تاریخ کی موت…؟

Blogger Comrade Sajid Aman

کسی قوم کے بارے میں یہ جاننے کا ایک غیر معمولی طریقہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کیا پڑھاتی ہے۔ قومی تقریریں بدل سکتی ہیں، سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اخبارات کے اداریے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن سکول کی کتاب میں درج ایک واقعہ کئی نسلوں کے ذہن میں اس طرح جگہ بنا لیتا ہے کہ بعد میں اسے بدلنا صرف ایک عبارت بدلنے کا نام نہیں رہتا، بل کہ پوری ذہنی ساخت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہوجاتا ہے۔
خورشید کمال عزیز، جنhیں علمی دنیا میں ’’کے کے عزیز‘‘ (K. K. Aziz) کے نام سے جانا جاتا ہے، کی کتاب The Murder of History: A Critique of History Textbooks Used in Pakistan اسی بنیادی سوال سے ٹکراتی ہے کہ پاکستان کے بچوں کو جو تاریخ پڑھائی جا رہی ہے، کیا وہ واقعی تاریخ ہے؟
کتاب پہلی مرتبہ 1985 میں سامنے آئی، بعد میں اس کا زیادہ معروف ایڈیشن 1993 میں شائع ہوا، جب کہ بعد کے برسوں میں اس کے نئے ایڈیشن بھی سامنے آئے۔
کتاب کے بنیادی تحقیقی منصوبے میں جماعتِ اول سے لے کر اعلا تعلیمی سطح تک استعمال ہونے والی 66 درسی کتب شامل تھیں، ان میں معاشرتی علوم، مطالعۂ پاکستان اور تاریخ کی اردو اور انگریزی کتابیں شامل تھیں۔
کتابی فہرست کے مطابق عزیز نے 46 اردو اور 20 انگریزی کتب سمیت مجموعی طور پر 66 نصابی کتب کا جائزہ لیا… لیکن ’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ کا اصل مسئلہ 66 کتابوں کی تعداد نہیں، اس سوال کی شدت ہے، جو عزیز ان کتابوں کے پیچھے کھڑا کرتے ہیں۔
کے کے عزیز کا استدلال یہ ہے کہ جب تاریخ کو سیاسی ضرورت کے مطابق منتخب، حذف، تبدیل، مبالغہ آمیز اور افسانوی بنایا جائے، تو نصاب صرف معلومات فراہم نہیں کرتا، بل کہ ایک مخصوص ذہن تشکیل دیتا ہے۔
عزیر کے مطابق پاکستان کے سکولوں میں تاریخ، معاشرتی علوم اور مطالعۂ پاکستان کے نام پر جو کچھ پڑھایا گیا، اُس میں ایک بڑا حصہ تاریخی تحقیق کے بہ جائے قومی اساطیر، سیاسی مفادات اور نظریاتی تلقین کا مجموعہ بن چکا تھا۔ ناشر کی موجودہ تفصیل بھی کتاب کے اسی بنیادی دعوے کو بیان کرتی ہے کہ عزیز نے نصابی کتابوں کی حقائق کے منافی، کوتاہی، غلط تعبیرات اور تحریفات کو نشان زد کیا اور ان کے طلبہ اور معاشرے پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
یہاں عزیز کی تنقید کو سمجھنے کے لیے ’’تاریخ‘‘ اور ’’قومی بیانیے‘‘ کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تاریخ کا کام یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو ہر حال میں اچھا اور اس کے مخالف کو ہر حال میں برا ثابت کرے۔ تاریخ کا کام واقعے کو اس کے زمانے، اس کے کرداروں، اس کے محرکات اور اس کے نتائج کے ساتھ سمجھنا ہے۔ قومی بیانیہ اس کے برعکس اکثر ایک اخلاقی کہانی بن جاتا ہے، جس میں ہیرو، ولن، قربانی، سازش اور فتح کے کردار پہلے سے متعین ہوتے ہیں۔
عزیز کا اعتراض بنیادی طور پر یہ ہے کہ جب قومی بیانیہ تاریخ کی جگہ لے لے، تو طالب علم واقعات کو سمجھنا چھوڑ دیتا ہے اور انھیں یاد کرنا شروع کر دیتا ہے۔
زیرِ تبصرہ کتاب کا پہلا بڑا حصہ، The Prescribed Myths، جس کو ہم ’’متعین خرافات‘‘ کَہ سکتے ہیں، اسی مسئلے کی ایک طویل فہرست ہے۔ یہاں عزیز مختلف نصابی کتابوں سے عبارتیں سامنے لاکر دکھاتے ہیں کہ ایک ہی تاریخی واقعہ مختلف جماعتوں کی کتابوں میں کس طرح غلط، مبہم، مبالغہ آمیز یا باہم متناقض و متضاد انداز میں بیان ہوا!
کتاب کا یہ حصہ خاصا طویل اور بعض مقامات پر اُکتا دینے والا بھی محسوس ہوتا ہے، مگر اس کی طوالت ہی ایک اور حقیقت سامنے لاتی ہے کہ اگر غلطی ایک کتاب میں ہو، تو اُسے مصنف کی غلطی کہا جاسکتا ہے، اگر وہ کئی کتابوں میں مختلف شکلوں میں دہرائی جائے، تو سوال پورے نظامِ نصاب تک پہنچ جاتا ہے۔
1857 کی بغاوت، برصغیر میں مسلمانوں کی سیاسی تاریخ، سر سید احمد خان، مسلم لیگ، کانگریس، اقبال، قائدِ اعظم، قراردادِ لاہور، 1937 کے انتخابات، 1940 کی قرارداد، 1946 کے سیاسی حالات، صوبہ سرحد کے ریفرنڈم اور قیامِ پاکستان جیسے موضوعات عزیز کی تنقید کے اہم میدان ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ان واقعات کو اکثر اس طرح پیش کیا گیا کہ پیچیدہ تاریخی عمل ایک سیدھی لکیر میں تبدیل ہوگیا۔ مسلمانوں کی ایک قدیم اور مسلسل جداگانہ قومیت تھی، ہندو اور مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے سے متصادم رہے، مسلم لیگ ابتدا ہی سے ایک الگ وطن کے مقصد کے ساتھ وجود میں آئی، اور قیامِ پاکستان ایک طویل عرصے سے طے شدہ تاریخی منزل تھی۔ عزیز کے نزدیک اصل تاریخ اس سے کہیں زیادہ مختلف اور پیچیدہ ہے۔
یہاں عزیز کا 1857 کے بارے میں موقف خاص توجہ کا طالب ہے۔ نصابی روایت میں اسے اکثر ’’جنگِ آزادی‘‘ کے ایک متحدہ اور بالخصوص مسلم قیادت والے معرکے کے طور پر پیش کیا گیا۔ عزیز اس تعبیر کو تاریخی طور پر سادہ اور گم راہ کن سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک 1857 میں مختلف علاقوں، طبقات، فوجی دستوں اور مقامی طاقتوں کے مختلف مفادات کار فرما تھے۔ اسے بعد کی قومی سیاست کے تصور کے مطابق ایک مکمل قومی جنگ قرار دینا تاریخی پیچیدگی کو ختم کر دیتا ہے۔
اسی طرح قراردادِ لاہور کی تاریخ اور اس کی اصل زبان، علامہ اقبال کے خطبۂ الہ آباد کی حیثیت، قائدِ اعظم کے سیاسی سفر، مسلم لیگ کی تشکیل اور پاکستان کے مطالبے کے ارتقا کے بارے میں عزیز بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بعد کے واقعات کو پہلے کے واقعات سے موافق کرکے تاریخ نہیں لکھی جاسکتی۔ پاکستان کا قیام 1947 میں ہوا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ 1940، 1930، 1906 یا اس سے بھی پہلے کے ہر سیاسی واقعے کا مقصد لازماً وہی تھا، جو بعد میں پاکستان بننے کی صورت میں سامنے آیا۔ یہی تاریخی مطالعے کا بنیادی اُصول ہے کہ ماضی کو مستقبل کے علم کی روشنی میں نہیں، اپنے زمانے کے شعور میں سمجھا جائے۔
عزیز کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ غلط تاریخ ہی نہیں، بل کہ خاموشی سے تاریخ کا حذف ہونا بھی ہے۔ نصاب میں جو کچھ شامل کیا جاتا ہے، وہ اہم ہے، لیکن جو کچھ شامل نہیں کیا جاتا، وہ کبھی کبھی اُس سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ بنگال کا کردار، غیر مسلم آبادی کے سیاسی اور سماجی تجربات، مسلم سیاست کے اندرونی اختلافات، صوبائی مفادات، یونینسٹ سیاست، مختلف مسلم راہ نماؤں کے باہمی اختلافات اور 1971 کے سانحے جیسے موضوعات کو اگر ایک خاص قومی تصویر کے تحفظ کے لیے کم جگہ دی جائے، تو طالب علم کے سامنے تاریخ کا مکمل نقشہ نہیں رہتا۔
عزیز خصوصاً اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ بعض کتابوں میں مشرقی پاکستان کے بحران اور 1971 کی شکست کو بھی اس انداز میں نظر انداز یا مؤخر کیا گیا کہ طالب علم اپنے ہی ملک کے ٹوٹنے کے واقعے کو بروقت تاریخی تناظر میں نہیں سمجھ پاتا۔
کتاب کا دوسرا بڑا حصہ The Calamity of Errors ہے۔ اگر پہلا حصہ یہ دکھاتا ہے کہ نصاب میں کون سی کہانیاں بنائی گئیں، تو دوسرا حصہ یہ پوچھتا ہے کہ ان کہانیوں میں تاریخی غلطیاں کتنی ہیں۔ یہاں عزیز کا انداز زیادہ تحقیقی اور دستاویزی ہو جاتا ہے۔ تاریخ، نام، تاریخیں، واقعات، حوالہ جات، سیاسی فیصلے اور تاریخی تعبیرات ایک ایک کرکے زیرِ بحث آتے ہیں۔ وہ محض یہ نہیں کہتے کہ ’’یہ کتاب غلط ہے‘‘، بل کہ متعدد مقامات پر بتاتے ہیں کہ غلطی کہاں ہے، صحیح صورت کیا ہے اور اس غلطی کے پیچھے کون سا تصور کام کر رہا ہے؟ یہی وہ حصہ ہے جو کتاب کو محض ایک سیاسی احتجاج سے نکال کر ایک تحقیقی دستاویز بناتا ہے۔
مگر عزیز کا اصل غصہ غلطی پر نہیں، غلطی کو مسلسل دہرانے پر ہے۔ ایک طالب علم اگر ایک غلط تاریخ یاد کر لے، تو شاید اسے امتحان کے بعد بھول جائے، لیکن اگر پورا تعلیمی نظام ایک ہی واقعے کو ایک ہی زاویے سے بار بار دہراتا رہے، تو وہ غلطی اجتماعی یادداشت بن جاتی ہے۔ یوں نصابی کتاب صرف معلومات نہیں دیتی، اجتماعی حافظے کی تشکیل (Memory Formation) کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کتاب کے تیسرے حصے، The Road to Ruin، میں عزیز کا سوال تاریخی کتابوں سے نکل کر معاشرے تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر ایک نسل کو تاریخ کے بہ جائے ایک مصنوعی اور یک رخا ماضی پڑھایا جائے، تو اس کے سیاسی اور سماجی نتائج کیا ہوں گے؟
عزیز کے نزدیک اس کا نتیجہ تنقیدی سوچ کے کم زور ہونے، مخالف نقطۂ نظر کو برداشت نہ کرنے، قومی خود فریبی، سیاسی جذباتیت اور معاشرتی تقسیم کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک طالب علم جو یہ سمجھ کر بڑا ہوا ہو کہ اس کی قومی تاریخ میں پیچیدگی، اختلاف اور داخلی تضاد نام کی کوئی چیز نہیں، وہ بعد میں سیاسی اختلاف کو بھی غداری، دشمنی یا قومی مفاد کے خلاف اقدام سمجھنے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔
یہاں کتاب کا سب سے اہم فکری پہلو سامنے آتا ہے۔ عزیز دراصل صرف تاریخ کی کتابوں پر مقدمہ نہیں چلا رہے، وہ ریاست کے علم پر اختیار کے سوال کو اٹھا رہے ہیں۔
کون فیصلہ کرتا ہے کہ بچے کو کیا پڑھایا جائے؟
کون طے کرتا ہے کہ کون سا واقعہ قومی اہمیت رکھتا ہے؟
کون فیصلہ کرتا ہے کہ کس شخصیت کو ہیرو بنایا جائے اور کس اختلاف کو خاموش کردیا جائے؟
مصنف کی نظر میں ذمے داری صرف ٹیکسٹ بک لکھنے والے کی نہیں۔ حکومت، نصاب بنانے والے ادارے، ماہرینِ تعلیم، مصنفین، ایڈیٹرز، نظرِ ثانی کرنے والے، امتحانی نظام، اساتذہ اور حتیٰ کہ والدین بھی اس پورے عمل کا حصہ ہیں۔
کتاب کے ضمیموں میں عزیز نے ان 66 کتابوں کے منصوبہ سازوں، مشیروں، مصنفین، ایڈیٹروں، نظرِ ثانی کرنے والوں اور نگرانوں کی فہرست بھی دی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مسئلے کو کسی ایک مصنف کی انفرادی غلطی نہیں سمجھتے۔
اور پھر کتاب کا آخری حصہ The Burden of Responsibility آتا ہے۔ یہاں عنوان ہی اپنے اندر پوری بحث سمیٹ لیتا ہے کہ اگر تاریخ مسخ ہوئی ہے، تو ذمے دار کون ہے؟
عزیز کا جواب کسی ایک فرد یا ایک ادارے تک محدود نہیں۔ اُن کے نزدیک یہ اجتماعی علمی اور سیاسی ذمے داری کا مسئلہ ہے۔ حکومتیں نصاب منظور کرتی ہیں، ماہرین اسے تیار کرتے ہیں، مصنفین لکھتے ہیں، ادارے شائع کرتے ہیں، اساتذہ پڑھاتے ہیں اور معاشرہ اسے قبول کرتا ہے۔ اس لیے تاریخ کے قتل کا جرم بھی اجتماعی ہے اور اس کی اصلاح کی ذمے داری بھی ان سب کی ہے۔
یہاں کتاب کی ایک بڑی خوبی سامنے آتی ہے۔ عزیز نے ’’ریاست تاریخ کو کیوں بدلتی ہے؟‘‘ کے سوال کو صرف نظریاتی سطح پر نہیں چھوڑا، بل کہ درسی کتاب کے متن تک جا کر دکھانے کی کوشش کی۔ اس لحاظ سے ’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ پاکستان میں نصابی کتابوں کی تنقیدی تحقیق (Textbook Criticism) کی ایک اہم بنیاد بن جاتی ہے۔ بعد کے مطالعات میں بھی پاکستانی نصاب میں تاریخی تحریف، حذف اور نظریاتی تشکیل کے سوالات زیرِ بحث آتے رہے ہیں، اور عزیز کا کام اس علمی روایت کے اہم حوالوں میں شمار ہوتا ہے۔
لیکن کسی سنجیدہ کتاب پر تبصرہ صرف مصنف کے ساتھ اتفاق کا نام نہیں۔ ’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ کی اپنی کم زوریاں بھی ہیں اور اُنھیں نظر انداز کرنا خود اسی تنقیدی دیانت کے خلاف ہوگا، جس کی عزیز دوسروں سے توقع کرتے ہیں۔
سب سے پہلی خامی اس کی ساخت ہے۔ پہلے حصے کی طویل فہرستیں بعض اوقات قاری کو تھکا دیتی ہیں۔ ایک ہی نوعیت کی غلطیاں مختلف کتابوں میں دہرائی گئی ہیں اور اس ریپیٹیشن سے استدلال کی قوت بعض جگہ کم محسوس ہوتی ہے۔ بعض قارئین نے بھی اس کے پہلے حصے کو بے ترتیبی (Cluttered) اور مکررات (Repetitive) قرار دیا ہے۔
دوسری اہم بات حوالہ جاتی نظام ہے۔ عزیز ایک ماہر تاریخ دان تھے اور اُن کا مواد وسیع مطالعے پر قائم ہے، لیکن بعض مقامات پر قاری یہ چاہتا ہے کہ مصنف ہر تصحیح کے ساتھ زیادہ منظم فوٹ نوٹ یا اینڈ نوٹ فراہم کرتے۔ بعد کے قارئین نے بھی اس پہلو کو کتاب کی ایک کمی قرار دیا ہے۔
تیسری خامی یہ ہے کہ عزیز بعض اوقات نصابی تحریف کے مقابلے میں ایک درست تاریخ پیش کرتے ہوئے اپنے تاریخی فیصلے کو اتنی قطیعت سے بیان کرتے ہیں کہ خود تاریخ کے اندر موجود علمی بحث (Scholarly Debate) پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ تاریخ میں ’’درست‘‘ اور ’’غلط‘‘ کے واضح معاملات ضرور ہوتے ہیں، لیکن بعض سیاسی واقعات کی تعبیر ایک سے زیادہ معتبر زاویوں سے ممکن ہوتی ہے۔ ایک مثالی نصاب کو سرکاری جھوٹ کے مقابلے میں مصنف کا نیا ’’حتمی سچ‘‘ نہیں بننا چاہیے، اسے طلبہ کو مختلف معتبر شواہد اور تعبیرات کے درمیان سوچنے کی تربیت دینی چاہیے۔
چوتھی بات خود کتاب کے تاریخی پس منظر سے متعلق ہے۔ عزیز کی تنقید جس دور کے نصابی مواد پر مرکوز ہے، اس میں ریاستی نظریے، قومی شناخت اور سیاسی حالات کا گہرا اثر تھا۔ بعد کے برسوں میں نصاب پر ہونے والی بحثوں نے یہ دکھایا کہ مسئلہ کسی ایک حکومت یا ایک دور تک محدود نہیں۔ نصابی بیانیہ وقت کے ساتھ بدلتا، نئے موضوعات شامل کرتا اور پرانے موضوعات کو نئے سیاسی تقاضوں کے مطابق ترتیب دیتا رہا ہے۔ اس لیے زیرِ تبصرہ کتاب کو آج پڑھتے ہوئے اسے 1980 اور 1990 کی دہائی کے مخصوص نصابی منظر نامے کے ساتھ بھی پڑھنا چاہیے۔
یہاں ’’کورس کی تاریخ‘‘ کا سوال بھی اہم ہے۔ پاکستان میں تاریخ کی تدریس ابتدا ہی سے محض ماضی کے واقعات کی تدریس نہیں رہی، بل کہ وہ قومی شناخت کی تشکیل کے منصوبے سے جڑی رہی۔ مطالعۂ پاکستان اور معاشرتی علوم جیسے مضامین نے وقت کے ساتھ تاریخ، جغرافیہ، شہریت، مذہبی و قومی تصورات اور ریاستی شناخت کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا۔ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب قومی شناخت کی تعمیر تاریخی تحقیق پر غالب آ جائے۔ پھر نصاب کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں رہتا، بل کہ ماضی سے موجودہ سیاسی شناخت کے لیے دلائل حاصل کرنا بن جاتا ہے۔
اسی مقام پر عزیز کا مقدمہ آج بھی زندہ ہے۔ اگر پاکستان کے بچے صرف یہ جانیں کہ کون ہمارے ہیرو ہیں، کون ہمارے دشمن اور کون سے واقعات پر ہمیں فخر کرنا چاہیے… لیکن یہ نہ جانیں کہ انھی واقعات کے اندر اختلافات کیا تھے، مختلف گروہوں کے مفادات کیا تھے، فیصلے کیسے ہوئے، کون سی غلطیاں ہوئیں اور ان کے نتائج کیا نکلے…؟، تو انھوں نے تاریخ نہیں پڑھی، انھوں نے قومی حافظے کا ایک سرکاری نسخہ پڑھا ہے۔
تاہم ’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ کو پڑھتے ہوئے ایک اور احتیاط بھی ضروری ہے… اور وہ یہ کہ عزیز کی ہر بات کو بھی آخری عدالت کا فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک اچھی تاریخ کی کتاب ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ ’’اصل حقیقت‘‘ کیا ہے، بل کہ وہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ شواہد سے حقیقت تک کیسے پہنچا جاتا ہے؟ ’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ کی سب سے بڑی کام یابی یہی ہے کہ یہ قاری کو نصابی عبارت پر سوال اٹھانا سکھاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی ممکنہ کم زوری یہ ہے کہ بعض مقامات پر مصنف کی اپنی تعبیر اتنی طاقت ور ہوجاتی ہے کہ قاری کو اس کے مقابل دیگر تاریخی یا عالمانہ تحقیق تلاش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے… اور شاید یہی اس کتاب کو پڑھنے کا بہترین طریقہ بھی ہے۔
’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ کو ’’پاکستان کے خلاف‘‘ کتاب سمجھ کر پڑھنا غلط ہوگا… اور اسے پاکستان کے سرکاری تاریخی بیانیے کے خلاف آخری فیصلہ سمجھنا بھی درست نہیں۔ اسے اس سوال کے ساتھ پڑھنا چاہیے کہ ریاست، قوم اور تاریخ کا تعلق کیا ہے؟ ایک ملک اپنے بچوں کو اپنی تاریخ کس حد تک فخر کے ساتھ پڑھائے اور کس مقام پر اپنے زخم، شکست، اختلاف اور غلطیاں بھی دکھائے؟ کیا قومی وحدت صرف فتوحات سے پیدا ہوتی ہے، یا اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے سے بھی قومیں مضبوط ہوتی ہیں؟
1971 اس سوال کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایک ملک کا مشرقی حصہ الگ ہوجائے اور آنے والی نسلوں کو اس سانحے کی مکمل سیاسی، معاشی، لسانی اور تاریخی پیچیدگی نہ بتائی جائے، تو نقصان صرف تاریخ کا نہیں ہوتا، بل کہ قوم اپنی ہی اجتماعی یادداشت کا ایک حصہ کھو دیتی ہے۔ عزیز کے ہاں یہ مسئلہ بار بار سامنے آتا ہے کہ تاریخ میں جو کچھ حذف کیا جاتا ہے، وہ بھی ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے۔
کتاب کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ عزیز کی نشان زدہ مشکلات کے باوجود نصاب میں تبدیلی فوری اور بنیادی سطح پر نہیں آئی۔ ایک بعد کے جائزے نے بھی نشان دہی کی کہ عزیز نے جن غلطیوں اور تحریفات کی نشان دہی کی تھی، ان پر اس قدر محنت کے باوجود عملی تبدیلی بہت محدود رہی۔
