لوڈشیڈنگ کے ذریعے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اگر محض بجلی کی قلت کا نتیجہ نہیں، بل کہ کسی بڑے منصوبے کی بنیاد ہو، تو یہ سوال انتہائی سنجیدہ نوعیت اختیار کرلیتا ہے کہ آخر اس بحران سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
پاکستان میں توانائی کے بحران کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ ماضی میں بھی عوام کو بجلی کی قلت، لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران کے نام پر ایسے حالات سے دوچار کیا گیا، جن کے نتیجے میں مہنگی بجلی کے معاہدے کیے گئے۔ پاکستان کے پاس پانی سے نسبتاً سستی بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات موجود تھے، ملک میں متعدد مقامات پر بڑے ڈیم اور پن بجلی کے منصوبوں کی گنجایش بھی موجود رہی، لیکن اس کے باوجود نجی بجلی گھروں یعنی ’’آئی پی پیز‘‘ (IPPs) کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن کا مالی بوجھ آج بھی عوام اور قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اب ایک بار پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ اپنا کردار نئے انداز میں دہرا رہی ہے۔
آج پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے قدرتی وسائل پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہیں۔ خصوصاً شمسی توانائی کے میدان میں ملک کے پاس غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ دن کے اوقات میں سورج کی روشنی وافر مقدار میں دست یاب ہوتی ہے اور لاکھوں گھروں، کاروباری مراکز اور صنعتی یونٹوں نے سولر سسٹم نصب بھی کر رکھے ہیں۔ اس کے باوجود بجلی کی طلب، رسد اور لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات بہ دستور موجود ہیں۔
سب سے اہم سوال رات کے اوقات کا ہے۔ عام حالات میں رات کو بجلی کی طلب دن کے مقابلے میں کم ہونی چاہیے۔ دفاتر بند ہوچکے ہوتے ہیں، بہت سے کاروبار اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتے ہیں اور متعدد صنعتی یونٹ بھی دن کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر رات کے وقت بھی طویل لوڈشیڈنگ دیکھنے میں آئے، تو عوام یہ سوال کرنے میں حق بہ جانب ہیں کہ آخر اس کی حقیقی وجہ کیا ہے؟
کیا یہ واقعی بجلی کی کمی ہے؟
کیا مسئلہ پیداواری صلاحیت کا ہے؟
کیا ترسیلی نظام اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پا رہا… یا پھر بجلی کے شعبے میں کوئی ایسی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، جس کے اثرات عام صارف کو لوڈشیڈنگ کی صورت میں برداشت کرنا پڑ رہے ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہیں کہ مصنوعی یا غیر ضروری لوڈشیڈنگ کا ایک بہ راہِ راست نتیجہ متبادل توانائی کے آلات کی طرف عوام کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ جب شہری بار بار بجلی بند ہونے سے عاجز آتے ہیں، تو اُن کے پاس گھریلو سطح پر متبادل انتظام کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ چناں چہ سولر پلیٹ، بیٹریاں، انورٹر اور دیگر آلات کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی معاشی سوال پیدا ہوتا ہے: دنیا کا کون سا کاروباری ادارہ دانستہ طور پر اپنے صارفین کو ایسی صورتِ حال میں دھکیلنا چاہے گا، جہاں وہ اس کی بنیادی سروس سے دور ہو جائیں… اور کون سی حکومت مستقل بنیادوں پر ایسے اقدامات کرے گی، جن سے اس کے اپنے ٹیکس ریونیو کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو؟
اگر شہری بڑی تعداد میں اپنے گھروں اور کاروباروں کے لیے متبادل بجلی کا انتظام کرلیتے ہیں، تو مستقبل میں روایتی بجلی کی کھپت کم ہوسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے شعبے سے حاصل ہونے والے ٹیکس، سرچارج اور دیگر محصولات پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی اس ممکنہ نقصان کو نظر انداز کرسکتی ہے؟
یہاں کسی حتمی سازشی نتیجے پر پہنچنے کے بہ جائے حکومت سے شفاف جواب طلب کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اگر لوڈشیڈنگ ناگزیر ہے، تو اس کی وجوہات عوام کے سامنے واضح کی جائیں۔ اگر بجلی موجود ہے، لیکن ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث صارفین تک نہیں پہنچ رہی، تو اس نظام کی خامیوں کی تفصیلات جاری کی جائیں۔ اگر مہنگی بجلی کی پیداوار اور سستی بجلی کے ذرائع کے درمیان کوئی پالیسی تضاد موجود ہے، تو اسے بھی پارلیمان اور عوام کے سامنے لایا جائے۔
پاکستان کو ایسے توانائی نظام کی ضرورت ہے، جو عوام کو سستی، قابلِ اعتماد اور مسلسل بجلی فراہم کرے، نہ کہ ایسا نظام جس میں صارف پہلے مہنگے بل ادا کرے، پھر لوڈشیڈنگ برداشت کرے اور آخرِکار اپنی جیب سے متبادل بجلی کا انتظام کرنے پر مجبور ہوجائے۔
حکومت کو بتانا ہوگا کہ بجلی کی کمی کہاں ہے، بجلی کہاں پیدا ہو رہی ہے، کہاں ضائع ہو رہی ہے اور صارف تک پہنچنے سے پہلے اس کی قیمت کتنی بڑھ جاتی ہے؟
اگر بحران حقیقی ہے، تو اس کا حل بھی سامنے آنا چاہیے… اور اگر کہیں مصنوعی رکاوٹیں موجود ہیں، تو ان کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ عوام کو صرف یہ جاننے کا حق نہیں کہ بجلی کیوں بند ہے؛ انھیں یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ بجلی کے بحران کی قیمت آخر کون ادا کر رہا ہے اور اس بحران سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










