کبھی قدرتی آفات، کبھی دہشت گردی، کبھی کمر توڑ مہنگائی، کبھی معاشرتی ناہم واریاں، کبھی سفارش اور اقربا پروری، اور کبھی درندگی کی ایسی انتہا کہ انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہمیں آخر کس کس چیز سے بچنا ہوگا؟
مسائل کی فہرست بنائیں، تو شاید ختم نہ ہو، مگر اصل مسئلہ صرف مسائل کی کثرت نہیں، بل کہ یہ ہے کہ ہم ان مسائل کا مقابلہ کس سوچ اور رویے کے ساتھ کر رہے ہیں؟
قدرتی آفات کو ہم مکمل طور پر نہیں روک سکتے، لیکن بہتر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات سے ان کے نقصانات ضرور کم کرسکتے ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں، بل کہ مؤثر حکم رانی، انصاف، تعلیم اور سماجی شعور سے بھی کرنا ہوگا۔ مہنگائی کا بوجھ صرف اعداد و شمار میں نہیں ہوتا؛ اس کا اصل درد اس گھر میں محسوس ہوتا ہے، جہاں محدود آمدن میں بچوں کی تعلیم، علاج، خوراک اور دیگر ضروریات پوری کرنا ایک مسلسل آزمایش بن چکا ہو۔
دوسری طرف معاشرتی ناہم واریاں اور سفارش کا کلچر ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ ہیں۔ ہم میرٹ کی بات کرتے ہیں، مگر جب ذاتی فائدے کا موقع آتا ہے، تو سفارش ڈھونڈنے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ ہم نظام کی خرابی پر تنقید کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھی اسی خراب نظام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال بھی کرتے ہیں۔
یہی وہ تضاد ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اور پھر جرائم کی وہ صورتیں ہیں۔ جو صرف قانون نہیں، بل کہ انسانیت کو بھی جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ کسی معصوم بچے کے ساتھ زیادتی یا قتل کا واقعہ پوری معاشرتی حساسیت کو سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔ ایسے واقعات میں فوری اور شفاف تفتیش، قانون کے مطابق سخت کارروائی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے… لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسے جرائم کے سدباب کے لیے ہمارے معاشرتی، تعلیمی اور اخلاقی نظام میں کہاں کم زوریاں موجود ہیں؟
افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات ایک فرد کے جرم کو پوری برادری، علاقے یا آبادی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ مسئلے کو حل کرنے کے بہ جائے مزید نفرت اور تقسیم پیدا کرتا ہے۔ جرم فرد کا ہو، تو جواب دِہ بھی فرد ہی ہونا چاہیے؛ اجتماعی الزام انصاف کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
ہمیں ہر سانحے کے بعد صرف غصہ نہیں کرنا، بل کہ یہ بھی سوچنا ہے کہ اُس سانحے سے کیا سبق حاصل کیا گیا؟ ہر واقعے کو سیاسی مفاد، ذاتی دشمنی یا گروہی نفرت کی طرف لے جانے کے بہ جائے اصلاح، احتساب اور بہتری کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
ریاست کو اپنی ذمے داری ادا کرنا ہوگی، اداروں کو جواب دِہ ہونا ہوگا، قانون کا اطلاق بِلا امتیاز ہونا ہوگا اور سیاست کو الزام تراشی سے نکل کر کارکردگی اور پالیسی کی طرف آنا ہوگا… لیکن اس کے ساتھ معاشرے کو بھی اپنے رویوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
آخر ہم کب تک ہر خرابی کا ذمے دار صرف دوسروں کو قرار دیتے رہیں گے؟
کبھی ہمیں حکومت سے سوال کرنا ہوگا، کبھی اداروں سے، کبھی سیاسی قیادت سے، اور کبھی خود اپنے آپ سے۔ کیوں کہ معاشرہ صرف حکومتوں سے نہیں بنتا؛ معاشرہ ہم سب کے رویوں سے تشکیل پاتا ہے۔
شاید آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہمیں کس کس سے بچنا ہوگا؟ بل کہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے اندر کیا بدلنا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلوں کو وہ معاشرہ مل سکے، جس میں قدرتی آفت مصیبت تو ہو، مگر بے بسی نہ ہو۔ اختلاف ہو، مگر نفرت نہ ہو۔ تنقید ہو، مگر انتشار نہ ہو۔ قانون ہو، مگر امتیاز نہ ہو… اور انسانیت ہو, تو صرف کتابوں میں نہیں، ہمارے کردار میں بھی نظر آئے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










