جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

Blogger Fazal Manan Bazda

ریاست اور عوام کا رشتہ ماں اور بچوں جیسا ہوتا ہے۔ ہر ریاست چاہتی ہے کہ اپنے جغرافیائی حدود میں آباد رعایا کو زندگی کی وہ تمام سہولتیں فراہم کرے، جو اُن کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرسکیں… مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو ہر دور میں بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کا راج، امن و امان کی خرابی، سیاسی و معاشی عدم استحکام، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی، تو پیٹرول، ڈیزل اور بجلی مہنگی ہونے پر آسمان سر پر اُٹھا لیتی تھی، مگر آج حالات مختلف ہیں۔
گذشتہ حکومت میں جب فی بیرل قیمت 110 ڈالر تھی، پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول 150 روپے تھا۔ اپوزیشن اُس وقت حکومت پر بے جا مہنگائی کے الزامات لگاتی رہی۔ پہلے قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد ہوتا تھا، پھر ہفتہ وار، اور اب روزانہ کے حساب سے عوام کی چمڑی ادھیڑی جا رہی ہے۔ ایک لیٹر پر سو روپے بھتا الگ ہے۔ عوام کو کبھی دس پیسے کمی پر ریلیف کا دھوکا دیا جاتا ہے، تو کبھی بیس پیسے کی کمی پر… مگر حقیقت یہ ہے کہ قیمتوں کا تعین حکومت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
بجلی کے نرخوں میں دس قسم کے سلیبز، سرچارج، فیول ایڈجسٹمنٹ اور مختلف ٹیکس شامل ہیں۔ عوام کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ فی یونٹ قیمت 50 روپے ہے، 60 روپے ہے یا 70۔ یہ پیچیدگی عوامی اذیت کو بڑھا رہی ہے۔
گیس کے نرخ بھی مختلف سلیبز، فکس چارجز، میٹر کرایہ اور انکم ٹیکس کے ساتھ عوام پر بوجھ ہیں۔ ایک غریب صارف نے صرف ایک ہزار روپے کی گیس استعمال کی، مگر بل تین ہزار روپے سے زیادہ آیا۔ کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں…!
حکومت نے گیارہ مہینوں میں آئی پی پیز کو بارہ کھرب روپے ادا کیے، جب کہ سولہ ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں گئے۔ عوام کو ریلیف دینے کے بہ جائے سرمایہ داروں کو نوازا گیا۔
دوسری طرف مریم صفدر کو دیکھیں، جنھوں نے دعوا کیا کہ وہ پہلی خاتون ہیں، جو گرفتار ہوئیں، مگر وہ اُن بے شمار خواتین کو بھول گئیں، جنھوں نے آمریت کے ظلم سہتے ہوئے جمہوریت کی بہ حالی کے لیے قربانیاں دیں۔ آج بھی تحریکِ انصاف کی خواتین کارکنان جیلوں میں قید ہیں۔ ایمان مزاری کو ایک ٹویٹ پر سزا ہوئی اور رہائی کے بعد انھیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
توشہ خانہ سے تحائف لینے کی روایت ہر دور میں رہی۔ صدور، وزرا، گورنر، جج اور فوجی افسران نے تحائف اونے پونے خریدے، مگر کسی کے خلاف مقدمہ نہیں بنا۔ عمران خان نے 20 فی صد پر تحائف لیے، تو اُن کے خلاف مقدمات قائم ہوئے اور سزا سنائی گئی۔
عوام موجودہ حکومت سے کچھ نہیں مانگتے، بل کہ اُس سے جان چھڑانے کی دعائیں ہی مانگتے ہیں۔ کیوں کہ جو کام موجودہ حکومت کا حصہ لوگ پچھلی حکومت میں برا سمجھتے تھے (یوٹیلٹی بلز میں ناروا ٹیکس)، اُس سے کئی گنا برا کام اب خود کر رہے ہیں۔ بہ قولِ شاعر:
خرد کا جنوں پڑ گیا، جنون کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ  editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے