تجاوزات، مختصر مہم یا مستقل حکومتی پالیسی؟

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی کارروائی ایک اہم انتظامی اقدام ہے۔ مینگورہ شہر سمیت ضلع سوات کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ انتظامیہ کے اعلان کے مطابق یہ مہم ایک ماہ تک جاری رہے گی۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد سڑکوں، بازاروں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں کو ناجائز قبضوں سے پاک کرکے شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کرنا ہے۔ اگر حکومت واقعی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے، تو اس مہم کو محض ایک ماہ کی کارروائی تک محدود رکھنے کے بہ جائے مستقل حکومتی پالیسی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ تجاوزات کا مسئلہ آج پیدا نہیں ہوا، بل کہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران میں مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں سرکاری زمینوں، سڑکوں کے کناروں اور عوامی گزرگاہوں پر بہ تدریج قبضے ہوتے رہے ہیں۔ کہیں دکانیں سڑکوں تک پھیلا دی گئیں، کہیں گھروں کے دروازے اور دیواریں گزرگاہوں میں آگے بڑھا دی گئیں اور کہیں بااثر افراد نے سرکاری اراضی پر تعمیرات کھڑی کردیں۔ نتیجتاً سڑکیں سکڑتی گئیں، ٹریفک کے مسائل بڑھتے گئے اور عام شہریوں کے لیے آمد و رفت مشکل ہوتی چلی گئی۔
ایک ماہ میں پچھتر سال کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
اگر تجاوزات کے خلاف مہم کی مدت صرف ایک ماہ مقرر کی گئی ہے، تو یہ مدت کئی دہائیوں میں پھیلنے والے مسئلے کے مکمل حل کے لیے ناکافی ہوسکتی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کارروائی کی رفتار قانونی پیچیدگیوں، تعمیرات کی نوعیت، دست یاب وسائل اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے، لیکن پائیدار نتائج کے لیے سب سے زیادہ اہمیت مستقل مزاجی کی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ماہ کی مہم کو ابتدائی مرحلہ سمجھا جائے، جس کے بعد بھی نگرانی، قانونی کارروائی اور دوبارہ تجاوزات قائم ہونے کی روک تھام کا سلسلہ جاری رہے۔ حکومت واضح کرے کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں متعلقہ اداروں کی مستقل ذمے داری ہوں گی اور کسی کو دوبارہ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ماضی میں بھی مختلف ادوار کے دوران میں تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیے گئے، لیکن بعض مواقع پر سیاسی دباو، سفارشوں اور انتظامی مجبوریوں کے باعث ان کا تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔ کہیں تجاوزات ختم کی گئیں، مگر کچھ عرصے بعد انھی مقامات پر دوبارہ تعمیرات اور قبضے قائم ہوگئے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف سرکاری وسائل ضائع ہوئے، بل کہ قانون کے نفاذ پر عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اس مہم کو عارضی انتظامی سرگرمی کے بہ جائے مستقل اصلاحی عمل بنایا جائے۔
پنجاب کی مثال اور خیبر پختونخوا کے لیے ایک موقع:
اگر پنجاب حکومت تجاوزات کے خلاف اقدامات کے ذریعے بڑے شہروں، چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں کو خوب صورت، صاف ستھرا اور منظم بنانے کی کوشش کرسکتی ہے، تو خیبر پختونخوا میں ایسا کیوں ممکن نہیں؟ اگر نیت صاف، ارادے مضبوط اور حکمت عملی مستقل ہو، تو کوئی وجہ نہیں کہ خیبر پختونخوا کے شہر، قصبے اور دیہات بھی خوب صورتی، صفائی اور بہتر شہری نظم و نسق کی مثال نہ بن سکیں۔
خصوصاً ضلع سوات، جو اپنی سرسبز وادیوں، بلند پہاڑوں، دریاؤں اور دل کش قدرتی مناظر کے باعث منفرد شناخت رکھتا ہے، تجاوزات کے خاتمے اور بہتر شہری منصوبہ بندی کے ذریعے مزید خوب صورت بنایا جاسکتا ہے۔ مینگورہ شہر سمیت سوات کے دیگر علاقوں میں سڑکوں کی کشادگی، فٹ پاتھوں کی بہ حالی، بازاروں کی تنظیم، صفائی ستھرائی اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام نہ صرف مقامی آبادی کے لیے سہولت پیدا کرے گی، بل کہ سیاحوں کے لیے بھی خوش گوار ماحول فراہم کرے گی۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاحت کا فروغ صرف قدرتی حسن کا محتاج نہیں۔ صاف ستھرے شہر، کشادہ سڑکیں، منظم بازار، بہتر ٹریفک نظام، پارکنگ کی مناسب سہولتیں اور محفوظ ماحول بھی سیاحت کے بنیادی تقاضے ہیں۔ اگر سوات کے قدرتی حسن کو بہتر شہری منصوبہ بندی اور مؤثر انتظامی اقدامات کے ساتھ جوڑ دیا جائے، تو سیاحت کے فروغ، مقامی کاروبار کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
حکومتِ پنجاب سمیت دیگر علاقوں کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں بھی ایسی مستقل پالیسی اختیار کرسکتی ہے، جس کے تحت شہروں اور دیہات کی خوب صورتی برقرار رہے، تجاوزات دوبارہ قائم نہ ہوں اور شہری سہولتوں میں مسلسل بہتری آتی رہے۔ اصل کام یابی صرف تجاوزات ختم کرنے میں نہیں، بل کہ ایک ایسا نظام قائم کرنے میں ہے، جو مستقبل میں ان کے دوبارہ قیام کو روکے۔
بلاامتیاز کارروائی ہی اصل امتحان ہے:
تجاوزات کے خاتمے کے لیے سب سے بنیادی اصول قانون کی یک ساں عمل داری ہے۔ اگر کسی غریب دکان دار یا عام شہری کی غیر قانونی تعمیر ہٹائی جائے، لیکن کسی بااثر شخصیت کی تجاوزات کو نظر انداز کردیا جائے، تو ایسی کارروائی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکتی۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ کسی کا سیاسی اثر و رسوخ، مالی حیثیت، سرکاری عہدہ یا ذاتی تعلق قانون سے بالاتر ہونے کا جواز نہیں بن سکتا۔ انتظامیہ کو واضح اور شفاف معیار کے تحت کارروائی کرنی چاہیے، تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ ہو کہ تجاوزات کے خاتمے کے نام پر مخصوص افراد یا طبقات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
تاہم بلاامتیاز کارروائی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ قانونی ملکیت، متنازع زمین اور ثابت شدہ تجاوزات کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے۔ ہر معاملے میں زمین کے ریکارڈ، سرکاری حدود اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں فیصلہ ہونا چاہیے۔ جہاں ملکیت یا حدود کا حقیقی تنازع موجود ہو، وہاں متعلقہ فریق کو قانونی سماعت اور اپیل کا حق دیا جائے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ناجائز قبضہ ختم ہو، لیکن کسی جائز حق دار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
کارروائی سے پہلے پیمائش اور مناسب مہلت:
تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کرنے سے پہلے متعلقہ سڑکوں کی سرکاری حدود کا تعین اور باقاعدہ پیمایش ضروری ہے۔ جہاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی سڑکیں ہوں، وہاں اس کے متعلقہ قوانین اور مجاز ادارے کی منظور شدہ حدود کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اسی طرح صوبائی، ضلعی اور بلدیاتی سڑکوں کے لیے متعلقہ محکمے اپنی قانونی حدود واضح کریں۔
سڑکوں کی پیمایش اور نشان دہی کے بعد متاثرہ افراد کو تحریری نوٹس جاری کیے جائیں۔ جہاں قانون اجازت دیتا ہو، وہاں مناسب مہلت دی جائے، تاکہ لوگ اپنا سامان، دکانوں کے آگے رکھا ہوا مال اور دیگر قابلِ منتقلی اشیا خود ہٹا سکیں۔ مہلت کا تعین متعلقہ قانون، تعمیرات کی نوعیت اور مجاز ادارے کے فیصلے کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس طریقۂ کار سے انتظامیہ کو کارروائی میں آسانی ہوگی اور غیر ضروری تنازعات، مزاحمت اور عوامی مشکلات میں کمی آئے گی۔ واضح پیمایش اور تحریری نوٹس سے شہریوں کو بھی معلوم ہوگا کہ انھیں کس قانونی حد کی پابندی کرنی ہے۔
سرکاری اہلکاروں کا کردار بھی زیرِ تفتیش آئے:
تجاوزات کے مسئلے کا ایک اہم پہلو وہ سرکاری اہل کار ہیں، جن کی مبینہ غفلت، ملی بھگت یا غیر قانونی منظوریوں کے باعث سرکاری اراضی پر قبضے ممکن ہوئے۔ اگر گذشتہ ادوار میں کسی سرکاری زمین کی غیر قانونی منتقلی، انتقال، الاٹمنٹ یا تعمیرات کی منظوری کے معاملات سامنے آتے ہیں، تو صرف قبضہ ختم کردینا کافی نہیں ہوگا۔ ضروری ہے کہ ایسے معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال ہو، ذمے دار اہل کاروں کا تعین کیا جائے اور اگر کسی کے خلاف غیر قانونی اقدام، اختیارات کے ناجائز استعمال یا بدعنوانی کے شواہد ملیں، تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
کسی اہل کار کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا بھی درست نہیں۔ شواہد، ریکارڈ اور باقاعدہ قانونی کارروائی کے ذریعے ذمے داری متعین ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی بااثر شخص نے سرکاری اہل کاروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے ناجائز قبضہ حاصل کیا ہو، تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
احتساب صرف قبضہ کرنے والے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بل کہ غیر قانونی قبضے کو ممکن بنانے والے عناصر بھی جواب دہ ہوں۔ اگر تجاوزات کی اجازت دینے، غیر قانونی تعمیرات پر خاموشی اختیار کرنے یا ذاتی مفادات کے لیے سرکاری اختیارات استعمال کرنے والوں کو جواب دہ نہ بنایا گیا، تو مسئلہ دوبارہ جنم لیتا رہے گا۔
دوبارہ تجاوزات کی روک تھام کے لیے سخت قانون:
حکومت کو مستقبل میں تجاوزات کی روک تھام کے لیے واضح اور مؤثر قانونی نظام وضع کرنا چاہیے۔ سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر، سڑکوں کی حدود میں مداخلت اور بار بار تجاوزات قائم کرنے والوں کے لیے قانون کے مطابق جرمانوں، قید اور دیگر سزاؤں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جہاں کسی سرکاری اہل کار کی ملی بھگت ثابت ہو، وہاں اُس کے خلاف بھی متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
اس کے ساتھ ہر علاقے میں سرکاری اراضی کا ریکارڈ ڈیجیٹل کیا جائے، سڑکوں کی حدود کے نقشے محفوظ کیے جائیں اور متعلقہ محکموں کو باقاعدہ نگرانی کا پابند بنایا جائے۔ نئی تعمیرات کی اجازت منظور شدہ نقشے اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہو۔ نقشے یا اجازت نامے کے بغیر تعمیرات پر پابندی جہاں قانوناً لاگو ہوتی ہو، وہاں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے دوران میں کسی محکمے کی غفلت یا تاخیر کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ نہ ہو۔
کھمبے، اندرونی سڑکیں اور عوامی گزرگاہیں بھی توجہ کی مستحق:
تجاوزات کا مسئلہ صرف مین روڈ تک محدود نہیں۔ مینگورہ شہر سمیت ضلع سوات کے مختلف علاقوں میں اندرونی سڑکوں، گلی نما راستوں اور محلوں کی گزرگاہوں پر بھی تعمیرات، دکانوں کے پھیلاو اور گھروں کے باہر قائم رکاوٹوں کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کو ان مقامات پر بھی یک ساں توجہ دینی چاہیے۔
اسی طرح واپڈا اور دیگر سرکاری محکموں کے بجلی یا دوسرے کھمبے اگر سڑکوں کے درمیان یا آمد و رفت میں رکاوٹ بننے والی جگہوں پر نصب ہیں، تو متعلقہ اداروں کے تعاون سے اُن کی جانچ پڑتال کی جائے۔ جہاں کھمبوں کی منتقلی ضروری اور تکنیکی طور پر ممکن ہو، وہاں انھیں محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ اس عمل میں شہریوں کی سلامتی، بجلی کی فراہمی اور دیگر تکنیکی تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔
شہری سہولت کا حقیقی تصور یہی ہے کہ مین روڈ سے لے کر محلے کی آخری گلی تک عوام کو محفوظ اور آسان آمد و رفت میسر ہو۔ اگر کارروائی صرف بڑی سڑکوں تک محدود رہی اور اندرونی گزرگاہوں کو نظر انداز کردیا گیا، تو تجاوزات کے مکمل خاتمے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکے گا۔
تجاوزات کا خاتمہ اجتماعی ذمے داری ہے:
تجاوزات کے خلاف کام یاب مہم کے لیے صرف انتظامیہ کی کارروائی کافی نہیں، بل کہ شہریوں، تاجروں، دکان داروں، سیاسی نمایندوں اور متعلقہ محکموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو چاہیے کہ سرکاری زمین کو ذاتی ملکیت سمجھنے کے بہ جائے مشترکہ حق قرار دیں۔ دکان دار اپنی قانونی حدود میں رہیں، شہری سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سامان نہ پھیلائیں اور سیاسی نمایندے قانون کے نفاذ میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں۔
انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ کارروائی کے دوران میں شفافیت برقرار رکھے، شکایات کے ازالے کا مؤثر طریقہ فراہم کرے اور ہر علاقے میں یک ساں معیار اپنائے۔ کسی شہری کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ قانون صرف کم زور کے لیے ہے اور طاقت ور کے لیے اس میں کوئی رعایت موجود ہے۔
حکومت کے سامنے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا تجاوزات کے خلاف یہ مہم چند ہفتوں کی سرگرمی بن کر رہ جائے گی یا ایک ایسے مستقل نظام کی بنیاد رکھے گی، جس میں سرکاری زمین محفوظ، سڑکیں کشادہ، شہر خوب صورت اور شہری حقوق کا احترام یقینی ہو؟
اگر نیت صاف، ارادے مضبوط اور قانون کی عمل داری مستقل ہو، تو خیبر پختونخوا، خصوصاً سوات، نہ صرف اپنے قدرتی حسن کو بہتر طور پر محفوظ بنا سکتا ہے، بلکہ اپنی شہری خوبصورتی، عوامی سہولتوں اور سیاحتی امکانات میں بھی نمایاں بہتری لاسکتا ہے۔ یہی اس مہم کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے