تاریخ کا فیصلہ

Blogger Fazal Manan Bazda

آج پاکستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے، شاید ہمارے مقتدر حلقوں اور طبقۂ اشرافیہ نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اگر سیکھا ہوتا، تو آج پاکستان ہمیں اس دوراہے پر کھڑا نظر نہ آتا۔
ایتھنز کے سقراط نے جب زہر کا پیالہ پیا، تو وہاں کے حکم رانوں نے سکھ کا سانس لیا کہ نوجوانوں کو گم راہ کرنے والا شخص بالآخر جہنم رسید ہوا۔ بہ ظاہر تو یونان کی اشرافیہ جیت گئی اور سقراط کی دانش ہار گئی، مگر وقت گزرتا گیا۔
انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ اول نے اسکاٹ لینڈ کی جنگِ آزادی لڑنے والے ولیم والس کو گرفتار کیا اور اُس پر غداری کا مقدمہ قائم کیا۔ ولیم والس کو برہنہ کرکے گھوڑوں کے ساتھ باندھ کر لندن کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر ناقابلِ بیان تشدد کے بعد پھانسی دے کر اُس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔ اُس وقت بادشاہ جیتا اور ولیم والس ہار گیا، مگر وقت کا سفر جاری رہا۔
گلیلیو کا کہنا تھا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں، جب کہ یہ تصور کیتھولک عقائد کی خلاف ورزی سمجھا جاتا تھا۔ چرچ نے گلیلیو پر کفر کا فتوا لگا کر اُسے غیر معینہ مدت کے لیے قید کر دیا۔ 1633ء میں سنائی گئی سزا کے بعد گلیلیو نے 1642ء میں اپنے گھر میں وفات پائی۔ پادری جیت گئے اور سائنس ہار گئی، مگر وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔
چرچ کے عقائد سے انحراف پر جیورڈانو برونو کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔ برونو نے اپنے دفاع میں کہا کہ اُس کی تحقیق عیسائیت کے عقیدۂ خدا اور اُس کی تخلیق سے متصادم نہیں، مگر اُس کی ایک نہ سنی گئی۔ اُسے اپنے نظریات سے توبہ کرنے کا کہا گیا، لیکن اُس نے انکار کر دیا۔ پوپ نے اُسے کافر قرار دے دیا۔ 8 فروری 1600ء کو جب فیصلہ سنایا گیا، تو برونو نے ایک تاریخی جملہ کہا: ’’مَیں یہ فیصلہ سنتے ہوئے اتنا خوف زدہ نہیں ہوں، جتنا تم یہ فیصلہ سناتے ہوئے خوف زدہ ہو!‘‘
برونو کی زبان کاٹ دی گئی اور اُسے زندہ جلا دیا گیا۔ یوں بہ ظاہر پوپ جیت گیا، برونو ہار گیا، مگر وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا۔
جب حجاج بن یوسف خانۂ کعبہ پر سنگ باری کر رہے تھے، تو اُس وقت حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی۔ اُنھیں مسلسل ہتھیار ڈالنے کے پیغامات موصول ہوتے رہے، مگر اُنھوں نے انکار کر دیا۔ جب حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اپنی والدہ سے مشورہ کیا، تو والدہ نے جواب دیا کہ اہلِ حق اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اُن کے پاس کتنے مددگار اور ساتھی ہیں۔ جاؤ، تنہا لڑو اور اطاعت کا تصور بھی دل میں نہ لانا۔
یوں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے ظالم حجاج بن یوسف کا مقابلہ کیا اور شہید ہوگئے۔ حجاج نے آپ کا سر کاٹ کر خلیفہ عبدالملک کو بھیجا اور آپ کی لاش لٹکا دی۔ بعد ازاں وہ آپ کی والدہ، حضرت اسماءؓ، کے پاس پہنچا اور کہا کہ تم نے اپنے بیٹے کا انجام دیکھ لیا۔ انھوں نے جواب دیا: ’’ہاں، تو نے اُس کی دنیا خراب کر دی اور اُس نے تیری عاقبت (آخرت) بگاڑ دی۔‘‘
حجاج بہ ظاہر جیت گیا اور ابن زبیرؓ ہار گئے… لیکن وقت کا پہیا نہ رُکا۔
ابنِ رشد کو 823 سال پہلے ہسپانیہ کے حاکم منصور بن یعقوب نے محض اس لیے جَلاوطن کر دیا تھا کہ اُنھوں نے حاکم کو ’’بربروں کا بادشاہ‘‘ لکھا تھا۔ منصور کو یہ بھی بتایا گیا کہ ابنِ رشد اپنے فلسفے کی وجہ سے ملحد اور بے دین ہوچکے ہیں۔ چناں چہ تاریخی مسجدِ قرطبہ میں دربار منعقد کیا گیا۔ ابنِ رشد اپنے تمام شاگردوں کے ساتھ حاضر تھے، جب کہ تمام فقہا و علما بھی شریک تھے۔ جج ابو محمد علی نے بادشاہ کی اجازت سے اعلان کیا کہ ابنِ رشد ملحد اور بے دین ہوگئے ہیں، چناں چہ اُنھیں سزا سناتے ہوئے یہودیوں کی بستی بوسنیا جَلاوطن کر دیا گیا۔
یوں بہ ظاہر منصور بن یعقوب جیت گیا اور ابنِ رشد ہار گئے… مگر وقت گزرتا رہا۔
ابو جعفر منصور نے کئی مرتبہ امام ابو حنیفہؒ کو قاضی القضاۃ بننے کی پیش کش کی، مگر آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا۔ ابو جعفر منصور نے اُنھیں بغداد میں دیواریں بنانے کے کام کی نگرانی اور اینٹیں گننے پر مامور کر دیا، جس کا مقصد امام ابو حنیفہؒ کی تذلیل تھا۔ بعد ازاں منصور نے اُنھیں کوڑے مار کر قید میں ڈال دیا اور زہر دے کر شہید کر دیا۔
اس طرح بہ ظاہر منصور جیت گیا اور امام ابو حنیفہؒ ہار گئے… مگر وقت کا کام گزرنا تھا، گزرتا رہا۔
جنرل یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمان کو سکیورٹی رسک اور غدار سمجھتے رہے اور اُنھیں قید کیا گیا۔ وہ سمجھے کہ مجیب ہار گیا، لیکن وقت گزرتا رہا۔ اسی طرح جنرل ضیاء الحق، بھٹو کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے رہے، اُنھیں پھانسی تک پر چڑھا دیا اور سمجھا کہ وہ جیت گئے… مگر وقت پھر بھی گزرتا رہا۔
جنرل مشرف نے اکبر بگٹی کو غدارِ وطن گردانتے ہوئے شہید کر دیا۔ اُن کے خیال میں بے نظیر بھٹو سے بھی اُنھیں خطرہ تھا، اس لیے اُنھیں بھی شہید کر دیا گیا۔ مشرف سمجھے کہ وہ جیت گئے… مگر آج اُس کا نام لیوا کوئی نہیں۔
قارئین! تاریخ میں اس نوعیت کے اور بھی بہت سے واقعات موجود ہیں، جن سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے، مگر ہم نے نہیں سیکھا۔
تاریخی واقعات عقل مندوں کے لیے کھلی نشانیاں ہوتے ہیں، کیوں کہ تاریخ میں ہار اور جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یونان کی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقت ور تھی، مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ سقراط کا سچ زیادہ طاقت ور تھا۔ ولیم والس کی دردناک موت کے بعد تو اُس کا نام لیوا بھی باقی نہیں رہنا چاہیے تھا، مگر آج ایبرڈین سے لے کر ایڈنبرا تک ولیم والس کے مجسمے اور یادگاریں موجود ہیں اور ولیم تاریخ میں امر ہوگیا۔
رومن کیتھولک چرچ نے ساڑھے تین سو سال بعد تسلیم کیا کہ گلیلیو درست تھا اور گلیلیو پر لگائے گئے کفر کے تمام فتوے واپس لے لیے۔ برونو کو زندہ جلانے والے بھی بالآخر یہ مان گئے کہ برونو کا علم اور نظریہ درست تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ شجاعت اور دلیری کا استعارہ بن گئے، جب کہ حجاج بن یوسف تاریخ کے کٹہرے میں ہار چکے۔ ابنِ رشد کا فلسفہ ختم نہیں ہوا، بل کہ آج بھی جاری ہے۔ اسی لیے تاریخ میں منصور بن یعقوب ہار گئے۔ امام ابو حنیفہؒ تاریخ کے اوراق میں فاتح اور خلیفہ ابوجعفر منصور شکست خوردہ ثابت ہوئے۔
موجودہ تاریخ میں مجیب الرحمان ہارے نہیں، بل کہ جیت چکے ہیں۔ اس طرح جنرل ضیاء الحق کا نام لیوا کوئی نہیں، جب کہ بھٹو کے لاکھوں نام لیوا ہیں۔ بھٹو کو 40 سال بعد انصاف اس شکل میں ملا کہ اُنھیں ’’فیئر ٹرائل‘‘ کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ اس طرح جنرل مشرف کو دیکھیں وہ آج گم نام ہیں، جب کہ اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کا نام شہدا کی فہرست میں شامل ہوکر امر ہوگیا ہے۔
آج حکم ران اور اشرافیہ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بہ جائے عمران خان کو راستے سے ہٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر خدا نہ خواستہ ایسا ہوا، تو حکم ران اور اشرافیہ یاد رکھیں کہ تاریخ میں عمران خان فاتح اور آپ ہارے ہوئے ہوں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ  editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے