ڈاکٹر حبیب احمد (علمی و انتظامی خدمات)

Blogger Dr Muhammad Ali Denakhel

پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد پاکستان کے اُن ممتاز ماہرینِ نباتات، ماہرینِ جینیات، محققین اور علمی منتظمین میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے اپنی طویل علمی زندگی میں تدریس، تحقیق، ادارہ سازی، قدرتی وسائل کے مطالعے، جینیات، حیاتیاتی تنوع، ایتھنو باٹنی، انسانی جینیات اور بین الشعبہ جاتی علوم کے متعدد میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اُن کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ تحقیق کو محض تجربہ گاہ تک محدود نہیں رکھتے تھے، بل کہ اسے معاشرے، قدرتی ماحول، مقامی علم اور انسانی زندگی کے مسائل سے جوڑتے تھے۔
قارئین! اس تحریر کا مقصد پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد (مرحوم) کی علمی، تحقیقی، تدریسی اور انتظامی خدمات کو ایک مربوط انداز میں پیش کرنا، اُن کے طویل علمی سفر کو محفوظ کرنا اور نئی نسل کو اُن کی جد و جہد سے روشناس کرانا ہے۔ یہ مضمون عام قارئین، اساتذہ، طلبہ اور محققین کے لیے اس نیت سے مرتب کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر حبیب احمد کی خدمات محض ایک یاد کے طور پر نہیں، بل کہ ایک قابلِ تقلید علمی روایت کے طور پر سامنے آئیں۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ ایک استاد بہ یک وقت محقق، مربی، ادارہ ساز اور منتظم بن کر علم اور معاشرے، دونوں کی خدمت کرسکتا ہے۔
پیدایش اور تعلیمی سفر:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد 13 جولائی 1959ء کو ضلع سوات کے علاقے مٹہ میں مولوی محمد سعید کے گھر میں پیدا ہوئے۔ اُن کی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول مٹہ اور گورنمنٹ ہائی اسکول مٹہ میں ہوئی۔ اُنھوں نے 1975ء میں میٹرک، 1978ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج مٹہ سے ایف ایس سی اور 1982ء میں گورنمنٹ جہانزیب کالج سیدو شریف سے بی ایس سی مکمل کیا۔ بعد ازاں یونیورسٹی آف پشاور سے 1985ء میں ایم ایس سی باٹنی اور 1991ء میں ایم فل باٹنی کیا، جب کہ 2003ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے باٹنی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ایک استاد کی پہچان… عہدے سے آگے ایک علمی میراث:
کسی استاد کی زندگی کا حقیقی تعارف صرف اُس کے عہدوں، اعزازات یا شائع شدہ تحقیقی مقالات کی تعداد سے نہیں ہوتا، بل کہ اُس کی اصل پہچان اُس اثر سے ہوتی ہے، جو وہ اپنے طلبہ، ادارے، علمی شعبے اور معاشرے پر چھوڑتا ہے۔ بعض اہلِ علم ایک مخصوص موضوع یا شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں، لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کی علمی زندگی کئی شعبوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد (مرحوم) کی علمی اور عملی زندگی بھی اسی وسیع روایت کی نمایندگی کرتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے علمی سفر میں نباتیات، جینیات، جینومکس، خلیاتی جینیات، فصلوں کی بہتری، قدرتی وسائل، ایتھنو باٹنی، نباتاتی تنوع، ماحولیات، حیاتیاتی تحفظ، انسانی جینیات، میڈیکل بشریات، بایو انفارمیٹکس اور حیاتیاتی اخلاقیات جیسے مختلف شعبے شامل رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے جامعات میں شعبہ جاتی، فیکلٹی اور ادارہ جاتی سطح پر انتظامی ذمے داریاں بھی نبھائیں۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے علمی سفر کی وسعت کا اندازہ اس بات سے بہ خوبی ہوتا ہے کہ اُنھوں نے 28 تحقیقی منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل محققین کی نگرانی کی۔ اُنھوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح کے تسلیم شدہ جرائد میں 325 تحقیقی مقالات، جب کہ 51 کتب، مونوگرافس اور بُک چیپٹرز شائع کیے۔ اس کے علاوہ 35 نئے جینز یا نیوکلیوٹائڈ سلسلوں سے متعلق دریافت و تحقیق بھی اُن کے علمی کام کا حصہ رہی۔ زیادہ پیداوار دینے والی تیل دار فصل سرسوں کی قسم ’’حسنین-2013‘‘ کی تیاری اور اسے تجارتی سطح پر متعارف کرانا بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے قابلِ ذکر کارناموں میں شامل ہے۔
یہ اعداد صرف ایک فہرست نہیں، بل کہ ایک ایسے طویل علمی سفر کا خلاصہ ہیں، جس میں کلاس روم، تجربہ گاہ، تحقیقی میدان، قدرتی ماحول، تحقیقی ادارے، یونیورسٹی انتظامیہ، قومی و بین الاقوامی علمی اجتماعات اور نوجوان محققین کی تربیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
تعلیم سے تحقیق تک… علمی بنیاد کی تشکیل:
ڈاکٹر حبیب احمد کی اعلا تعلیم کے تحقیقی موضوعات نے اُن کے آیندہ علمی سفر کی بنیاد فراہم کی۔ ایم ایس سی میں اُن کا تحقیقی کام گاما شعاعوں سے متاثرہ مکئی میں موروثی خصوصیات کے مطالعے سے متعلق تھا، جب کہ ایم فل کا تحقیقی موضوع گاما شعاعوں سے متاثرہ جو کی خلیاتی جینیاتی تحقیق سے وابستہ تھا۔ یوں اُن کے علمی سفر کے ابتدائی مرحلے ہی میں نباتیات، جینیات، خلیاتی جینیات اور شعاعی اثرات کے مطالعے کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم ہوگیا۔ اُنھوں نے 1980ء کی دہائی میں جن تحقیقی موضوعات پر کام کیا، اُن میں کروموسوم کا تجزیہ، کروموسومی ساخت، شعاعوں سے پیدا ہونے والی تبدیلیاں، جینیاتی تغیرات، نباتاتی افزایش اور حیاتیاتی طریقوں کے استعمال جیسے موضوعات شامل رہے۔
1987ء میں جڑی بوٹیوں کے تدارک میں حیاتیاتی طریقوں کے کردار، 1988ء میں گندم کے دوبارہ پیدا ہونے والے پودوں کے کروموسومی تجزیے اور 1989ء میں جو میں پیدا کردہ باہمی کروموسومی منتقلی سے متعلق ان کا کام ان کے ابتدائی تحقیقی سفر کی نمایاں مثالیں ہیں۔ یہ ابتدائی تحقیق بعد کے برسوں میں وسیع تر جینیاتی اور مالیکیولر تحقیق کی بنیاد بنی۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے علمی سفر کا جائزہ لیا جائے، تو روایتی نباتاتی اور خلیاتی جینیاتی تحقیق سے شروع ہونے والا یہ سفر بہ تدریج فصلوں کی جینیات، مالیکیولر تحقیق، ڈی این اے، حیاتیاتی تنوع، انسانی آبادیوں اور قدرتی وسائل کے مطالعے تک پھیلتا گیا۔
عملی زندگی کا آغاز… تحقیقی ادارے سے تدریس تک:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 2 فروری 1986ء کو قومی زرعی تحقیقی مرکز، اسلام آباد میں جونیئر سائنٹیفک آفیسر کی حیثیت سے ہوا۔ وہ 27 مئی 1990ء تک اس عہدے پر فائز رہے، جب کہ اسی تاریخ سے 30 جون 1990ء تک سائنٹیفک آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
تحقیقی مرکز کا یہ دور ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی سائنسی تربیت اور عملی تحقیق کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ اُن کے ابتدائی تحقیقی موضوعات خلیاتی جینیات، کروموسوم کے تجزیے، شعاعی اثرات اور فصلوں کی جینیاتی خصوصیات سے وابستہ تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب اُنھووں نے تجربہ گاہ میں تحقیق کے عملی تقاضوں کو قریب سے سمجھا اور سائنسی تحقیق کو باقاعدہ پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ بنایا۔ تاہم وہ صرف تجربہ گاہ تک محدود نہیں رہنا چاہتے تھے، بل کہ علمی تحقیق کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے اور لوگوں کے ساتھ بہ راہِ راست وابستہ رہنے کو بھی اہم سمجھتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت قومی زرعی تحقیقی مرکز کے بعد، یکم جولائی 1990ء سے 10 اپریل 2003ء تک، اُنھوں نے صوبے کے مختلف کالجوں میں محکمۂ اعلا تعلیم، صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے تحت نباتیات کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
یہ تقریباً 13 برس پر محیط تدریسی دور اُن کی علمی شخصیت کی تشکیل میں نہایت اہم تھا۔ ایک طرف وہ طلبہ کو نباتیات پڑھاتے رہے، تو دوسری جانب تحقیق سے بھی وابستہ رہے۔ اسی عرصے میں اُن کی دل چسپی نباتاتی تنوع، قدرتی وسائل، ماحولیات، ایتھنو باٹنی اور مقامی نباتاتی علم کی طرف مزید بڑھی۔
تحقیق کا دائرہ… تجربہ گاہ سے قدرتی ماحول تک:
11 اپریل 2003ء سے 28 فروری 2005ء تک پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد نے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے ساتھ تکنیکی رابطہ کار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ مرحلہ بھی اُن کے علمی سفر میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بنا۔ یونیورسٹی کے کلاس روم اور تجربہ گاہ سے آگے بڑھ کر اُن کا واسطہ قدرتی وسائل، مقامی آبادیوں، نباتاتی علم، ادویائی پودوں، جنگلات، حیاتیاتی تحفظ اور قدرتی ماحول کے عملی مسائل سے پڑا۔ اُسی دور میں پاکستان میں پودوں اور انسانوں سے متعلق ایتھنو باٹنی کے منصوبوں، قدرتی وسائل، ادویائی پودوں اور نایاب و خطرے سے دوچار نباتاتی انواع سے متعلق متعدد سرگرمیوں میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اس تجربے نے اُن کے تحقیقی دائرے کو مزید وسیع کیا اور مقامی روایتی علم کو باقاعدہ سائنسی تحقیق کے ساتھ جوڑنے کی راہ ہم وار کی۔
جامعۂ ہزارہ… تدریس، شعبہ سازی اور علمی قیادت:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد نے یکم مارچ 2005ء کو جامعۂ ہزارہ میں نباتیات کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا شروع کیں اور 30 اکتوبر 2010ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یکم نومبر 2010ء سے 12 جولائی 2019ء تک وہ جینیات کے مستقل پروفیسر رہے۔
جامعۂ ہزارہ میں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا کردار محض تدریس تک محدود نہیں تھا۔ وہ 20 اپریل 2005ء سے 12 دسمبر 2010ء تک شعبۂ نباتیات کے چیئرمین رہے، جب کہ 20 اپریل 2005ء سے 14 دسمبر 2015ء تک شعبۂ جینیات کے چیئرمین کی ذمے داری بھی ادا کرتے رہے۔ یہ ذمے داریاں اس اعتبار سے اہم تھیں کہ اُنھوں نے شعبہ جاتی سطح پر علمی اور انتظامی قیادت کو ایک ساتھ آگے بڑھایا۔ شعبۂ جینیات کی قیادت اُن کی اپنی تحقیقی تخصص کے عین مطابق تھی، جب کہ شعبۂ نباتیات کی سربراہی نے اُن کے وسیع نباتاتی تجربے کو ادارہ جاتی سطح پر بہ روئے کار لانے کا موقع فراہم کیا۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی خدمات میں شعبۂ جینیات اور مرکز برائے انسانی جینیات کے قیام میں بنیادی کردار بھی شامل ہے۔ اُن کی کوششوں سے نباتیات، جینیات، حیوانیات، بایو انفارمیٹکس اور دیگر متعلقہ شعبوں میں نئے تعلیمی و تحقیقی پروگراموں کے قیام اور اُنھیں وسیع علمی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش کی گئی۔
فیکلٹی آف سائنس کی قیادت:
شعبہ جاتی قیادت کے بعد پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد نے فیکلٹی کی سطح پر بھی اہم ذمے داریاں سنبھالیں۔ وہ 3 جنوری 2006ء سے 6 جون 2010ء تک فیکلٹی آف سائنس، جامعۂ ہزارہ کے ڈین رہے۔ بعد ازاں 23 اگست 2013ء سے یکم جولائی 2016ء تک دوبارہ ڈین فیکلٹی آف سائنس کی ذمے داری قبول کی۔
فیکلٹی کی قیادت کے دوران میں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی توجہ علمی قیادت، تدریسی معیار، تحقیقی سرگرمیوں اور نوجوان اساتذہ و طلبہ کی استعداد بڑھانے کی طرف رہی۔ اُن کے علمی تجربے نے اُنھیں شعبہ جاتی مسائل سے آگے بڑھ کر پوری فیکلٹی کے تعلیمی اور تحقیقی معاملات کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔
یہ مسلسل شعبہ جاتی اور فیکلٹی سطح کی قیادت آگے چل کر وائس چانسلر شپ کی بڑی ذمے داری کے لیے تجربے کا ذریعہ بنی۔
وائس چانسلر، جامعۂ ہزارہ… ادارہ جاتی قیادت کا مرحلہ:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد نے 3 اگست 2015ء سے 27 جولائی 2016ء تک جامعہ ہزارہ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وائس چانسلر کا منصب اُن کے علمی سفر کا وہ مرحلہ تھا، جہاں تدریس، تحقیق اور شعبہ جاتی انتظام کے ساتھ پورے ادارے کی قیادت کی ذمے داری بھی اُن کے سامنے تھی۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے، اس منصب تک پہنچنے سے قبل ڈاکٹر صاحب (مرحوم) شعبۂ نباتیات اور شعبۂ جینیات کے چیئرمین اور فیکلٹی آف سائنس کے ڈین رہ چکے تھے۔ اس طرح وائس چانسلر شپ اُن کے کئی برسوں کے علمی اور انتظامی تجربے کا اگلا مرحلہ تھی۔
ماہرِ جینیات ڈاکٹر محمد الیاس (سوات) کے مطابق، ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی پیشہ ورانہ زندگی کا یہ پہلو طلبہ اور نوجوان اساتذہ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک محقق انتظامی ذمے داری سنبھالنے کے بعد بھی اپنے علمی مزاج اور تحقیقی وابستگی کو برقرار رکھ سکتا ہے اور انتظامی تجربے کو ادارہ سازی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
اسلامیہ کالج پشاور کی وائس چانسلر شپ:
جامعۂ ہزارہ کے بعد ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے 29 جولائی 2016ء کو اسلامیہ کالج پشاور کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ذمے داری سنبھالی اور 30 ستمبر 2019ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ اسلامیہ کالج پشاور میں اُن کی وائس چانسلر شپ اُن کی علمی اور انتظامی زندگی کا ایک اہم مرحلہ تھی۔ اُس دور میں علمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی ترقی پر توجہ دی گئی۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی سے متعلق بڑے ترقیاتی منصوبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، تحقیقی مرکز اور یونیورسٹی کے استحکام سے متعلق منصوبوں کے علاوہ اسلامیہ کالج پشاور میں شعبۂ نباتیات سے متعلق ایک منصوبہ بھی شامل تھا۔
اسلامیہ کالج پشاور کے دور میں جدید سائنسی تحقیق کے لیے نئے راستوں پر بھی توجہ دی گئی۔ اسی سلسلے میں اومکس سنٹر کے قیام کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سنٹر کی نئی عمارت ستمبر 2026ء میں مکمل ہونے کے بعد عملے کی منتقلی بھی عمل میں آئی۔ اسی منصوبے کے تحت ایک آئی ٹی بلاک بھی تعمیر کیا گیا، جس کی منظوری بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی معاونت سے اسی منصوبے میں دی گئی تھی۔ بہ قول ڈاکٹر محمد الیاس، یہ بلاک ڈیٹا سائنسز، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور دیگر جدید اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں معیاری تعلیمی پروگراموں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
یہ اقدامات اس تصور کی عکاسی کرتے ہیں کہ اعلا تعلیمی ادارہ صرف تدریس کا مرکز نہیں، بل کہ تحقیق، جدید سائنسی علوم اور علمی تربیت کا مرکز بھی ہونا چاہیے۔
علمی وابستگی کا تسلسل… پروفیسر ایمیریٹس:
انتظامی عہدوں کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا علمی سفر ختم نہیں ہوا۔ یکم اکتوبر 2019ء سے وہ جامعۂ ہزارہ میں جینیات کے ایمیریٹس پروفیسر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ یہ حیثیت اس بات کی علامت تھی کہ اُن کی علمی وابستگی انتظامی عہدوں کے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ اُن کے لیے علم محض ایک ملازمت یا منصب نہیں، بل کہ ایک مسلسل سفر تھا۔
ڈاکٹر حبیب نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی مختلف کمیٹیوں میں بہ طور کنوینر اور رکن بھی خدمات انجام دیں، جہاں اُنھوں نے باٹنی اور جینیٹکس کے نصاب کی تیاری، تدوین اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اُن کی کاوشوں سے تیار کیے گئے یہ نصابی پروگرام پاکستان بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھائے جاتے رہے ہیں۔
قدرتی وسائل، ایتھنو باٹنی اور مقامی علم:
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی تحقیق کا ایک اہم حصہ پاکستان کے قدرتی اور نباتاتی وسائل سے متعلق تھا۔ سوات، بالائی سیرن، ہندوکش، مغربی ہمالیہ، ناران، تھانڈیانی، مانکیال، سالٹ رینج، تھرپارکر اور دیگر علاقوں کی نباتاتی، ایتھنو باٹنی اور ماحولیاتی خصوصیات اُن کے تحقیقی کام میں بار بار سامنے آتی ہیں۔ 2000ء کی دہائی کے اوائل میں ادویائی پودوں، قدرتی وسائل، جنگلات، خطرے سے دوچار نباتاتی انواع، مقامی نباتاتی علم اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال سے متعلق متعدد مطالعات اور منصوبے اُن کے کام کا حصہ رہے۔
اس تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس میں ایک طرف سائنسی نباتاتی علم موجود تھا اور دوسری طرف مقامی آبادیوں کا روایتی علم بھی تحقیق کا موضوع بنا۔ ادویائی پودوں کے استعمال، تجارت، تحفظ اور اُن کے پیداوار جیسے موضوعات ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے وسیع علمی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔
’’حسنین-2013‘‘… تحقیق سے عملی فائدے تک:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی تحقیقی خدمات میں ’’حسنین-2013‘‘ ایک نمایاں عملی مثال ہے۔ یہ زیادہ پیداوار دینے والی تیل دار فصل، سرسوں کی ایک قسم ہے… جسے تیار کرنے کے بعد تجارتی سطح پر متعارف کرایا گیا۔ ’’حسنین-2013‘‘ سے متعلق تحقیقی سرگرمیوں میں اس کی پیداوار اور پاکستان کے معتدل زرعی موسمی حالات کے لیے موزونیت نمایاں تھی۔ ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے 2014ء میں ترکی کے شہر انطالیہ میں منعقدہ پانچویں بیج کانگریس میں اس قسم کی پیداوار سے متعلق کارکردگی پیش کی۔
’’حسنین-2013‘‘ نام رکھنے کے پسِ پشت اپنے استاد اور رَہ نما سے محبت، عقیدت اور احترام کا جذبہ بھی کار فرما تھا۔ یونیورسٹی آف پنجاب میں اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کے دوران میں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے اپنی سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ حسنین کے نام پر اس تحقیقی پیداوار کا نام ’’حسنین-2013‘‘ رکھا۔ یہ اس بات کی خوب صورت مثال ہے کہ وہ اپنے اساتذہ سے کس قدر محبت اور احترام کرتے تھے۔ یہ مثال نوجوان محققین کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ تحقیق کی کام یابی صرف مقالے کی اشاعت تک محدود نہیں ہوتی۔ تحقیق اُس وقت زیادہ بامعنی ہوجاتی ہے، جب وہ کسی عملی ضرورت، زرعی پیداوار یا معاشرتی مسئلے کے حل سے بھی جُڑ جائے۔
جینیات، ڈی این اے اور انسانی آبادیوں کا مطالعہ:
