تجاوزات آپریشن اور چند اہم سوالات

Blogger Tauseef Ahmad Khan

اگر موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، تو تجاوزات کا مسئلہ اس وقت پورے ملک، بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں، غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا، ہر پلیٹ فارم پر تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں اور اس سے متعلق کئی معاملات زیرِ بحث ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ صوبے کی تقریباً ہر تحصیل میں حکومتی مشینری تجاوزات کو واگزار کرنے کے لیے متحرک ہے اور اس سلسلے میں بھرپور آپریشن جاری و ساری ہے۔
موجودہ آپریشن کے حوالے سے ذہن میں کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں، جن میں سے بعض نہایت بنیادی نوعیت کے ہیں اور جن کا جواب حاصل کرنا مجھ سمیت ہر شہری کا حق ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں، جو متعلقہ حکام اور صاحبِ اختیار کے سامنے اٹھانا نہ صرف جائز ہیں، بل کہ ضروری بھی ہیں۔ کیوں کہ بہ حیثیت ایک لکھاری مَیں سمجھتا ہوں کہ موجودہ وقت میں حکومت کے طرف سے بہت سے ایسے اقدامات ہورہے ہیں، جو واضح طور پر معاشرے کو ’’سول ڈس آرڈر‘‘ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ مذکورہ اقدامات میں موجودہ تجاوزات کا بے ہنگم آپریشن سرِفہرست ہے۔
متعلقہ اداروں کے سامنے اپنے سوالات رکھنے سے پہلے مَیں ضروری سمجھتا ہوں کہ قارئین کے علم میں یہ بات لاؤں کہ آئینِ پاکستان کس طرح نجی ملکیت کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور حکومت کن قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کسی شہری کی نجی زمین عوامی مقصد (Public Purpose) کے لیے اسے حاصل کرسکتی ہے؟
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آئینِ پاکستان کا ’’آرٹیکل 23‘‘ ہر شہری کو پراپرٹی خریدنے، رکھنے اور فروخت کرنے کا حق دیتا ہے، جب کہ ’’آرٹیکل 24‘‘ کسی شخص کو اُس کی جائیداد سے محروم کرنے کے حوالے سے قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت کسی شخص سے اُس کی ملکیتی جائیداد سے صرف قانون کے مطابق اور انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے… اور عوامی مفاد اور کسی سرکاری مقصد کے لیے حصولِ اراضی کی صورت میں قانون کے مطابق معاوضے کا تعین اور ادائی لازم ہے۔
اب اگر کسی شہری کی نجی زمین حکومت کو کسی عوامی مفاد یا سرکاری منصوبے مثلاً: سڑک، ہسپتال، تعلیمی ادارے یا کسی دوسرے ترقیاتی منصوبے کے لیے درکار ہو، تو متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ Land Acquisition Act, 1894 کے تحت حصولِ اراضی کا قانونی طریقۂ کار اپناتے ہوئے اسے حاصل کرے۔
مذکورہ قانون کے تحت سب سے پہلے دفعہ (Section 4) کے تحت ابتدائی نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع کیا جاتا ہے۔
اسی قانون کی دفعہ (Section 5-A) کے تحت متاثرہ زمین کے مالک کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے فورا بعد یعنی 30 دن کے اندر متعلقہ زمین کے حصول کے خلاف، اگر کوئی اعتراض ہو، تو اُسے تحریری صورت میں متعلقہ کلکٹر کو داخل کرے۔ بعد ازاں دفعہ (Section 6) کے تحت زمین کے حصول کا حتمی اعلان کیا جاتا ہے۔ اُس کے بعد دفعہ (Section 11) کے تحت متعلقہ کلکٹر زمین کی مالیت اور دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لے کر معاوضے کا تعین کرتا ہے اور باقاعدہ ایوارڈ (Award) جاری کرتا ہے۔
بالآخر دفعہ (Section 16) کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے اور معاوضے کی ادائی کے مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی حکومت زمین کا قبضہ حاصل کرسکتی ہے۔