یہ شاید ’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ کا سب سے افسوس ناک پہلو ہے۔ کتاب کا نام ’’تاریخ کا قتل‘‘ ہے… مگر اصل المیہ یہ ہے کہ قتل کے بعد بھی مقتول کو دفن نہیں کیا گیا، بل کہ اسے نصاب میں زندہ رکھ کر نسل در نسل پڑھایا جاتا رہا۔ اگر کوئی غلطی ایک بار کسی کتاب میں چھپ جائے، تو وہ علمی مسئلہ ہے، لیکن اگر وہ نصاب میں شامل ہو، امتحان کا سوال بنے، طالب علم اسے یاد کرے، نمبر حاصل کرے اور پھر اپنے بچوں کو وہی بات سکھائے، تو وہ غلطی معاشرتی حقیقت بن جاتی ہے۔
خورشید کمال عزیز کی کتاب اسی اجتماعی عمل کو بے نقاب کرتی ہے۔ وہ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ صرف ماضی میں کیا ہوا، بل کہ وہ ہمیں یہ دیکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ماضی کو کس طرح یاد کرنا چاہتے ہیں؟ یہی فرق تاریخ اور یادداشت میں ہے۔ تاریخ سوال کرتی ہے اور سرکاری یادداشت اکثر جواب پہلے سے طے کرکے سوال کو محدود کردیتی ہے۔
ایک سنجیدہ قومی نصاب کا مقصد ایسے شہری پیدا کرنا ہونا چاہیے، جو اپنے ملک سے محبت کریں، مگر اپنے ملک کی تاریخ سے خوف نہ کھائیں۔ جو قائدِ اعظم کو سمجھیں، مگر ان کے سیاسی سفر کے اختلافات بھی جانیں… جو اقبالؔ کو پڑھیں، مگر ان کے خیالات کے تاریخی ارتقا کو بھی سمجھیں… جو تحریکِ پاکستان کو جانیں، مگر اس میں موجود صوبائی، طبقاتی، لسانی اور سیاسی پیچیدگیوں سے بھی واقف ہوں… جو 1857 کو صرف ’’جنگِ آزادی‘‘ کَہ کر آگے نہ بڑھ جائیں، بل کہ یہ بھی پوچھیں کہ اس میں کون کون شریک تھا، کیوں شریک تھا اور مختلف طبقات کے مفادات کیا تھے…؟ اور جو 1971 کو قومی شرمندگی کا ایسا باب نہ سمجھیں، جسے بند کردیا جائے، بل کہ اسے اس تاریخ کے طور پر پڑھیں، جس سے مستقبل کے لیے سبق لیا جاسکتا ہے۔
اس اعتبار سے ’’دی مرڈر آف ہسٹری‘‘ ایک ایسی کتاب ہے، جس سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے، اس کی بعض تعبیرات کو چیلنج بھی کیا جاسکتا ہے، اس کے طریقۂ استدلال پر سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی اصل اہمیت اس کے ہر نتیجے میں نہیں، بل کہ اس سوال میں ہے، جو یہ پاکستان کے تعلیمی نظام کے سامنے رکھتی ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو اصل تاریخ دے رہے ہیں یا اپنی مرضی کی تاریخ…؟
شاید کسی قوم کی علمی بلوغت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی تاریخ میں صرف وہی نہ ڈھونڈے، جس پر اسے فخر ہو، بل کہ وہ سب کچھ پڑھنے کا حوصلہ بھی رکھے، جس سے اسے شرمندگی، اختلاف یا بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ کیوں کہ جو قوم اپنی تاریخ کے مشکل سوالات سے بھاگتی ہے، آخرِکار وہ اپنے حال کے مشکل سوالات کا جواب بھی کھو دیتی ہے… اور اسی مقام پر خورشید کمال عزیز کی کتاب آج بھی ختم نہیں ہوتی، بل کہ حقیقت میں شروع شروع ہوتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے