کچھ شخصیات کا تعارف اُن کے عہدوں اور اعزازات سے زیادہ اُن کے علمی و پیشہ ورانہ سفر سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صادق اللہ کا تعلق چارباغ سے ہے اور اُنھوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ، تحقیق اور تدریس کے شعبوں میں پاکستان اور بیرونِ ملک خدمات انجام دی ہیں۔
میرے لیے ڈاکٹر صادق اللہ کا تعارف محض ایک انجینئر، محقق اور اُستاد کی حیثیت سے نہیں… وہ میرے والدِ بزرگوار (مرحوم) کے قریبی اور بااعتماد دوست محمد امین (مرحومٰ) اُستاد صاحب کے فرزند ہیں۔ محمد امین (مرحوم) اور میرے والد کے درمیان دیرینہ اور بے تکلف دوستی تھی۔ آج دونوں ہمارے درمیان نہیں، لیکن اُن کی یادیں اب بھی ہمارے سینوں میں محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی مغفرت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین!
ڈاکٹر صادق اللہ نے کم عمری میں اپنے والد کو کھو دیا۔ اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کے چچاؤں، ابنِ امین استاد صاحب، یمین اُستاد صاحب اور محبوب علی ابا خان اُستاد صاحب نے اُن کی پرورش اور سرپرستی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس خاندانی تعاون کے ساتھ ڈاکٹر صادق اللہ نے اپنی تعلیم کو اپنی زندگی کا بنیادی راستہ بنایا۔
ڈاکٹر صادق اللہ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول چارباغ سے حاصل کی، جس کے بعد انھوں نے گورنمنٹ جہانزیب کالج سوات سے ایف ایس سی کیا۔ ایف ایس سی کے بعد انھوں نے اُس وقت کے صوبہ سرحد (NWFP)، موجودہ خیبر پختونخوا، کے پہلے انجینئرنگ انٹری ٹیسٹ میں پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس سی کیا اور اس مرحلے پر بھی پوزیشن حاصل کی۔
ڈاکٹر صاحب کی اعلا تعلیم کا سلسلہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا سے ایم ایس سی اور پھر برطانیہ کی Loughborough University سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی تک پہنچا۔ اس طرح ان کا تعلیمی سفر مقامی سطح سے بین الاقوامی اعلا تعلیم تک بہ تدریج آگے بڑھا۔
ڈاکٹر صادق اللہ کی تخصصی تحقیق (Specialized Research) الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں اینٹینا ڈیزائن، الیکٹرومیگنیٹکس اور وائرلیس کمیونیکیشن سے متعلق ہے۔ اُن کے تحقیقی موضوعات میں جدید اینٹینا، میٹا میٹیریلز اور مستقبل کے وائرلیس مواصلاتی نظام شامل ہیں۔ اُن کی تحقیق کے نتائج متعدد تحقیقی مقالات کی صورت میں علمی لٹریچر کا حصہ بن چکے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی تحقیقی خدمات کا ایک نمایاں اعتراف دنیا کے Top 2 Percent Scientists کی فہرست میں اُن کی شمولیت ہے۔ جامعۂ تبوک کے سرکاری پروفائل کے مطابق وہ Telecommunications, Antennas and Electromagnetics کے شعبے میں 2024 اور 2025 کے لیے اس فہرست میں شامل رہے۔ یہ شمولیت اُن کے تحقیقی کام کے بین الاقوامی اثرات کا ایک قابلِ ذکر اشاریہ ہے۔
تدریس اور تحقیق کے ساتھ ڈاکٹر صادق اللہ نے انتظامی ذمے داریاں بھی انجام دی ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان میں پروفیسر رہے اور وہاں مختلف انتظامی ذمے داریاں سنبھالیں، جن میں پرو وائس چانسلر کا منصب بھی شامل ہے۔ اُن کے پیشہ ورانہ تجربے میں الیکٹرانک سسٹمز سے متعلق عملی کام اور تحقیقی سرگرمیاں بھی شامل رہی ہیں۔
اِس وقت ڈاکٹر صاحب سعودی عرب کی جامعۂ تبوک کے شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ سے وابستہ ہیں، جہاں تدریس اور تحقیق اُن کی بنیادی پیشہ ورانہ ذمے داریاں ہیں۔ اُن کا تحقیقی کام بالخصوص اینٹینا اور وائرلیس کمیونیکیشن کے شعبوں سے متعلق ہے۔
ڈاکٹر صادق اللہ کے سفر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اُن کی تعلیمی کارکردگی کا تسلسل طالب علمی کے ابتدائی مرحلے ہی سے نظر آتا ہے۔ انجینئرنگ انٹری ٹیسٹ میں پوزیشن سے لے کر بی ایس سی میں نمایاں کارکردگی، پی ایچ ڈی اور بعد ازاں بین الاقوامی سطح پر تحقیقی سرگرمیوں تک، اُن کا سفر مسلسل علمی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ سفر اس بات کی ایک سادہ مثال ہے کہ معیاری تعلیم اور مسلسل علمی محنت کے ذریعے ایک طالب علم اپنے ابتدائی ماحول سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی علمی برادری کا حصہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر صادق اللہ کے لیے چارباغ اس سفر کا نقطۂ آغاز ہے، جب کہ جامعۂ تبوک اُن کے موجودہ علمی و تحقیقی سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










