ملتان، دوڑتا یتیم بچہ اور بے حس نظام

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

جس امت کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود یتیمی کا کرب جھیلا، جس دین نے یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کو نیکی اور اس کے حقوق پامال کرنے کو سنگین جرم قرار دیا، اُسی امت کا ایک پندرہ سالہ یتیم ’’وسیم‘‘ ملتان کی گلیوں میں اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتا رہا۔ وہ پوری قوت، پوری ہمت اور اپنی زندگی کی آخری رمق تک بھاگتا رہا۔ اس کے پیچھے ایک گاڑی تھی اور آگے زندگی کی ایک ایسی امید، جس کا شاید اسے خود بھی یقین نہ رہا ہو۔
بالآخر وہ تھک گیا، ایک طرف مڑا، اور گاڑی نے اُسے کچل ڈالا۔ وہ زمین پر بے جان پڑا رہا اور ملزمان اُس کے قریب کھڑے رہے، گویا کسی انسان کی نہیں، کسی بے جان شے کی موت ہوئی ہو۔
مگر اس واقعے کا سب سے دردناک پہلو صرف ایک معصوم جان کا چلے جانا نہیں، بل کہ وہ سوال ہے، جو اس سانحے نے ہر حساس دل کے سامنے کھڑا کر دیا ہے: ’’وسیم آخر بھاگ کس کی طرف رہا تھا؟‘‘
اس دنیا میں اُس کا اپنا کون تھا؟ باپ کا سایہ پہلے ہی سر سے اٹھ چکا تھا۔ ماں بھی اُسے اپنے ساتھ رکھنے سے قاصر تھی۔ چچا نے اُسے یتیم خانے میں داخل کروا دیا تھا اور وہاں سے اُسے ایک ٹھیکے دار کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ جس معاشرے میں ایک یتیم بچے کو تحفظ، محبت اور شفقت ملنی چاہیے تھی، وہاں وہ اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ رہا تھا۔
ذرا تصور کیجیے، 15 برس کا ایک بچہ، جس کی عمر کتابوں، کھیلوں، تعلیم اور خواب دیکھنے کی ہوتی ہے، جب موت کو اپنے پیچھے آتا دیکھتا ہوگا، تو اُس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ کس کو پکارتا ہوگا؟ کس دروازے پر دستک دینے کا سوچتا ہوگا؟ کس چہرے میں اُسے پناہ کی امید دکھائی دیتی ہوگی؟
شاید وہ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں تھا، شاید کسی ایسے انسان کی امید میں دوڑ رہا تھا، جو اسے بچا لے، یا شاید وہ صرف زندہ رہنا چاہتا تھا… لیکن افسوس کہ اس کے لیے زمین پر کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہ رہی۔
یہ خیال ہی روح کو زخمی کر دیتا ہے کہ جس بچے کے لیے دنیا میں کوئی مضبوط سہارا موجود نہ تھا، وہ اپنی جان بچانے کے لیے آخری لمحے تک دوڑتا رہا، مگر زندگی نے اسے مہلت نہ دی۔ اللہ تعالیٰ اُس معصوم پر اپنی رحمت فرمائے۔
قاتل کا انجام، مگر نظام کے لیے کئی سوال:
وسیم کے قتل کے الزام میں گرفتار شخص کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے چہار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ تاہم بعد ازاں اطلاعات کے مطابق ملزم پولیس سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران میں پولیس مقابلے میں مارا گیا اور یوں وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
بلاشبہ ایک معصوم بچے کی جان لینے کا الزام انتہائی سنگین ہے، اور ایسے جرم پر قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔ ملزم کی موت کے بعد بھی اصل سوال باقی ہے: کیا وسیم جیسے دوسرے یتیم بچوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے ہمارا نظام کچھ بدلے گا؟
سوال صرف ایک شخص کا نہیں، پورے نظام کا ہے:
کسی ملزم کا انجام اپنی جگہ، مگر کیا ایک ملزم کی موت سے یتیم بچوں کے عدم تحفظ کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟
کیا ہم ہر سانحے کے بعد چند دن افسوس، مذمت اور سوگ کے الفاظ ادا کرکے اپنی ذمے داری پوری کرلیتے ہیں؟
کیا ہمارا اجتماعی ضمیر اُسی وقت جاگتا ہے، جب کسی معصوم کی لاش سڑک پر پڑی ہو اور اُس کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے؟
اگر کسی معاشرے میں خوفِ خدا کم زور پڑ جائے، انسانی جان کی حرمت پامال ہونے لگے، کم زور کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو اور قانون کا نفاذ مؤثر و بروقت نہ ہو، تو ایسے سانحات ہمارے اجتماعی نظام کی کم زوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
یتیم خانے محض بچوں کو چھت فراہم کرنے کے لیے نہیں ہوتے؛ اُن کی ذمے داری بچوں کو تحفظ، تعلیم، تربیت اور عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر کسی بچے کو کسی ٹھیکے دار یا دوسرے فرد کے سپرد کیا جاتا ہے، تو اس کی نگرانی، حفاظت اور حقوق کے تحفظ کا واضح انتظام ہونا چاہیے۔ کسی یتیم بچے کی مجبوری کو اس کی بے بسی سمجھ کر اس کا استحصال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔
اب عملی اقدامات کا وقت ہے:
وسیم کی موت پر آنسو بہانا انسانی ہم دردی ہے، لیکن اُس کی موت سے سبق سیکھنا ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ
یتیم خانوں اور بچوں کی نگہ داشت کرنے والے اداروں کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے۔
بچوں کو کام کے لیے کسی فرد کے حوالے کرنے کے معاملات کی قانونی نگرانی یقینی بنائی جائے۔
بچوں پر تشدد، جبری مشقت اور استحصال کی شکایات کے لیے فوری اور قابلِ رسائی نظام بنایا جائے۔
بچوں کے تحفظ کے اداروں کو فعال کیا جائے اور شکایات پر بروقت کارروائی کی جائے۔
یہ اقدامات محض سرکار فائلوں تک محدود نہیں رہنے چاہییں۔ ان پر عمل درآمد کی نگرانی بھی ضروری ہے، کیوں کہ قانون کی اصل طاقت اس کے الفاظ میں نہیں، اس کے منصفانہ نفاذ میں ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے امتی ہیں، جنھوں نے یتیموں کے حقوق کی تعلیم دی، کم زوروں پر رحم کرنے کا درس دیا اور انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک کو اخلاقی عظمت قرار دیا۔ پھر ہم کیسے ایسے معاشرے پر مطمئن ہوسکتے ہیں، جہاں ایک یتیم بچہ اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتا رہے اور اسے بچانے والا کوئی نہ ہو؟
وسیم اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ اُس کے خواب، اُس کی امیدیں اور اُس کی زندگی کے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔ ملزم بھی پولیس مقابلے میں مارا جاچکا ہے، مگر اس عمل سے وہ سوال ختم نہیں ہوتے، جو اس سانحے نے ہمارے سامنے رکھے ہیں۔ کیا ہم اس واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر بھول جائیں گے؟
کیا چند روز سوگ منانے کے بعد اگلے سانحے کا انتظار کریں گے… یا اس موقع کو یتیم بچوں کے تحفظ، اداروں کی جواب دہی اور قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک سنجیدہ موڑ بنائیں گے؟
اگر خوفِ خدا رخصت ہو جائے، قانون کی گرفت کم زور پڑ جائے اور ادارے اپنی ذمے داری پوری نہ کریں، تو پھر ہر روز کوئی نہ کوئی کم زور ظلم کا نشانہ بنتا رہے گا۔ ہم چند دن افسوس کریں گے، سوشل میڈیا پر مذمت کریں گے، پھر زندگی معمول پر آ جائے گی، لیکن کسی گھر کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ چکا ہوگا۔
وسیم کی موت کو محض ایک سانحہ نہیں، ایک اجتماعی تنبیہ سمجھنا چاہیے۔ قاتل کا انجام اپنی جگہ، مگر اصل کام یابی اُس دن ہوگی، جب ہمارا نظام کسی دوسرے وسیم کو بے یار و مددگار مرنے سے بچا سکے گا۔ کیوں کہ یتیم کے لیے سب سے بڑی محرومی صرف باپ کا سایہ اٹھ جانا نہیں، بلکہ اس معاشرے کا بے حس ہو جانا بھی ہے جس سے اسے تحفظ کی امید ہوتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے