پاکستان میں غربت کی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ دعوا کیا جا رہا ہے کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مذکورہ آبادی کی یومیہ آمدن تین ڈالر سے بھی کم ہے۔ ایسے حالات میں پیٹرول پر فی لیٹر 120 روپے لیوی اور بجلی کے فی یونٹ تقریباً 50 روپے نرخ عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔
جب ایک عام شہری کی آمدن محدود ہو، مگر بجلی، پیٹرول اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اس کی قوتِ خرید کو مسلسل کم کرتی جائیں، تو اُس کے لیے باعزت زندگی گزارنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
تشویش ناک امر یہ بھی ہے کہ غربت میں اضافے کے حوالے سے رواں سال ایک کروڑ افراد کے غربت کی لکیر سے نیچے جانے اور آیندہ سال مزید ایک کروڑ افراد کے اس دائرے میں آنے کے اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ خدشات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ محض معاشی اعداد و شمار نہیں، بل کہ لاکھوں خاندانوں کے مستقبل، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور بنیادی ضروریات سے جڑا ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں عوام غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں، مگر سیاسی وابستگیاں اس قدر شدت اختیار کرچکی ہیں کہ لوگ اپنے سیاسی رَہ نماؤں کی حمایت میں ایک دوسرے کے خلاف مرنے مارنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ جن عوام کو اپنے بچوں کے مستقبل، روزگار، تعلیم، علاج اور دو وقت کی روٹی کے لیے جد و جہد کرنی چاہیے، اُن کی توانائیاں اکثر سیاسی محاذ آرائیوں کی نذر ہو جاتی ہیں۔
ملک کی ایک بڑی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہے۔ نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہیں اور غریب خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جد و جہد کر رہے ہیں، لیکن سیاسی بحثوں کا بڑا حصہ اقتدار کی کش مہ کش اور جماعتی مفادات کے گرد گھومتا رہتا ہے۔
دوسری جانب حکم ران طبقہ اقتدار کی کش مہ کش، کرسی کے تحفظ اور سیاسی مفادات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہے، یا عوام کو بہتر زندگی فراہم کرنا بھی حکم رانوں کی ذمے داری ہے؟
حکومت کی معاشی پالیسیوں کا اصل امتحان صرف محصولات جمع کرنا یا بجٹ خسارہ کم کرنا نہیں، بل کہ عوام کو ریلیف دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کم آمدن والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ اگر معاشی استحکام کے نام پر غریب شہری کی زندگی مزید دشوار ہوتی جائے، تو پالیسیوں کے طریقۂ کار اور ان کے سماجی اثرات پر سنجیدہ نظرِ ثانی ناگزیر ہوجاتی ہے۔
ہمارے سیاسی رَہ نما اپنے بچوں کی تعلیم، مستقبل، آسایشوں اور بہتر معیارِ زندگی کے لیے فکرمند رہتے ہیں، لیکن یہی فکر جب ملک کے عام شہریوں کے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے نظر نہیں آتی، تو ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا اس ملک کے غریب بچوں کو بھی معیاری تعلیم، بہتر روزگار اور باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں… کیا پاکستان صرف صاحبِ اقتدار اور صاحبِ ثروت طبقے کے لیے ہے، یا اس ملک کے ہر شہری کو بھی مساوی مواقع ملنے چاہییں؟
حکم رانوں کے طرزِ زندگی، سرکاری وسائل کے استعمال، معاشی پالیسیوں اور عوامی ترجیحات سے متعلق فیصلوں کو اسی تناظر میں پرکھنا ضروری ہے۔ سیاسی قیادت کی اصل کام یابی محلات، پروٹوکول اور ذاتی آسایشوں میں نہیں، بل کہ اس بات میں ہے کہ اس کے دورِ اقتدار میں عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی، غربت میں کتنی کمی آئی، تعلیم اور صحت کی سہولتیں کتنی بہتر ہوئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے کتنے بہتر مواقع پیدا کیے گئے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی اور بجلی کے نرخوں پر نظرِ ثانی کرے، کم آمدن والے طبقے کے لیے مؤثر ریلیف فراہم کرے اور ایسی معاشی حکمتِ عملی اپنائے، جس میں ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ کم زور طبقات پر غیر متناسب طور پر نہ پڑے۔ اس کے ساتھ عوام کو بھی شخصیت پرستی اور اندھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنے نمایندوں سے سوال کرنا ہوگا، اُن کی کارکردگی کا احتساب کرنا ہوگا اور سیاست کو ذاتی وفاداری کے بہ جائے عوامی خدمت کے پیمانے پر پرکھنا ہوگا۔
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام اپنے سیاسی رَہ نماؤں کے لیے لڑنے کو تیار ہیں، لیکن عوام کے اپنے بنیادی حقوق اور معاشی مستقبل اکثر سیاسی بحث کا ثانوی موضوع بن جاتے ہیں۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا اور عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈال دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اور رَہ نما عوام کے لیے ہوتے ہیں، عوام سیاسی رَہ نماؤں کے ذاتی مفادات کے لیے نہیں۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عوام صرف ووٹ دینے، نعرے لگانے اور سیاسی جد و جہد میں استعمال ہونے کے لیے نہیں، بل کہ عزت، تحفظ، روزگار اور بہتر زندگی گزارنے کے پورے حق دار ہیں۔ جس سیاست میں عوام کی زندگی بہتر بنانے کی فکر شامل نہ ہو، اُس کی ترجیحات پر سوال اُٹھانا ہر باشعور شہری کا حق ہے۔ ریاست کی معاشی کام یابی کا حقیقی پیمانہ صرف سرکاری خزانے میں جمع ہونے والا سرمایہ نہیں، بل کہ یہ ہے کہ اُس کے شہری کس قدر آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ سوال حکم رانوں سے بھی ہے اور عوام سے بھی: اگر سیاسی قیادت اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند ہے، تو ملک کے کروڑوں عام شہریوں کے بچوں کا مستقبل کس کی ذمے داری ہے؟ اقتدار عارضی ہے، سیاسی عہدے بدلتے رہتے ہیں، لیکن آج کیے گئے فیصلوں کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست کا محور کرسی، مفاد اور اقتدار کے بہ جائے عوام، معیشت اور قومی مستقبل کو بنایا جائے۔ کیوں کہ غریب بچے بھی اسی پاکستان کے شہری ہیں؛ اُنھیں بھی خواب دیکھنے، تعلیم حاصل کرنے، روزگار پانے اور باعزت زندگی گزارنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے، جتنا کسی حکم ران کے بچے کو۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










