رفاقت اور محبت کے امین… ملگری استاذان 

Blogger Noor Muhammad Kanju

انسان معاشرتی حیوان ہے اور اس کی بقا، ترقی اور استحکام کا تمام تر انحصار باہمی ربط، تنظیم اور اتفاق و اتحاد پر قائم ہے۔ تاریخِ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم، طبقت یا معاشرے نے پراگندگی کے بہ جائے تنظیم کا دامن تھاما اور بکھرنے کے بہ جائے اتحاد کی راہ اختیار کی، تو کامیابیوں اور کامرانیوں نے ان کے قدم چومے۔ اتفاق و اتحاد محض ایک نظریاتی مفهوم یا کاغذ پر لکھا گیا لفظ نہیں، بل کہ یہ ایک زندہ طاقت ہے جو کم زوروں کو توانا، منتشر گروہوں کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت اور بکھری ہوئی صلاحیتوں کو ایک عظیم مقصد کے لیے مجتمع کر دیتی ہے۔ تنظیم دراصل کسی بھی بیدار مغز معاشرے کی وہ روح ہے، جو افراد کو ایک نظم، ترتیب اور باہم مربوط رشتے میں پروئے رکھتی ہے۔ جب افراد میں باہمی محبت، خلوص، احترام اور یک جہتی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں، تو ان کے درمیان حائل تمام تر تفریقات، ذاتی مفادات اور فاصلے خود بہ خود مٹ جاتے ہیں۔
خصوصاً تعلیم و تدریس سے وابستہ افراد، جنھیں قوم کا معمار اور معاشرے کا دماغ قرار دیا جاتا ہے، کے لیے تنظیم اور باہمی اتفاق کی اہمیت دیگر تمام طبقوں سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اساتذۂ کرام صرف علم بانٹنے والے ہی نہیں ہوتے، بل کہ وہ اخلاق، کردار اور اجتماعی شعور کے پاسبان بھی ہوتے ہیں۔ اگر معمارانِ ملت خود منتشر ہوں، یا باہمی یگانگت سے محروم رہیں، تو وہ نسلِ نو کو اتحاد و یگانگت کا درس کیسے دے سکتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ برادری کا ایک پرچم تلے متحد ہونا، ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہونا اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے پیش پیش رہنا وقت کی اہم ترین ضرورت اور ایک بیدار معاشرے کی قوی علامت ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض روایات محض رسم و رواج نہیں ہوتیں، بل کہ باہمی محبت، اُخوت، خلوص اور یک جہتی کی ایسی حسین علامت بن جاتی ہیں، جو دلوں کو قریب اور رشتوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ جب روزمرہ کی سخت نصابی و تدریسی مصروفیات کے درمیان اساتذہ کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم اور موقع فراہم کیا جاتا ہے، جہاں وہ ذہنی تھکاوٹ دور کر سکیں، تو یہ عمل نہ صرف اُن کی روح کو تازگی بخشتا ہے، بل کہ اُن کے پیشہ ورانہ تعلقات کو ایک نئی زندگی بھی عطا کرتا ہے۔ ملگری استاذان تحصیل کبل سوات کی جانب سے ہر سال اساتذۂ کرام کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی ایسی ہی ایک قابلِ قدر اور لائقِ تحسین روایت بن چکا ہے، جو اساتذہ برادری کو باہم مل بیٹھنے، ایک دوسرے کے احوال سے آگاہ ہونے، تعلیمی مسائل پر گفت گو کرنے اور محبت و یگانگت کے رشتوں کو مزید مستحکم کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔
اسی خوب صورت، متحرک اور روایتِ بندگی کو برقرار رکھتے ہوئے امسال بھی بہ روزِ ہفتہ، 17 اکتوبر کو ایک مقامی ریسٹورنٹ میں شان دار ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جس میں تحصیل کبل کے مختلف، دور دراز اور دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے اساتذۂ کرام نے کثیر تعداد میں جوش و خروش سے شرکت کی۔ ریسٹورنٹ کا ماحول اساتذہ کی موجودگی سے معطر تھا اور ہر طرف تبسّم، احترام اور باہمی رفاقت کے دل کش مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ تقریب محض ایک ظہرانہ یا طعام کا اجتماع نہیں تھی، بل کہ یہ باہمی اُخوت، رفاقت، احترام اور اتحادِ اساتذہ کا ایک نہایت دل نشیں اور بیدار مظہر تھی۔ وہاں موجود ہر استاد کے چہرے سے اس بات کا اظہار ہو رہا تھا کہ وہ اپنے اس قبیلے اور تنظیم سے جڑ کر فخر محسوس کر رہے ہیں، اور یہی شے کسی بھی تنظیمی جد و جہد کی اصل روح ہوتی ہے۔
اس پُروقار اور انتہائی کامیاب تقریب کے شان دار انعقاد اور تمام تر بہترین انتظامات کا سہرا خادمِ اساتذہ جناب اصغر خان، صدر ملګری استاذان تحصیل کبل کے سر سجتا ہے، جن کی مخلصانہ قیادت، بے لوث خدمت اور فعال کردار نے تحصیل کبل کے اساتذۂ کرام کو ایک لڑی میں پرو کر اتحاد و اتفاق کی ایک خوب صورت اور بے مثال، مثال قائم کی ہے۔ انھوں نے اپنی محنت اور حسنِ اخلاق سے ثابت کیا ہے کہ تنظیمی ذمے داری صرف عہدہ سنبھالنے کا نام نہیں، بل کہ اساتذہ کے حقوق کی پاس داری اور ان کے درمیان باہمی اُلفت کو بڑھانے کا ایک مقدس فریضہ ہے۔
بلاشبہ، قیادت کا اصل حسن منصب کی بلندی، تحکمانہ انداز یا ظاہری نمود و نمایش میں نہیں، بل کہ دلوں کو جوڑنے، رفاقتوں کو پروان چڑھانے، تلخیوں کو محو کرنے اور اجتماعی مفاد کے لیے خلوصِ نیت سے کام کرنے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ایک سچا اور مخلص قائد وہی ہوتا ہے جو اپنے ساتھیوں کو طاقت کا احساس دلائے اور ان کے جذبے کو جلا بخشے۔ جناب اصغر خان کی یہ بے لوث کاوشیں، شب و روز کی محنت اور اساتذہ کو ایک چھت تلے جمع کرنے کا جذبہ بلاشبہ قابلِ صد تحسین اور قابلِ تقلید ہے، جو اساتذہ برادری کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
آج کے اس دور میں جہاں انفرادیت اور مادیت کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، اس قسم کی تقریبات اور تنظیمی نشستیں اساتذہ برادری کے لیے اِکسیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان سے نہ صرف اجتماعی توانائی بہ حال ہوتی ہے، بل کہ آیندہ کے تعلیمی و تنظیمی لائحۂ عمل کو تشکیل دینے میں بھی مدد ملتی ہے۔
دعا ہے کہ محبت، اُخوت اور باہمی یگانگت کی یہ روشن شمع ہمیشہ یوں ہی فروزاں رہے، اساتذۂ کرام کا اتحاد دن دُگنی رات چگنی ترقی کرے اور ملګری استاذان تحصیلِ کبل کی یہ خوب صورت، باوقار اور پُرخلوص روایت انے والے برسوں میں بھی اسی جوش، جذبے، خلوص اور مکمل آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری رہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے