قانون کی بالادستی یا امتیازی سلوک؟

Blogger Abdul Wadood

ایک زمانہ تھا، جب تجاوزات کو ’’ناجائز تجاوزات‘‘ کہا جاتا تھا اور اس اصطلاح پر اعتراض بھی کیا جاتا تھا، مگر آج حالات ایک اہم سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا تجاوزات بھی جائز اور ناجائز ہوتی ہیں؟
کیا قانون کی نظر میں تجاوزات کرنے والے کی مالی حیثیت، سماجی مرتبے یا سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کوئی فرق ہونا چاہیے؟
اس بحث سے پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب ضروری ہے کہ آخر تجاوزات قائم کیسے ہوتی ہیں اور انھیں برسوں تک پنپنے کی اجازت کون دیتا ہے؟
تجاوزات ایک دن میں بنتی ہیں، نہ ایک رات میں۔ ان کی تعمیر اور توسیع میں مہینے، بل کہ سال لگ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس دوران میں حکومت، متعلقہ ادارے اور ذمے دار سرکاری اہل کار کہاں ہوتے ہیں؟
جب غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہوتی ہیں، تو انھیں روکا کیوں نہیں جاتا… اور جب لوگ ان مقامات سے اپنا روزگار وابستہ کرلیتے ہیں، تو اچانک بلڈوزر چلا کر سب کچھ ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
روزگار کی تباہی، متبادل کون دے گا؟
بلاشبہ غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن اس عمل میں انسانی اور معاشی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
جن لوگوں کا روزگار برسوں سے ان مقامات سے وابستہ ہے، تجاوزات ہٹانے کے بعد وہ کہاں جائیں گے… ان کے اہلِ خانہ کا گزر بسر کیسے ہوگا… کیا حکومت نے ان کے لیے کسی متبادل انتظام پر غور کیا ہے؟
اگر ابتدا ہی میں تجاوزات کو روک دیا جاتا, تو یہ لوگ اپنے کاروبار کے لیے قانونی راستے اختیار کرلیتے۔ مگر برسوں کی سرکاری خاموشی نے انhیں اسی روزگار پر انحصار کرنے دیا۔ اب اچانک کارروائی سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل کی ذمے داری کون قبول کرے گا؟
صرف تجاوزات نہیں، ذمے دار اہل کاروں کا بھی احتساب ہو:
دوسرا اہم سوال سرکاری اداروں اور اہل کاروں کے احتساب کا ہے۔ جن افسران اور اہل کاروں کی ذمے داری تجاوزات کو روکنا تھی، اُن کی موجودگی میں یہ غیر قانونی سرگرمیاں کیسے جاری رہیں… کیا ان کی غفلت، چشم پوشی یا ممکنہ ملی بھگت کی تحقیقات نہیں ہونی چاہییں؟
تجاوزات گرانے کے ساتھ ان کے قیام میں ملوث یا غفلت کے مرتکب سرکاری اہل کاروں کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ محض عمارتیں گرا دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ جب تک ذمے داروں کو قانون کے مطابق سزا نہیں ملے گی، تجاوزات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تجاوزات ہٹانے کا خرچ عوام کیوں اٹھائیں؟
تیسرا اہم مسئلہ تجاوزات کے خلاف آپریشن پر اٹھنے والے سرکاری اخراجات کا ہے۔ آخر تجاوزات ہٹانے کے لیے سرکاری خزانے پر بوجھ کیوں ڈالا جائے؟ بلدیہ، پولیس، انتظامیہ اور دیگر سرکاری محکموں کی بھاری نفری اس کام میں مصروف ہوجاتی ہے، جس سے معمول کے انتظامی امور بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اُصولی طور پر تجاوزات قائم کرنے والوں کو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے انھیں خود ہٹانے کا پابند بنایا جائے، جب کہ آپریشن کے اخراجات بھی قانون کے مطابق ذمے دار افراد سے وصول کیے جائیں۔
اسی طرح جن افسران کے دور میں تجاوزات قائم ہوئیں، ان کی ذمے داری کا تعین کیا جائے۔ اگر غفلت یا ملی بھگت ثابت ہو، تو ان کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی کی جائے اور جہاں قانون اجازت دے، مالی نقصان بھی وصول کیا جائے۔
جائز اور ناجائز تجاوزات کی تفریق ختم ہونی چاہیے:
چوتھا اور نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ تجاوزات کے معاملے میں جائز اور ناجائز کی مصنوعی تقسیم ختم ہونی چاہیے۔ جو تعمیر یا قبضہ قانوناً تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے، اس کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی طبقاتی تفریق یا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
چاہے تجاوزات قائم کرنے والا غریب اور پس ماندہ طبقے سے تعلق رکھتا ہو، کوئی بڑا کاروباری شخص ہو، بااثر شخصیت ہو، سرکاری اہل کار ہو یا کسی سیاسی و انتظامی حلقے سے وابستہ ہو، قانون سب کے لیے یک ساں ہونا چاہیے۔
یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کم زور اور غریب کی دکان یا چھپر تو فوراً گرا دیا جائے، مگر کسی بااثر شخص کی غیر قانونی عمارت، کاروباری مرکز یا سرکاری سرپرستی میں قائم تجاوزات کو نظر انداز کر دیا جائے۔
اگر تجاوزات کے خلاف کارروائی میں بعض افراد کو محض ان کے اثر و رسوخ یا حیثیت کی بنیاد پر استثنا دیا گیا، تو اس سے عوام میں بے چینی، احساسِ محرومی اور مایوسی پیدا ہوگی۔ ایسے امتیازی رویے سے نہ صرف اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر ہوگا، بل کہ قانون کی بالادستی کا بنیادی مقصد بھی کم زور پڑ جائے گا۔
تجاوزات کے خاتمے کا اصل مقصد کیا ہے؟
تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مقصد محض تعمیرات گرانا یا دکانیں بند کرانا نہیں ہونا چاہیے، بل کہ اس کے پیچھے چند واضح عوامی مفادات اور اجتماعی مقاصد ہونے چاہییں۔
ان میں قانون کی بالادستی قائم کرنا، شہریوں کے لیے راستوں اور عوامی مقامات کو کشادہ اور قابلِ استعمال بنانا، ٹریفک کی روانی بہتر کرنا، حادثات کی روک تھام، پیدل چلنے والوں کی حفاظت، عوامی سہولتوں میں اضافہ اور شہری ماحول کو صاف ستھرا اور بہتر بنانا شامل ہیں۔
یہ تمام مقاصد اسی وقت صحیح معنوں میں حاصل کیے جاسکتے ہیں، جب تجاوزات کے خلاف کارروائی شفاف، منصفانہ اور بلا امتیاز ہو۔
اگر ایک طرف غریب کا روزگار ختم کیا جائے اور دوسری طرف بااثر افراد کی تجاوزات برقرار رہیں، تو نہ راستے مکمل طور پر کھل سکیں گے، نہ شہری سہولتوں میں مطلوبہ بہتری آئے گی اور نہ عوام کو قانون کی یک ساں عمل داری کا یقین ہوگا۔
مسئلے کا مستقل حل بلڈوزر نہیں، قانون کی یکساں عمل داری ہے:
تجاوزات کا خاتمہ یقیناً ضروری ہے، لیکن اس کے لیے ایک جامع، منصفانہ اور مستقل حکمتِ عملی درکار ہے۔ متاثرہ افراد کے روزگار کا مناسب متبادل، ذمے دار اہل کاروں کا احتساب، سرکاری اخراجات کی وصولی اور بلاامتیاز قانونی کارروائی اس حکمتِ عملی کے بنیادی ستون ہونے چاہییں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قانون کا احترام صرف کم زور طبقے سے نہیں کرایا جاسکتا۔ قانون کی اصل طاقت اس کی یک ساں عمل داری میں ہے، نہ کہ محض بلڈوزر کی طاقت میں۔
اصل کامیابی تجاوزات کو گرانے میں نہیں، بل کہ ایسا نظام قائم کرنے میں ہے، جس میں تجاوزات بننے ہی نہ پائیں، اور اگر کہیں قائم ہوں، تو قانون بلاامتیاز حرکت میں آئے۔
کیوں کہ سوال صرف یہ نہیں کہ تجاوزات کس نے بنائیں، بل کہ اصل سوال یہ بھی ہے کہ جب تجاوزات بن رہی تھیں، تو انھیں روکنے والے کہاں تھے… اور اب جب انہیں ہٹایا جا رہا ہے، تو کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے