تاریخ کے نام پر حقائق کی نئی تعبیر کیوں؟

Blogger Ghufran Tajik

تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بل کہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، تہذیبی شناخت اور فکری ورثے کا نام ہے۔ جب تاریخ کو تحقیق کے بہ جائے سیاسی نظریات، شخصی عقیدت اور گروہی مفادات کے تابع کردیا جائے، تو تاریخی حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ من پسند بیانیے لے لیتے ہیں۔
پشتون تاریخ میں پیر بابا، اخوند درویزہ بابا اور بایزید انصاری المعروف پیر روشان کے حوالے سے جاری بحث بھی اسی نوعیت کے کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ بالخصوص حالیہ برسوں میں بعض حلقوں کی جانب سے پیر روشان کو مغل اقتدار کے خلاف مزاحمت کی علامت، جب کہ پیر بابا اور اخوند درویزہ کو مغل حکم رانوں کے حامیوں کے طور پر پیش کرنے کا رجحان دیکھنے میں آتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقسیم مستند تاریخی شواہد پر قائم ہے، یا ماضی کے مذہبی اور فکری اختلافات کو موجودہ سیاسی تصورات کے مطابق نئی شکل دی جارہی ہے؟
پیر روشان کی تحریک: مذہبی اصلاح یا سیاسی مزاحمت؟
بایزید انصاری سولھویں صدی کی ایک اہم مذہبی اور فکری شخصیت تھے۔ اُن کی تعلیمات اور اُن سے وابستہ تحریک نے اُس دور کے مذہبی اور سماجی ماحول میں نمایاں اثرات مرتب کیے۔ بعد کے ادوار میں روشنائی تحریک کے پیروکاروں اور مغل اقتدار کے درمیان مسلح تصادم بھی ہوا… تاہم یہاں ایک اہم تاریخی فرق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی تحریک کا بعد میں کسی حکومت کے خلاف مسلح جد و جہد اختیار کرنا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ اُس تحریک کی ابتدا بھی انھی سیاسی مقاصد کے تحت ہوئی تھی۔
اگر پیر روشان کو ابتدا ہی سے مغل استعمار کے خلاف ایک منظم قومی آزادی کی تحریک کا بانی قرار دیا جاتا ہے، تو اس دعوے کے حق میں اُن کی اپنی تصانیف سے واضح اور مستند شواہد پیش کیے جانے چاہییں۔ اُن کی تحریروں میں مذہبی تعلیمات، روحانی تصورات اور فکری نظریات کو الگ سمجھنا ہوگا اور اُن کے بعد آنے والے پیروکاروں کی عسکری سرگرمیوں کا الگ تاریخی جائزہ لینا ہوگا۔
ماضی کی کسی مذہبی تحریک کو جدید قوم پرستی کے پیمانے پر پرکھنا تاریخی تحقیق کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اخوند درویزہ اور پیر روشان کے اختلافات کی حقیقت:
اخوند درویزہ بابا اور پیر روشان کے درمیان اختلافات کو سمجھنے کے لیے اُس دور کے مذہبی اور فکری ماحول کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اخوند درویزہ ایک مذہبی عالم اور مصنف تھے۔ اُنھوں نے پیر روشان کے بعض مذہبی نظریات کی مخالفت کی اور اُن کے خلاف علمی و مذہبی مؤقف اختیار کیا… لیکن کیا کسی مذہبی عالم کا دوسرے مذہبی مفکر سے اختلاف کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی بیرونی حکومت کا نمایندہ تھا؟
کیا عقائد اور مذہبی تعبیرات کے اختلاف کو لازماً سیاسی وفاداری اور قومی دشمنی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
اگر اخوند درویزہ نے پیر روشان کے مذہبی نظریات کو غلط سمجھا، تو اس اختلاف کو اُسی تاریخی اور مذہبی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اسے خود بہ خود مغل حکومت کی خدمت یا پشتونوں کی مخالفت قرار دینا ایک ایسا نتیجہ ہے، جس کے لیے الگ اور مضبوط شواہد درکار ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُس دور میں مذہبی، سماجی اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے متاثر ہوئے ہوں، لیکن اُن تعلقات کی نوعیت طے کرنا محقق کا کام ہے، کسی سیاسی مقرر کا نہیں۔
مغل حکمرانوں سے مراعات لینے کے الزامات:
پیر بابا اور اخوند درویزہ کے بارے میں بعض بیانیوں میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ مغل اقتدار کے قریب تھے اور اُنھوں نے حکم رانوں سے مراعات حاصل کیں۔ ایسے الزامات کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن ان کی صداقت کے لیے واضح ثبوت ضروری ہیں۔ اگر کسی شخصیت کو مغل حکومت کا سیاسی حامی، مالی مُراعات کا مستفید یا کسی تحریک کے خلاف سرکاری کردار ادا کرنے والا قرار دیا جاتا ہے، تو متعلقہ شاہی فرمان، تاریخی دستاویز، معاصر تحریر یا معتبر ماخذ پیش کیا جانا چاہیے۔
صرف یہ کہنا کہ ایک شخصیت نے مغل مخالف سمجھی جانے والی تحریک کی مخالفت کی، اس کے مغل نواز ہونے کا کافی ثبوت نہیں۔
اسی طرح کسی حکم ران کے ساتھ رابطہ یا تعلق ثابت ہوجانے سے بھی یہ ضروری نہیں کہ متعلقہ شخصیت کے تمام مذہبی اور سیاسی اقدامات اُسی حکومت کی ہدایات پر مبنی تھے۔
تاریخ میں ہر دعوے کی نوعیت، اُس کے پس منظر اور دست یاب شواہد کا الگ جائزہ لیا جاتا ہے۔
پیر بابا اور اخوند درویزہ کی حیثیت کو ایک تنازعے تک محدود نہ کیا جائے:
پیر بابا اور اخوند درویزہ بابا کا تعلق اس خطے کی مذہبی اور روحانی تاریخ سے ہے۔ مذکورہ شخصیات کے اثرات کو صرف پیر روشان کی مخالفت کے حوالے سے بیان کرنا اُن کے تاریخی کردار کا نامکمل تعارف ہوگا۔ اُن کی علمی، مذہبی اور سماجی خدمات کا جائزہ اُن کے اپنے زمانے کے حالات اور دست یاب تاریخی مواد کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سولھویں صدی کے معاشرے میں مذہبی رَہ نماؤں کا سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ آج کے معاشرے سے مختلف نوعیت رکھتا تھا۔ مذہبی اختلافات قبائلی تعلقات اور علاقائی سیاست پر اثر انداز ہوسکتے تھے۔ اس لیے کسی تاریخی شخصیت کے کردار کو صرف ایک واقعے، ایک اختلاف یا ایک مخالف کی تحریر سے اخذ کرنا مناسب نہیں۔
تاریخ میں ہیرو اور ولن بنانے کی سیاست:
موجودہ دور میں تاریخی شخصیات کو بعض اوقات جدید سیاسی نظریات کے مطابق دو متضاد خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک کو آزادی، مزاحمت اور قوم دوستی کی علامت بنایا جاتا ہے، جب کہ دوسرے کو بیرونی اقتدار کا حامی اور قومی مفادات کا مخالف قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں تاریخی پیچیدگیوں کے لیے بہت کم گنجایش رہ جاتی ہے۔
اگر کسی شخصیت کو ہیرو ثابت کرنے کے لیے دوسری شخصیت کی مذہبی، علمی اور سماجی حیثیت کو مسخ کرنا ضروری سمجھا جائے، تو یہ تحقیق نہیں، بل کہ ایک مخصوص بیانیے کی تشکیل ہے۔ یہی اُصول دوسری جانب بھی لاگو ہوتا ہے۔ پیر بابا یا اخوند درویزہ کی عقیدت میں پیر روشان کے حقیقی تاریخی کردار، اُن کی تصانیف یا اُن کے پیروکاروں کی سرگرمیوں سے انکار کرنا بھی علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔
تاریخ میں کسی شخصیت کے بعض اقدامات درست اور بعض متنازع ہوسکتے ہیں۔ اسے مکمل طور پر درست یا مکمل طور پر غلط ثابت کرنا محقق کی ذمے داری نہیں۔
پشتون تاریخ کسی مخصوص نظریے کی ملکیت نہیں:
پشتون خطے کی تاریخ میں مذہبی علما، صوفیا، قبائلی سرداروں، ادیبوں، مفکرین اور سیاسی رَہ نماؤں نے مختلف ادوار میں اپنے اپنے کردار ادا کیے ہیں۔ ان تمام شخصیات کو آج کے سیاسی اختلافات کا حصہ بنا دینا تاریخی شعور کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ خصوصاً جب کسی تاریخی شخصیت کے ساتھ ایک مخصوص خاندان، برادری یا قوم کی شناخت وابستہ ہو، تو اس کے خلاف غیر مستند الزامات اجتماعی کشیدگی کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔
اخوندخیل اور سادات سمیت تمام متعلقہ برادریوں کو اپنی تاریخ کے علمی تحفظ کے لیے سنجیدہ تحقیقی کام کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے فارسی، عربی، پشتو اور دیگر متعلقہ زبانوں میں موجود تاریخی مواد کا مطالعہ ضروری ہے۔ تاریخی شخصیات کے دفاع کا بہترین طریقہ جذباتی ردِ عمل نہیں، بل کہ اصل کتابوں، معتبر دستاویزات اور تحقیقی حوالوں کی بنیاد پر جواب دینا ہے۔
اصل سوالات جن کا جواب ضروری ہے:
پیر روشان کو مغل اقتدار کے خلاف مزاحمت کا اولین اور بنیادی علم بردار قرار دینے والے محققین کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اُن کی اپنی تحریروں میں اس سیاسی مؤقف کی کیا صورت ملتی ہے؟ اسی طرح پیر بابا اور اخوند درویزہ کو مغل حکم رانوں کا حامی قرار دینے والے حلقوں کو بتانا چاہیے کہ اُن کے پاس اس دعوے کے لیے کون سے معاصر تاریخی ثبوت موجود ہیں؟
یہ بھی تحقیق طلب ہے کہ ان شخصیات کے مذہبی اختلافات کس مرحلے پر سیاسی اور قبائلی کش مہ کش سے منسلک ہوئے، اور بعد کے مورخین نے ان واقعات کی تشریح کس طرح کی؟
سب سے بڑھ کر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا آج کی سیاسی ضروریات کے تحت صدیوں پرانے واقعات کو نئے معنی پہنائے جارہے ہیں؟
پیر بابا، اخوند درویزہ اور پیر روشان کے بارے میں تاریخی تحقیق کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ کسی شخصیت کو تنقید سے بالاتر قرار دینا بھی درست نہیں اور بنا ثبوت کے اُس کے کردار کو مشکوک بنانا بھی علمی دیانت کے خلاف ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مذہبی اختلاف، سیاسی مخالفت، قبائلی کش مہ کش اور بیرونی اقتدار سے تعلقات الگ الگ تاریخی موضوعات ہیں۔ انھیں ایک دوسرے کا مترادف سمجھ کر نتائج اخذ نہیں کیے جاسکتے۔ اگر پیر روشان کے حق میں تاریخی شواہد موجود ہیں، تو انھیں سامنے لایا جائے۔ اگر پیر بابا اور اخوند درویزہ کے خلاف کوئی مستند دستاویز موجود ہے، تو وہ بھی پیش کی جائے… لیکن محض قیاس آرائیوں، روایتی الزامات اور سیاسی تعبیرات کو قطعی تاریخ بنا کر پیش کرنے سے گریز ہونا چاہیے۔
کسی ایک شخصیت کو عظیم ثابت کرنے کے لیے دوسری شخصیت کو بدنام کرنا ضروری نہیں۔ تاریخ کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہر کردار کو اُس کے اپنے عہد، اپنے نظریات اور اپنے اعمال کی بنیاد پر جانچا جائے۔ ہمیں ایسی تاریخ نہیں چاہیے، جو ہماری سیاسی پسند و ناپسند کی تصدیق کرے، بل کہ ایسی تحقیق درکار ہے، جو ہمارے قائم کردہ تصورات کو بھی سوالات کی کسوٹی پر پرکھ سکے۔ تاریخ میں فیصلہ جذبات، عقیدت یا سیاسی نعروں سے نہیں، بل کہ مستند شواہد سے ہونا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے