حی ابن یقظان (تمثیلی داستان کا جائزہ)

Blogger Hamza Nigar

حی ابن یقضان دراصل ابن طفیل کی ایک تمثیلی داستان ہے۔ اس داستان کے ذریعے ابن طفیل نے اپنی مذہبی اور فلسفیانہ راۓ کو سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کہانی کی مدد سے ابن طفیل یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ معاشرے سے الگ تھلگ رہ کر پلا بڑھا انسان، فلسفے، مذہب اور تصوف کے علم میں اُنھی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے، جن تک انسانی معاشرے میں رہ کر تربیت اور تعلیم پانے والا شخص پہنچتا ہے۔
مصنف نے کہانی میں بچے، حی، کی پیدایش کے دو ورژنوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلے ورژن کے مطابق، ایک ویران جزیرے پر بچے کی پیدایش کو مٹی کے ایک ڈھیر سے خود بہ خود پیدا ہونے سے جوڑا جاتا ہے، بعد ازاں، اللہ کے حکم سے اُس جسم میں ایک روح پھونک دی گئی۔ روح، اللہ کی طرف سے نکلی، چناں چہ، بغیر انسانی والدین کے ایک انسانی بچہ ہر لحاظ سے مکمل پیدا ہوا۔
ایک اور افسانوی روایت کے مطابق، بچے کو اُس کی ماں نے جو ایک شہزادی تھی، ایک پڑوسی جزیرے سے سمندر میں پھینک دیا تھا۔ وہ حی کے والد یقظان سے اپنی شادی کی حقیقت کو اپنے بھائی بادشاہ کے خوف سے خفیہ رکھنا چاہتی تھی، جو اُن دونوں کے ملاپ کو کسی صورت برداشت نہیں کرتا تھا۔ صندوق میں رکھا ہوا نومولود بچہ لہروں کے ساتھ بہہ کر اُس غیر آباد جزیرے پر جا پہنچا۔ اُس کے بعد کی کہانی دونوں روایتوں میں مشترک ہے۔
اگلا نکتہ یہ دیکھنا ہے کہ اس غیر آباد جزیرے پر بچہ ابتدا میں کیسے زندہ رہا، ایک ایسی ہرنی کے دودھ پینے سے جس کا اپنا بچہ مرچکا تھا اور جس نے حی پر ترس کھایا؟ اور کس طرح اپنی ذہانت اور وسائل کے بل بوتے پر وہ بچہ بڑا ہو کر ایک بالغ شخص بن گیا اور اُس نے خود اپنے طور پر مابعد الطبیعیاتی، مذہبی اور صوفیانہ علم حاصل کر لیا، جو کہ اس علم کے کافی حد تک قابلِ موازنہ تھا۔ حی، ہرنی کی دیکھ بھال میں پروان چڑھنے لگا۔ ہرنی نے اُسے دو سال تک دودھ پلایا اور پھلوں اور پانی کی جگہیں دکھائیں، پھر وہ خود چلنے پھرنے لگا۔ اُس نے جانوروں کی آوازیں نکالنا سیکھیں اور اس طرح ان سے دوستی کرلی۔
7 سال کی عمر میں حی نے اپنے اندر تخیلاتی صلاحیت پروان چڑھائی۔ اُس نے پہلے دیکھی گئی چیزوں کا تصور کرنا شروع کیا۔ 
کچھ عرصے بعد ہرن بوڑھا اور کم زور ہوکر مرگیا۔ حی اُس کی موت سے بہت دکھی ہوا اور وجہ سوچنے لگا۔ اُس نے اندازہ لگایا کہ زندگی کا سرچشمہ سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہے۔
جب لاش گلنے لگی، تو اُس نے ہرن کو دفن کر دیا (جیسا کہ اُس نے کوے کو کرتے دیکھا تھا)۔ اس طرح حی نے روح کا تصور حاصل کیا کہ یہ جسم کی محرک قوت ہے اور اس کے بغیر جانور مر جاتے ہیں۔ جسم تو صرف روح کا ایک آلہ ہے۔
حی نے ظاہری شکلوں میں فرق کے باوجود روح کی یک سانی کی بنیاد پر تمام جانوروں کے اتحاد کا تصور حاصل کیا اور جانا کہ اعضا، اعصاب کے ذریعے روح سے جڑے ہیں، جب کہ حرکت اور غذا روح کے دو اہم کام ہیں۔ 21 سال کی عمر تک اُس نے کھالوں سے کپڑے اور جوتے بنانے، اپنے لیے گھر بنانے اور لاٹھیوں پر سینگ لگا کر ہتھیار بنانے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ اُس نے جنگلی گھوڑوں کو سواری، شکاری پرندوں کو شکار اور مرغیوں کو انڈوں اور گوشت کے لیے پالنا بھی سیکھ لیا تھا۔
حی نے دنیا کے قدیم یا مخلوق ہونے پر غور کیا، مگر کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ تاہم، اُس نے دنیا کے ایک غیر مادی خالق کا تصور قائم کیا۔ اپنی شان دار تخلیق اور مخلوق سے اُس کی محبت کو دیکھ کر، اُس نے نتیجہ اخذ کیا کہ اُس خالق میں علم، حکمت، طاقت، خوب صورتی، نفاست اور کمال کی صفات موجود ہیں۔
(وہ) ہر قسم کے نقائص سے بھی پاک ہے۔ تب تک حی 35 سال کا ہوچکا تھا۔ اُس نے سب سے اعلا ’’عامل‘‘ (خالق) کو ایک ایسی ہستی سمجھا، جس کا وجود لازمی ہے، اور اُس کا علم صرف انسان کی روحانی حقیقت کے ذریعے ممکن ہوا، نہ کہ اُس کے حسی اعضا کے ذریعے۔
حی موت تک اُس ’’لازمی موجود ہستی‘‘ کے روحانی تصور میں وقت گزارنا چاہتا تھا، تاکہ اُسے اُس کا دیدار نصیب ہو۔ چوں کہ جسمانی ضروریات پوری کیے بغیر زندگی ممکن نہیں، اس لیے اُس نے نیک اعمال اور اپنے جسم اور کپڑوں کو صاف رکھ کر آسمانی اجسام کی نقل کی۔ روحانی تفکر حاصل کرنے کے لیے اُس نے تمام جسمانی تعلقات سے خود کو کاٹ لیا اور کئی دنوں تک تنہائی کی زندگی اختیار کی۔ تب تک حی 50 سال کی عمر کو پہنچ چکا تھا۔
آگے ابنِ طفیل دو آدمیوں، سلمان اور اسال کا تذکرہ کرتے ہیں، جو حی کے پڑوسی جزیرے پر رہتے تھے اور اسلام کی پیروی کرتے تھے۔ سلمان مذہب کے ظاہری پہلو پر چل کر وہاں کا حکم ران بن گیا، جب کہ اسال، جس کا رجحان تصوف اور باطنی پہلو کی طرف تھا، تنہائی میں عبادت کے لیے حی کے (غیر آباد سمجھے جانے والے) جزیرے پر آیا۔ وہ خود بھی زاہدانہ (Ascetic) زندگی گزار رہا تھا۔
حی غار میں کئی دن مراقبہ کرتا اور صرف ہفتے میں ایک بار بھوک مٹانے اور پیاس بجھانے باہر آتا تھا۔ ایک دن اسال نے اُسے دیکھا اور تنہائی بچانے کے لیے بھاگ گیا۔ حی نے بھی اسال کو دیکھا، جو اُس کی زندگی کا پہلا انسان تھا۔ حی نے اسال کے قریب جا کر اشاروں سے بات کی۔ اسال نے اُسے کھانا دیا اور آہستہ آہستہ اپنی زبان سکھائی۔ حی نے اپنی کہانی سنائی، تو اسال حیران رہ گیا کہ اُس نے از خود وہ روحانی سچائیاں پالیں جو اُسے مذہب سے علامتی طور پر معلوم تھیں۔ اسال نے اُسے ولی اور اپنا رَہ نما مانا۔ حی نے بھی اسال سے معاشرے اور مذہب کا علم حاصل کیا، اسلام کی حقانیت کو مانا اور نبی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر ایمان لاکر پیروی کا وعدہ کیا۔
تاہم، حی کو نبی کے مذہب پر کچھ تحفظات تھے: مذہب کی سچائیوں کو استعاروں اور تمثیلوں میں کیوں بیان کیا گیا؟ دنیاوی نفسانی لذتوں کی اجازت کیوں ہے اور سزاؤں کا نظام کیسے درست ہے؟
وہ اپنے خیالات پھیلانے اسال کے جزیرے گیا، مگر حیرت اور مایوسی سے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اُس کی تعلیمات کو ناگوار اور ناقابلِ فہم سمجھتے ہیں۔ تب اُسے یقین ہوگیا کہ عوام خالص مذہب اور فلسفے کی گہرائی نہیں سمجھ سکتے؛ اُن کے لیے رسول کا لایا ہوا مذہب ہی درست راستہ ہے۔ اُن کی نجات اسی میں ہے۔ اُس نے اپنی حماقت کو سمجھا اور اسال کے ساتھ، خدا کے دیدار کی امید میں عبادت اور غور و فکر کی زندگی گزارنے کے لیے اپنے جزیرے واپس چلا گیا۔
حی بن یقظان کی کہانی ایک تمثیل ہے۔ ابن طفیل کے مطابق، فلسفہ اور مذہب دونوں کا مقصد ایک ہی سچ ہے، لیکن فلسفہ ’’باطنی‘‘ ہے (صرف چند خاص ذہین لوگوں کے لیے)۔ عوام کے لیے مذہب ہے، جو ظاہری ہے اور سمجھانے کے لیے علامتوں کا سہارا لیتا ہے۔
ابن طفیل نے کائنات میں تبدیلیوں اور ’’لامحدود سلسلے‘‘ سے بچنے کے لیے ’’پہلی وجہ‘‘ (First Cause) یعنی خدا کا تصور پیش کیا۔ دوسرا طریقہ، افراد کے صوفیانہ تجربات اور وجدان ہے، جو ذاتی اور ناقابلِ بیان ہوتے ہیں۔
ابن طفیل ’’نظریۂ صدور‘‘ (Emanation) کے قائل ہیں، جس کے مطابق روح، خدا کے غیر مادی جوہر سے نکلتی ہے، بالکل ایسے جیسے سورج سے روشنی نکلتی ہے۔ اس سے خدا کے کمال میں کوئی فرق نہیں آتا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے