کبھی کبھی معاشرے میں پیش آنے والے کچھ واقعات انسان کو اندر تک ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے اردگرد ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو معصوم بچوں کے ساتھ اس حد تک ظلم کرسکتے ہیں۔ ایسے واقعات صرف متاثرہ بچے اور اُس کے خاندان ہی کو نہیں توڑتے، بل کہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دِہ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایسے جرائم میں ملوث افراد خود بھی کم عمر ہوتے ہیں، جو ہمیں بچوں کی تربیت، گھریلو ماحول اور معاشرتی ذمے داریوں پر سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
سوات میں پچھلے مہینے جنسی ہراسانی اور اُس کی ویڈیو بنانے کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا، جس نے پورے علاقے کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ابھی لوگ اُس واقعے کو بھول بھی نہیں پائے تھے کہ ایک اور افسوس ناک معاملہ سامنے آیا۔ اس بار نشانہ ایک 11 سالہ معصوم بچہ بنا، جسے مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کے ساتھ اُس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ اُسی ویڈیو کو بنیاد بنا کر تقریباً 2 ماہ تک بچے کو ڈرایا دھمکایا گیا، ذہنی اذیت دی گئی اور مسلسل بلیک میل کیا جاتا رہا۔ یہ سوچ کر ہی انسان کانپ اٹھتا ہے کہ ایک کم عمر بچہ اتنے عرصے تک کس خوف اور کرب میں مبتلا رہا ہوگا… اور وہ کس کیفیت سے گزرتا رہا ہوگا جب اُسے کسی کو بتانے تک سے بھی ڈرایا جا رہا تھا۔
اس مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں پیشی کے دوران میں میری نظر اُن کم عمر ملزمان پر پڑی، جن کی عمریں بہ ظاہر 15 سے 17 برس کے درمیان معلوم ہوتی تھیں۔ یہ منظر میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ گیا۔ یہ بچے اس مقام تک کیسے پہنچے؟
ان کی تربیت میں کہاں خلا رہ گیا؟
کیا گھر، اسکول اور معاشرہ انھیں دوسروں کی عزت، جسمانی حدود اور انسانی احترام کا شعور دینے میں ناکام رہے؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کا جواب کسی جرم کو معمولی قرار نہیں دے سکتا۔ متاثرہ بچے کو انصاف اور تحفظ ملنا چاہیے، جب کہ کم عمر ملزمان کے معاملات میں قانون کے مطابق جواب دہی کے ساتھ اصلاح اور بہ حالی کے پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے میری اُس علاقے کے ایک بااثر شخص سے گفت گو ہوئی۔ اُس نے بتایا کہ وہ دو دن تک متاثرہ بچے کے خاندان کو صلح اور معافی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ بات سن کر میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوا کہ کیا ایسے واقعات کو بھی خاندانی معاملہ سمجھ کر صلح کے ذریعے ختم کر دینا چاہیے؟ بچے کے ساتھ جنسی استحصال کوئی معمولی تنازع نہیں، نہ ایسا معاملہ ہی ہے جسے عزت، تعلقات یا اثر و رسوخ کے نام پر خاموشی سے دبا دیا جائے۔ متاثرہ بچے کو تحفظ، طبی اور نفسیاتی مدد اور انصاف درکار ہوتا ہے۔ اگر خاندان پر دباو ڈال کر معاملہ ختم کرایا جائے، تو نہ صرف بچے کے حقِ انصاف کو نقصان پہنچتا ہے، بل کہ معاشرے میں یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ طاقت ور افراد ایسے جرائم سے بچ سکتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف سوات یا کسی ایک خاندان تک محدود نہیں۔ ساحل کی رپورٹ Cruel Numbers 2025 کے مطابق پاکستان میں بچوں کے خلاف 3,630 واقعات رپورٹ ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً 9 سے زیادہ واقعات۔ رپورٹ میں لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کے متاثر ہونے کی بھی بڑی تعداد سامنے آئی۔ یہ اعداد و شمار انتہائی تشویش ناک ہیں، مگر حقیقت شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، کیوں کہ بہت سے واقعات بدنامی کے خوف، خاندانی دباو، دھمکیوں اور انصاف کے نظام پر عدم اعتماد کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ کئی بچے خاموش رہنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں اور کئی خاندان معاشرتی ردِعمل کے خوف سے شکایت درج نہیں کراتے۔
بچوں کو نشانہ بنانے کے طریقے بھی بدل رہے ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے بعض افراد بچوں سے رابطہ قائم کرتے، اعتماد حاصل کرتے اور پھر تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے اُنھیں بلیک میل کرتے ہیں۔ آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے صرف موبائل فون چھین لینا کافی نہیں۔ والدین کو بچوں کے آن لائن رابطوں، اُن کی سرگرمیوں اور رویّوں میں اچانک آنے والی تبدیلیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ بچے کو یہ اعتماد بھی ہونا چاہیے کہ اگر کوئی اُسے نامناسب پیغام بھیجے، تصویر مانگے، ڈرائے یا کسی راز کو چھپانے پر مجبور کرے، تو وہ بلا خوف اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد بالغ کو بتا سکتا ہے۔
بچوں کو اپنے جسمانی حدود کے بارے میں بھی عمر کے مطابق سادہ اور واضح انداز میں آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اُنھیں سمجھایا جائے کہ کسی کو بھی اُنھیں نامناسب انداز میں چھونے، ڈرانے یا ایسی بات پر مجبور کرنے کا حق نہیں۔ اگر کوئی ایسا کرے، تو بچے کو خاموش رہنے یا خود کو قصوروار سمجھنے کے بہ جائے فوراً مدد طلب کرنی چاہیے۔ والدین کو بچے کی بات تحمل سے سننی چاہیے، اُسے ڈانٹنا یا الزام نہیں دینا چاہیے، اور نہ بار بار واقعہ بیان کرنے پر مجبور ہی کرنا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ رشتے داری، واقفیت یا کسی شخص کا بااثر اور معزز ہونا خود بہ خود اُسے محفوظ نہیں بنا دیتا۔ بچوں کی حفاظت کے لیے اعتماد کے ساتھ مناسب نگرانی اور واضح حدود بھی ضروری ہیں۔
اگر کسی بچے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آئے، تو سب سے پہلے اُس کی حفاظت، طبی مدد اور ذہنی آسودگی کو ترجیح دی جائے۔ بچے کی شناخت اور نجی زندگی کا تحفظ کیا جائے، اور واقعے سے متعلق تصاویر یا ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر پھیلانے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ دست یاب شواہد محفوظ رکھ کر متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے ہیلپ لائن 1098 اور متعلقہ پولیس یا سائبر کرائم اداروں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ خاموشی مجرم کو فائدہ دیتی ہے، جب کہ ذمے دارانہ رپورٹنگ بچے کے تحفظ اور انصاف کی طرف پہلا قدم ہے۔
یہ ذمے داری صرف والدین تک محدود نہیں۔ تعلیمی اداروں کو بھی بچوں کو ذاتی حدود، محفوظ اور غیر محفوظ رویّوں اور مدد حاصل کرنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا چاہیے۔ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ ایسا ماحول فراہم کریں، جہاں بچہ خوف کے بغیر اپنی شکایت بیان کرسکے اور اُس کی بات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اسی طرح لڑکوں کی تربیت میں احترام، رضامندی اور دوسروں کی حدود کا خیال رکھنے کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔ بچوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ وہ خود کو کیسے محفوظ رکھیں…؟ اُنھیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ وہ دوسروں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔
سوات کا یہ واقعہ ہمیں ایک تلخ حقیقت یاد دلاتا ہے کہ بچوں کا تحفظ صرف قانون یا کسی ایک ادارے کی ذمے داری نہیں، بل کہ گھر، اسکول، معاشرے اور ریاست سب کا مشترکہ فرض ہے۔ ہمیں ایسے ماحول کی ضرورت ہے، جہاں بچے خوف کے بہ جائے اعتماد کے ساتھ اپنی بات کَہ سکیں، جہاں خاندان عزت کے نام پر خاموشی اختیار نہ کریں، جہاں بااثر افراد قانون سے بالاتر نہ ہوں، اور جہاں کسی بچے کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو چھپانے کے بہ جائے اس کے لیے انصاف کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہ واقعہ صرف ایک 11 سالہ بچے کا مسئلہ نہیں، یہ ہم سب کے لیے ایک انتباہ ہے۔ آج اگر ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو کل کسی اور گھر کا بچہ اس ظلم کا شکار ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ 15، 16 اور 17 سال کی عمر کے لڑکے آخر کس ماحول اور کس تربیت کے نتیجے میں ایسے سنگین جرائم تک پہنچ رہے ہیں؟
اُن کے والدین، تعلیمی ادارے، اساتذہ اور معاشرہ کہاں تھے؟
بچوں کو صرف تعلیم دینا کافی نہیں، اُنھیں انسانیت، احترام، اخلاقی حدود اور دوسروں کی عزت کرنا بھی سکھانا ہوگا۔
بچوں کی حفاظت صرف اُنھیں نصیحتیں کرنے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے والدین کی توجہ، معاشرے کی بیداری، اداروں کی ذمے داری اور قانون کی غیر جانب دار عمل داری ضروری ہے۔ اگر ہم آج بھی ایسے واقعات کو خاموشی، صلح یا بدنامی کے خوف میں دبا دیں گے، تو کل کسی اور معصوم بچے کو اسی اذیت سے گزرنا پڑسکتا ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو اپنی حفاظت کرنا سکھا رہے ہیں، اور ساتھ ہی اُنھیں دوسروں کی عزت، حدود اور معصومیت کا پاس رکھنا بھی؟
کیا ہماری تربیت اُنھیں ایسا انسان بنا رہی ہے، جس سے کوئی بچہ خوف زدہ نہیں، بل کہ محفوظ محسوس کرے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










