دنیا میں جب بھی اور جہاں بھی حسن، دل ربائی، جمال اور تاریخ کے عروج و زوال کا تذکرہ ہوتا ہے، وادیِ سوات کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔ اپنی دل آویز و رومان پرور فضا اور سحر انگیز گرد و پیش کے باعث وادیِ سوات سحر انگیز خطے کی حیثیت رکھتی ہے۔
سوات فلک بوس پہاڑوں، آب شاروں، مچلتی ندیوں، سرسبز کھیتوں اور عطر بیز درّوں کی سرزمین ہے۔ انھی درّوں میں ایک ’’درۂ مرغزار‘‘ کے نام سے بھی معروف ہے۔ ریاستی دور سے پہلے مرغزار ’’مینے‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ 1941ء میں جب ریاستِ سوات کے حکم ران میاں گل عبد الودود المعروف بادشاہ صاحب نے یہاں سفید محل تعمیر کیا، تو اس علاقے کو ’’مرغزار‘‘ کا نام دیا گیا۔
درّۂ مرغزار، کڑئی، چیتوڑ، سپل بانڈئی، گل بانڈئی، شیر اطراف اور اسلام پور پر مشتمل ایک وسیع، زرخیز اور تاریخی خطہ ہے، جو ملاکنڈ ڈویژن کے مرکز سیدو شریف سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس درّے کی سرحدیں جنوب اور جنوب مشرق میں ضلع بونیر سے ملتی ہیں۔ دورِ غزنوی سے پہلے سوات کے دیگر علاقوں کی طرح یہ درّہ بھی ہندو شاہی، بدھ مت اور دوسری تہذیبوں کا گہوارہ رہا۔ اُس کے بعد تقریباً 500 سال تک یہ سواتی پٹھانوں کا مسکن اور ملکیتی علاقہ رہا۔ سواتی پٹھانوں کے بعد جب یوسف زئی اور اُن کے حامی افغان قبائل سوات، بونیر، مردان، صوابی، دیر اور دیگر علاقوں کے سیاہ و سفید کے مالک ٹھہرے، تو درّۂ مرغزار پہلے مندنڑ یوسف زئی اور پھر اخوند گدا کے بیٹے، حضرت اخوند درویزہ، کے حصے میں آیا۔
یاد رہے کہ یہ شیخ ملی بابا کی جانب سے اراضی کی ابتدائی تقسیم کا تسلسل تھا، جس کے تحت اخوند سعدی بابا کو تقسیمِ اراضی میں 30 سڑوں (پشتو میں سڑے مرد کو کہتے ہیں) کا حصہ دیا گیا تھا۔ اخوند سعدی وہ شخصیت ہیں، جنھوں نے یوسف زئی قبیلے کی حمایت میں اپنا گھر بار چھوڑ کر افغانستان سے خیبر پختونخوا ہجرت کی تھی۔ آج تک اُن کی اولاد یوسف زئی قبیلے کے دست و بازو، رشتے دار اور روحانی بزرگ چلی آ رہی ہے… اور یوسف زئی اُنھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اخوند سعدی بابا کی اولاد میں اخوند درویزہ بابا اور اُن کے فرزند اخوند کریم داد بڑے عالمِ بے بدل، صوفی بزرگ اور عظیم شخصیات گزرے ہیں۔ یہ دونوں محض شخصیات نہیں، بل کہ عظیم کردار کے مالک تھے… اور کردار کبھی نہیں مرتے۔ وہ بڑے مفکر، تاریخ و ادب کے اتالیق اور ایک علاحدہ مکتبِ فکر کے علم بردار تھے۔
اخوند درویزہ بابا وہ شخصیت ہیں، جنھوں نے مسلم اُمہ کو پچاس کے لگ بھگ علمی، ادبی اور تاریخی کتب کا سرمایہ عطا کیا۔ پشتونوں میں وہ پہلی شخصیت ہیں، جنھوں نے پشتونوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دینے کے حق میں تحریری مقدمہ لڑا اور اُنھیں اُن ہی کی زبان میں ’’مخزنِ اسلام‘‘ کے نام سے کتاب دی۔
بعینہٖ اُن کے فرزند اخوند کریم داد نے پشتونوں کے درمیان ’’محققِ افغان‘‘ کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ اپنے والد کے حقیقی علمی و قلمی وارث ثابت ہوئے۔ اُنھوں نے نہ صرف اپنے والد کی تصانیف کو ترتیب دیا، بل کہ اُن کے فلسفے کو آگے بڑھایا۔ یہ وہ عظیم شخصیت تھے، جنھوں نے مجدد الف ثانی کے روحانی سایے تلے طریقت کی تعلیم پائی۔ اُنھوں نے اکبر کے ’’دینِ الٰہی‘‘ کے خلاف اپنے مرشد کے شانہ بہ شانہ نعرۂ حق بلند کیا، جیلیں کاٹیں اور دینِ حق کی سربلندی کی خاطر مخالفین کے خلاف لڑتے ہوئے مدین (چورڑئی) کے مقام پر جامِ شہادت نوش کیا۔
فی زمانہ درّۂ مرغزار مختلف قبائل کا مسکن ہے۔ پٹھان، گجر، سادات اور اخوند خیل وغیرہ اسی درے کے نشیب و فراز میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ تاہم، ان میں غالب اکثریت اور حاکمانہ حیثیت کے حامل اخوند خیل ہیں، جو تقریباً پانچ سو سال سے یہاں کے مالکانہ حقوق رکھتے چلے آ رہے ہیں اور حضرت اخوند درویزہ بابا کی اولاد ہیں۔ سادات بھی اسی عظیم مفکر کے مرشد کی اولاد ہیں۔ اسی طرح دیگر قبائل کے ساتھ بھی آپ کی کوئی نہ کوئی روحانی اور علمی نسبت رہی ہے۔
حضرت اخوند درویزہ بابا اور اُن کی اولاد کے ساتھ دلی و روحانی محبت اور عقیدت کا جذبہ آج بھی درّۂ مرغزار کے باسیوں کے سینوں میں تر و تازہ اور موج زن ہے۔ حضرت اخوند درویزہ بابا کے فرزند اخوند کریم داد کے بیٹے، اخوند میاں نور محمد اور اخوند میاں دولت محمد، درّۂ مرغزار کے باشندوں میں کسی کے صلبی تو کسی کے روحانی باپ اور مرشد ہیں۔ سب اُن کے لیے یک ساں محبت و عقیدت رکھتے ہیں، اور وہ سب کے لیے قابلِ قبول ہیں۔
آمدم برسرِ مطلب، پچھلے دنوں درّۂ مرغزار کے داخلی راستے پر، کڑئی پولیس چیک پوسٹ سے گزرتے ہی، سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑے سیمنٹ کے ستونوں پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا کہ خیبر پختونخوا حکومت یہاں ’’بابِ اسلام پور‘‘ یا ’’بابِ درۂ مرغزار‘‘ کے نام سے ایک دروازہ تعمیر کرنا چاہتی ہے۔
باب عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی دروازے کے ہیں۔ ’’دروازہ‘‘ واحد اور ’’دروازے‘‘ اس کی جمع ہے، جب کہ ’’ابواب‘‘، ’’باب‘‘ کی جمع ہے۔ دروازے اور دیواریں مہذب لوگوں کے لیے بنائی اور کھڑی کی جاتی ہیں، جب کہ ابواب کسی بھی عمارت میں داخلے کا آغاز ہوتے ہیں۔ یہی ابواب عمارت کے اندر رہنے والوں کی عزتِ نفس، پردے اور عزت و وقار کے محافظ ہوا کرتے ہیں۔ یہی ابواب گھر کے سربراہ اور بزرگ کی دستارِ افتخار کو جِلا بخشتے اور اسے شرفِ توقیر عطا کرتے ہیں۔
اس وجہ سے ابواب کے نام ایسے رکھے جانے چاہییں، جو اس علمی و روحانی گھرانے کے تاریخی اور علمی ورثے کے ضامن ہوں اور سب کی مشترکہ عقیدتوں کے محور ٹھہریں۔ اس درے کی اپنی علمی، روحانی، جہادی، ادبی اور سیاسی تاریخ ہے۔ تاریخیں صدیوں میں بنتی ہیں، زندہ قومیں اپنی تاریخ کو تا حیات محفوظ رکھتی ہیں اور اپنے اکابرین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ زمانے کے تغیر و تبدل کے ساتھ جغرافیہ اور جغرافیائی ساختیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، لیکن نسلیں اور تاریخی شخصیات اپنی شناخت کے ساتھ باقی رہتی ہیں۔
بے شک صوبائی حکومت کی جانب سے سیاحت، ثقافت اور خوب صورتی میں اضافے کے حوالے سے اقدامات اور منصوبہ بندی احسن قدم اور بڑا کارنامہ ہیں، مگر اس سلسلے میں تاریخ، ثقافت اور حقائق کو مدِنظر رکھ کر قدم اٹھانا ضروری ہوگا۔
بات کو سمیٹتے ہوئے گزارش ہے کہ کڑئی کے مقام پر زیرِ تعمیر دروازے کو کسی بھی دوسرے نام کے بہ جائے ’’بابِ اخوند کریم داد شہید، ابنِ اخوند درویزہ بابا‘‘ کے نام سے منسوب کرکے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ کیوں کہ یہی حقیقت ہے، یہی ہماری تاریخ اور ہمارا تاریخی ورثہ ہے۔ اخوند کریم داد شہید ہی درّۂ مرغزار کے تمام باشندوں کے حقیقی مرشد، محبتوں کے ترجمان اور کسی کے صلبی تو کسی کے روحانی باپ ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










