حوثی تحریک کی تاریخ (4)

Blogger Comrade Sajid Aman

سن 2011ء میں تیونس سے اٹھنے والی عوامی بیداری کی لہر نے پورے عرب عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اُسے بعد میں ’’عرب بہار‘‘ (Arab Spring) کا نام دیا گیا۔ چند ہی ہفتوں میں مصر، لیبیا، بحرین، شام اور یمن سمیت کئی ممالک میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ یمن میں بھی عوام کی شکایات نئی نہیں تھیں۔ کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی، بے روزگاری، قبائلی سیاست، معاشی بدحالی، طاقت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز اور ریاستی اداروں کی کم زوری نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی تھی۔
صنعاء، تعز، عدن اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد نے صدر علی عبداللہ صالح کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ابتدا میں صالح نے احتجاج کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی، لیکن جب فوج کے بعض اہم افسران، قبائلی رہ نما اور سیاسی شخصیات بھی مظاہرین کے ساتھ مل گئے، تو اُن کی حکومت کم زور پڑنے لگی۔
جون 2011ء میں صدارتی محل پر حملے میں صالح شدید زخمی ہوئے اور علاج کے لیے سعودی عرب منتقل کر دیے گئے۔ کئی ماہ کی سیاسی کش مہ کش کے بعد ’’خلیج تعاون کونسل‘‘ (GCC) کی ثالثی میں ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت نومبر 2011ء میں علی عبداللہ صالح نے اقتدار اپنے نائب عبدربہ منصور ہادی کے حوالے کر دیا۔ اگرچہ وہ صدارت سے الگ ہوگئے، لیکن فوج، قبائلی نیٹ ورک اور حکم ران جماعت میں اُن کا اثر و رسوخ بڑی حد تک برقرار رہا۔
عبدرَبہ منصور ہادی ایک عبوری صدر تھے، جن سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ نیا آئین بنائیں گے، تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور یمن کو ایک مستحکم جمہوری ریاست میں تبدیل کریں گے… لیکن حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔ معیشت مزید خراب ہوتی گئی، ریاستی ادارے کم زور ہوتے گئے، القاعدہ نے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں، جب کہ شمال میں حوثی تحریک پہلے سے زیادہ منظم ہوگئی۔
2013ء میں ’’قومی مکالمہ کانفرنس‘‘ (National Dialogue Conference) منعقد کی گئی، جس کا مقصد تمام سیاسی، قبائلی اور مذہبی قوتوں کے درمیان ایک نئے سیاسی معاہدے تک پہنچنا تھا۔ حوثیوں نے بھی اس میں شرکت کی، لیکن بعد میں اُنھوں نے الزام لگایا کہ اُن کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا، خصوصاً مجوزہ وفاقی نظام میں شمالی علاقوں کو معاشی اور جغرافیائی لحاظ سے کم زور بنانے کی کوشش کی گئی۔
اسی دوران میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے یمن کی سیاست کا رُخ بدل کر رکھ دیا۔ صدر ہادی کی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مشورے پر ایندھن پر دی جانے والی سرکاری سبسڈی ختم کر دی، جس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا۔ حوثیوں نے اس عوامی غصے کو منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کیا اور حکومت کے خلاف بڑے مظاہرے شروع کر دیے۔
ستمبر 2014ء میں حوثی جنگ جو شمال سے پیش قدمی کرتے ہوئے دارالحکومت صنعاء میں داخل ہوگئے۔ حیرت انگیز طور پر اُنھیں شدید مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کئی فوجی یونٹ غیر فعال رہے، بعض نے مزاحمت ہی نہیں کی، جب کہ بعض مبصرین کے مطابق اس پیش قدمی میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی افسران نے بھی پسِ پردہ کردار ادا کیا۔
یہ یمن کی جدید تاریخ کا سب سے غیر متوقع سیاسی اتحاد تھا۔ ایک طرف علی عبداللہ صالح تھے، جنھوں نے 2004ء سے 2010ء کے درمیان حوثیوں کے خلاف چھے جنگیں لڑی تھیں اور جن کے دورِ حکومت میں حسین بدرالدین الحوثی مارے گئے تھے۔ دوسری طرف وہی حوثی تھے، جو برسوں تک صالح کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے رہے… لیکن سیاست میں مستقل دوست اور دشمن کم ہی ہوتے ہیں… مشترکہ مفاد بعض اوقات پرانی دشمنیوں پر غالب آ جاتا ہے۔ سو دونوں کا مشترکہ مقصد صدر ہادی کی حکومت کو کم زور کرنا ٹھہرا۔
صنعاء پر قبضے کے بعد حوثیوں نے سرکاری اداروں، فوجی مراکز اور وزارتوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا شروع کر دیا۔ جنوری 2015ء میں اُنھوں نے صدارتی محل کا بھی محاصرہ کرلیا۔ صدر ہادی نے استعفا دیا، لیکن بعد میں عدن پہنچ کر اعلان کیا کہ اُن کا استعفا دباؤ کے تحت لیا گیا تھا اور وہ بہ دستور یمن کے آئینی صدر ہیں۔
چند ہی ہفتوں میں حوثیوں نے عدن کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف یمن، بل کہ پورے خلیجی خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ سعودی عرب کو خدشہ تھا کہ اگر حوثی پورے یمن پر قابض ہوگئے، تو اس کی جنوبی سرحد پر ایک ایسی طاقت قائم ہو جائے گی، جس کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں۔ اسی طرح بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
26 مارچ 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے ’’آپریشن ڈیسائیسو اسٹورم‘‘ (Operation Decisive Storm) شروع کیا۔ اس اتحاد میں ابتدا میں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، مصر، اردن، مراکش اور چند دیگر ممالک شامل تھے۔ البتہ قطر بعد میں الگ ہوگیا تھا۔ اس اتحاد کو امریکہ، برطانیہ اور بعض مغربی ممالک کی انٹیلی جنس، لاجسٹک اور دیگر نوعیت کی معاونت بھی حاصل رہی۔
ابتدائی حکمت عملی یہ تھی کہ فضائی حملوں کے ذریعے حوثیوں کو چند ہفتوں میں پسپا کر دیا جائے گا، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ یمن کا دشوار گزار جغرافیہ، قبائلی نظام، کم زور ریاستی ڈھانچا اور حوثیوں کی تنظیمی صلاحیت نے جنگ کو طویل اور پیچیدہ بنا دیا۔
متحدہ عرب امارات نے ابتدا میں سعودی اتحاد کے ساتھ مل کر کارروائیاں کیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کی ترجیحات کچھ مختلف ہوتی گئیں۔ امارات نے جنوبی یمن میں مقامی اتحادی گروہوں، خصوصاً ’’جنوبی عبوری کونسل‘‘ (Southern Transitional Council – STC) کی حمایت کی، جو جنوبی یمن کی علاحدگی کی حامی تھی۔ یوں ایک ہی اتحاد کے اندر مختلف سیاسی اہداف نمایاں ہونے لگے۔ سعودی عرب کی اولین ترجیح صدر ہادی کی حکومت کی بہ حالی تھی، جب کہ امارات کی توجہ جنوبی ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر زیادہ مرکوز رہی۔
دوسری جانب ایران نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ یمن میں صرف سیاسی اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے اور جنگ کا حل مذاکرات میں دیکھتا ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ماہرین، متعدد مغربی حکومتوں اور مختلف تحقیقی اداروں نے مختلف اوقات میں ایسی رپورٹس پیش کیں، جن میں یہ کہا گیا کہ وقت کے ساتھ حوثیوں کو ایران اور اس سے وابستہ نیٹ ورکس کی جانب سے میزائل ٹیکنالوجی، ڈرونز کے پرزوں، عسکری تربیت یا دیگر معاونت حاصل ہوئی۔
دوسری طرف ایران اور حوثی قیادت نے ان الزامات کا مختلف پہلوؤں سے انکار یا ان کی مختلف تشریحات پیش کیں۔ اس موضوع پر آج بھی بین الاقوامی سطح پر مختلف آرا موجود ہیں۔
جنگ کے ساتھ ساتھ یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہوگیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے، صحت کا نظام تقریباً مفلوج ہوگیا، ہیضے جیسی وبائیں پھیلیں، خوراک کی قلت نے لاکھوں خاندانوں کو متاثر کیا اور اقوامِ متحدہ بارہا یمن کو دنیا کے سنگین انسانی بحرانوں میں شمار کرتی رہی۔
اسی دوران میں دسمبر 2017ء میں ایک اور غیر متوقع موڑ آیا۔ سابق صدر علی عبداللہ صالح، جو تین برس سے حوثیوں کے اتحادی تھے، اچانک اُن کے خلاف ہوگئے اور سعودی اتحاد سے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی… لیکن یہ فیصلہ اُن کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ چند ہی دنوں بعد صنعاء میں جھڑپوں کے دوران میں صالح مارے گئے۔ اُن کی موت نے یمن کی سیاست کے ایک طویل باب کا خاتمہ کر دیا، جب کہ حوثیوں نے دارالحکومت پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی۔
یوں وہ تحریک جو دو دہائیاں قبل صعدہ کے چند مذہبی حلقوں تک محدود تھی، اب یمن کے سب سے طاقت ور عسکری اور سیاسی فریق کے طور پر سامنے آچکی تھی… لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس کے سامنے اب ایک نیا سوال تھا۔ کیا وہ صرف ایک مزاحمتی تحریک رہے گی یا ایک ایسی ریاست بھی چلا سکے گی، جو مسلسل جنگ، معاشی تباہی اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہو؟ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے