معصوم بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے نازک، خوب صورت اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں مستقبل کی تعمیر ہوتی ہے، ان کی آنکھوں میں آنے والے کل کے خواب ہوتے ہیں اور ان کی معصوم مسکراہٹ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان سمجھی جاتی ہے… لیکن جب یہی بچے تشدد، ظلم، تذلیل اور بے رحمی کا شکار ہوں، تو سوال صرف ایک بچے کے ساتھ ہونے والے ظلم کا نہیں رہتا، بل کہ پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
ہم اکثر بچوں پر ہونے والے تشدد کی خبریں سنتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، غصے کا اظہار کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں… لیکن کیا ہم نے کبھی رُک کر سوچا ہے کہ آخر وہ کون سی معاشرتی بیماریاں ہیں، جو ایک معصوم بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ذہنیت پیدا کرتی ہیں؟
کیا غربت، جہالت، گھریلو ناچاقی، منشیات، عدم برداشت، تربیت کی کمی اور قانون کے کم زور نفاذ نے ہمارے معاشرے کو اُس مقام تک پہنچا دیا ہے، جہاں بچے بھی محفوظ نہیں رہے؟
یا اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ظلم کو دیکھ کر خاموش رہنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں؟
بچے مار کھا کر صرف جسمانی تکلیف نہیں اٹھاتے، ان کے اندر خوف جنم لیتا ہے۔ انھیں اپنے ہی گھر، مدرسے، اسکول یا اردگرد کے بڑوں سے خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے محبت، تحفظ اور اعتماد ملنا چاہیے، اگر اسے مسلسل تشدد اور تذلیل ملے، تو اس کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آج جن بچوں کو ہم خوف، نفرت اور تشدد دے رہے ہیں، کل وہ بڑے ہو کر کس معاشرے کی تعمیر کریں گے؟
اگر ایک بچہ ظلم سہتے ہوئے بڑا ہوگا، تو ممکن ہے کہ وہ ظلم کو معمول سمجھنے لگے۔ اگر اسے یہ سکھایا جائے کہ طاقت ور کو کم زور پر ہاتھ اٹھانے کا حق ہے، تو کل وہ بھی طاقت ملنے پر یہی رویہ اختیار کرسکتا ہے۔ یوں تشدد ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کی تربیت صرف والدین کی ذمے داری نہیں۔ گھر، اسکول، مدرسہ، محلہ، میڈیا، ریاست اور پورا معاشرہ اس ذمے داری میں شریک ہیں۔ بچے کو صرف کتابیں پڑھانا کافی نہیں؛ اسے احترام، برداشت، رحم، انصاف اور انسانیت بھی سکھانا ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں پر تشدد کے واقعات کو محض چند دن کی خبر نہ سمجھا جائے۔ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات، ذمے دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور بچوں کے تحفظ کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے۔ والدین اور اساتذہ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تربیت اور تشدد دو مختلف چیزیں ہیں۔
بچے کو غلطی پر سمجھانا تربیت ہے، اسے ذلیل کرنا تربیت نہیں۔ غلط رویے کو روکنا ذمے داری ہے، مار پیٹ کرنا ذمے داری نہیں۔بچے کو نظم و ضبط سکھانا ضروری ہے، مگر اُس کی عزتِ نفس مجروح کرنا کسی صورت درست نہیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنے بچوں سے بات کرنا ہوگی، اُن کے خوف کو سمجھنا ہوگا، اُن کی بات سننی ہوگی اور اُنھیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ دنیا میں ایسے بڑے بھی موجود ہیں، جن کے سامنے وہ بلا خوف اپنی بات کَہ سکتے ہیں۔
ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہاں کم زور، معصوم اور بے آواز انسان کتنا محفوظ ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو خوف کا ورثہ دیں گے یا محبت کا، تشدد دیں گے یا برداشت کا، خاموشی دیں گے یا انصاف کی آواز…؟
کیوں کہ آج کا بچہ صرف ہمارے گھر کا فرد نہیں، کل کے معاشرے کا معمار ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل ایک پُرامن، مہذب اور انسان دوست معاشرہ تشکیل دے، تو ہمیں آج ہی اپنے بچوں کے ساتھ اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ بچوں کی حفاظت صرف ایک قانونی ذمے داری نہیں، یہ ہماری اخلاقی، انسانی اور اجتماعی ذمے داری ہے۔
ہم اپنے بچوں کو کس دنیا کے لیے تیار کر رہے ہیں، اور وہ بڑے ہو کر ہمارے بنائے ہوئے معاشرے کو کیسا بنائیں گے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










