معاشرے کی رگوں میں منشیات کا زہر اس تیزی سے اتر رہا ہے کہ اب یہ کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں، بل کہ پورے سماج کا بقائی مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر ’’آئس‘‘ نامی نشے نے تباہی کی جو داستان رقم کی ہے، اس نے ہمارے پُرسکون خاندانی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کبل میں پیش آنے والا وہ دل خراش واقعہ، جہاں ایک نوجوان بیٹے نے نشے کی حالت میں اپنے ہی باپ کو ابدی نیند سلا دیا اور پھر خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا، اس بھیانک حقیقت کا منھ بولتا ثبوت ہے کہ اب یہ عفریت ہمارے گھروں کے اندر تک پہنچ چکا ہے۔
مذکورہ الم ناک واقعے کے بعد ہر ذی شعور انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ نیز سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس زوال کی انتہا کہاں پر ہوگی؟
روایتی طور پر ہم ہمیشہ سے ہر برائی کے خاتمے کی تمام تر ذمے داری ریاست اور انتظامیہ پر عائد کرتے آئے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس وبا کو جڑ سے اکھاڑنے میں اب تک ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ انتظامی بے حسی یا وسائل کی کمی کے باعث جب ریاست کے ستون کم زور پڑ جائیں، تو پھر خاموش رہنا خود کُشی کے مترادف ہو جاتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ اب تاخیر کی بہ جائے عملی قدم اٹھایا جائے اور اس لڑائی کی باگ ڈور خود عوام اپنے ہاتھ میں لیں۔ جب تک معاشرہ خود اس ناسور کے خلاف مزاحمت کی دیوار نہیں بنتا، تب تک آنے والی نسلوں کو اس آگ سے محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔
اس اجتماعی جنگ کا سب سے پہلا محاذ ہمارا اپنا گھر اور محلہ ہے۔ ہمیں اپنے گھر کے اندر نوجوان نسل بالخصوص بچوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا ہوگی۔ اگر کوئی نوجوان بلاوجہ گھر سے غائب رہنے لگے، اس کے دوست بدل جائیں، راتوں کو جاگنے کی عادت بن جائے یا اُس کی طبیعت میں غیر معمولی چڑچڑاپن پیدا ہو جائے، تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ محلوں اور گلیوں کی سطح پر کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا جائے کہ منشیات کا کاروبار یا اس کی خرید و فروخت کرنے والے عناصر کے لیے اس علاقے میں کوئی گنجایش نہیں۔ ایسے عناصر کو سماجی طور پر مکمل بائیکاٹ کا سامنا ہونا چاہیے اور انھیں علاقہ بدر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں۔
صرف عارضی اقدامات سے اس ناسور پر قابو نہیں پایا جاسکتا، جب تک کہ نسلِ نو کی فکری اور اخلاقی تربیت کی بنیادیں مضبوط نہ کی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں اس کے تباہ کُن اثرات کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ پرائمری سے لے کر کالج کی سطح تک طلبہ شروع ہی سے اس زہر سے آگاہ ہوسکیں۔ اس کے علاوہ مساجد کے آئمہ کرام اور خطبا کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے اجتماعات میں اس موضوع پر کھل کر بات کریں، کیوں کہ دینِ اسلام کی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا پرچار اس شیطانی جال کو توڑنے میں سب سے بڑا ہتھ یار ثابت ہوسکتا ہے۔
اس طرح سول سوسائٹی کے تمام طبقات، اساتذہ، وکلا اور معززینِ شہر کو بھی اس مہم میں عملی طور پر آگے بڑھنا ہوگا، ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارا پورا سماج اس آگ کی لپیٹ میں آ کر راکھ ہوجائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










