ملک کے طول و عرض میں روزانہ کہیں نہ کہیں الم ناک حادثات اور دل خراش واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال میں بچوں کی نرسری میں آگ لگنے کا الم ناک حادثہ پیش آیا، جس میں درجنوں بچے جل کر شہید ہوگئے۔ اس کے بعد لاہور میں ایک اسکول کی چھت طلبہ پر گرنے کا سانحہ پیش آیا، جس میں کئی بچے شہید اور زخمی ہوئے۔
ابھی چند روز قبل لاہور کے ایک اسپتال میں بھی بچوں کی نرسری میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں کئی بچے شہید اور زخمی ہوگئے۔ 15 اکتوبر 2026ء کو پشاور کی دیر کالونی میں ایک نجی تعلیمی ادارے کی سہ منزلہ عمارت منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں دو خواتین اساتذہ سمیت 35 بچے شہید ہوگئے، جن کی عمریں تقریباً 13 سال بتائی جاتی ہیں، جب کہ 52 کے قریب بچے زخمی ہوگئے۔
اس قومی المیے کو خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی کہ ملک میں رونما ہونے والے ہر حادثے، سانحے اور واقعے کے بعد، خواہ وہ ٹریفک کا حادثہ ہو، نجی و سرکاری عمارتوں میں آگ لگنے یا ان کے منہدم ہونے کا سانحہ ہو، یا قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا کوئی واقعہ، ہمارے حکم رانوں کی بے حسی قابلِ دید ہوتی ہے۔ کسی بھی واقعے، حادثے یا سانحے کے بعد اُن کے صرف مذمتی بیانات سننے کو ملتے ہیں۔ ہر بار ملوث کرداروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور انھیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم دہرایا جاتا ہے، جب کہ عوام کو یہ مژدہ بھی سنایا جاتا ہے کہ کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ملزمان تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلے انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ایسے افراد کو کمیٹی کا کرتا دھرتا بنا دیا جاتا ہے، جن کے خود ان واقعات، سانحات یا حادثات میں کسی نہ کسی صورت ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ چند روز بعد ایک اور ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جاتی ہے اور یوں انکوائری سرخ فیتے کی نذر ہوجاتی ہے۔
حکم رانوں کی بے حسی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ انسانی جانوں کو دولت کے ترازو میں تولتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضوں کا اعلان کردیا جاتا ہے، جب کہ شہید ہونے والوں کے جنازوں میں شرکت کو حکم ران اپنا آئینی فرض سمجھتے ہیں۔ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صوبائی حکومت ورثا میں دو کروڑ روپے سے زیادہ رقم تقسیم کرچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ان نونہالانِ قوم کی زندگیوں کی قیمت محض چند کاغذی نوٹ ہیں؟ ان میں سے کل کسی نے عبدالقدیر بننا تھا، کسی نے شعبۂ صحت میں اپنے کردار ادا کرنا تھا، کوئی انجینئر بننا چاہتا تھا، کوئی بیوروکریٹ بننے کا خواہش مند تھا اور کسی کی آرزو تھی کہ وہ شعبۂ معیشت میں اپنا کردار ادا کرے، لیکن ان خوابوں اور امنگوں کو کاغذ کے نوٹوں میں تول دیا گیا۔
سانحۂ پشاور کے بعد سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو فوری طور پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے رکن اور پرائیویٹ اسکولز نیٹ ورک کے صدر فضل اللہ داؤدزئی کا کہنا ہے کہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس کی روشنی میں ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اس سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
مقامی پولیس نے بھی کارروائی ڈالتے ہوئے مالکان، ٹھیکے دار اور شیئر ہولڈرز کے خلاف قتل سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 148، 322 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے، جب کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ہمارے ہاں المیہ یہ بھی ہے کہ ہم سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے لگتے ہیں۔ ماضی کی طرح پشاور میں نجی اسکول کے سانحے کے بعد صوبائی حکومت نے صوبے بھر کے تمام اسکولوں کی نگرانی کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ نجی اسکولوں کو چھوڑ بھی دیا جائے، تو صوبے کے بیش تر سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہوچکی ہیں۔ مقامی لوگ بارہا مقامی اور صوبائی حکام کی توجہ ان اسکولوں کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن حکم رانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
ضلع ملاکنڈ میں بھی صوبائی حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ نے تمام تعلیمی سربراہان کا اجلاس اپنے دفتر میں طلب کیا اور انھیں ضلع بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے بارے میں رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ والدین اور سماجی کارکن ضلع کے ان تمام سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی نشان دہی کرتے رہے ہیں، لیکن ذمے داران اپنی ذمے داری پوری کرنے سے کنی کتراتے رہے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کو مقررہ معیار کے مطابق از سرِ نو تعمیر کیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے الم ناک سانحات سے بچا جاسکے۔ تاہم، ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اگر ہر سانحے کے بعد محض مذمتی بیانات، انکوائری کمیٹیوں، معاوضوں اور عارضی احکامات ہی پر اکتفا کیا جاتا رہا، تو انسانی جانوں کے ضیاع کا یہ سلسلہ کیسے رکے گا؟ سوال یہ نہیں کہ سانحے کے بعد کیا اعلان کیا گیا، بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ سانحے سے پہلے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے…؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










