تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو

Blogger Fazal Manan Bazda

ہمارے ہاں صدیوں سے یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اگر پڑوس میں کوئی حادثہ پیش آ جائے، یا کوئی ہنگامی صورتِ حال درپیش ہو، تو لوگ مشترکہ طور پر اس سے نمٹتے ہیں۔ سیلاب میں لوگوں کی جانیں بچا کر انھیں محفوظ مقامات تک پہنچانا، مال مویشیوں اور گھریلو سامان کو بھی نکال کر محفوظ مقامات تک لے جانا سب کی مشترکہ ذمے داری سمجھی جاتی ہے۔
مسلسل بارشوں کی وجہ سے اگر کسی غریب کے گھر کے کمرے کی چھت گر جائے، تو ایسی صورت میں ملبے کے نیچے دبے افراد کو زندہ نکالنے اور گھریلو سامان کو محفوظ کرنے کا کام محلے والے خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔
کسی کے گھر میں آگ لگنے کی صورت میں آگ بجھانے کی کوشش کرنا، انسانی زندگیوں کو بچانا، آگ کو مزید پھیلنے سے روکنا، گھریلو ساز و سامان کو جلنے سے بچانا، فائر بریگیڈ کو فون کرکے بلانا، بجلی اور سوئی گیس کے محکموں کو فون کرکے بجلی اور گیس منقطع یا بند کرنے کی استدعا کرنا، لوگ اپنی ذمے داری سمجھتے ہیں۔
یہ سب مثالیں خدمتِ خلق کے زمرے میں آتی ہیں، جو معاشرتی ذمے داری اور اسلامی احکامات کی روح کے عین مطابق ہے۔
خدمتِ خلق کا جذبہ اور عمل انسانیت کی معراج قرار دیا جا سکتا ہے اور معاشرے میں خدمتِ خلق کرنے والے افراد معاشرے کے لیے آکسیجن کا درجہ رکھتے ہیں۔ خدمتِ خلق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: ’’آپ میں بہتر وہ ہے، جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے۔‘‘ (کنزالعمال)
نفع رسانی اگر کسی ذاتی غرض و مصلحت کے بغیر ہو، تو یہ سب سے بہتر عمل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن رتبے کے لحاظ سے بدترین انسان وہ ہوگا، جس کے شر سے ڈر کر لوگ اسے چھوڑ دیں۔‘‘ (صحیح بخاری)
ہمارا پڑوسی ملک ایران جنگ کی شعلوں کی زد میں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے جنگی جہازوں، میزائلوں اور خود کُش ڈرونز سے ایران پر بارود کی آگ برسائی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں ایرانی عوام لقمۂ اجل بن چکے ہیں، سڑکیں اور پُل بموں سے اُڑ چکے ہیں، عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، تو ایسے میں بہ طورِ پڑوسی ہماری ذمے داری بنتی ہے کہ ہم اپنے پڑوسی کو جنگ کی تباہی سے بچانے کے لیے اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کریں۔
تمام اسلامی ممالک میں صرف پاکستانی حکم ران، ایران کو جنگ کے شعلوں میں مزید جل کر راکھ ہونے سے بچانے کے لیے کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایران کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کی کوششیں اچھی بات ہے اور پڑوسی کے ناتے یہ ہماری ذمے داری بھی بنتی ہے، لیکن جب ہمارے اپنے گھر میں آگ لگی ہو، تو پہلے اپنے ہی گھر کی آگ بجھا کر پڑوسی کے گھر کو آگ سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے ہمارے گھر میں دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے، لیکن اسلامی ممالک تو کیا، ہمارے پڑوسی اسلامی ممالک افغانستان اور ایران دونوں ہمارے دشمنوں کی صفوں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ قابلِ توجہ امر تو یہی ہے کہ جب ہمارے اپنے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، تو ہم کسی اور کے گھر میں لگی آگ بجھانے کے لیے کیوں کر ہلکان ہو رہے ہیں؟
پاکستان میں آئے دن خود کُش دھماکوں میں سیکیورٹی اہل کاروں سمیت ہزاروں لوگ لقمۂ اجل بن چکے ہیں، ہزاروں معذور ہوگئے ہیں، سرکاری اور نجی عمارتوں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں، عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں، ماؤں کی گودیں اُجڑ رہی ہیں اور والدین اپنے بچوں کو رو رہے ہیں۔ ہمارے بازار محفوظ ہیں اور نہ مساجد، ہمارے پارک دہشت گردوں کی وجہ سے ویران پڑے ہیں اور ہمارے تعلیمی ادارے بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا راج ہے، وہ جہاں اور جب چاہیں دہشت گردی کی واردات کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔ طالب علم چھتوں کے ملبے کے نیچے دب کر مر رہے ہیں، تعلیمی اداروں میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، تعلیمی اداروں میں ریاستی اداروں کے اہل کار فائرنگ کرنے سے باز نہیں آتے، معصوم بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ بھتا خوری اور قبضہ مافیا کا کاروبار عروج پر ہے، کچے اور پکے کے ڈاکو مل کر لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور دہشت گرد سیکیورٹی اہل کاروں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتے، لیکن حکم رانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
کسی بھی ناخوش گوار واقعے کے رونما ہونے پر حکم ران صرف مذمتی بیان جاری کرنے، ذمے داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے، ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے قرارِ واقعی سزا دینے، کسی کو امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہ دینے اور ملزمان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے بیانات پر گزارا کرتے چلے آ رہے ہیں، جب کہ مگرمچھ کے آنسو بہانا ہمارے حکم رانوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔
ہمارے نااہل حکم ران اپنے گھر کی آگ بجھا تو نہیں سکتے، لیکن دوسروں کے گھروں میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے بے قرار ہیں۔ حکم رانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انھوں نے پہلے اپنے گھر کی آگ نہیں بجھائی، تو وہ بھی اسی آگ میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن سکتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے