اخوند خیل قومی اتحاد کا مقصد

Blogger Ghufran Tajik

ہر قوم اپنی تاریخ، روایات، اقدار اور بزرگوں کی میراث سے پہچانی جاتی ہے۔ پشتون معاشرے میں ’’پختون ولی‘‘ بھی صدیوں سے ایک طرزِ زندگی کے طور پر موجود رہی ہے، جس نے پشتونوں کی اجتماعی زندگی، باہمی تعلقات اور معاشرتی رویوں کو ایک مخصوص رنگ دیا ہے۔ مہمان نوازی، سخاوت، وفاداری، وعدے کی پاس داری، بہادری، غیرت، مشاورت، بزرگوں کا احترام اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا ’’پختون ولی‘‘ کے نمایاں اوصاف ہیں۔
دوسری طرف اسلام محض ایک مذہبی شناخت نہیں، بل کہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو عدل، احسان، تقوا، رحم، امانت، دیانت، علم، صبر، شجاعت، اُخوت اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اور نیکی و تقوا کے کاموں میں باہمی تعاون کی تلقین کرتا ہے۔ یہاں سے اخوندخیلی کے تصور کی ابتدا ہوتی ہے۔
اخوندخیلی کسی ایک خاندان، نام یا نسب تک محدود تصور نہیں، بل کہ اسے ایک ایسے طرزِ فکر اور طرزِ زندگی کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے، جس میں پختونولی کی بہترین روایات اور اسلامی اخلاق و اقدار ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ جب پختون ولی اپنی اخلاقی بلندی کو پہنچے اور مسلمانی اپنے کردار کے کمال کو، تو اخوندخیلی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی اخوندخیلی کی بنیادی فکر ہے۔
اخوندخیلی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تاریخ سے جڑا رہے، اپنے بزرگوں کی اچھی روایات کو زندہ رکھے، اپنے کردار کو بلند کرے، علم کو اپنی طاقت بنائے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور اپنے معاشرے کی تعمیر میں اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔
اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی انسان کی فضیلت اُس کی قوم، زبان، خاندان یا علاقے کی وجہ سے نہیں، بل کہ اُس کے کردار اور تقوا سے ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ’’بے شک، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘
اس لیے اخوندخیلی میں اپنی شناخت سے محبت ضرور ہے، لیکن اُس محبت کے ساتھ دوسروں کا احترام بھی ہے؛ اپنی روایات سے وابستگی ضرور ہے، مگر عدل اور انسانیت کو بھی بنیادی مقام حاصل ہے۔
اخوندخیلی کا اصل حسن کردار میں ہے۔ ایک ایسا کردار جو وعدے کی پاس داری کرے، امانت میں خیانت نہ کرے، کم زور کا سہارا بنے، بزرگوں کا احترام کرے، نوجوانوں کی راہ نمائی کرے اور معاشرے میں خیر پھیلانے کی کوشش کرے۔
اس فکر میں علم کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے بزرگوں نے علم کو عزت دی اور اپنے زمانے میں تعلیم، دین، اصلاح اور معاشرتی راہ نمائی کے میدان میں کردار ادا کیا۔ آج ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اس علمی روایت کو آگے بڑھائیں۔ ہماری نئی نسل دینی شعور کے ساتھ جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق، ہنر اور پیشہ ورانہ میدانوں میں بھی آگے بڑھے۔
کیوں کہ آج کے دور میں قوموں کی ترقی صرف جذبات سے نہیں، بل کہ علم، کردار، نظم، محنت اور اجتماعی شعور سے ہوتی ہے۔
اخوندخیلی کا دوسرا اہم پہلو خدمتِ خلق ہے۔ اپنے لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا، ضرورت مند کا ہاتھ تھامنا، بیمار کی مدد کرنا، طالب علم کی حوصلہ افزائی کرنا، قدرتی آفات میں متاثرین کا ساتھ دینا اور معاشرے میں کسی بھی مُثبت کام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا اسی فکر کا عملی اظہار ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات میں بھی انسانوں کے لیے نفع بخش ہونے کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ چناں چہ اخوندخیلی کا دائرہ صرف اپنے خاندان یا اپنے لوگوں تک محدود نہیں رہتا، بل کہ اس کا آخری مقصد انسانیت کے لیے خیر اور فائدہ پیدا کرنا ہے۔
اسی طرح اخوندخیلی کا ایک بنیادی ستون اتحاد ہے۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ سب لوگ ایک جیسے ہو جائیں؛ بل کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلافات اور مختلف شناختوں کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور احترام کا رشتہ قائم رکھا جائے۔
ہم اپنی زبان، ثقافت اور علاقے سے محبت رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں۔ ہماری مختلف شناختیں ہماری خوب صورتی بن سکتی ہیں، اگر ہم اُنھیں تقسیم کے بہ جائے باہمی احترام اور تعاون کا ذریعہ بنائیں۔
اسی فکر کو اجتماعی شکل دینے کے لیے ’’اخوند خیل قومی اتحاد‘‘ ایک پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد اپنے بزرگوں کی اچھی روایات کو یاد کرنا ہی نہیں، بل کہ انھیں موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق عملی زندگی میں آگے بڑھانا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ اخوند خیل نوجوان اپنے ماضی سے واقف ہوں، اپنے بزرگوں کی علمی اور اخلاقی میراث کو سمجھیں، تعلیم حاصل کریں، اپنے کردار کو مضبوط بنائیں، معاشرے میں مُثبت قیادت کا کردار ادا کریں اور خدمتِ خلق کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اخوند خیل قومی اتحاد دراصل ماضی کی میراث اور مستقبل کی ضرورت کے درمیان ایک رابطہ بننے کی کوشش ہے۔ ہم اپنے بزرگوں کے نام پر فخر اُس وقت حقیقی معنوں میں کرسکتے ہیں، جب اُن کے اچھے اوصاف ہماری زندگی میں بھی نظر آئیں۔ اگر ہمارے بزرگ علم کے علم بردار تھے، تو ہمیں علم کا سفر جاری رکھنا ہوگا۔ اگر وہ لوگوں کی خدمت کرتے تھے، تو ہمیں خدمت کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔ اگر وہ لوگوں کو جوڑتے تھے، تو ہمیں بھی نفرت کے بہ جائے محبت اور اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی اخوندخیلی کا اصل پیغام ہے۔
اخوندخیلی نسب کا دعوا نہیں، کردار کی ذمے داری ہے۔ یہ صرف ماضی پر فخر نہیں، مستقبل کی تعمیر کا عزم ہے۔ یہ صرف شناخت نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ اخوندخیلی ایک ایسی سوچ بنے، جو نوجوان کو علم کی طرف لے جائے، انسان کو کردار کی طرف لے جائے، معاشرے کو خدمت کی طرف لے جائے اور قوم کو اتحاد کی طرف لے جائے۔ ہم اپنی جڑوں سے وابستہ رہیں، اپنے بزرگوں کی اچھی روایات کو زندہ رکھیں، اسلامی اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھیں۔ یہی پختون ولی کی خوب صورتی ہے، یہی مسلمانی کا حسن ہے اور یہی اخوندخیلی کی روح ہے۔
اخوندخیلی روایت سے کردار تک، کردار سے خدمت تک اور خدمت سے اجتماعی ترقی تک کا سفر ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے