کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کا راستہ علم، تحقیق، فکری بالیدگی اور معیاری تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔ جامعات محض ڈگریاں تقسیم کرنے والے ادارے نہیں ہوتیں، بل کہ یہ وہ علمی مراکز ہیں، جہاں قوموں کا مستقبل تشکیل پاتا ہے، نئی نسل کے اذہان میں سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ ایسے میں کسی جامعہ کی قیادت ایک ایسے شخص کے سپرد ہونا جو علمی تحقیق، بین الاقوامی تجربے اور فکری مباحث سے گہری وابستگی رکھتا ہو، ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین کا یونیورسٹی آف سوات، چارباغ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے تقرر بھی اسی تناظر میں توجہ کا مستحق ہے۔ ان کا علمی و تحقیقی سفر محض تدریسی سرگرمیوں تک محدود نہیں، بل کہ سیاسی سماجیات، سماجی تحریکوں، امن و تنازعات، شناخت پر مبنی سیاست اور جنوبی ایشیا میں فکری و نظریاتی تحریکوں جیسے اہم موضوعات تک پھیلا ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سماجی و سیاسی معاملات میں ان کی دل چسپی بھی ان کے علمی دائرۂ کار کا حصہ ہے۔
علمی سفر، جو بین الاقوامی اُفق تک پھیلا ہوا ہے:
ڈاکٹر حسن الامین نے اپنی علمی صلاحیتوں کا اظہار قومی سطح کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی علمی حلقوں میں بھی کیا ہے۔ انھوں نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز، ایراسمس یونیورسٹی روٹرڈیم سے ترقیاتی مطالعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جہاں ان کی تخصصی توجہ سیاسی سماجیات پر مرکوز رہی۔
ڈاکٹر صاحب کے تحقیقی سفر میں امریکہ کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور اسٹاکٹن یونیورسٹی سے وابستہ فل برائٹ وزٹنگ ریسرچ فیلوشپ، جب کہ جرمنی کی فری یونیورسٹی برلن میں یورپی کمیشن کی معاونت سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ جیسے اہم علمی مواقع شامل ہیں۔ یہ تجربات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ان کی علمی دل چسپی پاکستان کے داخلی مسائل تک محدود نہیں، بل کہ وہ عالمی سطح پر جاری سماجی، سیاسی اور فکری مباحث سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی تحقیق میں نوجوانوں کی سیاسی و سماجی سرگرمیاں، پاک افغان سرحدی خطے میں نوجوانوں کی متحرک حیثیت، اسلامی سماجی تحریکیں اور عالم گیریت کے زیرِ اثر معاشرتی تبدیلیاں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ پشتون نوجوانوں کی سیاسی بیداری اور نئی قوم پرستی کے موضوع پر ان کا تحقیقی کام بھی اسی فکری تسلسل کا حصہ رہا ہے۔
تدریس، تحقیق اور علمی قیادت کا تجربہ:
پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین کا پیشہ ورانہ سفر مختلف اہم علمی و تحقیقی اداروں سے وابستہ رہا ہے۔ وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبۂ سیاست و بین الاقوامی تعلقات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسی جامعہ کے اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر بھی انھوں نے ذمہ داریاں نبھائیں، جہاں بین العلومی تحقیق، مکالمے اور پالیسی سے متعلق علمی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا کام کیا جاتا ہے۔
بعد ازاں ڈاکٹر صاحب نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبۂ امن و تنازعات کے سربراہ اور پروفیسر رہے۔ ان کا علمی سفر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز (NIPS) کی سربراہی تک بھی پہنچا، جہاں ان کی توجہ پاکستان کی تاریخ، سیاست، معاشرت اور قومی معاملات کے تحقیقی مطالعے پر مرکوز رہی۔
ڈاکٹر صاحب کی علمی خدمات کا ایک نمایاں پہلو طلبہ کی رَہ نمائی ہے۔ دست یاب تعارفی معلومات کے مطابق، وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے 60 سے زائد محققین کی نگرانی کرچکے ہیں۔ ان کے نام متعدد تحقیقی مقالات اور کتابیں بھی منسوب ہیں، جو ان کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہیں۔
یونیورسٹی آف سوات: ایک ادارہ، کئی امکانات:
وائس چانسلر کا منصب محض انتظامی سربراہی کا نام نہیں؛ یہ ایک جامعہ کی علمی سَمت، تحقیقی ترجیحات، تدریسی معیار اور ادارہ جاتی ماحول کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یونیورسٹی آف سوات کے لیے بھی یہ موقع اہمیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی پروگراموں کو مزید مؤثر بنائے، تحقیق کے نئے دروازے کھولے، اساتذہ اور طلبہ کے لیے علمی مواقع بڑھائے اور قومی و بین الاقوامی جامعات کے ساتھ روابط کو مضبوط کرے۔
سوات اپنی تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ایک منفرد خطہ ہے۔ یہاں کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں؛ ضرورت ایسے تعلیمی ماحول کی ہے، جہاں انھیں جدید علوم، تحقیقی وسائل، معیاری تدریس اور عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ مواقع میسر آئیں۔
ڈاکٹر صاحب کے سامنے بھی بنیادی چیلنج یہی ہوگا کہ وہ اپنے علمی و تحقیقی تجربے کو جامعہ کی ضروریات کے مطابق کس طرح بروئے کار لاتے ہیں؟ تحقیقی ثقافت کا فروغ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، طلبہ کی علمی رَہ نمائی، جدید علوم سے ہم آہنگ نصاب اور یونیورسٹی کی قومی و بین الاقوامی سطح پر علمی شناخت کو مستحکم کرنا ایسے شعبے ہیں، جن میں مسلسل توجہ کی ضرورت رہتی ہے۔
بالخصوص چارباغ میں واقع اس جامعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقامی نوجوانوں کو معیاری اعلا تعلیم کے ساتھ تحقیق، اختراع اور روزگار سے متعلق عملی امکانات بھی فراہم کرے۔
اصل کام یابی نتائج سے پہچانی جائے گی:
علمی شخصیات کا اصل تعارف ان کے عہدوں سے نہیں، بل کہ ان اداروں پر مرتب ہونے والے اثرات سے ہوتا ہے جن کی قیادت انھیں سونپی جاتی ہے۔ بین الاقوامی فیلوشپس، تحقیقی مقالے، کتابیں اور تدریسی تجربات یقیناً کسی علمی شخصیت کے سفر کے اہم اجزا ہیں، تاہم ادارہ جاتی قیادت کی کام یابی کا پیمانہ اس سے آگے بڑھ کر طلبہ کے لیے پیدا ہونے والے مواقع، تحقیق کے معیار، تدریسی ماحول اور ادارے کی مجموعی ترقی میں تلاش کیا جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین کے تقرر کے ساتھ یونیورسٹی آف سوات سے وابستہ اساتذہ، طلبہ، والدین اور اہلِ علاقہ کی توقعات بھی فطری ہیں۔ ان توقعات کو عملی صورت دینے کے لیے شفاف انتظامی فیصلے، علمی آزادی کا احترام، میرٹ کی پاس داری اور تعلیمی ترجیحات کا واضح تعین بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ جامعہ کی ترقی کو محض عمارتوں، منصوبوں اور اعداد و شمار تک محدود نہ رکھا جائے، بل کہ اس کی اصل روح یعنی علم، تحقیق، سوال، مکالمہ اور تنقیدی شعور کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
ایک نئی ذمے داری، ایک نئی امید:
پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین کا علمی سفر قومی اور بین الاقوامی اداروں سے گزرتا ہوا اب یونیورسٹی آف سوات، چارباغ کی قیادت تک پہنچا ہے۔ ان کا تقرر اس اعتبار سے اہم ہے کہ ان کے پاس تدریس، تحقیق، علمی مکالمے اور ادارہ جاتی نظم و نسق کا متنوع تجربہ موجود ہے۔
اب نگاہیں اس امر پر مرکوز ہوں گی کہ یہ تجربہ یونیورسٹی آف سوات کے علمی مستقبل کو کس حد تک نئی جہت دیتا ہے؟ اگر تحقیق کو ترجیح، نوجوانوں کو مواقع، اساتذہ کو سازگار ماحول اور ادارے کو واضح علمی سَمت میسر آتی ہے، تو اس کے ثمرات صرف جامعہ تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ پورے سوات کے تعلیمی اور سماجی مستقبل پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
جامعات کی اصل عظمت ان کے منصب داروں کے ناموں سے نہیں، بل کہ ان کے علمی ماحول، تحقیق کے معیار اور فارغ التحصیل نوجوانوں کی صلاحیتوں سے پہچانی جاتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین کے لیے نئی ذمے داریوں میں کام یابی اور یونیورسٹی آف سوات کے لیے علمی ترقی، تحقیقی وسعت اور روشن مستقبل کی نیک تمنائیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










