تحریک انصاف کی سیاسی غلطیاں

Blogger Fazal Manan Bazda

پاکستان تحریک انصاف کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہ ایسی سیاسی جماعت نہ بن سکی، یا یوں کہیے کہ نہ بن پائی، جیسی ایک حقیقی سیاسی جماعت کی ساخت اور عمارت ہونی چاہیے۔ نہ اسے جمہوری طریقے سے چلایا گیا اور نہ آج اسے جمہوری انداز میں چلایا ہی جا رہا ہے۔ تحریکِ انصاف کی سیاست عمران خان کے گرد گھومتی تھی اور آج بھی اُسی محور کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ جس کسی نے عمران خان کی قربت حاصل کرلی، وہ تحریکِ انصاف میں مختارِ کل بن گیا۔ ہر سیاسی جماعت میں ایسے لوگ اور درباری موجود ہوتے ہیں، جو اپنے مخالفین کے خلاف پارٹی سربراہ کے کان بھرتے رہتے ہیں، لیکن عقل و بصیرت رکھنے والا سربراہ کسی کے کہنے پر فوری طور پر فیصلہ صادر نہیں کرتا، بل کہ سوچ بچار اور تحقیق کے بعد ہی کوئی قدم اٹھاتا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان میں یہ سیاسی بصیرت بہت کم پائی گئی۔
عمران خان کی پہلی بڑی غلطی 2018ء کے انتخابات میں کام یابی کے بعد خود وزیرِ اعظم بن بیٹھنا، نگرانی کرنا اور تمام فیصلے اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر انتظامی خرابی بہ راہِ راست اُن کے دروازے پر دستک دینے لگی، اس لیے کوئی درمیانی دیوار، متبادل راستہ یا اصلاح کی گنجایش باقی نہ رہی۔ عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیرِ اعلا بنانا ایک غیر معقول فیصلہ تھا۔ اس طرح طاقت ور اداروں سے دوری اختیار کرنا اور حساس معاملات میں مشاورت سے گریز کرنا بھی ایک اور بڑی غلطی تھی، جب کہ تحریکِ انصاف کے مخلص کارکنوں پر فصلی بٹیروں کو فوقیت دی گئی۔ خارجہ پالیسی اگرچہ درست تھی، لیکن اس کا لہجہ سفارت کاری کے بہ جائے تقریر کا تھا۔ بین الاقوامی تعلقات میں ریاستی مفادات کو مقدم رکھا جاتا ہے اور یہ کام سفارتی میز پر زیادہ مؤثر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے، لیکن اس پہلو پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
2022ء میں تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے عام آدمی کو بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد آنے والی ہے، لیکن تحریکِ انصاف کے عقل کے اندھوں اور خود عمران خان کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ اُنھیں یہ اندازہ بھی نہ تھا کہ اُن کے اتحادی اُنھیں چھوڑنے والے ہیں، خواہ اس کے اسباب اور حالات کچھ بھی رہے ہوں۔ تحریکِ انصاف نے روایتی سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے بہ جائے ریاستی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جارحانہ رویہ اپنایا اور عوام کو سڑکوں پر نکل آنے کی کال دی۔ اگر عمران خان میں سیاسی بصیرت ہوتی، تو وہ تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے قومی اسمبلی تحلیل کردیتے، لیکن ایسا نہ کیا گیا اور نتیجتاً اُنھیں وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔ سیاست اور جمہوریت کا تقاضا تو یہی تھا کہ تحریکِ عدم اعتماد کی کام یابی کے بعد اسمبلی میں بیٹھ کر اپوزیشن کا مقابلہ کیا جاتا۔ معلوم نہیں کہ عمران خان کو مارچ 2022ء میں اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تجزیہ کاروں کے خیال میں عمران خان کو تکلیف اپوزیشن سے نہیں، بل کہ اُن مقتدر حلقوں سے تھی، جنھوں نے اُن سے سرپرستی کا ہاتھ اٹھا لیا تھا۔ عمران خان اُن قوتوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ اکیلے نہیں، بل کہ عوام کی طاقت اُن کے ساتھ ہے۔ یہ اُن کی ایک اور سیاسی غلطی تھی۔
غلطیوں کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بل کہ آج تک جاری ہے اور شاید آیندہ بھی جاری رہے۔ تحریکِ عدم اعتماد کی کام یابی کے بعد تحریکِ انصاف کے قومی اسمبلی کے عوامی نمایندوں نے اجتماعی طور پر مستعفی ہوکر حکومت کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بھی تحلیل کردیں، جس کی سزا تحریکِ انصاف کے کارکنوں سمیت عوام کو بھگتنا پڑی۔ 9 مئی کے واقعات، یا اُن کے بعد اپنائی گئی سیاسی حکمتِ عملی، ان تمام معاملات میں سیاسی سوجھ بوجھ کا تقریباً فقدان نظر آیا۔ نتیجتاً تحریکِ انصاف سکڑنے لگی اور ریاست کے سامنے کھڑی ہوگئی، جس کے بعد ریاست کے پاس ردِعمل دینے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ اس صورتِ حال نے تحریکِ انصاف کو مزید نقصان پہنچایا۔
امریکی لابی کے ذریعے امریکی صدر جو بائیڈن اور اُن کی انتظامیہ پر تحریکِ انصاف کے حق میں بولنے کے لیے دباو ڈالنے کی کوشش کی گئی اور صدر ٹرمپ کو پاکستان کے معاملات میں مداخلت کی دعوت دی گئی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کی گئی، لیکن اُس پہلو پر غور نہ کیا گیا کہ یہ سب کچھ پاکستان کے لیے اچھا تھا یا برا۔ اس تمام تگ و دو کے باوجود عمران خان کچھ بھی حاصل نہ کرسکے۔ انٹرا پارٹی انتخابات میں بیرسٹر گوہر علی کو پارٹی چیئرمین بنانے کے پیچھے یہ حکمتِ عملی بتائی جاتی تھی کہ وہ جیل میں نہیں تھے اور عمران خان سے بلا روک ٹوک ملاقات کرکے اُن کا پیغام کارکنوں تک پہنچا سکتے تھے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
تحریکِ انصاف کی ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ عمران خان کان کے بہت کچے ہیں۔ اُن کے کان میں جو بات ڈال دی گئی، وہ اکثر اس پر سوچے سمجھے بغیر احکامات جاری کرتے رہے، جو پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ کان بھرنے پر امین گنڈاپور کو وزارتِ اعلا سے ہٹانا، سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلا بنانا اور جنید اکبر کو صوبائی صدر مقرر کرنا بھی سیاسی غلطیاں تھیں۔ بشریٰ بی بی کو سرکاری معاملات میں مداخلت کا موقع دینا اور مراد سعید کو پارٹی کا مختارِ کل بنانا، ان تمام فیصلوں کی سزا پاکستان تحریکِ انصاف آج بھی بھگت رہی ہے۔
خیبر پختونخوا تو ہاتھ سے نکل گیا ہے، لیکن اب سننے میں آرہا ہے کہ تحریکِ انصاف ایک بار پھر قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے دینے والی ہے۔ اگر ایسا کیا گیا، تو یہ ایک اور بڑی سیاسی غلطی ہوگی اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ تحریکِ انصاف کا وجود پاکستان کی سیاست ہی سے مٹ جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے