دنیا میں کچھ لوگ اپنے عہد میں پیدا ہوتے ہیں، مگر ن کی فکر، تخلیق اور فن زمانے کی حدود سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ تاریخ کے کسی مخصوص دور، خطے یا زبان تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر عہد کے انسان سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں انسان اپنی خوشیاں، محرومیاں، خواہشات، خوف، محبتیں اور تضادات دیکھتا ہے۔ ولیم شیکسپیئر بھی ایسے ہی عظیم تخلیق کاروں میں شمار ہوتا ہے، جس کا نام انگریزی ادب کی تاریخ میں محض ایک ادیب یا ڈراما نگار کی حیثیت سے نہیں، بل کہ انسانی نفسیات کے ایک غیر معمولی شناسا کے طور پر زندہ ہے۔ چار صدیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کے ڈرامے دنیا بھر کے تھیٹروں میں پیش کیے جاتے ہیں، اُس کے کردار ادب، فلسفے اور نفسیات کے مباحث کا حصہ بنتے ہیں اور مکالمے انسانی زندگی کے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر شیکسپیئر کے فن میں ایسی کیا قوت ہے، جو اسے صدیوں کے فاصلے کے باوجود آج بھی ہمارے لیے متعلقہ بنائے ہوئے ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سولھویں صدی کے انگلستان کی طرف لوٹنا ہوگا، جب یورپ، نشاۃِ ثانیہ کے فکری اثرات سے گزر رہا تھا۔ علم، فنون، سیاست اور انسانی شخصیت کے بارے میں نئے تصورات جنم لے رہے تھے اور انسان کو کائنات اور معاشرے میں اس کے مقام کے حوالے سے نئے انداز میں دیکھا جا رہا تھا۔ اسی بدلتے ہوئے عہد میں 1564ء میں انگلستان کے قصبے اسٹریٹفورڈ اَپان ایون میں ولیم شیکسپیئر پیدا ہوا۔ اُس زمانے میں تھیٹر محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا تھا، بل کہ عوامی زندگی، سیاسی حالات، سماجی رویّوں اور انسانی جذبات کے اظہار کا ایک اہم وسیلہ بنتا جا رہا تھا۔ یہی ادبی اور ثقافتی ماحول شیکسپیئر جیسے تخلیقی ذہن کے لیے اپنی صلاحیتیں آزمانے اور اُنھیں فن کی صورت دینے کا میدان بنا۔
شیکسپیئر کی ابتدائی زندگی کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔ اس کی تعلیم، گھریلو حالات اور نوجوانی کے بعض واقعات کے متعلق تاریخی ریکارڈ مکمل نہیں، تاہم یہ معلوم ہے کہ اُس کی زندگی کا نمایاں ادبی حصہ لندن کے تھیٹر سے وابستہ رہا۔ یہاں اُس نے اداکاری، ڈراما نگاری اور تھیٹر کمپنی کے عملی معاملات میں حصہ لیا۔ یہ تجربہ اُس کے لیے محض روزگار کا ذریعہ نہیں تھا۔ اُس نے اسے انسانی رویّوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے، مختلف سماجی طبقوں کے مزاج کو سمجھنے اور یہ جاننے کا موقع فراہم کیا کہ الفاظ، کردار اور واقعات سامعین کے جذبات پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ اُس کے ڈراموں میں زندگی کی رنگا رنگی، کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور مکالموں کی فطری قوت کو اس عملی تجربے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
ملکۂ الزبتھ اول کے عہد میں انگریزی ادب اور تھیٹر نے غیر معمولی ترقی کی۔ لندن کے تھیٹر عوامی ثقافت کا اہم حصہ بن رہے تھے اور ڈراما نگاروں کو وسیع سامعین تک پہنچنے کے مواقع میسر آ رہے تھے۔ شیکسپیئر نے اسی فضا میں اپنی شناخت قائم کی اور بادشاہ جیمز اول کے زمانے میں بھی اپنی تخلیقی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس کے ڈراموں میں شاہی اقتدار، سیاسی کش مہ کش، طبقاتی تعلقات، اقتدار کی ہوس، خاندانی تنازعات اور انسانی خواہشات کی جھلک ملتی ہے، لیکن اُس کی نگاہ اپنے عہد کے مسائل تک محدود نہیں رہی۔ اُس نے اپنے گرد و پیش سے مواد حاصل کیا اور اُسے ایسے کرداروں اور واقعات میں ڈھال دیا، جن میں آنے والی صدیوں کے انسانوں نے بھی اپنے سوالات، خوف اور تضادات تلاش کیے۔
شیکسپیئر کی عظمت کا بنیادی راز یہی ہے کہ اُس نے انسان کو فرشتہ بنا کر پیش کیا، نہ شیطان قرار دے کر اُس سے منھ موڑا۔ اُس کے کردار نیکی اور بدی، محبت اور نفرت، عقل اور جذبات، وفاداری اور مفاد کے درمیان کش مہ کش کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ بہ یک وقت مضبوط بھی ہوتے ہیں اور کم زور بھی، محبت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو نفرت میں اندھے بھی ہو جاتے ہیں، انصاف کی بات کرتے ہیں، تو کبھی خود ناانصافی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ شیکسپیئر اُن کے اعمال کو محض اچھائی یا برائی کے خانوں میں بند نہیں کرتا، بل کہ اُن کے فیصلوں کے پیچھے موجود نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی پیچیدگیوں کو سامنے لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کے کردار کسی خاص زمانے کے نمایندے ہونے کے باوجود ہر زمانے کے انسان محسوس ہوتے ہیں۔
اُس کے المیوں میں انسانی زندگی کی یہی پیچیدگی اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ’’ہیملٹ‘‘ محض ایک شہزادے کی انتقامی داستان نہیں، بل کہ شک، تذبذب، ضمیر اور فیصلہ کرنے کی دشواری کا مطالعہ ہے۔ ہیملٹ سوچتا بہت ہے، سوال اٹھاتا ہے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اُس کی یہی فکری کش مہ کش اُسے عمل کے مرحلے پر بار بار روک دیتی ہے۔ اُس کے کردار میں ہمیں اُس انسان کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جو درست فیصلہ کرنا چاہتا ہے… مگر حالات، اندیشوں اور اپنے ذہن کی پیچیدگیوں میں اُلجھ جاتا ہے۔
اسی طرح ’’میکبیتھ‘‘ اقتدار کی ہوس اور انسانی ضمیر کے زوال کی کہانی ہے۔ میکبیتھ ابتدا میں ایک بہادر سپاہی ہے، لیکن اقتدار کی خواہش اور اس کے حصول کے لیے اختیار کیا گیا راستہ اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔ وہ جس طاقت کو اپنی کام یابی سمجھتا ہے، وہی رفتہ رفتہ اس کے خوف، تنہائی اور تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ شیکسپیئر یہاں یہ دکھاتا ہے کہ اقتدار کی خواہش جب اخلاقی حدود کو روند دیتی ہے، تو انسان صرف دوسروں کے لیے خطرہ نہیں بنتا، بل کہ اپنے وجود کو بھی تباہ کرنے لگتا ہے۔
’’اوتھیلو‘‘ میں حسد، شک اور فریب محبت کو کس طرح تباہ کرتے ہیں، جب کہ ’’کنگ لیئر‘‘ میں خاندانی رشتوں، ناشکری، غرور اور اختیار کے زوال کے ذریعے انسانی کم زوریوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
شیکسپیئر کے فن کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ بادشاہوں، شہزادوں اور اشرافیہ کے کرداروں کے ذریعے بھی عام انسان کے مسائل بیان کرتا ہے۔ اس کے ہاں اقتدار کا نشہ، محبت میں ناکامی، رشتوں کی بے وفائی، حسد، خوف، انتقام اور تنہائی کسی ایک طبقے کی ملکیت نہیں رہتے۔ تاج و تخت پر بیٹھا شخص بھی اسی انسانی کم زوری کا شکار ہوسکتا ہے، جس سے ایک عام آدمی دوچار ہوتا ہے۔ یہی فنی بصیرت شیکسپیئر کو محض شاہی درباروں یا اشرافیائی زندگی کا مصنف بننے سے بچاتی ہے۔ اس کے کرداروں کی ظاہری حیثیت مختلف ہوسکتی ہے، لیکن ان کے اندر دھڑکنے والا دل، ان کی خواہشات اور ان کے خوف انسانی سطح پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
تاہم شیکسپیئر کی شناخت صرف المیوں تک محدود نہیں۔ اس کی طربیہ تخلیقات میں محبت، غلط فہمی، شناخت کے ابہام، انسانی حماقت اور سماجی رسم و رواج پر لطیف طنز ملتا ہے۔ ’’مڈسمر نائٹس ڈریم‘‘ میں خواب اور حقیقت، محبت اور فریب ایک دل چسپ ڈرامائی فضا پیدا کرتے ہیں، جب کہ ’’مچ ایڈو اباؤٹ نتھنگ‘‘ میں افواہ، بدگمانی اور معاشرتی رویّے کرداروں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان ڈراموں میں مزاح محض ہنسانے کا ذریعہ نہیں, بل کہ انسانی کم زوریوں کو بے نقاب کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔
شیکسپیئر قاری یا ناظر کو اپنے کرداروں پر ہنسنے کا موقع دیتا ہے، مگر اس ہنسی کے دوران میں اسے اپنی ذات اور معاشرے کی بعض حقیقتوں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔
اس کے مکالموں کی قوت بھی اس کی شہرت کا ایک بنیادی سبب ہے۔ شیکسپیئر زبان کو صرف واقعات بیان کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتا، بل کہ اسے کردار کے باطن تک پہنچنے کا وسیلہ بناتا ہے۔ ان کے کردار بولتے ہیں، تو ان کے الفاظ سے ان کی خواہشات، خوف، ذہنی کش مہ کش اور اخلاقی کیفیت آشکار ہوتی ہے۔ اس کے ہاں ایک مختصر جملہ کبھی پورے کردار کی داخلی دنیا کھول دیتا ہے، اور ایک طویل خود کلامی زندگی کے بنیادی سوالات کو سامنے لے آتی ہے۔ اسی لیے اس کے ڈراموں کو صرف کہانی کے طور پر پڑھنا کافی نہیں؛ اُن کی اصل قوت اس زبان، علامتوں اور مکالموں میں بھی پوشیدہ ہے جو انسانی تجربے کو ایک گہرا ادبی مفہوم عطا کرتے ہیں۔
شیکسپیئر کی تخلیقات میں اقتدار اور اخلاقیات کا تعلق بھی بار بار سامنے آتا ہے۔ اس کے بادشاہ اور حکم ران اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اختیار انھیں ہر فیصلے کا حق دے دیتا ہے، مگر واقعات اُن کے غرور، غلط اندازوں اور اخلاقی کم زوریوں کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ اس کے ڈرامے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حکم رانی کی اصل بنیاد طاقت ہے یا انصاف…؟ کیا محض اقتدار انسان کو عظیم بنا دیتا ہے، یا اس کی عظمت کا فیصلہ اس کے اعمال کرتے ہیں…؟ یہ سوالات شیکسپیئر کے زمانے میں بھی اہم تھے اور آج بھی دنیا کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں اپنی معنویت رکھتے ہیں۔ اس کے فن کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان سوالات کے آسان جواب نہیں دیتا، بل کہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
1616ء میں شیکسپیئر کا انتقال ہوا، لیکن اس کی ادبی میراث کو محفوظ رکھنے کا ایک اہم مرحلہ اس کی وفات کے بعد آیا۔ 1623ء میں اس کے ساتھی اداکاروں اور رفقا جان ہیمنگز اور ہنری کونڈیل نے اس کے ڈراموں کا مجموعہ شائع کیا، جسے ’’فرسٹ فولیو‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں 36 ڈرامے شامل تھے اور اس اشاعت نے اس کے متعدد ڈراموں کے متون کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یوں ایک ایسا مصنف، جس نے اپنے عہد کے اسٹیج کے لیے لکھا تھا، رفتہ رفتہ عالمی ادب کا مستقل حصہ بن گیا۔ اس کے ڈراموں کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا، انھیں مختلف ثقافتوں کے مطابق نئے انداز میں پیش کیا گیا اور ہر نسل نے ان میں اپنے عہد کے مسائل اور سوالات کی بازگشت سنی۔
شیکسپیئر کی عالمی مقبولیت کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس کے فن کو کسی ایک ثقافت یا زبان کی حدود میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ اس نے انگریزی زبان میں لکھا اور اس کی تخلیقات اپنے عہد کے انگلستان کے سماجی و سیاسی ماحول سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، لیکن ان کے بنیادی موضوعات انسانی زندگی کے مشترکہ تجربات سے جنم لیتے ہیں۔ محبت، حسد، اقتدار، انتقام، وفاداری، لالچ، ضمیر اور موت ایسے موضوعات ہیں، جنھیں سمجھنے کے لیے کسی خاص زبان یا قوم سے تعلق ضروری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے کردار مختلف معاشروں میں نئے معنی اختیار کرتے رہتے ہیں اور اس کے ڈرامے ہر نئی پیش کش کے ساتھ ایک نئی زندگی حاصل کرلیتے ہیں۔
اس کی ادبی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ شیکسپیئر اپنے عہد کی پیداوار تھا۔ اس کے بعض تصورات اور سماجی رویّے اپنے زمانے کی حدود سے متاثر ہیں، اور جدید قاری اس کی تخلیقات کو نئے سوالات کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ عظیم ادب کی ایک پہچان یہی ہے کہ وہ صرف تعریف و توصیف کے لیے محفوظ نہیں رہتا، بل کہ تنقیدی مطالعے، اختلاف اور نئی تعبیرات کے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔ شیکسپیئر کی تخلیقات آج بھی زیرِ بحث آتی ہیں، ان پر اختلاف کیا جاتا ہے اور انھیں بدلتے ہوئے معاشرتی تناظر میں نئے معنی دیے جاتے ہیں۔ یہ مسلسل مکالمہ اس کے فن کی زندگی کی علامت ہے۔
شیکسپیئر کو پڑھنا دراصل انسان کو پڑھنا ہے، اس انسان کو جو کبھی محبت میں خود کو بھول جاتا ہے، کبھی اقتدار کے لیے اپنی اخلاقی حدود توڑ دیتا ہے، کبھی شک کے اندھیروں میں حقیقت کھو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی غلطیوں کے بعد اپنے ضمیر کی آواز سننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کے کردار ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ انسانی عظمت اور انسانی کم زوری اکثر ایک ہی شخصیت میں ساتھ ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ انسان اپنے حالات سے متاثر ضرور ہوتا ہے، مگر اس کے فیصلے، خواہشات اور اخلاقی انتخاب بھی اس کی زندگی کا رُخ متعین کرتے ہیں۔
وقت بہت سے ناموں کو تاریخ کی گرد میں چھپا دیتا ہے، مگر کچھ تخلیق کار ایسے ہوتے ہیں، جن کی آواز ہر نئی نسل میں نئے سرے سے سنائی دیتی ہے۔ ولیم شیکسپیئر انھی میں سے ایک ہے۔ اس نے اپنے عہد کے اسٹیج کے لیے کردار تخلیق کیے تھے، مگر ان کرداروں میں اس نے انسانی فطرت کی ایسی پرتیں کھول دیں، جو صدیوں بعد بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ شاید اسی لیے شیکسپیئر کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ دنیا اسے عظیم شاعر یا ڈراما نگار کہتی ہے، بل کہ اس حقیقت میں ہے کہ اس کے کردار آج بھی ہمیں اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کا جسم مٹی میں مل گیا، اس کا عہد تاریخ بن گیا، مگر اس کے قلم سے جنم لینے والا انسان آج بھی زندہ ہے؛ اور جب تک انسان اپنے اندر جھانکنے، اپنے فیصلوں کو سمجھنے اور اپنی زندگی کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، شیکسپیئر کی آواز خاموش نہیں ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










