھی تعلیمی اور معاشی منصوبوں کے ذریعے اپنا اثر بڑھا رہا تھا، لیکن نظریاتی طور پر سوویت اثر زیادہ گہرا ثابت ہوا… خاص طور پر فوجی افسران، سرکاری ملازمین اور یونیورسٹیوں کے طلبہ میں۔
کابل یونیورسٹی اس نظریاتی کش مہ کش کا مرکز بن گئی۔ یہاں بائیں بازو کے طلبہ مارکس، اینگلز اور لینن کے افکار پر بحث کرتے تھے، جب کہ اسلامی فکر سے وابستہ نوجوان سید قطب، ابوالاعلیٰ مودودی اور دیگر مفکرین کے نظریات سے متاثر تھے۔ انھی تعلیمی اداروں میں وہ نسل پروان چڑھی، جو بعد میں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہوئی۔ ایک طرف کمیونسٹ قیادت سامنے آئی اور دوسری طرف اسلامی مزاحمتی قیادت۔
1960 کی دہائی میں افغانستان میں نسبتاً کھلا سیاسی ماحول پیدا ہوا، تو بائیں بازو کے دانش وروں اور سرکاری اہل کاروں نے ایک منظم سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا۔ یکم جنوری 1965 کو کابل میں چند نمایاں راہ نماؤں نے ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا، جس میں ’’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کا مقصد افغانستان میں ایک ایسی ریاست قائم کرنا تھا، جو اُن کے نزدیک سماجی انصاف، زمین کی اصلاحات، جدید تعلیم، خواتین کے حقوق اور معاشی مساوات پر مبنی ہو۔ اُن کے خیال میں افغانستان کی پس ماندگی کی بنیادی وجہ جاگیردارانہ نظام، قبائلی سیاست، ناخواندگی اور قدامت پرستی تھی… اور ان مسائل کا حل ایک سوشلسٹ ریاست کے قیام میں پوشیدہ تھا۔
اگرچہ پارٹی کے بنیادی نظریات مشترک تھے، لیکن قیادت کے اندر جلد ہی اختلافات جنم لینے لگے۔ ایک دھڑے کی قیادت نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کر رہے تھے۔ یہ گروہ خود کو ’’خلق‘‘ کہلاتا تھا، جس کا مطلب ’’عوام‘‘ ہے۔ اُن کا خیال تھا کہ افغانستان میں انقلابی تبدیلی تیز رفتاری سے اور اگر ضرورت پڑے، تو طاقت کے ذریعے لائی جائے۔
دوسرے دھڑے کی قیادت ’’ببرک کارمل‘‘ کر رہے تھے۔ یہ گروہ ’’پرچم‘‘ کہلاتا تھا، یعنی ’’جھنڈا‘‘۔ پرچم دھڑے کا موقف نسبتاً محتاط تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ افغان معاشرے کی پیچیدگیوں کو دیکھتے ہوئے مرحلہ وار اصلاحات اور وسیع سیاسی اتحاد جیسے عوامل زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے۔
مذکورہ دونوں دھڑے مارکس ازم کے حامی تھے، دونوں سوویت یونین سے اچھے تعلقات چاہتے تھے، دونوں جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا چاہتے تھے، مگر اُن کے طریقۂ کار، قیادت کے انداز اور سیاسی حکمت عملی میں نمایاں فرق تھا۔ وقت کے ساتھ نظریاتی اختلافات کے علاوہ شخصی رقابتیں بھی بڑھتی گئیں۔ چند ہی برسوں میں پارٹی عملی طور پر دو الگ دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔
یہ تقسیم مستقبل کے افغانستان کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوئی۔ بہ ظاہر دونوں گروہ ایک ہی مقصد کے لیے کام کر رہے تھے، لیکن اقتدار کی خواہش، قیادت کی کش مہ کش اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد نے ان کے تعلقات کو کم زور کر دیا۔ یہی اختلافات بعد میں ثور انقلاب کے بعد خوں ریز تصفیوں، گرفتاریوں اور قتل و غارت کا سبب بنے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ سوویت قیادت اس تقسیم سے مطمئن نہیں تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ ایک متحد جماعت کی صورت میں کام کریں، تاکہ افغانستان میں بائیں بازو کی قوت مضبوط ہو۔ اسی لیے مختلف مواقع پر دونوں دھڑوں میں مفاہمت کی کوششیں بھی ہوئیں، لیکن باہمی بداعتمادی کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہوسکی۔
یہ وہ پس منظر تھا جس میں افغانستان کی سیاست تیزی سے ایک ایسے موڑ کی طرف بڑھ رہی تھی، جہاں بادشاہت کم زور ہو رہی تھی، فوج میں نظریاتی تقسیم بڑھ رہی تھی، نوجوان طبقہ تبدیلی کا خواہاں تھا… اور عالمی طاقتیں افغانستان کو سرد جنگ کے ایک اہم محاذ کے طور پر دیکھ رہی تھیں۔ آنے والے چند برسوں میں یہی عوامل مل کر ایسے واقعات کو جنم دینے والے تھے، جنھوں نے افغانستان کی تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