بہ صورتِ جبری حصول، حکومت زمین کی قیمت پر 15 فی صد اضافی رقم ادا کرنے کا پابند ہوگی۔ اس اضافی رقم کو قانونی اصطلاح میں Solatium یا Compulsory Acquisition Charges کہا جاتا ہے۔ اس کی قانونی بنیاد Land Acquisition Act, 1894 کی دفعہ 23(2) ہے۔
یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ پختون خوا ہائی ویز اتھارٹی (PKHA) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) بھی جب کسی سڑک یا ہائی وے کی تعمیر، توسیع یا مزید بہتری کے لیے شہریوں کی نجی زمین حاصل کرتی ہیں، تو اُنھیں بھی پختون خوا ہائی ویز اتھارٹی آرڈیننس 2001 کے سیکشن 26 کے مطابق لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت عوامی مقصد کے لیے حصولِ اراضی تصور کیا جاتا ہے۔
اسی طرح نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کا قیام نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایکٹ 1991 کے تحت عمل میں آیا۔ اس قانون کا سیکشن 10 اتھارٹی کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق زمین حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے، جب کہ دفعہ (Section 26) کے تحت NHA کے منصوبوں کے لیے زمین کا حصول Land Acquisition Act, 1894 کے تحت عوامی مقصد کے لیے حصولِ اراضی تصور کیا جاتا ہے۔
اب ہم موجودہ آپریشن سے متعلق چند اہم سوالات کی طرف آتے ہیں۔ تاہم، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ میرے سوالات عارضی تجاوزات سے متعلق نہیں، یعنی ایسے تجاوزات جو سرکاری نالوں پر تعمیر کیے گئے ہوں، یا جن کے باعث عوامی گزرگاہیں بند ہو رہی ہوں اور ان سے عام عوام کو کسی نہ کسی صورت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو… بل کہ ان سوالات کا اصل محور اس آپریشن کا وہ پہلو ہے، جس کے تحت سڑک اور اس کے قانونی Right of Way کی حدود سے باہر نکل کر لوگوں کی نجی ملکیتی اراضی اور ذاتی حدود کے اندر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب ہم ایک بات بار بار سن رہے ہیں کہ فُلاں دکان، پلازہ یا زمین وغیرہ تجاوزات میں آئے ہیں، تو کیا اس بات کی کوئی قانونی حثییت ہے؟ اگر درجِ بالا بیان کردہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے، تو کیا روڈ کی توسیع کرنے کے لیے کسی شخص کی پرائیویٹ زمین بغیر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اسے تجاوزات قرار دیا جاسکتا ہے؟
کیا موجودہ سڑکوں کی توسیع یا ماسٹر پلان کے لیے زمین کے حصول کے لیے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی ہے؟
کیا دفعہ 4 کے تحت ابتدائی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے؟
کیا زمین کے مالکان کو قانونی طور پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں؟
کیا متاثرہ مالکان کو اعتراضات داخل کرنے کا موقع دیا گیا ہے؟
کیا زمین کے معاوضے کا تعین کیا گیا ہے؟
کیا معاوضے کی ادائی سے متعلق کوئی باقاعدہ ایوارڈ جاری ہوا ہے؟
اگر ان تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر یک طرفہ طور پر عوام کی جن نجی جائیدادوں کو تجاوزات قرار بھی دیا گیا ہے، تو کیا متعلقہ مالکان کو محض سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ یا لاؤڈ اسپیکر سے آگاہ کرنا نوٹس کے قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے، یا قانونی طور پر اُنھیں تحریری نوٹس دینا لازم اور ضروری تھا… یا کس طرح تحریری نوٹس نہ دینا ضروری سمجھا گیا؟
کیا موجودہ تجاوزات آپریشن میں سنگین قانونی کوتاہیاں اور یک طرفہ فیصلوں نے جائیداد مالکان کو عدالتی اور قانونی حقوق سے محروم نہیں کیا؟
نیز یہ کہ کیا اس سے عدالتوں کی اہمیت کم نہیں ہورہی؟
کیا موجودہ اقدامات Mischeif کے زمرے میں تو نہیں آتے… جس کا ذکر پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 425 تا 440 میں موجود ہے۔ یعنی کسی کی پرائویٹ پراپرٹی کو بغیر کسی قانونی جواز کے نقصان پہنچانا، یعنی اُسے مسمار کرکے زبردستی حاصل کرنا۔
جن مالکان کی نجی زمینیں اس آپریشن کے دوران میں اب تک متاثر ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں… اُن کے حوالے سے ایک اہم قانونی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر متعلقہ زمین کا کوئی مخصوص حصہ یا پوری زمین سڑک کی توسیع یا کسی دوسرے سرکاری مقصد کے لیے واگزار کرائی گئی ہے، لیکن اُس زمین کا انتقال اب بھی اصل نجی مالک کے نام ہے اور ریونیو ریکارڈ میں بھی ملکیت اُسی کے نام درج ہے، تو ایسی صورت میں اُس زمین کی ملکیت صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کا قانونی طریقۂ کار کیا ہوگا؟
کیا یہ قانونی طور پر درست ہے کہ زمین کا قبضہ تو حکومت کے پاس ہو، لیکن ریونیو ریکارڈ میں اُس کی ملکیت بہ دستور متعلقہ نجی مالکان کے نام برقرار رہے؟
کیا کسی کی جائیداد کو بغیر پیشگی نوٹس دیے، بغیر قانونی تقاضے پورے کیے اور یہ ثابت کیے بغیر کہ وہ واقعی تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے، اس طرح مسمار کرکے زمین بوس کر دینا اور عوام کو یک دم کروڑوں روپے مالیت کی نجی جائیداد سے محروم کرنا قانون کے تقاضوں کے مطابق ہے؟
کیا اس طرزِ عمل سے عوام کا قانون اور ریاستی اداروں پر سے اعتماد متزلزل نہیں ہوگا؟
کیا جب شہریوں کو قانون کے ذریعے انصاف ملنے کی امید ختم ہو جائے، تو اُن میں بغاوت اور قانون سے انحراف کا رجحان جنم نہیں لے گا؟
کیا ایسا طرزِ عمل معاشرے میں باغیانہ سوچ اور لاقانونیت کو فروغ دینے کا سبب نہیں بنے گا؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوات میں والئیِ سوات کے دورِ حکومت میں سڑکوں کی حدود (Right of Way) کا جو تعین کیا گیا تھا، اُس وقت جن نجی زمینوں پر دکانیں، مارکیٹیں اور مکانات تعمیر کیے گئے، یا بعد ازاں اسی مقررہ بلڈنگ لائن کے اندر از سرِ نو تعمیرات کی گئیں، وہ آج تجاوزات کے زمرے میں کیسے آ رہی ہیں؟
ہم سب کو بہ خوبی معلوم ہے کہ والئیِ سوات کے دور میں قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا تھا۔ اُس وقت کسی کو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ سرکاری اراضی یا مقررہ حدودِ سڑک پر ناجائز قبضہ کرے۔ مزید یہ کہ مقامی لوگوں نے اپنی مرضی سے نجی ملکیتی زمینیں بھی سڑکوں کی تعمیر اور دیگر سرکاری دفتروں، تھانوں، ہسپتالوں، کھیل کے میدانوں، مسجدوں، جنازہ گاہوں اور گزرگاہوں کے لیے بلا معاوضہ اُس وقت کی ریاست کے لیے فراہم کی تھیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر اُس وقت باقاعدہ طور پر سڑکوں کی حدود اور بلڈنگ لائن کا تعین موجود تھا، اور قانون پر بھی سختی سے عمل درآمد ہوتا تھا، تو آج انھی مقررہ حدود کے اندر واقع نجی ملکیتی زمینوں اور اُن پر قائم عمارتوں کو کس قانونی اور کون سے ریکارڈ کی بنیاد پر تجاوزات قرار دیا جا رہا ہے؟
کیا حکومت کے پاس اس بات کا کوئی مستند ریکارڈ، قانونی دستاویز یا ثبوت موجود ہے جس کی بنیاد پر اُن زمینوں اور تعمیرات کو تجاوزات کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے؟
مجھے اُمید ہے کہ اربابِ اختیار کی جانب سے کسی مناسب فورم پر میرے ان سوالات کا مدلل اور قانونی جواب دیا جائے گا۔ مَیں اپنے صحافی دوستوں سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان سوالات کو متعلقہ انتظامیہ اور ذمے دار حکام کے سامنے رکھیں، تاکہ عوام کے ذہنوں میں پائے جانے والے ابہامات دور ہوسکیں اور یہ واضح ہوسکے کہ اس پورے آپریشن میں قانون اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو کس حد تک ملحوظِ خاطر رکھا جا رہا ہے…؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے