’’تم مجھے خون دو، میں تمھیں آزادی دوں گا!‘‘
سبھاش چندر بوس برصغیر کی جد و جہدِ آزادی میں وہ کردار تھا، جس کے گرد جد و جہد، رومان، بغاوت اور جرات کی ایک ایسی داستان بنتی ہے، جو قاری کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ وہ صرف ایک سیاسی رَہ نما نہیں تھے، بل کہ ایک ایسے انقلابی ذہن کے مالک تھے، جس نے آزادی کو محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں، بل کہ ایک ہمہ گیر جنگ سمجھا۔ اُن کی زندگی میں ایسے موڑ آئے جن میں جَلا وطنی، قید، خفیہ سفر، عالمی سیاست کے پیچیدہ اتحاد اور مسلح جد و جہد سب شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم اُن کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے برصغیر کی تاریخ کا ایک پورا عہد فلم کی طرح ہمارے سامنے چل رہا ہو۔
1897 میں کٹک اڑیسہ میں پیدا ہونے والے بوس ایک متوسط مگر تعلیم یافتہ بنگالی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد ایک کام یاب وکیل تھے اور چاہتے تھے کہ اُن کا بیٹا انگریز حکومت کے اعلا انتظامی ڈھانچے میں شامل ہو۔ بوس نے تعلیم میں غیر معمولی کام یابی حاصل کی اور انگلستان جاکر انڈین سول سروس کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ اُس زمانے میں یہ نوکری برصغیر کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا خواب سمجھی جاتی تھی۔ یہ غلام ہندوستان کے لوگوں کو گویا ایک غلام سے آقا بنا دیتی تھی… مگر بوس کے اندر کچھ اور ہی آگ جل رہی تھی۔ اُنھوں نے مذکورہ نوکری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور برملا کہا کہ وہ اُس حکومت کی خدمت نہیں کرسکتے، جس نے ایک آزاد وطن کو غلام بنایا ہوا ہے۔
یہ فیصلہ صرف ایک ذاتی قدم نہیں تھا، بل کہ ایک علامت بن گیا۔ ایک نوجوان جس کے سامنے آسایش اور اقتدار کے دروازے کھلے تھے، اُس نے وہ سب کچھ ٹھکرا کر ایک ایسی جد و جہد کا راستہ اختیار کیا، جس میں قید، جَلا وطنی اور شاید موت بھی شامل تھی۔
ہندوستان واپس آنے کے بعد چندر بوس جلد ہی قومی سیاست میں اُبھرنے لگے۔ اُن کا تعلق انڈین نیشنل کانگریس سے ہوگیا، جو اُس زمانے میں آزادی کی سب سے بڑی سیاسی قوت تھی۔ ابتدا میں اُن کے تعلقات مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو جیسے رَہ نماؤں کے ساتھ خوش گوار تھے۔ چندر بوس، گاندھی کی شخصیت کا احترام کرتے تھے، لیکن جلد ہی نظریاتی اختلافات سامنے آنے لگے۔
گاندھی، عدمِ تشدد اور سیاسی مزاحمت کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کے حامی تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ اخلاقی قوت اور عوامی تحریک کے ذریعے برطانوی حکومت کو جھکایا جاسکتا ہے۔ چندر بوس اس سے متفق نہیں تھے۔ اُن کا ماننا تھا کہ سامراجی طاقتیں صرف اخلاقی اپیل سے پیچھے نہیں ہٹتیں۔ اُن کے نزدیک آزادی ایک ایسی جنگ تھی، جس میں سیاسی دباو کے ساتھ ساتھ عسکری طاقت بھی ضروری ہوسکتی ہے۔
یہ اختلاف وقت کے ساتھ شدید تر ہوتا چلا گیا۔ 1938 میں چندر بوس کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور اُنھوں نے آزادی کی جد و جہد کو زیادہ جارحانہ بنانے کی کوشش کی۔ اگلے سال دوبارہ صدر منتخب ہونے پر اُن کے اور مہاتما گاندھی کے حامیوں کے درمیان کھلی کش مہ کش شروع ہوگئی۔ آخرِکار چندر بوس کو استعفا دینا پڑا اور اُنھوں نے آل انڈیا فارورڈ بلاک قائم کیا، جس کا مقصد ایک انقلابی اور عوامی تحریک کو منظم کرنا تھا۔
اسی دوران میں چندر بوس کی سوچ میں سوشلسٹ اور مارکسی نظریات کا اثر بھی نمایاں ہونے لگا۔ وہ یورپ کے سیاسی نظریات کا مطالعہ کرچکے تھے اور اُنھیں یقین تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کو ایک ایسی ریاست بننا چاہیے، جو سماجی انصاف، معاشی برابری اور صنعتی ترقی پر مبنی ہو۔ چندر بوس خود کو خالص مارکسسٹ نہیں کہتے تھے، مگر وہ سرمایہ دارانہ استحصال کے سخت ناقد تھے اور ریاستی منصوبہ بندی، مزدوروں کے حقوق اور سماجی مساوات کے حامی تھے۔ اس حوالے سے اُن کی سوچ کسی حد تک کارل مارکس کے نظریات سے متاثر دکھائی دیتی ہے، اگرچہ وہ قوم پرستی اور سوشلسٹ منصوبہ بندی کے ایک منفرد امتزاج کے قائل تھے۔
برطانوی حکومت چندر بوس کو ایک خطرناک باغی سمجھتی تھی۔ اس لیے اُنھیں کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا اور قید میں رکھا گیا… لیکن اُن کی روح کو قید کرنا آسان نہ تھا۔ 1941 میں وہ برطانوی نگرانی سے ایک حیرت انگیز منصوبے کے تحت فرار ہوگئے۔ اُنھوں نے خفیہ طور پر ہندوستان چھوڑا اور طویل اور خطرناک سفر کے بعد افغانستان پہنچے۔ کابل میں اُنھوں نے کچھ عرصہ خفیہ زندگی گزاری اور پھر سوویت یونین تک پہنچنے کی کوشش کی۔
چندر بوس کو امید تھی کہ عالمی جنگ کے ماحول میں برطانیہ کے مخالف ممالک ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد میں مدد کریں گے۔ اسی سلسلے میں وہ یورپ پہنچے اور جرمنی میں سیاسی و سفارتی کوششیں شروع کیں۔ وہاں اُنھوں نے جرمن قیادت سے ملاقاتیں کیں اور ہندوستانی جنگی قیدیوں پر مشتمل ایک فوجی یونٹ بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران میں اُن کی ملاقات ہٹلر سے بھی ہوئی۔ چندر بوس کا مقصد نظریاتی اتحاد نہیں، بل کہ سیاسی فائدہ تھا اور برطانوی سامراج کو کم زور کرنا تھا۔ بعد ازاں وہ مشرقی ایشیا گئے، جہاں جاپان برطانوی اقتدار کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ وہاں اُنھوں نے انڈین نیشنل آرمی بنائی اور پھر اُس کو منظم کیا۔ اُسے آزاد ہند فوج کا نام دیا۔ آزاد ہند فوج میں ہندوستانی قیدیوں اور تارکینِ وطن کو شامل کیا گیا۔ بوس نے اعلان کیا کہ آزادی اب مذاکرات سے نہیں، بل کہ میدانِ جنگ سے حاصل کی جائے گی۔
اسی دوران میں اُنھوں نے آزاد ہند عبوری حکومت کے نام سے ایک عارضی حکومت بھی قائم کی۔ یہ حکومت علامتی طور پر ہندوستان کی آزادی کا اعلان تھی اور اس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہندوستانی قوم غلامی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
چندر بوس کی قوم پرستی مذہبی بنیادوں سے بالاتر تھی۔ اُن کے نزدیک ہندوستان ہندو، مسلم، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کا مشترکہ وطن تھا۔ آزاد ہند فوج میں مختلف مذاہب کے سپاہی شامل تھے اور وہ ایک ہی جھنڈے تلے لڑتے تھے۔ چندر بوس اکثر کہا کرتے تھے کہ آزادی کی جنگ مذہب کی نہیں، بل کہ قوم کی جنگ ہے۔
اسی تناظر میں اُن کے تعلقات محمد علی جناح کے ساتھ بھی دل چسپ رہے۔ چندر بوس، جناح کی سیاسی اہمیت کو سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ آزادی کی جد و جہد میں تمام سیاسی قوتیں متحد ہوں۔ اگرچہ وہ کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر افسوس کرتے تھے، مگر اُن کی خواہش تھی کہ ایک متحدہ جد و جہد کے ذریعے برطانوی اقتدار کو ختم کیا جائے۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں آزاد ہند فوج نے برما اور شمال مشرقی ہندوستان کے محاذوں پر لڑائی لڑی۔ اگرچہ یہ مہم بالآخر کام یاب نہ ہوسکی، لیکن اس نے برطانوی حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ جنگ کے بعد آزاد ہند فوج کے سپاہیوں کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔ مذکورہ مقدمات نے ہندوستان میں زبردست عوامی ردِ عمل پیدا کیا۔ دراصل ان مقدمات نے سلطنتِ برطانیہ سے اختلاف میں کئی گنا اضافہ کیا اور آزادی کی لہر پیدا کی۔
1945 میں جب جنگ اپنے آخری مرحلے میں تھی، تو چندر بوس مشرقی ایشیا سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران میں توہوکو جزیرہ جہاز تباہی کی خبر سامنے آئی۔ بتایا گیا کہ اُن کا طیارہ تائی پے تائیوان کے قریب گر کر تباہ ہوگیا اور وہ شدید زخمی ہونے کے بعد چل بسے۔ تاہم اُن کی موت کے بارے میں کئی دہائیوں تک قیاس آرائیاں جاری رہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ دعوا بھی کیا کہ وہ زندہ بچ گئے تھے۔
سبھاش چندر بوس کی زندگی ایک ایسی کہانی ہے، جو تاریخ کے صفحات سے نکل کر ایک زندہ روایت بن گئی ہے۔ وہ ایک ایسا خواب تھے، جو آزادی کے لیے جلتا رہا۔ ایک ایسا شخص جس نے اقتدار، آسایش اور ذاتی زندگی سب کچھ قربان کر دیا، تاکہ اس کی قوم غلامی سے آزاد ہوسکے۔
جب ہم چندر بوس کی زندگی کو دیکھتے ہیں، تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک انسان کس حد تک اپنے یقین کے لیے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اُن کی داستان ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ برصغیر کی آزادی صرف سیاسی مذاکرات کا نتیجہ نہیں تھی، بل کہ اس کے پیچھے ایسے بے شمار کردار تھے، جنھوں نے اپنی زندگیاں داو پر لگا دیں۔
سبھاش چندر بوس ان ہی کرداروں میں سے ایک ہیں… ایک ایسا کردار جو بغاوت، اُمید اور آزادی کے خواب کی علامت بن چکا ہے۔ اُن کی آواز آج بھی تاریخ کے کسی گوشے سے سنائی دیتی ہے: ’’تم مجھے خون دو، میں تمھیں آزادی دوں گا۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










