وہ سوات، جس کا نام آتے ہی ذہن میں مہمان نوازی، حیا، شرافت اور پاکیزگی کی تصویریں ابھرتی تھیں۔ وہ سوات جہاں بڑوں کا احترام محض ایک روایت نہیں، بل کہ زندگی کا حصہ تھا، جہاں چھوٹوں پر شفقت کی جاتی تھی، جہاں محلے کے لوگ ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہوتے تھے، جہاں امن، سکون اور خوش حالی زندگی کا حسن ہوا کرتی تھی۔
پھر 2009 آیا، سوات کے لوگ اپنے گھروں، اپنی بستیوں اور اپنی ہی وادی سے متاثرین بن کر نکلے۔ کچھ عرصے بعد جب واپس لوٹے، تو گھر تو وہی تھے، پہاڑ وہی تھے، دریائے سوات وہی تھا، مگر سوات، وہ سوات نہیں رہا تھا۔
وقت گزرتا گیا اور ہمارے زخم مندمل ہونے کے بہ جائے گہرے ہوتے گئے۔ آج اس خوب صورت وادی کے کئی حصوں پر خوف کے سائے منڈلاتے ہیں۔ بدامنی، بے یقینی، معاشرتی بے حسی اور بڑھتی ہوئی بے حیائی نے اس معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چہروں پر مسکراہٹ کم اور فکر کی لکیریں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہماری نئی نسل نشے کی لعنت کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔ وہ بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں، قلم اور خواب ہونے چاہییں، اُن میں سے بعض کے ہاتھ نشے نے پکڑ لیے ہیں۔ سکول، کالج اور مدارس، جو بچوں کے لیے علم اور تربیت کے محفوظ مراکز ہونے چاہییں، وہاں بھی والدین کے دل مطمئن نہیں رہے۔
اور پھر وہ خبریں جنھیں پڑھ کر انسان کا کلیجہ منھ کو آتا ہے۔ معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہمارے معاشرے کے لیے محض خبریں نہیں، بل کہ ہم سب کے ضمیر پر ایک سوال ہیں۔
ہم آخر کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا ہم نے ترقی کے نام پر اپنی اقدار کھو دیں؟ کیا جدیدیت کے نام پر حیا کو بوجھ سمجھ لیا؟ کیا مصروفیات نے ہمیں اپنے بچوں سے اتنا دور کردیا کہ ہمیں اُن کے اردگرد کے خطرات کا بھی احساس نہیں رہا؟
سوات کو صرف سڑکوں، عمارتوں اور سیاحتی مقامات کی ضرورت نہیں؛ سوات کو اپنے معاشرتی مزاج کی بہ حالی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد، مدارس اور معاشرے میں تربیت، حیا، احترام اور ذمے داری کے چراغ دوبارہ روشن کرنا ہوں گے۔
یہ کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک جماعت کی ذمے داری نہیں۔ یہ ہم سب کی ذمے داری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف تعلیم نہیں، اچھا انسان بننے کی تربیت بھی دینی ہوگی۔ ہمیں انھیں صرف دنیا میں آگے بڑھنے کا ہنر نہیں، صحیح اور غلط میں فرق کرنے کا شعور بھی دینا ہوگا۔
سوات آج بھی خوب صورت ہے، اس کے پہاڑ آج بھی بلند ہیں، اس کا دریا آج بھی رواں ہے، مگر اس کے لوگوں کے دلوں میں جو خوف اور بے یقینی اُتر گئی ہے، اسے ختم کرنا ہوگا۔
ہمیں اپنے سوات کو صرف پہلے جیسا خوب صورت نہیں، بل کہ پہلے سے زیادہ محفوظ، باحیا، پُرامن اور باوقار بنانا ہوگا۔ کیوں کہ سوات صرف ایک وادی کا نام نہیں، یہ ہماری پہچان، ہماری تہذیب اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