جینیات ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے علمی سفر کا مرکزی شعبہ رہا۔ جامعۂ ہزارہ میں شعبۂ جینیات کی سربراہی اور بعد میں جینیات کے پروفیسر کی حیثیت سے اُن کی خدمات اسی علمی تسلسل کی واضح مثال ہیں۔ اُن کے تحقیقی منصوبوں اور مقالات میں انسانی جینیات اور جینیاتی بشریات سے متعلق مطالعات بھی شامل ہیں۔ مختلف علاقوں اور گروہوں کی جینیاتی ساخت، دانتوں کی ساخت، مائٹو کانڈریائی ڈی این اے اور انسانی جینیات جیسے موضوعات پر کام کیا گیا۔
سوات، دیر، بونیر، صوابی، چارسدہ، مردان، پشاور، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور نوشہرہ سے متعلق مختلف انسانی گروہوں کے جینیاتی مطالعات بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی نگرانی میں ہونے والے تحقیقی موضوعات میں شامل رہے۔ پاکستان سے حاصل کردہ قدیم ہڈیوں کے نمونوں کی مالیکیولر بشریاتی تحقیق بھی اُن کے تحقیقی منصوبوں میں شامل تھی۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے منفرد اور اولین منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یوں جینیات ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے لیے صرف تجربہ گاہ کا موضوع نہیں، بل کہ انسانی آبادی، تاریخ، جغرافیہ اور حیاتیاتی تنوع کے مطالعے کا ایک ذریعہ بھی بنی۔
ڈی این اے بار کوڈنگ اور پاکستان کا حیاتیاتی تنوع:
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے تحقیقی سفر کا ایک جدید پہلو ڈی این اے بار کوڈنگ اور مالیکیولر شناخت تھا۔ اُن کے منصوبوں میں پاکستانی فنگس کے ڈی این اے سلسلوں کا معلوماتی ذخیرہ قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا، جس کا مقصد پاکستان میں پائی جانے والی بڑی جسامت والی فنگس کی شناخت کے لیے ڈی این اے سلسلوں کا ڈیٹا بیس قائم کرنا تھا۔
اس طرح پاکستان کے مغربی ہمالیہ میں مقامی اور محدود جغرافیائی پھیلاو رکھنے والی نباتاتی انواع کے ڈی این اے بار کوڈز سے متعلق منصوبہ بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔ یہ کام پاکستان کے حیاتیاتی تنوع کی دستاویز بندی کے لیے ایک اہم تحقیقی سمت کی نمایندگی کرتا ہے۔ روایتی ظاہری خصوصیات کے ساتھ مالیکیولر شواہد استعمال کرکے پودوں اور فنگس کی شناخت جدید حیاتیاتی تحقیق کا اہم طریقہ بن چکی ہے، اور ان کے کام میں بھی اس جدید سمت کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔
فکری وسعت اور بین الشعبہ جاتی تحقیق:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی تحقیق کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ اُنھوں نے اپنے بنیادی شعبے کو دوسرے متعلقہ شعبوں سے جوڑا۔ ایک طرف نباتاتی جینیات اور فصلوں کی بہتری تھی، تو دوسری طرف حیاتیاتی تنوع اور تحفظِ ماحول۔ ایک طرف ادویائی پودے اور ایتھنو باٹنی تھی، تو دوسری طرف انسانی جینیات اور مالیکیولر بشریات۔ ایک طرف تجربہ گاہ میں مالیکیولر طریقے تھے، تو دوسری طرف قدرتی ماحول اور مقامی علم  اور دانش کا زمینی مطالعہ۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے تحقیقی کام میں ریپ سیڈ (سرسوں کی ایک روغنی فصل) اور سرسوں کی جینیاتی تحقیق، گندم میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت، چاول میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت، چائے کی اقسام کی جینیاتی خصوصیات، مٹر اور سورج مکھی میں جینیاتی تنوع، ایفیڈرا کی مالیکیولر شناخت، ادویائی پودے، مغربی ہمالیہ کی نباتاتی پوشش اور فنگس کی درجہ بندی جیسے موضوعات شامل رہے۔
بعد کے برسوں میں انسانی جینیاتی تنوع، مائٹو کانڈریائی ڈی این اے، نباتاتی گروہوں، خطرے سے دوچار انواع، ڈی این اے بار کوڈنگ، فنگس کی درجہ بندی اور سالماتی جینیات سے متعلق تحقیق بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے علمی دائرے میں شامل ہوئی۔
یہ فکری وسعت بتاتی ہے کہ بنیادی علمی تخصص، وقت کے ساتھ نئے سوالات، نئی تکنیکوں اور مختلف شعبوں کے باہمی تعلق سے مزید وسیع ہوسکتا ہے۔
300 سے زائد تحقیقی مقالات… ایک وسیع علمی سرمایہ:
جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے، ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے 325 تحقیقی مقالات شائع کیے۔ ابتدائی دور میں کروموسوم کا تجزیہ، خلیاتی جینیات اور نباتاتی افزایش اُن کے بنیادی موضوعات تھے۔ اس کے بعد فصلوں کی جینیات، پیداوار سے متعلق خصوصیات، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور مالیکیولر شناخت کے موضوعات سامنے آئے۔ گندم، چاول، ریپ سیڈ، سرسوں، چائے، مٹر اور سورج مکھی اُن فصلوں میں شامل ہیں، جن پر ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے تحقیقی کام کا ذکر ملتا ہے۔ دوسری جانب سوات، بالائی سیرن، ناران، تھانڈیانی، مغربی ہمالیہ اور دیگر علاقوں کے نباتاتی وسائل، ادویائی پودے، ایتھنو باٹنی، ماحولیات، حیاتیاتی تنوع اور تحفظِ ماحول سے متعلق وسیع تحقیقی مواد بھی اُن کے علمی سرمائے کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے بعض مقالات انسانی جینیات، مالیکیولر بشریات اور حیاتیاتی اخلاقیات سے متعلق ہیں۔ 2008ء اور 2009ء کے دوران اُنھوں نے اعضا عطیہ کرنے، حیاتیاتی اخلاقی مسائل اور اسقاطِ حمل سے متعلق تحقیقی موضوعات پر بھی کام کیا۔ 2018ء تا 2020ء کے تحقیقی ریکارڈ میں انسانی جینیاتی تغیر، مائٹو کانڈریائی ڈی این اے، نباتاتی گروہوں، خطرے سے دوچار انواع، ڈی این اے بار کوڈنگ، فنگس کی درجہ بندی اور مالیکیولر جینیات جیسے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔
یوں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے مقالات میں کوئی بے سمت پھیلاو نہیں، بل کہ بنیادی نباتاتی اور جینیاتی تحقیق سے شروع ہوکر اسی علم کے مختلف اطلاقات کی طرف بڑھتا ہوا ایک مسلسل تحقیقی سفر دکھائی دیتا ہے۔
کتب، مونوگراف اور علمی تصنیف و تدوین:
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے 51 کتب، مونوگرافس، کتابی ابواب (بک چیپٹرز) اور دیگر علمی تصانیف شائع کیں۔ ان کے علمی کاموں میں گنے کی حیاتیاتی نظام بندی اور مالیکیولر بیالوجی میں حالیہ پیش رفت، ریپ سیڈ اور سرسوں کی جینیاتی حیاتیات، دریائے کابل میں آلودگی اور خوردنی مچھلیوں میں بھاری دھاتوں کا جمع ہونا، پاکستان میں ایفیڈرا انواع کا مالیکیولر تجزیہ اور مختلف وادیوں کے پودوں کا نسلی نباتاتی جائزہ جیسے موضوعات شامل ہیں۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے کتابی ابواب میں کم استعمال ہونے والی فصلیں، تھانڈیانی کی نسلی نباتاتی ماحولیات، مغربی ہمالیہ اور سوات کے قدرتی وسائل، انسانی صحت، ادویائی پودے، پہاڑی وسائل اور ڈی این اے پر مبنی فصلوں کی تحقیق جیسے موضوعات شامل ہیں۔
2009ء میں شائع ہونے والی ’’پاکستان کے ثقافتی اور حیاتیاتی وسائل‘‘ کی تدوین بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے علمی کاموں میں شامل ہے، جو باڑہ گلی میں 22 تا 24 اگست 2006ء کو منعقدہ قومی کانفرنس کی کارروائی سے متعلق تھی۔ اُن تصانیف میں ایک مشترک پہلو مقامی حیاتیاتی اور ثقافتی وسائل کو باقاعدہ علمی دستاویز کا حصہ بنانا ہے۔
محققین کی تربیت… 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل:
کسی اُستاد کی سب سے پائیدار میراث اُس کے اپنے مقالات ہی نہیں، بل کہ وہ محققین بھی ہوتے ہیں، جنھیں وہ تیار کرتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد نے 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل محققین کی نگرانی کی۔ اُن کے یہ شاگرد آج اندورن و بیرونِ ملک مختلف جامعات اور تحقیقی مراکز میں تحقیق اور تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُن کے زیرِ نگرانی تحقیق کے موضوعات بھی اُن کے اپنے علمی سفر کی وسعت کی عکاسی کرتے ہیں۔
گندم میں بیماریوں کے خلاف مزاحمت، پودوں کا تنوع، ادویائی پودے، زنگ کے خلاف مزاحمت، خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت، چاول، فنگس، انسانی جینیات، دانتوں کی ساخت، مائٹو کانڈریائی ڈی این اے، مالیکیولر تحقیق، ارتقائی مطالعات، بشریات اور دیگر موضوعات پر تحقیقی کام اُن کی نگرانی میں ہوا۔
یہ تعداد محض ایک عدد نہیں۔ ایک تحقیقی مقالہ ایک نتیجہ پیش کرسکتا ہے، لیکن ایک تربیت یافتہ محقق کئی برس تک تحقیق کا سلسلہ آگے بڑھا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل محققین کی نگرانی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی علمی میراث کا نہایت اہم حصہ ہے۔
 نوجوان محققین کے لیے ایک علمی روایت:
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی نگرانی میں ہونے والی تحقیق کا ایک قابلِ ذکر پہلو مختلف علمی شعبوں کا باہمی تعلق ہے۔ نباتیات، جینیات، حیوانیات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ماحولیات، تحفظِ ماحول اور مالیکیولر بشریات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انسانی آبادیوں کے مطالعے میں دانتوں کی ساخت اور مائٹو کانڈریائی ڈی این اے کو ساتھ استعمال کیا گیا، پودوں کے مطالعے میں ظاہری خصوصیات کے ساتھ مالیکیولر نشانیاں بروئے کار لائی گئیں، جب کہ فصلوں کی تحقیق میں روایتی افزایشِ نسل کے ساتھ جدید مالیکیولر طریقۂ کار بھی اختیار کیے گئے۔
نوجوان محققین کے لیے اس میں ایک اہم سبق موجود ہے۔ اپنے بنیادی شعبے میں مضبوط بنیاد رکھتے ہوئے متعلقہ شعبوں کے طریقۂ کار سے استفادہ تحقیق کو زیادہ جامع، مؤثر اور بامعنی بناسکتا ہے۔
قومی اور بین الاقوامی علمی روابط:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی تحقیق پاکستان تک محدود نہیں رہی۔ اُنھوں نے ترکی، امریکہ، برطانیہ، ناروے، میکسیکو، مصر، نیدرلینڈز اور جمہوریہ چیک سمیت مختلف ممالک میں کانفرنسوں، تربیتی پروگراموں، ورکشاپوں اور علمی اجتماعات میں شرکت کی۔ 2013ء میں انطالیہ، ترکی میں منعقدہ بین الاقوامی نباتاتی افزایش کانگریس میں چائے کی اقسام میں نشان زدہ معاون طریقوں سے متعلق تحقیقی کام پیش کیا گیا۔ اُسی سال انطالیہ میں منعقدہ بین الاقوامی ایتھنو باٹنی سمپوزیم میں ایتھنو باٹنی کی تاریخی ترقی اور پاکستان میں اُس کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق علمی شرکت بھی کی۔
2014ء میں ترکی میں منعقدہ پانچویں بیج کانگریس میں ’’حسنین-2013‘‘ کی پیداوار سے متعلق تحقیقی کام پیش کیا گیا۔ اُسی سال نایاب اور مقامی نباتاتی انواع کے حیاتیاتی مطالعے سے متعلق بین الاقوامی سمپوزیم، امریکہ کی ریاست مونٹانا میں حیاتیاتی تحفظ سے متعلق کانفرنس اور میری لینڈ میں جے کریگ وینٹر انسٹی ٹیوٹ کی میڈیکل بایو انفارمیٹکس ورک شاپ میں بھی شرکت کی۔
2011ء اور 2012ء کے دوران میں انھوں نے حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی بہ حالی، موسمیاتی تبدیلی، ادویائی پودوں اور مغربی ہمالیہ سے متعلق متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں اور ورکشاپوں میں شرکت کی۔
یہ علمی روابط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا تحقیقی سفر مقامی مسائل اور مقامی علمی ضروریات سے شروع ہو کر عالمی سائنسی مباحث تک پہنچتا تھا۔
مسلسل سیکھنے کا عمل:
ایک اچھا اُستاد اور محقق مسلسل سیکھتا رہتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد نے 1984ء سے 2015ء تک مختلف تربیتی پروگراموں، کانفرنسوں، ورکشاپوں اور علمی اجتماعات میں شرکت کی۔ اُن کی علمی زندگی میں مسلسل سیکھنے کا یہ عمل نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اُنھوں نے 1984ء میں پشاور کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ایگریکلچرل ریسرچ میں خوراک اور زرعی تحقیق میں جوہری اور جدید تکنیکوں سے متعلق تربیت حاصل کی۔ 1990ء میں قومی زرعی تحقیقی مرکز میں نباتاتی حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت میں حصہ لیا۔ 1996ء میں جینیات کی بین الاقوامی کانفرنس اور ایتھنو باٹنی کی تربیت، 1997ء میں ایتھنو باٹنی کی ورک شاپ اور 1999ء میں اطلاقی ایتھنو باٹنی کی تربیت بھی اُن کے سیکھنے کے تسلسل کی مثالیں ہیں۔
2007ء میں پودوں کی بہتری میں ڈی این اے ٹیکنالوجی، 2008ء میں پاکستان میں حیاتیاتی اخلاقیات کی تعلیم، اور 2010ء میں تحقیقی مقالہ نویسی، تحقیق اور انتظامی علوم سے متعلق تربیتی سرگرمیوں میں شرکت بھی اُن کے علمی ارتقا کا حصہ رہی۔ مسلسل سیکھنے کا یہ عمل نوجوان محققین کو یہ پیغام دیتا ہے کہ علمی مقام حاصل کرنے کے بعد بھی نئی تکنیکیں سیکھنے، نئے علمی مباحث سے واقف رہنے اور اپنے علم کو مسلسل وسعت دینے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
مقامی مسائل اور عالمی سائنسی طریقے:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی تحقیق میں مقامی اور عالمی علمی سطحوں کے درمیان ایک قابلِ ذکر ربط نظر آتا ہے۔ سوات، ہزارہ، ناران، تھانڈیانی اور مغربی ہمالیہ کے پودوں، قدرتی وسائل، ادویائی نباتات اور انسانی آبادیوں کا مطالعہ مقامی جغرافیائی دائرے سے شروع ہوتا ہے، لیکن ان مطالعات میں جدید جینیاتی، مالیکیولر، ڈی این اے، بایو انفارمیٹکس اور ماحولیاتی طریقے بھی شامل ہیں۔
یہ امتزاج ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی تحقیق کی اہم خصوصیت تھا۔ مقامی ماحول اور مقامی مسائل کو جدید سائنسی طریقوں سے سمجھنا پاکستان جیسے ملک میں تحقیق کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس طریقۂ کار سے نہ صرف مقامی حیاتیاتی اور قدرتی وسائل کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے، بل کہ ان سے متعلق مسائل کے سائنسی حل تلاش کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
علم اور معاشرے کے درمیان تعلق:
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی تحقیق کے کئی موضوعات بہ راہِ راست انسانی زندگی، ماحول اور معیشت سے متعلق تھے۔ ادویائی پودے، قدرتی وسائل، قدرتی وسائل کا تحفظ، زرعی پیداوار، خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت، بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور روایتی علم، ایسے موضوعات ہیں، جن کا تعلق عام لوگوں کی زندگی سے ہے۔
سوات کے قدرتی وسائل، مانکیال کے ادویائی پودے، تھرپارکر اور سالٹ رینج کے ادویائی پودے، ادویائی پودوں کی تجارت، ہمالیائی مورشیلا، جنگلاتی وسائل اور ماحولیاتی حالات جیسے موضوعات پر ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اُن کے نزدیک نباتاتی علم محض تجربہ گاہ تک محدود نہیں تھا۔
’’حسنین-2013‘‘ کی تیاری اور اس کا تجارتی سطح پر استعمال اس تصور کی ایک عملی مثال ہے کہ تحقیق کو معاشی اور زرعی ضرورت کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ اس طرح ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی تحقیق میں بنیادی سائنس اور عملی اِفادیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
سائنسی اداروں میں علمی نمایندگی:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد نے مختلف قومی اور بین الاقوامی سائنسی اداروں سے بھی وابستگی رکھی۔ وہ 2019ء میں پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے رکن اور اسی سال پاکستان کی زوالوجیکل سوسائٹی کے اعزازی رکن بنے۔ اُنھوں نے پاکستان بوٹینیکل سوسائٹی کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ جینیات سوسائٹی آف پاکستان اور ایتھنو بوٹینیکل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی ارکان میں بھی شامل تھے۔
پاکستان بوٹینیکل سوسائٹی کے تاحیات رُکن کی حیثیت سے اُن کی رکنیت 1984ء سے جب کہ پاکستان وِیڈ سائنس سوسائٹی سے وابستگی 1988ء سے جاری رہی۔ ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم سوات کے ساتھ اُن کی وابستگی 1994ء سے رہی، جب کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پشاور کے ایتھنو باٹنی منصوبے کے مشاورتی بورڈ سے اُن کی وابستگی 2001ء تا 2004ء تک رہی۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے علمی روابط میں نباتیات، جینیات، حیاتیاتی تحفظ، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف قومی و بین الاقوامی ادارے شامل رہے۔ یہ وابستگیاں اُن کے وسیع علمی نیٹ ورک اور مختلف سائنسی حلقوں میں اُن کی سرگرم شرکت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اعزازات… علمی خدمات کا اعتراف:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی تدریسی، تحقیقی اور علمی خدمات کو مختلف قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے سراہا گیا۔ صدرِ پاکستان نے اُنھیں 14 اگست 2010ء کو تمغائے امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ اُنھیں 2006ء میں جامعۂ ہزارہ کے بہترین محقق کا اعزاز، 2007ء میں یونیسکو کا سال کے بہترین اُستاد کا اعزاز، 2008ء میں قومی صلاحیت کا اعزاز، 2011ء میں جامعۂ ہزارہ کی پہلی دہائی کی تقریبات میں بہترین کارکردگی کا اعزاز اور اسی سال آئی بی سی کیمبرج، برطانیہ کی طرف سے عالمی سطح کے ممتاز سائنس دان کا اعزاز دیا گیا۔
اسی طرح 2011ء، 2012ء، 2013ء، 2014ء، 2015ء اور 2016ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیداواری سائنس دان کے اعزازات، 2015ء میں حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے تحقیقی و ترقیاتی کاوش کا اعزاز، 2015ء میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بہترین جامعہ استاد کا اعزاز اور 2019ء میں پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے حیاتیاتی علوم میں طلائی تمغہ بھی ان کے اعزازات میں شامل ہیں۔
یہ اعزازات محض ایک فہرست نہیں، بل کہ تدریس، تحقیق، سائنسی پیداوار، ادارہ جاتی قیادت اور علمی خدمت کے مختلف پہلوؤں کے اعتراف کی علامت ہیں۔
تحقیق اور انتظام… دو الگ راستے نہیں:
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اُن کے نزدیک تحقیق، تدریس اور انتظامی ذمے داریاں ایک دوسرے سے الگ شعبے نہیں، بل کہ ایک دوسرے کو تقویت دینے والے پہلو تھے۔ اُنھوں نے جامعۂ ہزارہ میں مختلف اہم انتظامی مناصب پر خدمات انجام دیتے ہوئے علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی قیادت میں بھی مؤثر کردار ادا کیا۔ اُن کی انتظامی ذمے داریوں کا آغاز 20 اپریل 2005ء سے شعبۂ نباتیات، جامعہ ہزارہ کے چیئرمین کی حیثیت سے ہوا، جہاں وہ 12 دسمبر 2010ء تک اس منصب پر فائز رہے۔
اسی عرصے میں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے شعبۂ جینیات کی قیادت بھی سنبھالی اور 20 اپریل 2005ء سے 14 دسمبر 2015ء تک شعبۂ جینیات، جامعۂ ہزارہ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ اُنھیں فیکلٹی آف سائنس کی قیادت کا موقع بھی ملا اور وہ 3 جنوری 2006ء سے 6 جون 2010ء تک اس فیکلٹی کے ڈین رہے۔ بعد ازاں اُنھیں دوبارہ فیکلٹی آف سائنس کی ڈین شپ سونپی گئی اور اُنھوں نے 23 اگست 2013ء سے 28 جولائی 2016ء تک یہ ذمے داری نبھائی۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی انتظامی و علمی قیادت کا اگلا اہم مرحلہ 3 اگست 2015ء کو شروع ہوا، جب اُنھوں نے جامعۂ ہزارہ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ذمے داریاں سنبھالیں اور 27 جولائی 2016ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس کے بعد 29 جولائی 2016ء سے 30 ستمبر 2019ء تک انھوں نے اسلامیہ کالج پشاور کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یوں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی انتظامی زندگی ایک تدریجی ارتقا کی صورت میں سامنے آتی ہے، جس میں شعبہ جاتی قیادت سے فیکلٹی کی سربراہی اور پھر جامعہ اور کالج کی اعلا انتظامی ذمے داریوں تک کا سفر شامل ہے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا یہ مسلسل پیشہ ورانہ ارتقا اس امر کی مثال ہے کہ علمی مہارت، تحقیقی تجربہ، تدریسی وابستگی اور انتظامی قیادت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بل کہ باہم مربوط صلاحیتیں ہیں، جو کسی تعلیمی ادارے کی ترقی، علمی ماحول کی بہتری اور مؤثر ادارہ جاتی نظم و نسق میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تحقیقی منصوبے اور ادارہ سازی:
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے 28 تحقیقی منصوبے مکمل کیے، جن میں نباتاتی تحقیق، ایتھنو باٹنی، قدرتی وسائل، فصلوں کی بہتری، انسانی جینیات، سالماتی بشریات، ڈی این اے، فنگس کے ڈی این اے معلوماتی ذخیرے اور مغربی ہمالیہ کی مقامی نباتاتی انواع کے ڈی این اے بار کوڈز جیسے مختلف موضوعات شامل تھے۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور سے متعلق 2017ء کا صنعتی جدت، تحقیقی مرکز اور ادارہ مضبوطی کا بڑا ترقیاتی منصوبہ بھی ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے وائس چانسلر شپ کے دور سے متعلق ریکارڈ میں شامل ہے۔ اسی طرح نباتیات، فنگس، انسانی جینیات اور ڈی این اے سے متعلق منصوبے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اُن کے لیے ادارہ سازی کا مقصد صرف انتظامی ڈھانچا قائم کرنا نہیں تھا، بل کہ تحقیق کے لیے بنیادی ڈھانچا، سہولیات اور علمی ماحول پیدا کرنا بھی تھا۔
پشتو زبان و ادب سے دل چسپی:
اگرچہ ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا بنیادی تخصص باٹنی اور جینیٹکس تھا، تاہم پشتو زبان و ادب سے بھی اُن کی گہری دل چسپی تھی۔ وہ شاعری اور ادبی مباحث سے شغف رکھتے تھے اور خود بھی شعر کہتے تھے۔ کلاسیکی پشتو شعرا کے بارے میں اُن سے علمی گفت گو ہوتی رہی اور وہ پشتو تحقیق اور شعرا کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
سابق چیئرمین شعبۂ پشتو، اسلامیہ کالج، ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کے مطابق، انھوں نے ہدایت کی کہ اگر پشتو میں صرف ایک طالب علم بھی ہو، تو اُسے داخلہ دیا جائے اور شعبہ فعال رکھا جائے۔ اُن کی وائس چانسلر شپ کے دوران میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں پشتو طلبہ کے لیے نصف فیس پر داخلے کی منظوری بھی پہلی مرتبہ دی گئی۔ اُن کی وفات پر بعض پشتون شعرا نے مرثیے بھی لکھے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا ایک اہم علمی پہلو پشتونوں اور خیبر پختونخوا کے قبائل کی جینیاتی تحقیق سے بھی وابستہ تھا۔ اُنھیں پشتونوں کی جینیاتی تحقیق اور خطے کے قبائل کے جینیاتی مطالعے کے ابتدائی محققین میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایک استاد کی اصل میراث… اُس کے شاگرد:
اعزازات اور تحقیقی مقالات اہم ہیں، لیکن، جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، ایک اُستاد کی سب سے پائیدار میراث اُس کے شاگرد ہوتے ہیں۔ 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل محققین کی نگرانی اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی نمایاں خدمات میں شمار ہوتی ہے۔ اُن کے زیرِ نگرانی تحقیق کی وسعت بھی اُن کے استادانہ کردار کو واضح کرتی ہے۔ اُن کے شاگردوں نے جینیات، نباتیات، حیوانیات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ماحولیات، ادویاتی پودوں، تحفظِ ماحول، نباتاتی افزائش، مالیکیولر بشریات، انسانی جینیات اور حیاتیاتی تنوع جیسے میدانوں میں تحقیق کی۔
اس طرح ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی علمی میراث اُن کی اپنی تحریروں سے آگے بڑھ کر اُن محققین تک پہنچی، جنھوں نے اُن کی نگرانی میں تحقیق کی۔ ایک استاد علم منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق کا طریقہ، سوال اُٹھانے کی صلاحیت، ثبوت کی اہمیت، علمی دیانت اور مسلسل محنت کی عادت بھی منتقل کرتا ہے۔ یہی وہ میراث ہے، جو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتی ہے۔
نوجوان نسل کے لیے ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی جہدِ مسلسل سے چند اسباق:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کے علمی سفر سے نوجوان طلبہ اور محققین کے لیے کئی عملی اسباق سامنے آتے ہیں۔ ثانوی تعلیم سے پی ایچ ڈی تک اُن کا تعلیمی سفر اور اس کے بعد بھی تربیتی پروگراموں، کانفرنسوں اور ورکشاپوں میں شرکت اس بات کی مثال ہے کہ علمی زندگی کسی ایک ڈگری پر ختم نہیں ہوتی۔
1980ء کی دہائی کے خلیاتی جینیاتی کام سے لے کر بعد کے مالیکیولر جینیاتی، ڈی این اے بار کوڈنگ، انسانی جینیات اور حیاتیاتی تنوع کے مطالعات تک ایک طویل تحقیقی تسلسل موجود ہے۔
نباتیات کو جینیات، ماحولیات، حیوانیات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، بشریات اور تحفظِ ماحول کے ساتھ جوڑنا اُن کی بین الشعبہ جاتی تحقیق کی اہم خصوصیت تھی۔ سوات، ہزارہ، تھانڈیانی، ناران، مانکیال اور مغربی ہمالیہ جیسے علاقوں کے قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع پر تحقیق اس کی نمایاں مثال ہے۔
’’حسنین-2013‘‘ کی تیاری اور اسے تجارتی سطح پر متعارف کرانا تحقیق کے عملی رُخ کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل محققین کی نگرانی اس بات کی علامت ہے کہ علمی خدمت کا ایک اہم ترین مقصد نئی نسل کو تیار کرنا ہے۔
ایک ایسی میراث جسے محفوظ کرنا ضروری ہے:
کسی علمی شخصیت کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ صرف یادگاری تقریبات یا تعزیتی کلمات نہیں، بل کہ اس کے علمی کام کو منظم کرکے نئی نسل تک پہنچانا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کے معاملے میں یہ کام خاص طور پر اہم ہے، کیوں کہ اُن کا علمی سرمایہ کئی شعبوں میں پھیلا ہوا ہے۔
325 تحقیقی مقالات، 28 تحقیقی منصوبے، 51 کتب، مونوگرافس اور کتابی ابواب، 35 نئے جینز یا نیوکلیوٹائڈ سلسلوں سے متعلق کام، ’’حسنین-2013‘‘ جیسی فصل کی تیاری اور 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل محققین کی نگرانی ایک وسیع علمی سرمایہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ سرمایہ صرف ایک فرد کی کام یابی نہیں، بل کہ پاکستان میں نباتیات، جینیات، حیاتیاتی علوم، ایتھنو باٹنی، حیاتیاتی تنوع اور سائنسی تحقیق کی ایک اہم روایت کی نمایندگی کرتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کے تحقیقی مقالات، کتابوں، تحقیقی منصوبوں، نگرانی میں مکمل ہونے والے تحقیقی موضوعات اور انتظامی خدمات کو منظم انداز میں محفوظ کرنا آیندہ نسل کے لیے ایک مفید علمی ذخیرہ بن سکتا ہے۔ اُن کے تحقیقی موضوعات سے نئے سوالات پیدا کیے جاسکتے ہیں اور اُن کے علمی سفر سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ مقامی مسائل کو جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے تحقیق کا موضوع کیسے بنایا جاسکتا ہے۔
اختتامیہ… علم کا سفر ختم نہیں ہوتا:
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کی علمی زندگی کو کسی ایک عہدے، ایک جامعہ یا ایک تحقیقی شعبے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کا سفر نباتیات سے جینیات، خلیاتی جینیات سے مالیکیولر تحقیق، فصلوں کی بہتری سے حیاتیاتی تنوع، ایتھنو باٹنی سے انسانی جینیات، قدرتی وسائل سے ڈی این اے تحقیق، تجربہ گاہ سے میدانی تحقیق اور تدریس سے اعلا انتظامی قیادت تک پھیلا ہوا تھا۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی خدمات کا ایک عددی خاکہ 28 مکمل تحقیقی منصوبوں، 325 تحقیقی مقالات، 51 کتب، مونوگرافس اور کتابی ابواب، 35 نئے جینز یا نیوکلیوٹائڈ سلسلوں سے متعلق کام، 47 پی ایچ ڈی اور 148 ایم فل محققین کی نگرانی اور ’’حسنین-2013‘‘ جیسی زیادہ پیداوار دینے والی تیل دار فصل کی تیاری کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے… لیکن اُن کی علمی زندگی کی اصل معنویت ان اعداد سے بھی آگے ہے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی انتظامی خدمات بھی اسی طرح نمایاں ہیں۔ شعبۂ نباتیات اور شعبۂ جینیات کی سربراہی، فیکلٹی آف سائنس کی ڈین شپ، جامعۂ ہزارہ کی وائس چانسلر شپ اور اسلامیہ کالج پشاور کی وائس چانسلر شپ نے اُن کے علمی تجربے کو ادارہ جاتی قیادت میں تبدیل کیا۔ اُن کے تحقیقی منصوبے، شعبہ سازی اور جدید سائنسی علوم کے فروغ سے متعلق کوششیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ علم کو اداروں کے ذریعے آگے بڑھانے کے قائل تھے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ ایک اُستاد صرف پڑھانے والا نہیں ہوتا۔ وہ محقق بھی ہوسکتا ہے، نئی نسل کا مربی بھی، ادارہ ساز بھی اور منتظم بھی۔ وہ مقامی مسائل کو تحقیق کا موضوع بناسکتا ہے، جدید سائنسی طریقوں کو استعمال کرسکتا ہے، عالمی علمی برادری سے رابطہ قائم کرسکتا ہے اور اپنے بعد آنے والے محققین کے لیے راستہ ہموار کرسکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد (مرحوم) کی علمی میراث کو یاد کرنا دراصل ایک ایسی علمی روایت کو یاد کرنا ہے، جس میں علم محض ذاتی کام یابی کا ذریعہ نہیں، بل کہ معاشرے، ادارے اور آنے والی نسلوں کی خدمت کا وسیلہ ہے۔ اُن کی زندگی نئی نسل کو یہ دعوت دیتی ہے کہ تعلیم کو مسلسل جاری رکھا جائے، تحقیق میں ثابت قدمی اختیار کی جائے، اپنے بنیادی علم کو دوسرے شعبوں سے جوڑا جائے، مقامی مسائل کو سنجیدہ تحقیقی سوالات میں تبدیل کیا جائے، تحقیق کو عملی فائدے سے مربوط کیا جائے اور سب سے بڑھ کر علم کو آگے منتقل کیا جائے۔
ایک استاد دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، مگر اُس کے شاگرد، اُس کی تحقیق، اُس کے قائم کردہ علمی راستے اور اُس کے ادارہ جاتی اثرات باقی رہتے ہیں۔ اسی اعتبار سے پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد (مرحوم) کی علمی زندگی محض ماضی کا ایک باب نہیں، بل کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سبق، ایک مثال اور ایک دعوتِ عمل ہے۔
انتقال:
ڈاکٹر حبیب احمد 7 اپریل 2021ء کو مختصر علالت کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اُن کی وفات علمی، تحقیقی اور تعلیمی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ تاہم اُن کی قائم کردہ علمی و تحقیقی روایات، اُن کے شاگرد، تحقیقی کام اور مختلف اداروں میں اُن کی خدمات آج بھی اُن کی علمی میراث کا حصہ ہیں۔
اظہارِ تشکر:
قارئین! اس مضمون کی تیاری میں پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد کے بڑے بھائی شفیق احمد، ان کے دوستوں اور شاگردوں سے حاصل ہونے والی معلومات، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کی یادگاری تحریر، اخباری بیانات اور مختلف جامعات کی ویب سائٹس پر دست یاب مواد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ نیز ڈاکٹر محمد الیاس، ماہرِ جینیات، اسلامیہ کالج پشاور اور ڈاکٹر عبدالستار آزاد (بیت الحکمت سوات) کا مضمون کے جائزے اور مفید مشوروں پر، اور ڈاکٹر انور علی، شعبۂ اُردو، اسلامیہ کالج پشاور، کا اُردو زبان کی اصلاح میں تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے