دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اصطلاح ’’آریا‘‘ جتنی غلط سمجھی گئی ہو۔ ایک طرف اسے برتری، طاقت اور خالص نسل کی علامت بنایا گیا، تو دوسری طرف اسے مختلف قوموں کی شناخت کا پیمانہ سمجھا گیا… مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی دنیا میں کوئی ’’آریا نسل‘‘ اور ’’غیر آریا نسل‘‘ موجود ہے؟
نیز جدید سائنس، آثارِ قدیمہ، لسانیات اور جینیاتی تحقیق اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
’’آریا‘‘ (Arya) کا لفظ سب سے پہلے قدیم ہندوستانی و ایرانی متون میں ملتا ہے۔ سنسکرت کی ’’رگ وید‘‘ اور ایران کی ’’اوستا‘‘ میں ’’آریا‘‘ کا مطلب کسی خاص حیاتیاتی نسل سے زیادہ ’’معزز‘‘، ’’شریف‘‘ یا ’’اپنے گروہ کا فرد‘‘ تھا۔ اُس دور میں یہ لفظ کسی مخصوص رنگ، جسمانی ساخت یا خون کی خالصتاً نسلی شناخت کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا۔
19ویں صدی میں یورپی ماہرینِ لسانیات نے دریافت کیا کہ سنسکرت، فارسی، یونانی، لاطینی، جرمن، انگریزی، نیز یورپ اور ایشیا کی کئی دیگر زبانوں میں حیرت انگیز مماثلت موجود ہے۔ اُنھوں نے ان زبانوں کو ’’ہند-یورپی‘‘ (Indo-European) زبانوں کا خاندان قرار دیا۔ کچھ محققین نے غلطی سے زبان کے اس تعلق کو نسل کا تعلق سمجھ لیا، اور ’’آریا‘‘ کو ایک الگ انسانی نسل قرار دے دیا۔ یہی وہ مقام تھا، جہاں ایک ’’لسانی اصطلاح‘‘ کو ’’نسلی نظریہ‘‘ بنا دیا گیا۔
20ویں صدی میں جرمنی کے نازی حکم رانوں نے اس تصور کو مزید انتہا تک پہنچایا۔ اُنھوں نے دعوا کیا کہ جرمن قوم ایک ’’خالص آریائی نسل‘‘ ہے، جو دنیا کی تمام اقوام سے برتر ہے۔ اسی نظریے کے تحت لاکھوں یہودیوں، روما لوگوں، معذور افراد اور دیگر گروہوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ نظریہ سائنسی، تاریخی اور اخلاقی ہر لحاظ سے مسترد کر دیا گیا۔
آج جینیات کی سائنس بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ انسانی ڈی این اے بتاتا ہے کہ تمام جدید انسان تقریباً دو سے تین لاکھ سال پہلے افریقہ میں رہنے والے مشترک آبا و اجداد سے تعلق رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ مختلف انسانی گروہ دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتے گئے… جہاں ماحول، آب و ہوا، خوراک اور مسلسل باہمی اختلاط نے ان کی ظاہری خصوصیات میں فرق پیدا کیا۔
لیکن ان اختلافات کے باوجود تمام انسانوں کے ڈی این اے میں تقریباً 99.9 فی صد یک سانیت پائی جاتی ہے۔ اسی لیے جدید حیاتیات یہ تسلیم نہیں کرتی کہ انسانوں کی الگ الگ ’’خالص نسلیں‘‘ موجود ہیں۔ جو فرق ہمیں جلد کے رنگ، بالوں، آنکھوں یا جسمانی ساخت میں نظر آتا ہے، وہ چند جینیاتی تبدیلیوں اور ماحول کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی بنیادی حیاتیاتی برتری یا کم تری کا۔
آثارِ قدیمہ اور قدیم ڈی این اے کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً چار سے پانچ ہزار سال پہلے یوریشین میدانوں (Eurasian Steppe) سے کچھ چرواہے گروہ وسطی اور جنوبی ایشیا کی طرف منتقل ہوئے۔ اُن کے ساتھ ہند-یورپی زبانوں کی بعض شاخیں بھی پھیلیں… مگر یہ ایک مکمل آبادی کی جگہ دوسری آبادی کے آنے کا واقعہ نہیں تھا، بل کہ مختلف مقامی آبادیوں کے ساتھ طویل اختلاط، شادیوں اور ثقافتی تبادلے کا عمل تھا۔ اسی لیے آج جنوبی ایشیا، ایران اور یورپ کے لوگوں میں مختلف قدیم آبادیوں کے جینیاتی اثرات ملتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ زبان، قومیت، ثقافت اور نسل ایک ہی چیز نہیں۔ ایک شخص اُردو بول سکتا ہے، دوسرا پشتو، تیسرا فارسی یا انگریزی… لیکن زبان بدلنے سے اس کا ڈی این اے تبدیل نہیں ہوتا۔ اسی طرح قومیت ایک سیاسی و سماجی شناخت ہے، جب کہ ثقافت انسانی روایات، اقدار اور طرزِ زندگی کا نام ہے۔ ان سب کو نسل کے ساتھ ملا دینا سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔
آج دنیا کے تقریباً تمام بڑے ماہرینِ بشریات اور جینیات اس بات پر متفق ہیں کہ ’’آریا نسل‘‘ کو ایک خالص حیاتیاتی نسل سمجھنا غلط ہے۔ ’’آریا‘‘ بنیادی طور پر ایک تاریخی اور لسانی اصطلاح ہے، نہ کہ خون یا جینز کی کوئی الگ قسم۔
یہ حقیقت ہمیں ایک اہم سبق بھی دیتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اصل فرق اُن کے کردار، علم، اخلاق، تہذیب اور سماجی رویوں میں ہوتا ہے، نہ کہ خون، نسل یا رنگ میں۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جب بھی کسی قوم یا گروہ نے اپنے آپ کو ’’نسلی طور پر برتر‘‘ سمجھا، اس کے نتائج تعصب، نفرت، جنگ اور انسانیت کے خلاف جرائم کی صورت میں سامنے آئے۔
اس لیے آریا اور غیر آریا کی بحث کو جدید علم کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ ایک دوسرے سے ملتے رہے، بستیاں بدلتے رہے، زبانیں سیکھتے رہے اور ثقافتیں اپناتے رہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم سب ایک ہی انسانی خاندان کے افراد ہیں… اور یہی حقیقت شاید انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ شناختیں متنوع ہو سکتی ہیں، مگر انسانیت مشترک ہے۔
اور یہی نکتہ ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کرنا ہے، ورنہ ہم قوم پرستی اور نسل پرستی کے باریک فرق میں اُلجھے رہ جائیں گے اور ترقی کا راستہ اختیار نہیں کر پاسکیں گے۔ تاریخ سمجھنے کی جگہ تاریخ پرستی میں پڑے رہیں گے۔
بہ قولِ غالب
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










